PDA

View Full Version : زبیدہ کا خواب ۔ نہر زبیدہ اس کی تعبیر



بےباک
12-26-2019, 07:34 PM
خلفیہ ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ نے ایک خواب میں دیکھا جو بظاہر اچھا نہ تھا‘ جبکہ زبیدہ بڑی عابدہ‘ زاہدہ‘ نیک اور اللہ والی خاتون تھی‘ اس نے دیکھا کہ میں ایک چوراہے پر ہوں اور جو شخص آ رہا ہے‘ مجھ سے گناہ کا ارتکاب کرکے جا رہا ہے‘ ایک عابدہ زاہدہ خاتون کے لئے ایسا خواب نظر آنا بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے‘ چنانچہ جونہی اس نے یہ خواب دیکھا تو سخت پریشان ہوئی اور اپنی خادمہ کو کہا کہ تم میرا نام لئے بغیر اس خواب کو اپنی طرف منسوب کرکے وقت کے مایہ ناز معبر علامہ ابن سیرینؒ سے اس کی تعبیر پوچھو‘ زبیدہ نے اپنا نام بتانے سے اس لئے منع کیا کہ نامعلوم اس قسم کے خواب کی کیا تعبیر ہو جو رسوائی کا سبب بن جائے۔


خادمہ حکم کے مطابق علامہ ابن سیرینؒ کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ حضرت! میں نے اس قسم کا خواب دیکھا ہے‘ اس کی کیا تعبیر ہے؟ علامہ ابن سیرینؒ نے جب خواب سنا تو فوراً فرمایا یہ تمہارا خواب نہیں ہو سکتا‘ ایسا خواب ہر ناکس و غیر ناکس نہیں دیکھ سکتا‘ یہ تو کسی خوش نصیب شخص کا خواب ہے‘ پہلے سچ سچ بتا کہ کس کا خواب ہے‘ پھر تعبیر بتاؤں گا‘ خادمہ نے کہا کہ حضرت! جس کا یہ خواب ہے‘ اس نے نام بتانے سے منع کیا ہے‘ علامہ ابن سیرینؒ نے فرمایا کہ پہلے اس سے اجازت لو ورنہ میں خواب کی تعبیر نہیں بتاؤں گا۔


خادمہ زبیدہ کے پاس واپس آئی اور پوری بات نقل کی کہ ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ پہلے جس کا خواب ہے اس کا نام بتاؤ ۔ پھر تعبیر بتاؤں گا‘ زبیدہ نے خادمہ سے کہا اچھا جا کر میرا نام بتا دو کہ زبیدہ نے یہ خواب دیکھا ہے‘ خادمہ دوبارہ علامہ ابن سیرینؒ کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ یہ خواب زبیدہ نے دیکھا ہے‘ انہوں نے فرمایا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ کوئی عام خواب نہیں‘ یہ کسی خوش قسمت کا خواب ہی ہو سکتا ہے اور پھر یہ تعبیر دی کہ اللہ تعالیٰ ملکہ کے ہاتھ سے ایسا صدقہ جاریہ قائم فرما دیں گے جس سے رہتی دنیا تک لوگوں کو فائدہ پہنچے گا‘ خادمہ نے زبیدہ کو جا کر جب خواب کی تعبیر بتائی تو زبیدہ نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا کہ بظاہر خواب تو بڑا عجیب تھا لیکن تعبیر بہت اچھی پائی۔


پھر چند سالوں کے بعد ہارون الرشید نے جب حج پر جانے کا ارادہ کیا تو ملکہ زبیدہ بھی ساتھ تھی‘ آج سے تقریباً بارہ سو سال پہلے ہارون رشید کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں پانی کی بے حد تنگی تھی اور حاجیوں کو پانی کی دستیابی میں خاصی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جب ہارون الرشید اور ملکہ مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے ملکہ زبیدہ کے نرم دل ہونے کی وجہ سے ہارون رشید کے بجائے ملکہ زبیدہ سے درخواست کی کہ مکہ مکرمہ میں پانی کی بہت تکلیف ہے‘ اگر آپ مناسب سمجھیں تو یہاں باآسانی پانی ملنے کا کوئی انتظام کر دیں‘ ملکہ زبیدہ یہ بات سمجھ گئی کہ یہ بہت اہم جگہ ہے جہاں دوسرے ملکوں سے بھی لوگ آتے رہتے ہیں‘ ان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے‘ لہٰذا ان کی یہ تکلیف کسی بھی طرح دور ہونی چاہئے۔


زبیدہ نے ہارون الرشید سے پہلے اجازت چاہی جو اس کو جلد ہی مل گئی‘ اس وقت اسلام اپنے شباب پر تھا‘ کافر طاقتیں مسلمانوں کے زیر نگیں تھیں‘ مسلمان دنیا کے اندر غالب تھے اور ان کا ڈنکا بج رہا تھا‘ اس وقت ہر فن کے بڑے بڑے ماہرین مسلمانوں کے اندر موجود تھے‘ ملکہ زبیدہ نے پوری سلطنت کے اندر یہ اعلان کروا دیا کہ جہاں جہاں کوئی ماہر انجینئر ہیں‘ وہ سب مکہ مکرمہ آجائیں‘ اعلان ہوتے ہی تمام بڑے بڑے شہروں کے ماہرین جمع ہو گئے اور ماہرین کی ایک بڑی جماعت وہاں حاضر ہو گئی‘ ملکہ زبیدہ نے ان سب کو بلا کر یہ کہا کہ مجھ مکہ مکرمہ کے کونے کونے اور گلی گلی میں پانی چاہئے‘ کیسے آئے گا؟ اور کہاں سے آئے گا؟ یہ تمہارا کام ہے۔




سارے کے سارے انجینئر سر جوڑ کر بیٹھ گئے‘ سب نے باہم مشورہ کرکے ایک نقشہ تیار کیا اور مکہ مکرمہ کے چاروں طرف نہر زبیدہ کا جال بچھا دیا‘ جہاں بھی کسی پہاڑی میں کوئی چشمہ جاری تھا‘ یا نالی کی شکل میں پانی بہتا تھا‘ ان سب کو نہر کے اندر شامل کر لیا گیا‘ تقریباً چودہ میل لمبی یہ نہر اس انداز سے تیار کی گئی کہ جگہ جگہ ایسے ٹینک بنائے گئے تاکہ اگر کوئی شہر کے باہر ہو تو ڈھکن اٹھا کر ان ذخیروں سے پانی حاصل کر سکے۔


جب نہر زبیدہ تیار ہو گئی تو وہ انجینئر جو اس پورے منصوبے کا ذمہ دار تھا‘ اس نے حساب و کتاب کی فائل تیار کرکے بغداد حاضری دی اور ملکہ زبیدہ کے محل میں پہنچا‘ ملکہ زبیدہ اس وقت دریائے دجلہ کے کنارے تفریح کر رہی تھی‘ اس نے اطلاع دی کہ مکہ مکرمہ سے نہر زبیدہ کا حساب لے کر انجینئر حاضر ہوا ہے‘ زبیدہ نے اسی وقت انجینئر کو طلب کر لیا‘ اس نے فائل پیش کی اور عرض کیا کہ ملکہ صاحبہ! یہ نہر زبیدہ کے منصوبے کی تکمیل کے حساب و کتاب کی فائل ہے‘ آپ نے جو حکم دیا تھا‘ وہ میں نے پورا کر دیا‘ مکہ مکرمہ کی گلی گلی اور کوچے کوچے میں پانی کا وافر انتظام کر دیا گیا ہے‘ اب مکہ مکرمہ کے رہنے والوں اور حج و عمرہ کے لئے آنے والوں کو انشاءاللہ کسی قسم کی پانی کی تکلیف نہیں ہو گی‘ یہ حساب آپ کے سامنے ہے‘ آپ حساب لے لیجئے اور مجھ اجازت دیجئے۔


زبیدہ نے وہ فائل لی‘ اس پر دستخط کئے اور اس کو درمیان میں چاک کرکے دریائے دجلہ میں ڈال دیا اور وہ مشہور جملہ کہا جو تاریخ میں آج بھی محفوظ ہے‘ بولیں:


”ہم نے آخرت کے حساب کے لئے اس کا حساب چھوڑ دیا‘ اور کہا کہ اگر ہماری طرف کوئی حساب نکلتا ہے تو لے لو‘ اور اگر ہمارا تمہاری طرف کچھ نکلتا ہے تو ہم نے معاف کیا۔“

بےباک
12-26-2019, 07:43 PM
ایک کدال کی لاگت ایک دینار ، نہر زبیدہ ۔
1962

1238برس تک زائرین حرم اس سے اپنی پیاس بجھاتے رہے، اس پر 17لاکھ مثقال سونا خرچ کیا گیا، عصرحاضر میں اسکی قیمت 24کروڑ40لاکھ ریال بنتی ہے نہر زبیدہ کا تذکرہ حج و عمرے اور زیارت کے حوالے سے ضرور آتا ہے۔ یہ تاریخی نہر ایک عباسی خلیفہ کی بیٹی اور ایک عباسی خلیفہ کی بیوی نے کروڑوں دینار کی لاگت سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور ضیوف الرحمان کی آسانی کے لئے بنوائی تھی۔ اب سعودی حکومت اس تاریخی نہر کا احیاء کرا رہی ہے۔ یہ 1400کلو میٹر سے زیادہ طویل تھی۔ عرب دنیا میں اسے ’’درب زبیدہ ‘‘ کے نام سے جانا پہچانا جاتا رہا ہے۔یہ 186ھ میں بنوائی گئی تھی۔ بغداد شہر کے وسط سے لیکر مکہ مکرمہ تک پہنچائی گئی تھی۔ نہر زبیدہ کے کنارے 50جھیلیں بنائی گئی تھیں۔ ایک جھیل سے دوسری جھیل یا ایک تالاب سے دوسرے تالاب کا درمیانی فاصلہ 25تا 30کلو میٹر رکھا گیا تھا۔ ان میں سے 5جھیلیں یا تالاب بیحد مشہور تھے۔ ایک کا نام (جمیماء) تھا۔ یہ سب سے زیادہ مشہور تھا ،اسے عین زبیدہ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ موسم گرما میں بھی معمول کے برخلاف بارش کے پانی سے لبالب رہتی تھی۔ رفحاء کے مشرق میں 14کلو میٹر دور واقع تھا۔ اپنے منفرد فن تعمیر کیلئے معروف تھا۔ اسکا رقبہ لگ بھگ 3ہزار میٹر تھا۔ ساڑھے 3میٹر گہرا تھا۔دوسرا تالاب العشار تھا، یہ سب سے زیادہ عمدہ ڈیزائن والاتھا۔ یہ رفحاء کمشنری کے ماتحت لینہ قصبے کے جنوب مغرب میں 38کلومیٹر دور ’’نفود اللبید‘‘ کے پاس ہے۔تیسرا ’’العرایش ‘‘کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ اسے ام اقواس بھی کہا جاتا رہا ہے۔البدع چوتھا تالاب ہے۔ یہ تربہ کے شمال مشرق میں 20کلو میٹر دور ہے۔پانچواں زرود ہے۔ بقعا ء کے شمال مشرق میں 50کلو میٹر دور ہے۔عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کی بیٹی اور خلیفہ ہارون رشید کی بیگم نے نہر زبیدہ بنوائی تھی۔ نہر زبیدہ کے نقوش مٹ گئے تھے اس کے چشموں یا تالابوں کا حال قصہ ماضی بن گیا تھا۔ لوگوں نے اونٹوں اور گھوڑوں کے ذریعے بری سفر کا سلسلہ ترک کیا تو نہر زبیدہ بھی لاپروائی کا شکار ہوگئی۔نہر زبیدہ کا شمار اہم ترین مسلم آثار قدیمہ میں ہوتا ہے۔ اس نہر کا تعلق حج اور اس کے عازمین سے بڑا دیرینہ اور بڑا مضبوط اور بڑا یادگار ہے۔ 1238برس تک پیاسے حاجی ، معتمر ، زائر اور سیاح نہر زبیدہ سے اپنی پیاس بجھاتے رہے۔ یہ 186ھ میں بنائی گئی تھی۔ اس پر 17لاکھ مثقال سونا خرچ کیا گیاتھا۔ جو 5950کلو گرام کے برابر ہوتا ہے۔ عصرحاضر میں اسکی قیمت 24کروڑ40لاکھ ریال بنتی ہے۔ نہر زبیدہ نے صدیوں معتمرین ، حج کے عازمین اور زائرین کو سیراب کیا۔ بغداد سے نکلنے والی یہ نہر حاجیو ںکے لئے انمول نعمت تھی۔ عراقی ایرانی اور مختلف ملکوں کے حاجی و معتمر نہر زبیدہ سے استفادہ کرتے تھے۔خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ نے یہ نہر حاجیوں اور عمرے کے لئے ارض مقدس کا سفر کرنے والوں کی خدمت کی خاطر تعمیر کرائی تھی۔اسکی بدولت تجارت کو بھی بڑا فروغ حاصل ہوا۔ نہر زبیدہ کے اطراف میں آبادیاں بسیں۔ آس پاس رہنے والوںکے درمیان تعلقات استوار ہوئے۔ صحراء میں حیران و پریشان گھومنے والے بدو نہر زبیدہ کے اطراف آکر آباد ہوگئے۔تاریخ میں آتا ہے کہ زبیدہ نے اپنے خازن کو ہدایت دی تھی کہ وہ یہ منصوبہ ہر قیمت پر مکمل دیکھنا چاہتی ہیں۔ خازن نے کہا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق نہر بنانے پر خطیر رقم خرچ ہوگی۔ اس موقع پر زبیدہ نے جو جملہ کہا تھا وہ تاریخ کے زریں صفحات میں انمٹ نقش چھوڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’نہر بنائی جائے۔ اگر ایک کدال پر ایک دینار بھی خرچ ہو تب بھی نہر تیار کی جائے‘‘۔نہر تیار ہونے پر اسکے خازن نے پورا حساب کتاب پیش کیا تو زبیدہ نے حساب کتاب پر مشتمل فائل کو لیکر نہر میں ڈال دیا اور کہا کہ حساب یوم حسا ب کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یعنی انہیں لاگت نہیں بلکہ مسلمانوں خصوصاً ضیوف الرحمان کی منفعت مطلوب ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اب جس کے پاس اس منصوبے سے باقی ماندہ جو بھی رقم ہو وہ اسکی ہوگی اور اگر کسی کا حساب ہماری طرف نکلتا ہو تو ہم اسے ادا کرینگے۔خازن اور انکے ہمراہ جانے والے وفد کو خلعت عطا کی گئی اور وہ وہاں سے انکی تعریف میں رطب الاسان ہوکر باہر آئے۔شیخ محمد طاہر الکردی نہر زبیدہ کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ نہر زبیدہ 2نہروں یا 2چشموں کے لئے بولا جاتا ہے۔ ایک تو عین نعمان کے لئے جو میدان عرفات کے دائیں جانب واقع ہے۔ ان دونوں کے درمیان تقریباً ایک کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ بعض لوگ اسے عین عرفات کہتے ہیں کیونکہ یہ ایک طرف سے میدان عرفات سے قریب ہے۔ عین نعمان وادی نعمان کے آخر میں واقع جبل کرا کے عقبی حصے سے نکلتا ہے۔عین زبیدہ عین حنین کو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ طائف کی طرف سے میدان عرفات کے بائیں جانب واقع ہے۔ گویا الشرائع کے بالائی حصے میں تقریباً ایک کلو میٹر دور ہے۔تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ یہ زبیدہ ہی تھیں جنہوں نے عین حنین اور عین نعمان کے پانی کو مکہ مکرمہ پہنچانے کے لئے نہر بنوائی تھی۔ یہ 174ھ کا واقعہ ہے اور پھر 211ھ میں مامون نے اہل مکہ کو زیادہ سے زیادہ پانی مہیا کرنے کے لئے مزید سہولت کا اہتمام کیا تھا۔دراصل امیر مکہ مکرمہ نے 210ھ میں مامون الرشید کو خط تحریر کرکے یہ آگاہ کیا تھا کہ اہل مکہ پانی کی قلت کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ اگر اجازت دیدی جائے تو انکے لئے بعض تالاب بنوادیئے جائیں۔یورپی سیاحوں نے نہر زبیدہ اور اسکے چشموں کا معائنہ کیا تھا۔ انہوں نے چشموں کے بارے میں اپنے مشاہدات قلمبند کئے۔ انکا کہنا ہے کہ نہر زبیدہ کے چشمے فن تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہیں۔محمد حمد البقعاوی کا کہنا ہے کہ ٹھو س چٹانوں، کنوؤں اور چشموں کو جدید طریقے سے تراشا گیا تھا۔ چٹانوں کو گرما کر مخصوص طریقے سے تراشا جاتا تھا اور چٹانوں کی روک تھام کے لئے مخصوص قسم کا سیمنٹ استعمال کیا جاتا تھا۔سعودی حکومت خطیر رقم خرچ کرکے اپنے ماہرین کی مددسے ’’نہر زبیدہ کا احیاء‘‘ کرا رہی ہے۔یہاںزبیدہ کا تعارف بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ایسی عظیم انسانیت نواز شخصیت کا تعارف جس نے ضیوف الرحمن کی خدمت کرکے اسلامی تاریخ میں اپنا نام لازوال بنالیا۔ انہیں ام جعفر کہا جاتا تھا۔ انکے والد ابو جعفر المنصور تھے۔ وہ انہیں کھیلاتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ تم زبیدہ ہو۔ وہ ایسا اسلئے کہتے تھے کیونکہ یہ خوش رنگ اور تروتازہ چہرے کی مالک تھیں۔ زبیدہ کے سوا بنو ہاشم کی کوئی خاتون ایسی نہیں گزری جس نے کسی خلیفہ کو جنم دیا ہو۔جمادی الاول 216ھ میں بغداد میں انکا انتقال ہوا۔کہا جاتا ہے کہ یہ 100باندیوں کی مالکہ تھی۔ ساری باندیاں قرآن کریم حفظ کئے ہوئے تھیں۔ انکے قصر میں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز ہمہ دم گونجتی رہتی تھی۔یہ بڑی فیاض اور کریم خاتون تھیں۔ ان کے کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن المبارک نے انہیں خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ مکہ مکرمہ کے راستے میںاس پہلے کدال کی بدولت ہی میری مغفرت کردی گئی جس سے پانی کا چشمہ ابلا تھا۔نہر زبیدہ کی اصلاح و مرمت میں کئی مسلم سلاطین، امرا ء اور بادشاہوں نے حصہ لیا۔ مکی مؤرخ کردی اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ نہر زبیدہ کی اصلاح و مرمت کرانے والوں میں کئی نام آتے ہیں۔ ان میں ایک تو متوکل علی اللہ جعفر بن المعتصم تھے۔٭ 241ھ میں مرمت کرائی تھی۔ ٭ 594ھ میں صاحب اربل مظفر الدین کجک نے مرمت کرائی۔ ٭ 620ھ اور 725ھ میں امیر المومنین المنتصر باللہ العباسی نے کئی بار اصلاح و مرمت کا اہتمام کیا۔٭ 726ھ میں تاتاریوں کے بادشاہ سلطان ابی سعید کے نائب امیر جویان نے مرمت کرائی۔٭ 811ھ میں الشریف حسین بن عجلان نے بھی مرمت کرائی۔٭ اسکے علاوہ ایک تاجر خواجہ سراج الدین بھی اسکی مرمت کرانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔٭ 875ھ میں ملک اشرف قائتبائی۔٭ 931ھ میں سلیمان باشا ٭ 969ھ میں فاطمہ خانم نے جو سلطان سلیمان کی بیٹی تھیں اسکی مرمت میں حصہ لیا۔٭ 1025ھ میں سلطان احمد بن سلطان محمد خان٭ 1091ھ میں سلطان غازی محمد خان بن السلطان ابراہیم خان٭ 1124ھ میں معین السلطان الغازی خان٭ 1242ھ میں والی مصر محمد علی پاشا نے نہر زبیدہ کی اصلاح و مرمت کا اہتمام کیا۔نہر زبیدہ کے بارے میں ایک رائے صور من تراث مکہ مکرمہ فی القرن الرابع عشر الھجری کے مصنف عبداللہ محمد ابکر نے پیش کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ نہر زبیدہ خالص مکی نہر ہے۔ یہ حقیقت اختلاف سے بالاتر ہے۔ جو لوگوں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ نہر زبیدہ کے ذریعے مکہ اور بغداد کو جوڑا گیا تھا۔ اس کے ذریعے دریائے فرات کا پانی مکہ مکرمہ لایا گیا تھا یہ بات غلط اور نامعقول ہے۔بغداد سے مکہ مکرمہ تک حج شاہراہ پر واقع کنوؤں ، تالابوں اور چشموں کی وجہ سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوگئی ہے۔ انہوں نے پانی کے ان ذرائع کو اپنے تخیل سے ایک نہر سے جوڑ دیا اور کہنے لگے کہ زبیدہ نے دریائے فرات کا پانی بغداد سے مکہ مکرمہ پہنچایا تھا۔ اس سوچ کی کوئی حقیقت نہیں۔ سچ بات وہی ہے کہ نہر زبیدہ خالص مکاوی نہر ہے۔یہ درست ہے کہ زبیدہ نے اپنی زندگی میں نہر احسن طریقے سے بنوائی تھی اور یہ بھی درست ہے کہ انکے بعد مسلم سلاطین و امراء اوران بادشاہوں نے جو مکہ مکرمہ کے والی بنے اس کی اصلاح و مرمت پر توجہ دی۔ اسکا جو حصہ خراب ہوجاتا تھا اسے ٹھیک کرا دیا جاتا تھا۔ سلاطین نے نہر زبیدہ تک رسائی کے راستے بھی بنوائے ۔ انہوں نے بارش کے پانی کو جمع کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا بھی انتظام کیا۔ نہر زبیدہ سے ایک طرف تو مکہ مکرمہ کے باشندے سیراب ہوتے تھے تو دوسری جانب مشاعر مقدسہ ، منیٰ اور عرفات کے حاجی فیض یاب ہوتے تھے۔ حج جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ عظیم الشان اجتماع ہے۔ حج کے موقع پر عازمین کو پانی بڑی مقدار میں درکار ہوتا تھا اور نہر زبیدہ حاجیوں کو سیراب کرنے میں بڑی مدد گار ثابت ہوتی تھی۔٭ 1344ھ میں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبدالعزیز آل سعود رحمتہ اللہ علیہ نے نہر زبیدہ کو بنانے سنوارنے کا حکم جاری کیا تھا۔٭ سعودی حکومت خصوصاً خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اس کے احیاء کا حکم جاری کیا۔ یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا جب وہ ولی عہد تھے۔ ٭ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کے ماہرین اس کے احیاء کا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے نہر زبیدہ کے حوالے سے ایک، ایک جز پر مشتمل عظیم الشان فیلڈ سروے اور تاریخی معلومات جمع کرکے دقیق ترین جائزہ تیار کیا۔ انہوں نے نہر زبیدہ کے احیاء کے لئے درکار اقدامات پر مشتمل جامع منصوبہ مرتب کرکے خادم حرمین شریفین کو پیش کیا۔شاہ عبداللہ چاہتے ہیں کہ حج موسم میں لاکھوں عازمین نہر زبیدہ سے استفادہ کریں۔ مختلف چشموں سے اسے پانی کی سپلائی کا بندوبست ہو۔ عازمین آرام و راحت محسوس کریں۔
اب تو ماشاءاللہ ایسا انتظام ہو گیا کہ پانی کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ الحمد للہ

بےباک
12-26-2019, 07:51 PM
حج کر نے کے لیے بادشاہ کی لاڈلی ملکہ زبیدہ بھی مکہ تشریف لائیں میدان عرفات میں دنیا جہان کے آئے ہوئے حاجیوں کو پانی کی کمی کا شکار دیکھا تو ارادہ کیا اپنے اخراجات سے ایک عظیم الشان نہر کھو د دی جائے ‘ یہ خیال ایک نیک خاتون اول کے دل میں ہی آسکتا تھا ملکہ زبیدہ ہارون کی چچا زاد بہن تھیں ‘ نہایت ذہین اور خدا ترس تھیں جب جوان ہونے پر خلیفہ ہارون الرشید سے شادی ہو ئی تو ہارون رشید نے پچاس ملین درہم لوگوں میں خرچ کئے ملکہ کا قرآن پاک سے عشق کا یہ عالم تھا کہ ایک سو نوکرانیاں تھیں جن کو قرآن پاک یاد تھا وہ ہر وقت ملکہ کے محل میں اپنی ترنم آواز سے قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف رہتیں اُن کے محل سے ہر وقت قرآنی آیات کے چشمے پھوٹتے رہتے ‘ مکہ مدینہ کے لوگوں سے بہت محبت کرتی تھیں ہر سال حج کے موقع پر بے تحاشا اشرفیاں لوگوں ضرورت مند وں کی خدمت میں ارسال کرتیں ‘ حج کے موقع پر جب حاجیوں کو پانی کے لیے ٹرپتے دیکھا کو فیصلہ کیا ایک نہر کھودی جائے جس کے پانی سے حاجی اپنی ضرورتیں آسانی سے پوری کر سکیں اس کام کے لیے دنیا بھر سے انجینئر بلائے گئے تو طے یہ پایا کہ مکہ مکرمہ سے پینسٹھ کلومیٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے جبال طائو سے نہر نکالی جائے ‘ منیٰ کے جنوب میں ایک بڑا تالاب تیار کیا جائے جس میں بارش کا پانی اکٹھا کیا جائے پھر وہاں سے ایک چھوٹی نہر مکہ معظمہ کی طرف دوسری میدان عرفات میںمسجد نمرہ تک لے جائی جائے۔ خاتون اول ملکہ زبیدہ کو چونکہ قرآن پاک سے عشق تھا اِس لیے انسانوں کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف پر بھی تڑپ اٹھتیں جب اہل مکہ اور حاجیوں کو پانی کے لیے پریشان دیکھاتو ٹرپ اٹھیں کہ کیا جائے کہ حاجیوں یعنی اللہ کے مہمانوں کی پیاس اور پانی کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے ‘ جب ماہرین اکٹھے ہو گئے تو انہوں نے ملکہ کو اِس عظیم خدمت خلق کے کام سے روکنے کی بہت کو شش کی کہ کئی کلو میڑ تک سنگلاخ چٹانوں بلند و بالا پہاڑوں کو کاٹنا پڑے گا دشوار گزاری بلندی پر جانا ہی ناممکن ہے ، بلندی پر کام کر نا تو اُس سے بھی مشکل کام ہے۔ اِس پر بہت زیادہ خر چ آئے گا یہ ایک ناممکن کام ہے ملکہ عالیہ جس کا خواب آپ دیکھ رہی ہیں اِس دشوار ترین ناممکن کام کے لیے ہزاروں مزدورں کی ضرورت ہے جو دن رات کئی مہینے کام کریں تو شائد یہ کام ممکن ہو سکے ‘ دشوار ترین نشیب و فراز اور پہاڑوں کو کاٹنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے اور اگر ہم ہزاروں مزدوروں اور مستریوں کو اِس کام پر بھی لگا دیں تو مزدور اِس کام کے لیے بہت زیادہ مزدوری مانگیں گے اِس طرح شاہی خزانے کے خالی ہو جانے کا خطرہ بھی ہو گا ‘ کیا ملکہ عالیہ اپنے نہر کے خواب کو پورا کرنے کے لیے شاہی خزانے کو اِس کام کی تکمیل کے لیے خالی کر نے کا خطرہ مول لے سکتی ہیں ؟ اس وجہ سے ملکہ زبیدہ کو بہت سارے کاریگروں نے ا س پروجیکٹ کی تکمیل سے بہت روکا لیکن ملکہ نے یہ تاریخی جملہ بولا آپ نہر کھودنے کاکام شروع کریں خواہ کلہاڑے کی ایک ایک ضرب پر سونے کا دینار خرچہ آئے، میں دوں گی ۔ ملکہ کے فولادی ارادے کے بعد نہر کا عظیم الشان کام شروع ہو گیا، شدید مشکلات کے بعد آخر کار یہ عجوبہ روز کاز کام یعنی نہر زبیدہ تیار ہو گئی تو منتظمین اور نگران حضرات نے اخراجات کی تفصیلات کاغذات ملکہ کو پیش کئے، اس وقت ملکہ دریائے دجلہ کے کنارے اپنے محل میں تھیں ملکہ نے تمام کاغذات پکڑے انہیں کھول کر دیکھے بغیر کہ کتنا خرچہ آیا ہے کاغذات پرزے پرزے کر کے دریا کی موجوں کے حوالے کر دئیے، تشکر آمیز نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا اور بولیں اے! پروردگار مجھے دنیا میں کو ئی حساب کتاب نہیں لینا ،تو اے رحمن رحیم روز قیامت کے دن مجھ سے حساب نہ لینا ۔ اس طرح خاتون اول ملکہ زبیدہ نے حجاج کرام کی خدمت کر کے خود کو تاریخ کے اوراق میں امر کر لیا ۔