PDA

View Full Version : مرے وطن کو تشویشِ ماہ وصال نہ ہو...



حبیب صادق
01-02-2020, 01:40 AM
مرے وطن کو تشویشِ ماہ وصال نہ ہو...
http://www.oururdu.com/forums/index.php?attachments/upload_2020-1-2_1-37-44-jpeg.43071/&temp_hash=2ea9ab08b6278cbe75f0d8c4bf967843
طیبہ بخاری
٭:تہوار اور خوشیاں منانے کا کوئی نہ کوئی پس منظر ہوتا ہے ۔۔۔ ٭:خوشیاں منانے کے طریقے مختلف ، انوکھے اور دلچسپ ہو سکتے ہیں ۔۔۔لیکن ان میں کوئی نہ کوئی پیغام ضرور ہوتا ہے ٭:بس پیغام کو تلاش کرنے اور محسوس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ٭:اور اگر پیغام اچھا ہو جس سے نیکی کی ترغیب ملے ، برائی کو ختم کرنے کی دعوت ملے تو اس تہوار یا خوشی کااصل مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے ٭:خوشی منانے کا اندازبرا ہو تو اس سے ایک فرد نہیں پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے ٭:نئے سال کو بھی خوش آمدید کہنے میں کوئی برائی نہیں۔ اگر انداز مثبت ، تعمیری اور دعائیہ ہو وطن عزیز اور انسانیت سے محبت کا اظہار ہو ۔۔۔ مرحوم احمد ندیم قاسمی نے شاید ایسا ہی کچھ پیغام اپنے کلام کے ذریعے دیا تھا کہ خدا کرے میری ارض پاک پر اُترے وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو جیسے جیسے دنیا ترقی کی منازل طے کرتی گئی انسانوں نے کلچر اور آرٹ کے نام سے نئے نئے جشن اور تہوار وضع کیے انہی میں سے ایک نئے سال کاجشن ہے۔ نئے سال کے جشن میں دنیا بھر میں رنگ برنگی لائٹوں اور قمقمو ں سے اہم عمارات کو سجایا جاتا ہے اور 31دسمبر کی رات 12بجنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ 12بجتے ہی ایک دوسرے کو مبارکباد دی جاتی ہے، کیک کاٹا جاتا ہے ، ہرطرف ہیپی نیوائیر کی صدا ئیںگونجتی ہیں،آتش بازی کی جاتی ہے ، تفریحی پروگرام ترتیب دئیے جاتے ہیں یہ سب گذشتہ شب بھی ہوا ، آج بھی ہو گا اور مزید کئی دن تک یہ سلسلہ چلتا رہیگا اور پھراگلے سال کی تیاریاں ۔۔۔۔ کچھ نئے سال کی فکر کریں تو گذشتہ برس اقوام متحدہ نے انتباہ جاری کیا کہ نئے برس یعنی 2020ء میں 16 کروڑ 80 لاکھ انسانوں کو مدد کی ضرورت پڑے گی۔غیر ملکی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارے کے ذیلی ادارے گلوبل ہیومینٹیریئن اوور ویو کہتا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر جن چیزوں کی امداد کی ضرورت ہوگی ان میں غذا، صحت کی سہولت اور پناہ گاہیں شامل ہیں۔یو این ایمرجنسی ریلیف کا آرڈینیٹر مارک لو کک کے مطابق موجودہ دور میں اب 16 کروڑ 80 لاکھ انسانوں کو مدد کی ضرورت ہوگی جو جدید دور میں ضرورت مندوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ تنازعات زیادہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ شدید ہوتے جارہے ہیں، لہٰذا لوگوں کی ضرورتوں کی جانب بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ دنیا میں ہر 45 میں سے ایک شخص عالمی تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے متاثر ہے۔2020ء میں لوگوں کی معاونت کیلئے 28 ارب 80 کروڑ ڈالرز کی ضرورت پڑے گی جن سے ان لوگوں کی مدد کی جائیگی جنہیں ہنگامی مدد کی ضرورت ہو گی ۔ علاوہ ازیں عالمی ادارے نے یمن اور شام جیسے ممالک میں جنگوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کیلئے مزید 3 ارب ڈالرز کی امداد پر نظریں جما رکھی ہیں2019ء میں شام اور یمن میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کی وجہ سے فنڈنگ کا تقریباً 42 فیصد حصہ ان ممالک میں خرچ ہوا۔ جنوبی امریکی ملک وینیزویلا وہ ملک ہے جہاں بحران کی وجہ سے ضروریات میں مزید اضافہ ہوا ۔ اقوام متحدہ نے 2019ء کے دوران جنوبی امریکی ملک کیلئے تقریباً 74 کروڑ ڈالر زجمع کیے لیکن خراب معاشی اور سیاسی حالت کی وجہ سے ضرورت1 ارب 35 کروڑ ڈالرز تک جا پہنچی۔ رپورٹ میں ادارے نے اپنے کام میں پیش آنے والے مسائل کا تذکرہ بھی کیا اور بتایا کہ گذشتہ برس کے دوران شورش زدہ علاقوں میں رضاکاروں پر 825 حملے ہوئے جن میں 171 افراد مارے گئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مختصر مطالعے کے بعد نئے سال کی خوشیاں منانے سے زیادہ فکر اور عمل کی ضرورت ہے کہ کس طرح دنیا میں تیزی سے بڑھتے انسانی بحران کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء کا ذکر کریں تو بھارت میں ’’مسلم ہولو کاسٹ ‘‘ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے جبکہ مقبوضہ کشمیر 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کیلئے جیل بن چکا ہے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی کشمیریوں کو ان کی سرزمین سے محروم کرنے کے بھارتی منصوبے کو بے نقاب کر چکے ہیں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت وادی میں مزید زمین قبضے میں لے کر اس پر کالونیاں تعمیر کر کے غیر کشمیریوں اور بھارتی فوجیوں کو بسائے گا اور کشمیریوں کو ان کے قدرتی وسائل سے محروم کرے گا۔ قابض بھارت کشمیر میں نام نہاد تعمیر و ترقی کے نام پر مزید زمین بھارتی اداروں کو دے گا اور غیر کشمیریوں کو وہاں لا کر بسائے گا۔ کشمیری بھارتی مذموم منصوبے کے خلاف بھر پور مزاحمت کریں ، کشمیریوں کی آج کی مزاحمت کل ان کے لیے آزادی کی صبح بن کر طلوع ہوگی۔ پاک ، بھارت سرحدپرکشیدگی کا سلسلہ بھی کافی پرانا ہے لیکن اس میںشدت 2019ء یعنی گذشتہ برس کی ابتداء سے ہوئی تھی ، صورتحال اب تک معمول پر نہیں ہے، نئے سال کی ابتداء پر خوشیاں ضرور منائیں لیکن مظلوم کشمیریوں اور دیگر محکوم اقوام کو ضرور یاد رکھیں۔۔۔

Maria
01-03-2020, 11:02 AM
احمد ندیم قاسمی کی مناجات گڈ مڈ کر دی گئی ہے
عمدہ مضمون
شیئر کرنے کا شکریہ

حبیب صادق
01-04-2020, 01:48 AM
پسند اور جواب کا شکریہ