PDA

View Full Version : روزِقیامت اور علامات قیامت



حبیب صادق
01-07-2020, 04:29 AM
روزِقیامت اور علامات قیامت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک دن لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا ایمان کسے کہتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ اور اس کے فرشتوں کا اور اس سے ملنے کا اور اس کے پیغمبروں کا یقین کرے اور مر کر جی اٹھنے کو مانے۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اسلام یہی ہے کہ تو اللہ کو پوجے اس کے ساتھ شرک نہ کرے اور نماز کو ٹھیک کرے اور فرض زکوۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے ۔اس نے پوچھا احسان کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا احسان یہ ہے اللہ کو ایسا (دل لگا کر) پوجے جیسا تو اس کو دیکھ رہا ہے اگر یہ نہ ہوسکے تو خیر اتنا تو خیال رکھ کہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا قیامت کب آئے گی؟ آپؐ نے فرمایا جس سے پوچھتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا اور میں تجھ کو اس کی نشانیاں بتلائے دیتا ہوں جب لونڈی اپنے میاں کو جنے اورجب کالے اونٹ چرانے والے لمبی لمبی عمارتیں بنا ئیں (بڑے امیر بن جائیں) قیامت (غیب کی ان) پانچ باتوں میں ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر آنحضرت ﷺ نے (سورہ لقمان کی) یہ آیت پڑھی ��بے شک اللہ ہی جانتا ہے قیامت کب آئے گی اخیر تک �� پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا۔آنحضرتؐ نے فرمایا اس کو پھر لاؤ (لوگ گئے) تو وہاں کسی کو نہ دیکھا تب آپؐ نے فرمایا جبریلؑ تھے۔ لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔
(بخاری ،جلد اول کتاب الایمان، حدیث نمبر48)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ (دین کا) علم اٹھ جائے گا اور جہالت جم جائے گی اور شراب کو (کثرت سے) پیا جائے گا ،زنا علانیہ ہوگی۔
(بخاری ،جلد اول کتاب العلم ،حدیث نمبر80)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ر وایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے :کہ دین کا علم گھٹ جانا اور جہالت پھیل جانا اور زنا علانیہ ہونا اور عورتوں کی کثرت، مردوں کی قلت، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا کام چلانے والا ایک مرد رہے گا۔
(مسلم ، کتاب العلم)(بخاری، جلد اول کتاب العلم ،حدیث نمبر81)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم میں عیسیٰ مریم کے بیٹے منصف حاکم بن کر نہ اتریں۔ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ لینا موقوف کردیں گے اور مال (روپیہ پیسہ) کی اس وقت ایسی کثرت ہوگی کوئی قبول نہیں کرے گا۔
(بخاری، جلد اول کتاب المظالم، حدیث نمبر2312)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے عنقریب عیسیٰ علیہ السلام (آسمان سے) اتریں گے۔ (میری) شریعت کے مطابق حکم اور انصاف کریں گے۔ صلیب (جس کی پرستش کی جاتی ہے) کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر (جس کا گوشت کھانے سے فحاشی پھیلتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام قرار دیا ہے) کو قتل کر ڈالیں گے اور جزیہ کو موقوف کردیں گے۔ اونٹوں کو (جو قیمتی مال ہے) کھلا چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے کوئی شخص کام نہیں لے گا، لوگوں کے دلوں سے کینہ، بغض اور حسد نکل جائے گا۔ انہیں مال لینے کے لئے بلایا جائے گا مگر کوئی مال لینے نہیں آئے گا۔
(مسلم ، کتاب الایمان)

Maria
01-07-2020, 09:17 PM
ماشاءاللہ
اہم اور مفید دینی معلومات شیئر کرنے کا شکریہ
جزاک اللہ

حبیب صادق
01-08-2020, 01:46 AM
پسند اور جواب کا شکریہ
جزاک اللہ خیراً کثیرا