PDA

View Full Version : کب سماں تھا بہار سے پہلے



تانیہ
12-22-2010, 11:42 AM
کب سماں تھا بہار سے پہلے
غم کہاں تھا بہار سے پہلے

ایک ننھا سا آرزو کا دیا
ضوفشاں تھا بہار سے پہلے

اب تماشا ہے چار تنکوں*کا
آشیاں تھا بہار سے پہلے

اے مرے دل کے داغ یہ تو بتا
تو کہاں تھا بہار سے پہلے

پچھلی شب میں خزان کا سناٹا
ہم زباں*تھا بہار سے پہلے

چاندنی میں*یہ آگ کا دریا
کب رواں تھا بہار سے پہلے

بن گیا ہے سحابِ موسمِ گل
جو دھواں تھا بہار سے پہلے

لُٹ گئی دل کی زندگی ساغر
دل جواں*تھا بہار سے پہلے
شاعر ساغر صدیقی

این اے ناصر
04-03-2012, 10:01 AM
واہ بہت خوب۔ شئیرنگ کاشکریہ۔