PDA

View Full Version : اردو منظر فورم



گلاب خان
11-26-2010, 04:57 PM
آغاز کالم اور مضامین کالم اور مضامین آسیہ بی بی اور قانونِ توہین رسالت
آسیہ بی بی اور قانونِ توہین رسالت
جمعرات, 25 نومبر 2010 10:10

آسیہ بی بی کا تعلق ننکانہ صاحب کے نواحی علاقے اٹانوالی سے ہے۔ پانچ بچوں کی 45 سالہ ماں آسیہ بی بی کو مقامی سیشن عدالت سے توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ سال کئی افراد کی موجودگی میں توہین رسالت کی جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کیا گیا۔ پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اس مقدمے کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ محمد امین شاہ بخاری نے کی اور ان کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش آسیہ بی بی نے مسیحی برادری کے اہم افراد کی موجودگی میں اعتراف جرم کیا اور کہا کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔لہٰذا اسے معاف کردیا جائے۔
آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال کچھ مسلمان خواتین نے اس کے سامنے کہا کہ قربانی کا گوشت مسیحیوں کیلئے حرام ہوتا ہے جس پر غصے میں آکر اس نے کچھ گستاخانہ کلمات کہہ ڈالے جس پر وہ معافی مانگتی ہے۔ آسیہ بی بی نے اپنے خلاف مقدمے کے مدعی قاری سالم سے بھی معافی مانگی لیکن اس کا موقف یہ تھا کہ توہین رسالت کے ملزم کو معافی نہیں مل سکتی۔
ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نوید اقبال نے گواہوں کے بیانات اور واقعاتی شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے 8 نومبر 2010ء کو آسیہ بی بی کیلئے سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا اعلان کیا۔ اس سزا کے بعد وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا اور ساتھ ہی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کو بھی ظالمانہ قرار دے دیا۔
کچھ دنوں بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر شیخوپورہ جیل پہنچ گئے۔ انہوں نے بھی آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا اور کہا کہ وہ آسیہ بی بی کو صدر آصف علی زرداری سے معافی دلوادیں گے۔ سلمان تاثیر نے بھی 295 سی پر تنقید کی جس کے بعد آسیہ بی بی پس منظر میں چلی گئی اور 295 سی پر بحث شروع ہوچکی ہے۔ یہ بحث آسیہ بی بی کو مزید متنازع بنارہی ہے کیونکہ یہ تاثر تقویت پکڑرہا ہے کہ آسیہ بی بی کے نام پر ایک ایسے قانون کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا اتفاق ہے۔
پوپ بینیڈیکٹ کی طرف سے آسیہ بی بی کے رہائی کے مطالبے کے بعد کئی پاکستانی علماء اس معاملے کا عافیہ صدیقی کے معاملے کے ساتھ تقابلی جائزہ لے رہے ہیں اور یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ جن عناصر کو آسیہ بی بی کے ساتھ نا انصافی نظر آرہی ہے وہ عافیہ صدیقی کے معاملے میں خاموش کیوں رہتے ہیں؟
بہتر ہوتا کہ آسیہ بی بی کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی بجائے اسے افہام و فہیم سے حل کیا جاتا۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں کئی افراد کی طرف سے 295 سی کا غلط استعمال کیا گیا لیکن یہ غلط استعمال صرف مسیحیوں کے خلاف نہیں کیا گیا بلکہ مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف بھی کیا۔
بالکل اسی طرح جیسے کئی مرتبہ دفعہ 302 میں بے گناہ افراد پر قتل کا الزام عائد کردیا جاتاہے اسی طرح 295 سی میں بھی بے گناہ افراد پر توہین رسالت کا غلط الزام عائد کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔
پچھلے بیس سالوں کے دوران توہین رسالت اور توہین قرآن کے الزام میں 700 سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ مقدمات مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف درج کرائے لہٰذا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ 295 سی کا نشانہ صرف غیرمسلم بنتے ہیں۔ قانون میں کوئی خامی نہیں ہے البتہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کی ضرورت ہے۔ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کیلئے بھی سخت سزا قانون میں موجود ہے۔ جن افراد نے ماضی میں جھوٹے الزامات لگائے اگر ان کے خلاف کارروائی کی جاتی تو 295 سی کا غلط استعمال نہ ہوتا۔
اگر شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر اپنی دانست میں آسیہ بی بی کو بے گناہ سمجھتے ہیں تو ان کے پاس دو مناسب راستے موجود تھے۔ اول یہ کہ وہ کسی اچھے وکیل کا انتظام کرتے اور آسیہ بی بی کے خلاف سزا کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیتے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ہائیکورٹ نے توہین رسالت کے ملزمان کو رہا کردیا کیونکہ ان پر الزام ثابت نہ ہوسکا۔
دوسرا راستہ یہ تھا کہ پنجاب حکومت سمیت ملک کی اہم دینی جماعتوں کی قیادت اور جید علماء کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جاتی اور اس کمیٹی کو یہ اختیار دیا جاتا کہ آسیہ بی بی کے بے قصور ثابت ہونے کی صورت میں صدر آصف علی زرداری سے اس کی سزا معاف کرنے کی سفارش کی جاتی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر نے جو کچھ بھی کیا اس میں اصل مقصد آسیہ بی بی کو بچانا نہیں بلکہ 295 سی کو اڑانا نظر آتا ہے۔
295 سی کے تحت توہین رسالت کی سزا موت پر نہ صرف بریلوی، دیوبندی، اہل تشیع اور اہل حدیث کے جید فقہا اور علماء کا اتفاق ہے بلکہ یہ قانون پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظورشدہ ہے۔ 2 جون 1992ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی سے یہ قرارداد منظور ہوئی کہ توہین رسالت کی سزا موت ہونی چاہئے۔ اس سے قبل وفاقی شرعی عدالت حکومت کو حکم دے چکی تھی کہ توہین رسالت کی سزا عمرقید کی بجائے موت مقرر کی جائے۔ قومی اسمبلی میں اس معاملے پر بھرپور بحث ہوئی جس کے بعد 295 سی کی منظوری ہوئی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قانون جنرل ضیاء کے دور میں لایا گیا تھا اس لئے اس قانون کو ختم کردیا جائے۔
یہ بڑی عجیب منطق ہے جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کا رکن یوسف رضا گیلانی پیپلزپارٹی کی حکومت کا وزیراعظم بن جائے تو قبول لیکن وہی جنرل ضیاء توہین رسالت کا قانون لائے تو قبول نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ توہین رسالت کے قانون کی تشکیل کیلئے آئینی تحریک قیام پاکستان سے کئی سال قبل مولانا محمد علی جوہر نے شروع کی تھی جب لاہور ہائیکورٹ کے جج کنوردلیپ سنگھ نے ایک قابل مذمت کتاب ”رنگیلا رسول“ کے ناشر راج پال کو محض یہ کہہ کر چھوڑدیا کہ اس کی کتاب مروجہ قانون کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتی۔
مولانا محمد علی جوہر نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ قصور جج کا نہیں قانون کا ہے اور یوں توہین رسالت کیلئے قانون سازی کا مطالبہ 1927ء میں شروع ہوا۔ دو سال کے بعد 1929ء میں ایک مسلمان نوجوان غازی علم دین نے راج پال کو لاہور میں قتل کردیا۔ غازی علم دین کو سزائے موت دی گئی تو علامہ اقبال رحمہ اللہ نے ان کی رہائی کیلئے قائد اعظم کو وکالت پر آمادہ کیا۔ غازی علم دین کی پھانسی کے بعد علامہ اقبال رحمہ اللہ نے ان کے جنازے میں شہید کو خراج تحسین پیش کیا۔
یاد رہے کہ غازی علم دین شہید کے جنازے میں میت کیلئے چارپائی کا بندوبست سلمان تاثیر کے والد ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر نے کیا تھا۔ اگر برصغیر میں توہین رسالت کا قانون موجود ہوتا تو غازی علم دین کی طرف سے راج پال کو قتل نہ کیا جاتا۔
توہین رسالت سے فساد پھیلتا ہے، توہین رسالت کے قانون پر صحیح عملدرآمد سے فساد کے تمام راستے مسدود کئے جاسکتے ہیں۔ اگر کوئی اس قانون کو بدلنے کی کوشش کرے گا تو وہ پاکستان میں فساد پھیلانے کا باعث بنے گا لہٰذا آسیہ بی بی کے نام پر اس قانون کو ٹارگٹ نہ کیا جائے۔ آسیہ بی بی اگر واقعی بے گناہ ہے تو اس کی رہائی کیلئے اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔ اس سلسلے میں میڈیا کو بہت ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور جس کسی نے بھی زیادتی کی ہے اسے بے نقاب کرنا چاہئے۔

حامد میر
(بہ شکریہ اداریہ جنگ)

admin
11-26-2010, 05:22 PM
بہت خوب گلاب خان........... ایسا کوئی کالم ہو جو کہیں سے لیا گیا ہو اسے اس کے عنوان کے ساتھ کالم والے حصے میں لگایا کرو........... اردو منظر لکھو گے تو پتہ نہیں چلے گا..............