PDA

View Full Version : بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے



تانیہ
12-22-2010, 11:43 AM
بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے

منزل نہیں ہوں ، خضر نہیں ، راہزن نہیں
منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے

میری نگاہِ شوق سے ہر گُل ہے دیوتا
میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے

نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے
اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے

گُم صُم کھڑی ہیں*دونوں جہاں کی حقیقتیں
میں اُن سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغر کسی کے حُسنِ تغافل شعار کی
بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے

شاعر ساغر صدیقی

این اے ناصر
04-03-2012, 10:00 AM
واہ بہت خوب۔ شئیرنگ کاشکریہ۔

نگار
07-10-2014, 05:32 PM
بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے

عمدہ شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا بہت شکریہ

saba
07-11-2014, 10:32 AM
نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے
اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے
زبردست