PDA

View Full Version : جاوید شاہین....... تحریر : عبدالحفیظ ظفر



حبیب صادق
02-26-2020, 04:24 AM
جاوید شاہین

وہ غزل اور نظم کے شاندار شاعر تھے‘ ندرتِ خیال کمال کی تھی
تحریر : عبدالحفیظ ظفر
ترقی پسند ادب سے وابستگی کا دعویٰ کرنے والے یوں تو بہت سے تھے اور بہت سے ہیں لیکن جن ادیبوں اور شاعروں نے اس فکر کی صحیح معنوں میں پیروی کی اور اپنی فکر کو ادبی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا‘ ان کا نام آج بھی گونجتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اصلی ترقی پسند رجائیت پسند ہوتا ہے۔ اس کی شاعری اور افسانوں میں حیات افروز رجائیت ملتی ہے۔وہ خواب دیکھتا ہے اور ان خوابوں کی تعبیر چاہتا ہے۔لیکن وہ خواب فروش نہیں۔وہ کبھی کبھی قنوطیت کا شکار بھی ہو جاتا ہے اور خوابوں کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیتا ہے ۔سلیم شاہد نے کیا اعلیٰ شعر کہا تھا۔خواب میں جوکُچھ نظر آئے غنیمت جان لوجاگنے کے بعد یہ منظر کہاں رہ جائیں گےاسی فکری راستے کے ایک مسافر جاوید شاہین بھی تھے۔جو شاعر بھی تھے اور مترجم بھی۔انہوں نے ایک ناول بھی تحریر کیا۔جدید غزل اور جدید نظم کے حوالے سے ان کا نام بڑا اہم ہے اور ان کی ادبی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ان کا شعری اسلوب بھی خوبصورت تھا اور ان کے پاس ندرت خیال بھی کمال کی تھی۔ سادگی ‘سلاست‘ دلکش تراکیب اور نکتہ آفرینی ان کی شاعری کی اہم اوصاف ہیں۔۔ ان کے ہاں سماجی رویوں پر بھرپور طنز بھی ملتی ہے اور طبقاتی تضادات کے حوالے سے بھی متاثر کن اشعار ملتے ہیں۔ انہیں معروضی صورت حال کا بھرپور ادراک ہے۔سماجی اور معاشی جبر کی عکاسی کے علاوہ جاوید شاہین جمالیاتی طرز احساس کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ان کی رومانیت کے کئی پہلو ہیں اور ان کی رومانوی شاعری میں جابجا نکتہ آفرینی ملتی ہے۔ فیضؔ‘ فرازؔ اور ساحرؔ کی طرح ان کی شاعری میں بھی رومانس اور انقلاب کی پرچھائیاں ملتی ہیں۔28اکتوبر 1932 ء امرتسر(بھارت) میں پیدا ہونے والے جاوید شاہین کا اصل نام اختر جاوید تھا اور ان کا قلمی نام شاہین تھا۔وہ ایک جریدے کے مدیر بھی رہے۔ان کے شعری مجموعوں میں ’’زخمِ مسلسل کی ہری شاخ‘ صبح سے ملاقات‘ محراب میں آنکھیں‘دیر سے نکلنے والا دن‘ نیکیوں سے خالی شہر اور ہوا کا وعدہ‘‘ شامل ہیں۔1993ء میں ان کے کلیات ’’عشق تمام‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔انہوں نے افسانے بھی تحریر کیے اور پھر ’’میرے ماہ و سال‘‘ کے عنوان سے ان کی خودنوشت بھی منظر عام پر آئی۔ان کی ادبی خدمات پرانہیں صدارتی ایوارڈ بھی دیا گیا۔اگرچہ جاوید شاہین ایک مانے ہوئے شاعر تھے اور غزل اور نظم دونوں میں ان کا اپنا مقام تھا لیکن زندگی کے آخری برسوں میں وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ دنیا بھر میں شاعری روبہ زوال ہے۔انیس ناگی مرحوم تو یہ سمجھتے تھے کہ غزل میں موضوعات کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں اس لئے انہوں نے آزاد و نثری نظمیں لکھیں۔لیکن جاوید شاہین کی رائے کچھ اور تھی۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ شاعری مختلف وجوہ کی بنا پر اپنا عروج کھو چکی ہے۔وہ تو یہ بھی کہتے تھے کہ پاکستان میں شاعری کا کوئی مستقبل نہیں۔بہرحال یہ ان کی اپنی رائے تھی جس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ان کا کریڈٹ یہ ہے کہ انہوں نے جدید غزل کو بڑی کامیابی سے آگے بڑھایا اور شعریت کو ترجیح دی۔جاوید شاہین کی نظموں کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا گیا۔ان کی نظموں کے تراجم کا جو مجموعہ ترتیب دیا گیا اس کا عنوان ہے’’I ask The night‘‘۔جاوید شاہین نے شاعری برائے شاعری نہیں کی بلکہ اس میں مقصدیت کو اولیت دی وہ انجمن ترقی پسند مصنفین سے بڑے متاثر تھے۔جوانی میں ہی وہ امرتسر سے پاکستان آ گئے تھے۔تقسیم ہند کے وقت انہوں نے بڑے قریب سے خونریزی دیکھی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے غربت و افلاس کا بھی گہرا مشاہدہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں پسے ہوئے طبقات کے دکھوں کی کہانیاں بھی ملتی ہیں۔جاوید شاہین کی شاعری کے بارے میں منو بھائی کا کہنا تھا کہ جاوید شاین سیاسی طور پر شائد سب سے زیادہ بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور طبقاتی حوالے سے بھی ان کا شعور بہت زیادہ ہے۔ نیت کے اخلاص اور گہری نظریاتی وابستگی نے جاوید شاہین کے فن کو اوج کمال پر پہنچا دیا ہے ۔ان کی شاعری یا سیت کے اندھیروں میں امید کی شمعیں جلاتی ہے۔ہم ذیل میں جاوید شاہین کی غزلوں کے چند اشعار اپنے قارئین کی نذر کررہے ہیں۔وہ گفتگو میں میری ذات پر اتر آیاجو اس کی تھی اسی اوقات پر اتر آیازخم کوئی ایک بڑی مشکل سے بھر جانے کے بعدمل گیا وہ پھر کہیں دل کے ٹھہر جانے کے بعداس طرح کرتے ہیں کچھ لوگ بڑائی اس کیخلق اس کی ہے‘ خدا اس کا خدائی اس کیجمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سےصبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لئےاتنی ز یادہ بھیڑ تھی بات نہ اس سے ہو سکیپل بھر میں وہ تیز وقت کی راہ گزر میں ملاصبح کے جاگے مسافت سے تھکے دریا نے پھرشام ہوتے ہی تعلق کم روانی سے کیاکچھ زمانے کی روش نے سخت مجھ کو کر دیااور کچھ بے درد میں اس کے بھلانے سے ہواکیا غارت محبت کی فقط اک تیز بارش نےاتر کر دل سے سب رنگ تمنا دور تک آیاگزر کے آیا ہوں ان سخت منزلوں سے جہاںتمہاری یاد کا سایہ بھی آس پاس نہ تھاسڑکوں پہ بہت خلق خدا دیکھتے رہناکیا چیز ہے جینے کی سزا دیکھنے رہنابہت مشکل تھا کچھ اس حسن کی تعریف میں کہنامرا مطلب مگر اک استعارے سے نکل آیاسمجھتا ہے مری عادت وہ حسن بے پرواہسمیٹ لوں گا اسے جب بکھرنے پر ہو گاجاوید شاہین کی ایک نظم ’’مجھے صرف ایک دن چاہئے‘‘ ملاحظہ کریں۔سال کے اتنے سارے دنوں میںمجھے صرف ایک دن چاہئےتمہارے ساتھ بسر کرنے کیلئےمیں چاہتا ہوں وہ دن بے حد شفاف ہوتمہاری آنکھوں کی طرحبے حد روشن ہوتمہارے چہرے جیسااس دن کی شفقتمہارے ہونٹوں سے ملتی ہوجاوید شاہین نے بڑے خوبصورت تراجم بھی کئے جن میں لیون ٹراٹسکی کی خودنوشت ’’مائی لائف‘‘ کا اردو ترجمہ ’’میری زندگی‘‘ بھی شامل ہے۔اس کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اس ترجمے پر بہت محنت کی گئی ہے۔ 23 اکتوبر 2008ء کو جاوید شاہین کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔بلاشبہ وہ اردو ادب کی تاریخ میں زندہ رہیں گے۔

Maria
02-26-2020, 11:24 PM
اہم اور مفید معلومات شیئر کرنے کا