PDA

View Full Version : ہستی اپنی حباب کی سی ہے



تانیہ
12-22-2010, 11:52 AM
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اُس کے لب کی کیا کہئیے
پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے
بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
اُسی خانہ خراب کی سی ہے
میر اُن نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
شاعر میر تقی میر

این اے ناصر
04-03-2012, 09:45 AM
واہ بہت خوب۔ شئیرنگ کاشکریہ۔