PDA

View Full Version : میں عورت ہوں - سیدہ خدیجہ گیلانی



حبیب صادق
03-12-2020, 01:37 AM
میں عورت ہوں - سیدہ خدیجہ گیلانی

میں سسک رہی ہوں, میں تڑپ رہی ہوں . صدیوں پہلے جب میرے رب نے یہ دنیا بنائی تو مجھے آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا.... مجھے ایک الگ پہچان دی خالق نے اپنی صفت تخلیق سے مجھے متصف کیا .
دنیا آگے بڑھی میں نے پیغمبروں کو جنم دیا میں نے ولیوں کی پرورش کی .اللہ نے دنیا میں مجھ سے بڑے بڑے کام لئے میں آزمائشوں سے گزری مجھے امتحان میں ڈالا گیا میں سرخرو ہوئی تو میرا نام بلند ہوا میں نے فرعون کے گھر میں رہ کر موسی علیہ السلام کو پالا . میں آسیہ ہوں رہتی دنیا تک کے لیے قابل احترام میں حکمت, دانائی اور پاکیزگی کا پیکر مریم ہوں ، میرا شمار دنیا کی بہترین عورتوں میں ہوا ، میں شعیب علیہ السلام کی بیٹی ہوں ، میں شرم وحیا کا پیکر ہوں ، میں حاجرہ علیہ السلام ہوں ، میری سعی کو رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے قابل تقلید بنا دیا ، لیکن مگر میں بھٹک گئی ... میں اپنے رب کی نافرمان ہوئی ..تو لوط علیہ السلام کی بیوی کی طرح مجھ پر عذاب نازل ہوا .. مجھ پر نفرین بھیجی گئی ... میرا سفر جاری رہا .. دنیا چلتی رہی ..لوگوں نے نئے نئے دیں بنا لئے .. میری صورت کو مسخ کر دیا
کسی نے مجھے کم عقل کہا ، کسی نے مجھے گناہ کی جڑ قرار دیا ، دنیا کی کسی تہذیب میں یہ بحث ہوتی رہی کہ عورت انسان بھی ہے یا نہیں ،کسی مذہب نے مجھے چڑیل سے تعبیر کیا ، میں اپنی تلاش کے سفر میں رہی ، میں صدیوں بھٹکتی رہی ،
مجھے کوئی معاشی حقوق حاصل نہیں تھے ، میرے پاس کوئی قانونی حقوق نہیں تھے ، دنیا کی بڑی بڑی تہذیبوں میں ، شوہر مجھے بیچ سکتا تھا ، مجھ سے دوبارہ شادی کر سکتا تھا اور یہاں تک کہ مجھے جان سے مار بھی سکتا تھا ، مجھے مرد سے کم تر مخلوق کا درجہ حاصل تھا ، میرے بارے میں یہ تصور راسخ کیا گیا کہ میں نے آدم علیہ السلام کو رب کی نافرمانی پر اکسایا ، عرب جاہلیت میں میرے پیدا ہونے پر مجھے زندہ گاڑا جانے لگا ، میرا شوہر مر جاتا تو میں بیٹوں کی ملکیت قرار پاتی
مجھے لاتعداد بار طلاق دی جاتی اور پھر ساتھ رکھ لیا جاتا . ایک وقت میں کئی کئی بیویاں رکھنے کا رواج عام تھا ، میری زندگی انسانیت سے نچلے درجے کی تھی
پھر .. اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا ، مجھے روشنی کی کرن نظر آئی ، مجھے اتنا اتنا نوازا ، اتنا اووووونچا مقام دیا ، مجھے ماں بنا کر میرے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی مجھے بیٹی بنا کر جنت کی بشارت بنا دیا ، مجھے بہن بنا کر عزت و تکریم دی ، نیک بیوی کو دنیا کی بہترین متاع قرار دیا ، مجھے وراثت میں حق دیا
مجھے مہر کا تحفہ دیا ، میرے حقوق کا تعین کیا ، مجھے میرے شوہر تک محدود کیا ، حرمت کے رشتوں کا تعین کیا ،
مجھے معاشی, سیاسی ,سماجی اور قانونی حقوق دیئے ، رسول خدا صل اللہ علیہ والہ و سلم نے مجھ سے مشورہ بھی کیا ، میں نے جنگوں میں بھی حصہ لیا ، اور سرکار دو عالم نے یہ فرما کر کہ اے لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، مجھے معتبر کر دیا ، مجھے خدیجہ بنا کر میرے وقار میں اضافہ کیا ، مجھے عائشہ بنا کر میرے ناز نخرے اٹھائے , میری پاکیزگی کی گواہی قرآن میں آئی ، مجھے فاطمہ بنا کر حبیب خدا نے اپنی چادر بچھائی ، میری فریاد عرش پر سنی گئی اور میری داد رسی اللہ نے فرمائی
مجھے مستور کیا ، میں نازاں ہو گئی ، میں فاطمہ بنت خطاب کی طرح اولوالعزم بنی ، میں اسلام کی پہلی شہید کہلائی ، میں نے بہادری کی داستانیں رقم کیں
میں نے ایثار اور قربانی کی مثالیں قائم کیں ، میرے بطن سے معاذ اور معوذ جیسے مجاہدین پیدا ہوئے ، میں نے عمر بن عبدالعزیز کو جنم دیا ، لیکن .. رفتہ رفتہ
میں پھر اس روشنی سے دور ہوتی گئی ، میں بھٹک گئی ، مجھے بھٹکا دیا گیا ، میں زمانہ جاہلیت میں لوٹنے لگی ، مجھے صدیوں پہلے کے اس دور میں دھکیلا جانے لگا
جہاں میں خریدی اور بیچی جانے والی چیز تھی ، مجھے سیاسی شعور سے نابلد چیز سمجھا گیا .
میرے پیدا ہونے پر سوگ منایا جانے لگا ، میرے پیدا ہونے پر میری ماں کو مجرم ٹھہرایا جانے لگا ، مجھے فیشن کے نام پر برہنہ کر دیا گیا ، میں پھر بھٹک گئی
میں پھر معتوب ہوئی ، مجھے جاہلانہ رسم و رواج کی بھینٹ چڑھایا گیا ، مجھے وراثت سے محروم کر کے ، مجھے جہیز کی لعنت میں جکڑ دیا گیا ، میں بھٹک گئی
میں بھٹک رہی ہوں ، لیکن میری تلاش کا سفر جاری ہے ، کسی نے جاہلانہ معاشرتی رسومات کو مذہب کا پیرہن پہنا کر میری چیخوں کا گلا دبایا, کسی نے روایات کی بھینٹ چڑھایا اور کسی نے سر بازار لا کر میرا تماشا بنوایا ہے ، مجھے دور روشنی کی کرن نظر آتی ہے ، اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چمکتے ہوئے وہ جگنو جو 1500سال پہلے مجھے دئیے گئے ، میں بڑھ کر انہیں مٹھی میں تھام لینا چاہتی ہوں ، لیکن .. مصنوعی روشنیوں کی اس چکا چوند سے میری آنکھیں بند ہو جاتی ہیں ، اور ان بند آنکھوں کے ساتھ میں کانٹوں پر گھسٹتی جارہی ہوں . مجھے غلط اورجھوٹی توقعات کی بھاری سل تلے دبایا جا رہا ہے . میں سسک رہی ہوں ,میرا جسم لہولہان ہے... میرا دم گھٹ رہا ہے ................. میں عورت ہوں .... میں عورت ہوں .... میں عورت ہوں