PDA

View Full Version : سلیم بیتاب عمر 34سال،شاعری باکمال ۔۔۔۔۔۔۔تحریر : عبدالحفیظ ظفر



حبیب صادق
03-17-2020, 04:13 AM
سلیم بیتاب

عمر 34سال،شاعری باکمال

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

دنیائے ادب میں بہت سے شعرا ایسے گزرے ہیں جنہوں نے بہت کم عمر پائی لیکن اپنی اس مختصر زندگی میں ایسی باکمال شاعری کی کہ ان کا نام امر ہو گیا۔ انگلستان کے شاعر جان کیٹس نے زندگی کی صرف 26بہاریں دیکھیں لیکن کیا شاعری کی اُس نے۔ ہر شے میں خوبصورتی ڈھونڈنے والے جان کیٹس کو خوبصورتی کا شاعر (Poet of beauty) کہا گیا۔ لارڈ بائرن اور شیلے بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ لیکن یہ دونوں بھی 36اور 29برس کی عمر میں اس جہاں سے رخصت ہو گئے۔ کیٹس اور بائرن 18ویں صدی کے شاعر تھے جبکہ شیلے کا شمار 19ویں صدی کے شعرا میں ہوتا ہے۔ ان تینوں میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ تینوں رومانوی شاعر تھے۔ شیلے کی شاعری میں تو فلسفہ بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے انہیں فلسفی شاعر بھی کہا جاتاہے۔
فرانس کے ایک شاعر تھے آرتھر راں بو۔ انہوں نے جدید ادب پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ان کی نظموں کی کتاب ''جہنم میں ایک موسم‘‘ (one season in the hell) شعری ادب کا اثاثہ ہے۔ یہ بھی 19ویں صدی کے شاعر تھے اور صرف 37برس کی عمر میں لقمہ اجل بن گئے۔ اسی طرح روہرٹ بروک 27سال کیتھوڈمگس 24سال، سلویا پلیتھ30سال اور ولفریڈ اوون 25سال کی عمر میں چل بسے۔ روسی شاعر الگزینڈر پوشکن نے صرف 37برس کی عمر پائی۔ وہ شاعر کے علاوہ ڈرامہ نویس اور ناول نگار بھی تھے۔ بہت سے ناقدین کی رائے میں وہ عظیم ترین روسی شاعر تھے اور اس کے علاوہ وہ جدید روسی ادب کے بانی ہیں۔ یہ بھی 19ویں صدی کے شاعر تھے۔
اردو شعرا میں بھی کچھ ایسے تھے جو کم عمری میں موت کی وادی میں اتر گئے۔ اب یہ قدرت کے فیصلے ہیں جو اٹل ہیں لیکن بہرحال جو لوگ چھوٹی عمر میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں، اُن کی موت کا بہت صدمہ ہوتا ہے۔ ان کے خاندانوں کے پاس سنانے کیلئے ایک نہ ختم ہونے والی داستان الم ہے۔ یہ خاندان زندگی کے نئے معانی سے آشنا ہو جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ غم دوراں اور حسرتوں کا لہو شاید زندگی کا لازمی حصہ ہیں جن کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے۔ کسی شاعر نے اس حوالے سے کیا خوب کہا ہے:
غم زمانہ ہو اور چند حسرتوں کا لہو
یہی غذائیں ضروری ہیں زندگی کیلئے
کم عمری میں وفات پانے والے اُردو شعرا میں شکیب جلالی، سارہ شگفتہ، مصطفی زیدی، پروین شاعر، قابل اجمیری، عبدالرحمان بجنوری، حیات امروہی، پنڈت دیا شنکر نسیم (مثنوی گلزار نسیم کے خالق) اور اختر شیرانی شامل ہیں۔ ایک نام اس فہرست میں شامل نہ کیا جائے تو یہ بڑی ناانصافی ہوگی اور وہ ہے سلیم بیتاب جنہوں نے باکمال شاعری کی اور صرف 34برس کی عمر میں موت کو گلے لگا لیا۔
فیصل آباد میں 1940میں پیدا ہونے والے سلیم بیتاب نے بڑی فکر انگیز شاعری کی۔ ان کی شاعری میں کمال کا تنوع ملتا ہے اور زندگی کے تمام رنگ ملتے ہیں۔ ان کا رومانوی لہجہ بھی سب سے الگ تھلگ ہے۔ ویسے تو ان کی شناخت ان کا ایک شعر ہے
میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں
دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ سلیم بیتاب کو زندہ رکھنے کیلئے یہی ایک شعر کافی ہے لیکن ایسا کہنا مناسب نہیں۔ اس شعر کے علاوہ بھی انہوں نے کئی خوبصورت اشعار کہے۔
جیسے کہ کہتے ہیں کہ عمر کے ساتھ ساتھ شاعر کا ذہنی افق وسیع ہوتا جاتا ہے اور وہ اپنے مشاہدات اور تجربات کو اپنے فن کا حصہ بناتا ہے۔ لیکن سلیم بیتاب نے جتنی عمر پائی، یقین نہیں آتا کہ ان کی شاعری کا کینوس اتنا وسیع ہو سکتا ہے۔ اگر عمر وفا کرتی تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی شعری عظمت میں مزید اضافہ ہوتا۔
ان کے خیال کی قوت جب احساس کی شدت میں ڈھلتی ہے تو شاندار شاعری وجود میں آتی ہے۔ذرا یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔
چہرے سے دُھل چکی مری بیداریوں کی راکھ
آنکھوں میں کچھ خمار ابھی رتجگوں کا ہے
ان کی شاعری میں وہ تنوع ہے کہ قاری دنگ رہ جاتا ہے۔ذرا یہ شعر دیکھئے۔
یہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے
یہ دیکھنے کو کئی بار رک گیا ہوں میں
اور یہ شعر تو نہایت اثر انگیز ہے۔
اس ملک میں بھی لوگ قیامت کے ہیں مُنکر
جس ملک کے ہر شہر میں اک حشر بپا ہے
سلیم بیتاب کی شاعری کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ ان کے بعض اشعار کا پہلا مصرعہ ہی چونکا دینے والا ہوتا ہے اور قاری واہ واہ کر اٹھتا ہے لیکن دوسرے مصرعے کی قوت اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے جو اس حقیقت کا غماز ہے کہ ان کے فکر کی گہرائی بہت زیادہ ہے۔ ان کے اشعار پڑھ کر عامیانہ پن کا احساس نہیں ہوتا۔کبھی ان کے خیال کی ندرت، کبھی ان کی تاثریت اور کبھی ان کا اسلوب قاری کو متاثر کرتے ہیں۔
سلیم بیتاب کی شاعری میں لطافت‘ سلاست اور سادگی ہے۔ان کی شاعری براہ راست ابلاغ کی شاعری ہے۔نہ وہ فلسفی بننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی بھاری بھرکم تراکیب استعمال کرکے قارئین ادب کو متاثر کرنے کی سعی کرتے نظر آتے ہیں۔جو کچھ ان کے دل میں ہے وہ اس کا براہ راست اظہار کرتے ہیں اور قاری کو کسی مشکل میں نہیں ڈالتے۔ان کے ہاں ہر طرح کا احساس (Sensibility) ملتا ہے۔زندگی کی تلخیاں ہوں یا جمالیات کے معاملات ہوں‘وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ان کا مطمع نظر اچھا شعر کہنا ہے۔لہجہ جدید ہے اور فکر کی آتش ایسی ہے جو مسلسل بھڑکتی جاتی ہے۔خیال میں جدت ہو تو قاری فوراً چونک اٹھتا ہے اور قاری کو چونکانے کا فن سلیم بیتاب کوخوب آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے کئی اشعار بہت مقبول ہوئے۔ان کی شاعری پڑھ کر بسا اوقات دل سے اک آہ نکلتی ہے۔کاش یہ شاعر زندگی کی بازی اتنی جلدی نہ ہارتا۔جب ان کے اشعار سے فکر کے شعلے نکلتے ہیں تو میرتقی میر کا یہ معرکہ آرا شعر گنگنانے کو جی چاہتا ہے۔
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح باں سے اٹھتا ہے
ذیل میں ہم اپنے قارئین کے لئے سلیم بیتاب کے کچھ مزید اشعار پیش کر رہے ہیں۔
جی میں آتا ہے کہ اک روز یہ منظر دیکھیں
سامنے تجھ کو بٹھائیں تجھے شب بھر دیکھیں
آج بھی شہر میں ہے میری وفا کی شہرت
آئیں اور آ کے ذرا میرے ستمگر دیکھیں
میں زخم زخم بدن کو چھپائوں کس کس سے
خدا کے واسطے تو ہاتھ سے کماں رکھ دے
وہ آ رہا ہے میری طرف رینگتا ہوا
کانٹا طلب کا چُبھ گیا پتھر کے پائوں میں
بدحواسی تھی مری یا تجھ سے ملنے کی لگن
جس پہ دستک دے رہا تھا میں وہ تیرا گھر نہ تھا
قبضہ میرے بدن پہ میری خواہشوں کا ہے
بستی مری پہ راج میرے دشمنوں کا ہے
کس قدر چوٹ لگی تھی دل پر
جب بھی مر مر کے صنم یاد آئے
یاد جب آیا تیرا نام مجھے
کتنے بے نام سے غم یاد آئے
سلیم بیتاب کی بے تابیاں دیکھئے۔1974میں 34 سال کی عمر میں یہ جہاں چھوڑ گیا۔ اسے واقعی جانے کی جلدی تھی۔