PDA

View Full Version : مولانا حالیؔ: ایک ہمہ جہت شخصیت .... تحریر : حسن عسکری کاظمی



حبیب صادق
04-17-2020, 03:58 AM
مولانا حالیؔ: ایک ہمہ جہت شخصیت .... تحریر : حسن عسکری کاظمی

شعر و ادب سے شغف رکھنا یا شاعری میں نام پیدا کرنا کسی طبقے یا ذات سے مخصوص نہیں۔ اسی طرح کسی ہمہ جہت شخصیت کو عرصہ ہنر میں داخل ہونے یا بحیثیت نثر نگار مختلف اصناف نثر میں کمالات دکھانے سے روکا نہیں جا سکتا۔ اس ہنر کی بدولت آدمی کا اعتبار بڑھتا ہے اور وہ عصری تقاضوں سے بہرہ ور ہونے کے نتیجے میں تعمیری سوچ اور لفظ کی قوت کا ادراک رکھنے کا ثبوت اس طرح فراہم کرتا ہے کہ وہ بحیثیت شاعر‘ نقاد‘ سوانح نگار یا مصلح معاشرتی ضرورت بن کر ابھرتا ہے۔ وہ پاکیزہ جذبوں اور خوابوں کو مروجہ اصناف میں بے کم و کاست اپنے عہد سے عہد مستقبل کے قاری تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ کے زمانے کا مسلمان بے یقینی کی اذیت میں مبتلا ہو چکا تھا‘ اس کرۂ ارض پر جسے جنوبی ایشیا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے‘ مسلمان کی مثال ایک نو گرفتار پرندے کی سی تھی جو سات سمندر پار سے آئے سفید فام شکاری کے ہاتھوں زیردام آیا‘ یہ پرندہ اسیر قفس ہوا۔
غالبؔ نے اپنے شاگرد عزیز مولانا حالیؔ کو مشورہ دیا کہ شعر نہیں کہو گے تو خود پر ظلم کروں گے۔ یہ مشورہ حالیؔ کی شخصیت اور فن میں ایسا نکھار پیدا کرنے کا سبب بنا کہ ''مدوجزر اسلام‘‘ کی تخلیق میں تاریخی شواہد کے ساتھ سادگی اور پرکاری کا معجزہ دلوں کو تسخیر کرنے لگا‘ بظاہر مسدس حالیؔ جیسا کارنامہ سرسید کی فرمائش پر انجام پایا اور سرسید نے اپنی بخشش کا جواز ڈھونڈ لیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالیؔ کے دل میں ایک ایسا گھائو تھا جو مسدس کی تخلیق میں کام آیا۔ مسدس حالیؔ کی اشاعت سے اشاعتی اداروں نے لاکھوں کمایا مگر مولانا حالی نے قناعت پسندی کو شعار زندگی بنا کر یہ ثابت کیا کہ ضروریات زندگی سے زیادہ اعلیٰ مقصد زندگی کو عزیز رکھنا چاہیے۔ مولانا میں قناعت کے ساتھ عجز و انکسار کا جذبہ ان کی شخصیت کی دلکشی میں نمایاں اضافہ کرنے کا موجب ٹھہرا‘ ان کی خاکساری دوسرے ہم عصر اہل قلم کو سربلند کرنے میں صرف ہو گئی۔
حالیؔ کو بحیثیت نقاد اپنی اصلاح پسندی اور معتبر حوالوں کے باعث اردو زبان و ادب میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ تنقیدی سرمائے میں اب تک جتنا اضافہ ہو اس کا نقطہ آغاز مولانا حالیؔ کے مقدمے کی صورت میں ہمیشہ ہمارے سامنے رہے گا۔
حالیؔ انگریزی زبان سیکھنے میں اپنے ہم عصر یا بعد میں آنے والے اہل قلم سے پیچھے رہے لیکن لاہور میں قیام کے دوران میں انہوں نے تراجم سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا اور بالواسطہ انگریزی ادب سے روشناس ہوئے۔ ان کی وضع داری کا یہ واقعہ مشہور ہے کہ ان کی تحریر کتابت کے لیے بھیجی گئی جس میں منبر کی بجائے حالیؔ نے ممبر (Member) لکھا ہوا تھا۔ کاتب قدرے پریشان ہوا اور صحیح لفظ‘ م۔ن۔ب۔ر کتابت کی۔ مولانا سے ایک مجلس میں ملاقات ہوئی‘ کاتب نے رازدارانہ انداز میں اپنی یہ بات ان کے گوش گزار کی‘ مولانا حالیؔ نے کاتب کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے اور کاتب کا شکریہ ادا کیا۔ وہ کاتب جب اور جہاں ملتا مولانا حالیؔ دوستوں کو بتاتے کہ یہ میرے محسن ہیں‘ انہوں نے مجھے میری غلطی پر نا صرف آگاہ کیا بلکہ اسے درست بھی کیا۔
مولانا الطاف حسین حالیؔ نے ''حیات جاوید‘ یادگار غالب‘ حیات سعدی اور مقدمہ شعر و شاعری‘‘ سے جو شہرت پائی اس سے کہیں زیادہ ''مسدس حالی‘‘ ان کی شہرت کا سبب قرار پائی‘ ان کی غزلیں اور نظمیں بھی بلند پایہ اور آفاقی سچائیوں کی مظہر ہیں۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ شعر و ادب تو انسانی زندگی کا ایک ایسا سرچشمہ ہے جو انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے انسان کی چند بنیادی ضرورتوں کی اسی طرح سیرابی کرتا ہے جس طرح علوم نافعہ اور فنون مفیدہ اجتماع کے چند عملی شعبہ ہائے زندگی کو سیراب و شاداب کرتے ہیں‘ ادب تخیل کی بیکار جولانی کا نام نہیں بلکہ اس کا صحیح عمل انسانی شخصیت کی تکمیل اور انسانی اجتماع کی خدمت ہے۔ اس اعتبار سے مولانا حالیؔ نے برصغیر پاک وہند کے مسلم معاشرے کے افراد کی خدمت کی ہے۔ وہ نہایت مخلص‘ پروقار اور دیدہ بیدار صاحب قلم تھے۔ ان کی زندگی کا مقصد مسلمانوں کی مضمحل قوت کا علاج کرنا تھا وہ ایک کامیاب چارہ گر ثابت ہوئے۔ مسلمانوں کے لیے بیداری کا سامان حالیؔ نے کیا اور بعد میں شاعر مشرق نے اس پیغام بیداری کو عام کیا۔ مولانا حالیؔ کی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا اور یہ جاننا کہ معیاری معتبر اور اعلیٰ پائے کے ادب میں تاثیر کا وصف خلوص اور صداقت کی بدولت پیدا ہوتا ہے یقینا مولانا حالیؔ کے ہاں خلوص اور صداقت بدرجہ اتم موجود ہے یہ تمام عناصر ادب پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جدید رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔ مولانا حالی کی تخلیقات جدید رجحانات اور نئے تقاضوں کے ساتھ ساتھ صحت مند ادبی روایات کی بازیافت کا وسیلہ بھی ثابت ہوئیں۔ موجودہ عہد میں دینی مابعد الطبیعیات کا سب سے زیادہ متحرک اور فعال ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنی بنیاد پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔ کسی قوم کی تہذیب‘ تہذیبی اقدار اور روایات ادبی سرمائے کی صورت میں محفوظ رہتی ہیں‘ آج بھی سرسید‘ غالبؔ‘ شبلی اور محمد حسین آزادؔ وہ ارکان خمسہ ہیں جن کے بغیر اردو ادب کا مطالعہ ادھورا اور ناقص کہلائے گا‘ ان میں مولانا حالیؔ کی نثر اور نظم کی بدولت مستقبل کا ادب پروان چڑھا اور جدید دور میں حالیؔ اپنی فکر اور زبان دونوں اعتبار سے صالح تہذیبی اقدار کے تحفظ اور تسلسل کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ وہ اپنی قوت متخیلہ یا قوت مدرکہ کے علاوہ قوت ممیزہ کی بدولت اپنے فن اور مقصدیت میں حسین امتزاج کو برقرار اور اپنی تخلیق کو قاری کے معیار فکرونظر سے ہم آہنگ رکھنا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی اصلاح شعر کی تحریک سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے اہمیت نہ دینا اور ان کی بات کو مذاق میں اڑا دینا اپنے اندر کے خلا کا اقرار کرنا ہے۔