PDA

View Full Version : وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ........رانا اعجاز



حبیب صادق
04-23-2020, 01:11 AM
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ........رانا اعجاز

افرادِ معاشرہ میں چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں انجمن کی حیثیت رکھتے ہیں اور خداداد صلاحیتوں سے تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ ان کی قابلیت، ذہانت اور محنت سے دنیا میں ناصرف خوشحالی، ترقی اور امن کو فروغ حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ لوگ تمام دنیا کے انسانوں کا مسیحا سمجھے جاتے ہیں۔ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا شمار ایسی ہی عظیم اور عہد ساز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی لازوال شاعری اور دانشمندانہ اقوال کے ذریعے نہ صرف انسانیت کو اس کی حقیقت اور اہمیت سے آگاہ کیا بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگا کر بیدار کیا اور دنیا میں عزت و وقار سے جینے کا حوصلہ عطاء کیا۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ اپنے عہد کی سیاسی تحریکوں کو ان کے صحیح پس منظر میں سمجھتے تھے۔ سیاست درحقیقت انکی زندگی کا ایک اہم اور روشن باب ہے جس کی بدولت انہوں نے قیام پاکستان سے سترہ برس پیشتر ہی اپنی بصیرت سے مستقبل کے دھندلے نقوش میں ایک آزاد اسلامی مملکت کا نقشہ ابھرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ شاعر مشرقؒ کی شخصیت کے وہ تخلیقی عناصر جن کے سبب وہ اپے ہم عصروں سے زیادہ دل آویز، باعث کشش اور جاذب نظر بن گئے اس کا باعث اقبالؒ کی علمی و ادبی اور تعلیمی کوششوں سے زیادہ مذہبی رجحان بنا اور یہی ان کی طاقت و قوت اور حکمت و فراست کا منبع اور سرچشمہ ہے، لیکن اقبال کا وہ یقین و ایمان اس خشک جامد ایمان کی طرح نہیں جو بے جان تصدیق یا محض جامد عقیدہ ہے بلکہ اقبال کا’’ یقین‘‘ عقیدہ و محبت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جو اس کے قلب و وجدان، اس کی عقل و فکر، اس کے ارادہ و تصرف اس کی دوستی و دشمنی غرضیکہ ساری زندگی پرچھایا ہوا تھا۔ آپ نے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ تم دنیا کی امامت کے لئے پیدا کئے گئے ہو، اٹھو اور اپنا فرض ادا کرو۔

سبق پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

دور مادیت اور مغربی تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک دمک سے اقبالؒ کی آنکھیں خیرہ نہ ہو سکیں حالانکہ انہوں نے جلوہ دانش فرنگ میں زندگی کے طویل ایام گزارے اس کی وجہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ اقبال کی والہانہ محبت، جذبہ عشق اور روحانی وابستگی تھی۔ جب سارا عالم خواب غفلت میں پڑا سوتا رہتا اس اخیر شب اقبال کا اٹھنا اور اپنے ربّ کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا، پھر گڑگڑانا اور رونا، یہی وہ چیز تھی جواس کی روح کو ایک نئی نشاط، اس کے قلب کو ایک نئی روشنی اور ایک نئی فکرکی غذا عطا کرتی پھر وہ ہر دن اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کے سامنے ایک نیا شعر پیش کرتے جو انسانوں کو ایک نئی قوت، ایک نئی روشنی اور ایک نئی زندگی کی راہ دکھاتا۔ مسلمانوں کو ایک اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیروی اور ان سے محبت کرنے اور قرآن پاک کو مضبوطی سے پکڑ کر زندگی کو اس کے مطابق اپنانے کی ضرورت پر زور دیتا۔ آپ نے فرمایا۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

غرضیکہ علامہ اقبالؒ نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر و تفکر کرتے گزاری۔ قرآن مجید پڑھتے اور پھر سوچتے، قرآن مجید ان کی وہ محبوب کتاب تھی جس سے انہیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا، اس سے انہیں ایک نیا یقین اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوتی ۔ جوں جوں ان کا مطالعہ قرآن بڑھتا گیا، ان کے فکر میں بلندی اور ایمان میں پختگی ہوتی گئی ، اس لیے کہ قرآن ہی ایک ایسی زندہ جاوید کتاب ہے جو انسان کو لدنی علم اور ابدی سعادت سے بہرہ ور کرتی ہے۔ یہ زندگی کا ایک واضح دستور اور ظلمتوں میں روشنی کا مینار ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ اقبال کی محبت، شغف اور ان کا اخلاص انتہا ء درجے کا تھا، ان کے نزدیک اسلام ہی ایک ایسا دین ہے کہ اس کے بغیر انسانیت فلاح و سعادت کے بامِ عروج تک پہنچ ہی نہیں سکتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رشد و ہدایت کے آخری مینار ہیں۔

آپ فرقہ واریت، ظلم و جبر، استحصال، بے انصافی، اقرباپروری، ذات پات اور جھوٹ و منافقت کے سخت خلاف تھے جبکہ آپ ہر انسان کو آزاد، خوشحال اور تحفظ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ نے مسلمانوں کو بیدار کر کے انہیں بھولا ہوا سبق یاد دلایا، اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کو اپنانے پر زور دیا اور خود اس کی عملی تصویر بنے ۔ اقبالؒ کا تصور شاہین محض ایک شاعرانہ تخیل نہیں بلکہ اس میں اسلامی فقر کی تمام صفات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ طالب علم کو شاہین کا نام دے کر اقبالؒ جہاں اس میں رفعت خیال، جذبہ عمل، وسعت نظری اور جرات رندانہ پیدا کرنا چاہتے تھے وہیں جہان فکر وعمل میں اپنی دنیا پیدا کر نے کی تلقین کرتے بھی نظر آتے ہیں۔

جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ