PDA

View Full Version : علامہ محمد اقبال ، تاریخ ساز شخصیت ۔۔۔۔۔ تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن



حبیب صادق
04-24-2020, 03:25 AM
علامہ محمد اقبال ، تاریخ ساز شخصیت ۔۔۔۔۔ تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن

برصغیر کی مدبراور زیرک قیادتوں کے اذہان پر برطانوی سامراج کے انخلاء کے بعد متحدہ برصغیر کا جو نقشہ ابھر رہا تھا اس میں دو پہلو نظر آ رہے تھے ، ایک یہ کہ متحدہ برصغیر کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے بچا تے ہوئے متحد ہی رہنا چاہیے،
بین الاقوامی سطح پر رقبے اور افرادی قوت کے اعتبار سے بڑی اور مضبوط حکومت بنائی جائے تاکہ طاقت کے نشے میں بدمست طاغوتی طاقتوں کے سامنے برصغیر ناقابل تسخیر ہی رہے اور وطن کی ترقی و دفاع کے لیے ہندو اور مسلم دونوں ایک ساتھ رہیں۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ اہل اسلام اپنا الگ ملک حاصل کریں تاکہ آزادی کا حقیقی مقصد حاصل ہو سکے اغیار کی تہذیب ، کلچر سے چھٹکارا ملے ۔ پہلی رائے کا نتیجہ کہ آج بھی ہندوستان میں مسلمان باقی اور محفوظ ہیں ، انہیں سیاسی و مذہبی قیادت کا بلند مقام بھی حاصل ہے ، جبکہ دوسری رائے میں آج پاکستان جیسا آزاد ، خود مختار جمہوری اسلامی ملک موجود ہے ، جو مسلمانان عالم کے لیے کسی باعث عزت و افتخار اور ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی دوسری رائے کو درست سمجھ کر ،نیک نیتی کے ساتھ اور دلیل کی بنیاد پر اپنانے والوں میں ایک بہت بڑا نام علامہ محمد اقبال ؒمرحوم کا ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے اقبال مرحوم نے اپنے بیان و اشعار ، تقریر و تحریر کے ذریعے اتنا عظیم کام کیا ہے کہ جو بہت کم ہی کسی کے حصے میں آیا ہے۔ آپ 9 نومبر 1877 ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم محلہ شوالہ کی مسجد سے حاصل کی ، پھر کوچہ میر حسام الدین کے ایک مکتب میں پڑھنا شروع کیا ، بعد ازاں اسکاچ مشن اسکول میں داخلہ لیا ، چنانچہ آپ کا بچپن فطری اصولوں کے مطابق فطرت کو سمجھنے میں گزرا، ابھی عمر بمشکل 16 سال ہو گی کہ علامہ اقبال مرحوم نے میٹرک پاس کی اور ڈویڑن میں فرسٹ آئے ، تمغہ انعام میں حاصل کیا ، اس کے بعد کی تعلیم بھی اسکاچ مشن اسکول میں حاصل کی ، داغ شاعر سے کچھ عرصہ شاعری میں رہنمائی حاصل کی ، 1895 ء میں لاہور آ گئے اور گورنمنٹ کالج میں بی۔ اے کلاس میں داخلہ لیا، 1898ء کو بی۔ اے پاس کیا اور ایم۔اے فلسفہ میں داخلہ لیا ، مارچ 1899ء میں ایم۔ اے کا امتحان دیا اور پنجاب بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔نومبر 1899ء کی ایک شام علامہ اقبالؒ کے چند کلاس فیلوز نے آپ کوحکیم امین الدین کے مکان پر لے آئے ، جہاں محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا تھا ، اقبالؒ جب اپنی غزل کے اس شعر پر پہنچے
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چْن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
بڑے بڑے شعراء آپ کو داد دینے لگے، یہیں سے آپ نے شاعری میں اڑان بھری اور اس کے بعد اقبالؒ کی مقبولیت کا دائرہ وسعت اختیار کرتا گیا۔ایم۔ اے پاس کرنے کے بعد اقبالؒ 13 مئی 1899ء کو اورینٹل کالج میں میکلوڈ عریبک ریڈر کی حیثیت سے متعین ہوئے اور چار سال تک یہیں رہے، اسی دوران انگریزی میں ایک مقالہ لکھا اور ’’علم الاقتصاد‘‘ کے نام سے اردو زبان میں ایک مختصر سی کتاب بھی تصنیف کی جو 1904ء میں شائع ہوئی۔اس کے بعد 25 دسمبر 1905ء کو انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونی ورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا ، ابھی یہاں آئے ہوئے ایک مہینے سے کچھ اوپر ہوا تھا کہ بیرسٹری کے لیے لنکنز اِن میں داخلہ لے لیا۔ کچھ عرصہ بعد آپ جرمنی چلے گئے، جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔4 نومبر 1907ء کو میونخ یونیورسٹی نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔ڈاکٹریٹ ملتے ہی لندن واپس چلے آئے، بیرسٹری کے فائنل امتحانوں کی تیاری شروع کردی ،کچھ مہینے بعد سارے امتحان مکمل ہوگئے، جولائی 1908ء کو نتیجہ نکلا، کامیاب قرار دیے گئے۔ اس کے بعد انگلستان میں مزید نہیں رْکے، وطن واپس آگئے،جولائی 1908ء میں وطن کے لیے روانہ ہوئے،بمبئی سے ہوتے ہوئے 25 جولائی 1908ء کی رات دہلی پہنچے،اگست1908ء میں لاہور آ گئے ، ایک آدھ مہینے بعد چیف کورٹ پنجاب میں وکالت شروع کردی، حکومت پنجاب کے اصرار پر 10 مئی 1910ء سے گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ پڑھانا شروع کردیا لیکن ساتھ وکالت بھی جاری رکھی۔ 31دسمبر 1910ء کو گورنمنٹ کالج سے مستعفی ہو گئے، 1919ء سے 1932ء تک علامہ مرحوم تعلیمی شعبہ جات سے متعلق رہے۔
اس کے بعد سیاست سے وابستہ ہوئے اور ہندوستان کو انگریز کے تسلط سے آزاد کرانے کی انتھک محنت شروع کی۔ مختلف سیاسی تنظیموں سے وابستگی کی لیکن آپ کے دل کی مراد بار آور نہ ہو سکی۔2 جنوری1929ء کو اقبال دہلی سے جنوبی ہند کے دورے پر روانہ ہوئے۔ وہاں الہٰیات اسلامیہ کی نئی تشکیل کے موضوع پر مدراس، میسور، بنگلور اور حیدرآباد دکن میں خطبات دیے۔ جنوری کے آخر میں لاہور واپس پہنچ گئے۔فلسطین میں اہل اسلام پر یہودیوں بڑھتے ہوئے پْرتشدّد غلبے اور خاص طور پر مسجدِ اقصیٰ پر ان کے ناپاک قبضے کے خلاف مسلمانوں کے احتجاجی جلسے ہوئے۔ان جلسوں میں علامہ نے بھر پور شرکت کی اور قبلہ اول کے تقدس کے لیے پیش پیش رہے۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی 7 ستمبر 1929ء کا وہ احتجاجی جلسہ بھی ہے جوآپ کی صدارت میں ہوا۔آپ نے فرمایا: ’’یہ بات قطعاً غلط ہے کہ مسلمانوں کا ضمیر حبّ ِ وطن سے خالی ہے، البتہ یہ صحیح ہے کہ حبّ ِ وطن کے علاوہ مسلمانوں کے دل میں دینیت و محبّت اسلام کا جذبہ بھی برابر موجود رہتا ہے اور یہ وہی جذبہ ہے جو ملّت کے پریشان اور منتشر افراد کو اکٹھا کر دیتا ہے اور کر کے چھوڑے گا اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔1914ء میں انگریز مدبرّوں نے اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کے لیے یہودیوں کو آلہ کار بنایا، صیہونی تحریک کو فروغ دیا اور اپنی غرض کی تکمیل کے لیے جو ذرائع استعمال کیے ان میں ایک کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ یہودی مسجدِ اقصیٰ کے ایک حصّے کے مالکانہ تصرّف کا دعوٰی کر رہے ہیں۔ انہوں نے آتشِ فساد مشتعل کر رکھی ہے۔ مسلمان، ان کی عورتیں اور بچّے بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیے جارہے ہیں ... اب حکومتِ برطانیہ نے فلسطین میں تحقیقاتِ حالات کے لیے ایک کمیشن بھیجنا منظور کیا ہے مگر میں اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو اس پر کوئی اعتماد نہیں۔‘‘
29دسمبر الٰہ آباد کے شہر میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا۔ قائداعظمؒ پہلی گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن گئے ہوئے تھے۔ آپ کے حکم کے مطابق اجلاس کی صدارت علامہ مرحوم کو کرنی تھی۔ یہاں انہوں نے وہ تاریخ ساز خطبہ صدارت دیا جو ’’خطبہ الٰہ آباد‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس خطبے میں پہلی مرتبہ ہندوستان کے اندر ایک آزاد مسلم ریاست کا ٹھوس اور غیر مبہم خاکہ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد بھی کئی بار گول میز کانفرنسز ہوئیں ، اقبال کو مدعو کیا گیا ، آپ گئے بھی ، لیکن ان کے ایجنڈے سے مطمئن نہیں ہوئے۔
اقبال اپنی شاعری کے ذریعے اہلیان برصغیر میں آزای کا جذبہ پیدا کرتے رہے ، ان کی شاعری میں جہاں معنویت ، حقیقیت ، تاریخیت ، اسلامیت اور انسانیت ملتی ہے وہیں پر جذبہ آزادی ، اہل اسلام کی عروج کے اسباب و عوامل ، غلامی سے نجات پانے کے اصول اور خودی کا درس بھی ملتا ہے۔ اقبالؒ ؛آزادی پاکستان کے خواب کی تعبیر کو پورا ہوتے دیکھ رہے تھے اس لیے قائد اعظمؒ کو واپسی کے کئی دردمندانہ خطوط لکھے چنانچہ آپ کے اصرار پر قائداعظمؒ ہندوستان واپس آئے اور 4 مارچ 1934ء کو مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد24 دسمبر 1938ء کو پٹنہ میں مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری رحمہ اللہ کی قیادت میں مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی ، مولانا شبیر علی تھانوی ، مولانا عبدالجبار ابوہری ، مولانا عبدالغنی پھول پوری اورمولانا معظم حسین امروہی رحمہم اللہ پر مشتمل پہلے وفدنے قائد اعظمؒ سے ملاقات کی اور آزادی وطن کی خاطر ہر ممکن تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی۔
آج ضرورت ہے کہ اقبالؒ کی فکر ، سوچ ، مذہبی حمیت ، فلسفہ آزادی کو اپنانے اور وطن عزیز کوافکار اقبال کی روشنی میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی۔ اقبال ؒاپنی نوجوان نسل کو جن اوصاف کا حامل دیکھنا چاہتے تھے وہی اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے کوشش کی جائے۔
نگہہ بلند ، سخن دل نواز ، جاں پْرسوز
یہی ہے رخت ِسفر میر کاررواں کے لیے