PDA

View Full Version : علیم و تربیت اور اسلام



گلاب خان
11-26-2010, 06:47 PM
حمد و ثناء کے بعد

تعلیم و تربیت اور اسلام :
تعلیم و تربیت کا امت اسلامیہ کے یہاں بڑا مقام و مرتبہ ہے ، یہ افراد امت و ابناء امت کی عقول کی تشکیل میں بڑا اھم کردار ادا کرتی ہیں ، اور پھر یہ ابناء امت حکومتوں اور معاشروں کی بنیادوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔
آغاز اسلام میں تعلیم و تربیت نے امت کی ضروریات کو پورا کیا اور ایسی پختہ کار نسلیں پیدا کیں کہ جن کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ اسی تعلیم نے امت اسلامیہ کو کسی کے تابع رہنے کی بجاۓ فن قیادت سکھلاۓ ذلت و رسوائ یا غلامی میں زندگی گزارنے کی بجاۓ عزیز و غالب رہنے کے گر بتاۓ لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجاۓ لوگوں کو پیچھے لگا کر چلنا سکھلایا اور امت اسلامیہ کو ایسا مقام و مرتبہ دیا کہ وہ دوسروں کو کچھ دے سکے دوسرے سے لے نہیں ۔

معلم و مربی کی ذمہ داریاں :
تربیت و تعلیم کے میدان میں کام کرنے والوں کے کندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ھوتی ہے کہ وہ نوجوان نسلوں کی رہنمائ کریں انھیں دولت ایمان سے مسلح و مالا مال کریں ، انھیں دور حاضر کے نت نت نۓ رونما ھونے والے فتنوں سے محفوظ رکھنے میں کوشاں رہیں اور تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی دنیا میں امت کا مادی مقام بلند ھو سکتا ہے اور تربیتی اغراض کے ساتھ جائز مادی مقاصد بھی حسب ضرورت آسانی سے پورے ھو سکتے ہیں ۔

بچہ ایک کورا و خالی برتن :
یہ بچہ جو کل تعلیمی میدان میں اترنے والا ہے یہ کورے برتن کی طرح بالکل خالی الذھن ہے ، دنوں اور سالوں کے عرصے میں اسی خالی برتن میں عمل و کردار اور مناھج کی دولتیں بھر جا‏‏ئیں گی جنھیں وہ ان علمی گہواروں سے حاصل کرے گا تاکہ ان کے ذریعے اس کے اخلاقی پہلو کی صحیح سمت متعین ھو ، اسکی فکر کا انداز صحیح رخ اختیار کرے اور یہ زندگی کا طریقہ و منزل طے کر سکے ۔ یوں گویا تعلیم معاشرے کا تشخص قائم کرنے ، امت کا ڈھانچہ تشکیل دینے اور اسکی اقدار و مبادیات کی تعمیر کا کام کرتی ہے ۔

اصل مقاصد تعلیم :
تعلیم و تربیت کے نۓ نۓ نظریات کی کثرت میں ھم مسلمان کبھی کبھی بدیھی امور کو بھول جاتے ہیں یا پھر مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ ھم اس سے غافل ھو بیٹھتے ہیں کہ تعلیم کا بنیادی کام نوجوان نسل کو اسلامی اقدار اور ان اصول و مبادیات پر تیار کرنا ہے جو ھمارے رسول اللہ لاۓ تھے ، ایسے ہی ان میں اسلامی عقا‏‏ئد کو راسخ کرنا ، انکے احساسات میں دینی روح بھرنا اور انکے کردار پر اسلام کا رنگ چڑھانا ہے حتی کہ وہ زندگی کے تمام شعبون میں اسلامی احکام کی تابع ھو جاۓ ۔ وہ سجدہ ریز ھو تو صرف اللہ تعالی کے سامنے ، جب اسکی کتاب مقدس کی آیات سنے تو خشوع و خشیت الہی سے روۓ ، اسی کی رحمتوں کی امید وار رہے اور اسکے عذاب سے ڈرتی رہے ۔

امت کی ترقی کا راز :
امت کی ترقی محض علوم و معلومات سے نہیں ھوتی بلکہ ترقی کا اصل راز اس تربیت میں پوشیدہ ہے جو نسل نو کے دل و دماغ میں اسلامی و انسانی اقدار کی تخم ریزی کرے اور ان کے ذھن و فکر میں اپنے اصول و مبادیات کا بیج بوۓ تاکہ وہ امت ایک عملی و متحرک قوم کی شکل میں سامنے آۓ ۔ صرف ایسی نسل وجود میں نہ آۓ کہ وہ محض نظریات تعلیم یا معلومات کو دماغوں میں بھر لیں اور کمرہء امتحان میں جا کر ان معلومات کی جگالی کرتے کرتے انھیں اوراق پر پلٹ (اگل) دیں ، اور انکی زندگی میں اس تعلیم کا کوئ اثر نظر نہ آ رہا ھو ، اور نہ ہی انکے کردار میں اسکی کوئ جھلک دیکھنے میں آ رہی ھو ۔ ماھرین تعلیم و تربیت تو کجا کوئ بھی عقلمند شخص یہ نہیں سمجھتا کہ تعلیم صرف یہی ھو کہ بچوں کے ذہنوں میں بعض نصوص و عبارات بٹھا دی جائیں مگر انکے معانی و مدلولات کا عکس ان کی زندگی پر نظر نہ آنے پاۓ ، اگر ھم واقع نوجوان نسلوں کی تعلیم و تربیت اور انھیں کمال ترقی تک پہنچانے کے معاملہ میں مخلص ہیں تو پھر ہمیں اس بات کا یقین رکھنا ھو گا کہ مادی و دنیوی علوم و سائینسز اور مکینکل تجربات چاہے کتنی بھی ترقی کر جائیں ۔ صرف اتنی سی بات سے شخصیت کی اصل ترقی نہیں ھوتی ، نہ ہی آتنے ؟ سے کوئ انسان بن جاتا ہے اور نہ ہی اعمال خیر میں سے کسی عمل خیر کی طرف انسان حرکت کرتا ہے ۔ عمل خیر کی طرف انسان کو حرکت دینے والی چیز اسکا اعلی اقدار پر ایمان اور مبادیات و اصولوں پر عمل ہے ۔

اصل تعلیم و تربیت :
کتابوں کی عبارتیں حفظ کر لینا جبکہ انکے مفاھیم و معانی کی دل پر کوئ چھاپ نہ ھو اور نہ ہی یہ اسکی کردار سازی کر سکیں ، ایسی کتابوں کے پڑھنے یا ایسی تعلیم حاصل کرنے کا کوئ فائدہ نہیں ھوتا کیونکہ نفس و روح کو چھوڑ دیا گیا جاۓ تو محض عقل و ذھن سے کیسے ڈیلنگ کی جا سکتی ہے ؟
تعلیم کی ذمہ داری معلومات مہیا کرنے سے پہلے اس دل کی تعمیر و تشکیل ہے جو کہ معلومات کو استعمال کرے گا اور وہ خیر میں استعمال کرے گا نہ کہ شر میں ، بشریت کے فائدہ کے لۓ استعمال کر ے گا نہ کہ اس کے ضرر و نقصان کے لۓ ، اور دل کی اس تربیت کے لۓ تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلی تربیت کی سخت ضرورت ہے ورنہ یہ ممکن نہ ھو گا اور تربیت بھی ایسی ھو جو دلوں میں اسلامی عقائد کو راسخ کر دے یہاں تک کہ وہ کسی قسم کے شبہات سے زنگ آلود نہ ھونے پاۓ اور نہ ہی شہوت نفس و لذت دنیا کے پیچھے لگ کر عمل و کردار سے کنارہ کش ھو ۔ اصل مطلوب ایمانی تربیت ہے جو کہ لہو و لعب سے ھٹ کر عبث و بیکار حرکات سے دور اور اباحیت و فحاشی سے سراسر خالی ھو ۔ ایسی تربیت جسکی بنیاد قرآن و سنت ھوں اور اسکا منھج سلف صالحین امت کا فہم ھو ، اور اسکا میدان تزکیۂ نفس ھو ۔ ایسی تربیت جو نفس انسانی کو عالی قدر اعمال سے جوڑ دے اور گھٹیا معمولی درجے کے افعال سے بالا کر دے حتی کہ انسان ڈرے تو صرف اللہ تعالی سے ، ناراض ھو تو صرف اللہ کے لۓ اور کسی کے ساتھ خوش ھو تو صرف اللہ کی خاطر ، کسی سے محبت و موالات اور دلی رشتہ ھو تو اللہ تعالی ہی کے لۓ ھو اور اگر کسی سے عداوت ھو تو اسکی بنیادیں بھی کوئ ذاتی رنجشیں کار فرما نہ ھو بلکہ وہ بھی صرف اللہ تعالی ہی کی خاطر ھو ۔ ہمیں ایمان سے بھرے دلوں کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ایسے دماغوں کی ضرورت نہیں جو کہ صرف سائنس و مادی علوم سے بھرے ھوۓ ھوں تاکہ وہ اس شیطان کا کردار ادا کرنے والے نہ بن جائیں جو کہ اپنا شر پھیلانے میں لگا رہتا ہے اور ہر سو تباہی و بربادی کا سامان پھیلا رہا ہے ۔ ایسے دماغوں والے نہیں بلکہ ہمیں ایمان سے آباد دلوں والے نوجوانوں کی ضرورت ہے جنھیں منشیات ، منحرفہ افکار اور گمراہ عقائد اپنا کھلونا نہ بنائیں پھریں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کسی کے ایمان لے آنے کے بعد اسے شتر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا کرتے تھے ، بلکہ اس کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے اور اسی بات کی اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی تاکید فرمایا کرتے تھے ۔

چنانچہ جب حضرت عمیر بن وھب رضی اللہ عنہ اسلام لاۓ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا :

{ اپنے اس بھائ کو دین کی تعلیم دو اور اسے قرآن پڑھا‎ؤ }

امام احمد رحمہ اللہ نے ابو عبد الرحمن کے حوالے سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں صحابۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی جو کہ ہمیں قرآن کریم کی تعلیم دیا کرتے تھے کہ [ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیات قرآنیہ سیکھتے تھے اور پھر اگلی دس آیات پڑھنے سے پہلے ان پہلی دس آیات میں پاۓ جانے والے علم پر عمل پیرا ھو جاتے ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ھم نے علم اور عمل دونوں چیزیں بیک وقت سیکھی ہیں ۔

تربیت اور سلف امت :
سلف صالحین امت ۔ بچوں کو تعلیم دینے والے استاد کو مودب و مربی کہا کرتے تھے نہ کہ مدرس ۔ حضرت عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں :

[ ھم نے علم تو صرف بیس سال تک سیکھا لیکن ادب سیکھنے میں تیس سال صرف کیۓ ]

امام ابن سیرین کہتے ہیں :

[ صحابہ کرام جس طرح علم سیکھا کرتے تھے اسی طرح ہی ھدایت و ادب بھی سیکھتے تھے ]

امام ابن مبارک نے ابن المحسن سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں :

[ھم علم سیکھنے سے زیادہ ادب سیکھنے کے ضرورت مند ہیں ]

تعلیم و تربیت : لازم و ملزوم :
فعال و بارآور تعلیم وہ ہے جو تربیت کے پہلو بہ پہلو ھو ۔ گویا تعلیم اور تربیت دونوں باھم لازم و ملزوم چیزیں ہیں ۔ کیونکہ تربیت کے بغیر تعلیم کا کوئ فائدہ نہیں ہے اور اگر تعلیم و تربیت کو الگ الگ کر دیا جاۓ تو پھر نری تعلیم ایسی نسل کو جنم دے گی جو ضعیف الایمان ، کمزور شخصیت والی ، فکری طور پر پریشان حال اور نظریاتی طور پر مفکوک الحال ۔ وہ اخلاقی قدروں کو کوئ اھمیت نہیں دے گی ۔ بلکہ وہ خود تباہ کن افکار و مذاھب کیلۓ تر نوالہ ثابت ھو گی ۔

وہ ایسے علم و سا‏ئنس کے ذریعے اپنے آپ اور اپنے معاشرے کے لۓ ھلاکت کا سبب بنے گی ۔

لا یعنی و بے وقعت علم :
ایسے علم کی قیمت ہی کیا ہے جب ایسے علم والا خود جھوٹا اور دوسروں کی تحقیر کرنے والا ھو ، وہ خود کمینہ حرکتوں میں لت پت ھو اور اپنے اخلاق و کردار بد سے تربیت کے اصولوں کے بخیۓ ادھڑ رہا ھو ۔
ایسے علم کی کوئ قدر نہیں ہے جس کے اثرات خود طالب کی ذات پر نظر نہ آئیں ، نہ وہ علم کے آداب جانتا ھو نہ اپنے اساتذہ کا ادب کرتا ھو اور نہ اسکے دل میں اپنے ساتھیوں اور کتابوں کی ہی کوئ وقعت ھو ۔

تعلیم محض اس چیز کا نام نہیں ہے کہ کسی کتاب کو حفظ کر لیا یا کچھ معلومات جمع کر لیں یا کچھ تدریسی کلاسیں باقاعدگ سے پڑھ لیں ۔ بلکہ تعلیم ایک نسل کو تیار کرنے ، نوجوانوں کو تربیت دینے ، عقیدہ سکھلانے اور مفاھیم و معانی کو راسخ کرنے اور اخلاقی و دینی اقدار کی تخم ریزی کرنے کا نام ہے ۔ اور کسی بھی امت کی بقاء کا انحصار اسی بات پر ہے کہ وہ اس چیز پر قادر ھو کہ اپنے اسلاف کے عقائد و اخلاق اور تاریخ کو آئندہ نسلوں تک منتقل کر سکے ۔

امت میں اخلاق و کردار کے مسائل و مشکلات تب ظاھر ھوتی ہیں اور معاشرے تب چلاتے اور مسائل کی آگ میں جھلستے ہیں جب تربیت کے معاملہ میں لا پرواہی برتی جانے لگتی ہے ۔ یا پھر تعلیم اور تربیت کو شانہ بشانہ نہیں چلایا جاتا بلکہ انھیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا جاتا ہے موجودہ سائنسی و علمی ترقی اگر اخلاقی و دینی اقدار عالیہ اور قواعد و ضوابط سے عاری ھوئ تو اسکا نتیجہ یقینی بربادی کے سوا اور کیا ھو سکتا ہے ؟ کیا یہی وہ تھذیب نہیں کہ جس نے ایک چوتھائ صدی میں ہی دو عالمی جنگوں کی آگ بھڑکائ تھی اور وہ تباہ کن اسلحہ تیار کیا اور استعمال بھی کیا تھا جو کہ پوری نوع انسانی کو ہی اس دنیا سے حرف غلط کی طرح مٹا دینے والا ہے ۔

علمی و سائنسی ترقیوں کے باوجود تھذیب حاضر اخلاقی و جنسی انارکی و اباحیت اور قدروں کے انحطاط و بحران کے گڑھے میں گرتی جا رہی ہے اور اسی کا نتیجہ یہ بھی ہے کہ امت اسلامیہ میں بھی عقائد و افکار اور اخلاق کے مسائل و مشکلات پیدا ھو گئ ہیں جن سے چھٹکارے کا دوسرا کوئ ذریعہ ہی نہیں سواۓ اس کے دوبارہ ایمانی قدروں اور ربانی ھدایات کو اپنایا جاۓ ۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین تعلیم و تربیت کا کہنا ہے کہ اصلاح احوال میں بنیادی اھمیت تربیت کو حاصل ہے اور اصلاح احوال کی آخری کڑی بھی تربیت ہی ہے ۔

کاغذ کی سیاہی :
تعلیمی مناھج اور کورس اس وقت تک کاغذ کی سیاہی کے سوا کچھ اھمیت نہیں رکھتے جب تک کہ انکا مفہوم و مدلول انسان کے سلوک و کردار ، اسکے افعال و حرکات ، احساسات و افکار اور اصول و مبادیات پر صحیح معنوں میں اثر انداز نہ ھو ۔ نوجوان نسل کی نظر اگر دھوکہ دہی و جعل سازی پر نہ پڑے گی اور اس کے کان جھوٹ نہ سنیں گے تو وہ صدق و امانت پر پرورش پاۓ گی ، اگر اسکا ماحول و معاشرہ گھٹیا حرکات و عادات سے ملوث نہ ھو گا تو وہ اخلاق فاضلہ سیکھے گی اگر اس سے سختی و سنگدلی سے برتاؤ نہ کیا گیا تو وہ بھی رحم و کرم سیکھے گی ۔ اگر معاشرے نے خیانت کی جڑیں کاٹ رکھی ھونگی تو نوجوان نسل بھی امانت و دیانت پر پروان چڑھے گی ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مثال آپ کے سامنے ہے انھوں نے قیام اللیل کے لۓ اٹھنے والے شخص ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ) کو اپنے سامنے دیکھا تو خود بھی جلد اٹھے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تہجد ادا کرنے لگے ۔( صحیح بخاری )

علوم عصریہ سے استفادہ کا طریقہ:
مفید علوم عصریہ سے استفادہ کرنا ھمارے لۓ ضروری اور ا ھم سے مطلوب ہے لیکن یہ بات بھی ھمارے ذھن سے محو نہیں ھونی چاہیۓ کہ پہلے ان علوم عصریہ کو گندی کثافتون سے پاک و صاف کر لینا بھی واجب ہے ، یہ علوم عصریہ ایسے فکری و مادی اور عصری دماغوں کی پیدا وار ہیں جنکی پرورش منحرف ثقافتی نظریات پر ھو‏ئ ہے اور وہ ایسے معاشرے میں پروان چڑھے ہیں جو علم اور دین کے مابین ایک سخت جنگ اور آویزش میں مبتلا ہے ۔ جس نے انھیں ایسا بنا دیا ہے جن کے یہاں نہ دین کی کوئ قیمت ہے اور نہ اخلاقی قدروں کی کوئ اھمیت ۔

یہ ہر گز روا و مناسب نہیں کہ ان عصری علوم و معارف کو شتر بے مہار کھلا چھوڑ دیا جاۓ ، بلکہ ضروری ہے کہ پہلے انھیں صفائ کی بھٹی سے نکالا جاۓ اور پھر انھیں مسلم عقول از سر نو ترتیب دیں ، سائنس ، علم کائنات ، علم نفس ، علم فلک اور علم اجتماع و معاشرت میں سے ھم کسی کا بھی انکار نہیں کرتے ، اور نہ ھم ایسے کسی فلسفے کو قبول کرتے ہیں جو علوم عصریہ سے اخذ کیا گیا ھو اور وہ ھمارے دین کی تعلیمات کے خلاف ھو جب تک کہ اسکا مرکز اور اسکے مبادیات کا محور ایمان نہ بن جاۓ اور اسکے مناھج و کورسز کی بنیاد اسلام نہ ھو جاۓ ۔ اگر ایسا ھو جاۓ تو پھر یہ تمام علوم ایک ایسی لڑی میں پروۓ ھوۓ موتی بن جاتے ہیں جو مل کر خوب چمک دمک پیدا کرتے ہیں ۔

اور وہ لا الہ الا اللہ وحدہ کی سریلی آواز سنانے لگتے ہیں ۔ اسکا ہر دانہ اللہ سبحانہ و تعالی کی تسبیح بیان کرنے لگتا ہے اور اسکی قدرت و وحدانیت کا اقرار کرتا ہے ۔ اسطرح تمام علوم ایک دوسرے کے معاون بن جاتے ہیں اور نصوص کو مختلف مناھج میں استعمال کیا جا سکتا ہے تا کہ کردار سازی کے ساتھ ساتھ ہی تعلیمی اغراض و مقاصد بھی پورے ھوں تا کہ طالب علم بیک وقت ادب ، اخلاق ، علم اور ایمان کے جواھرات سے مالا مال ھو اور پھر ساتھ ہی منھج و کورس کی کتاب کا دین کے ساتھ نہ صرف تعلق ھو بلکہ وہ دین کی خادم اور طالب علم میں دین کے مغز کو گہرا کرنے والی ھو ۔ ارشاد الہی ہے :

{ اللہ تعالی ہی تو ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ) پیغمبر بنا کر بھیجا جو انکے سامنے اسکی آیتیں پڑھتے ، انھیں پاک کرتے اور ( اللہ تعالی کی ) کتاب اور حکمت و دانائ سکھلاتے ہیں اور اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے ۔ } ( الجمعہ ۔٢ )

تعلیم نسواں :
تعلیم مرد و زن دونوں کی ہی ضرورت ہے اور ان دونوں میں چونکہ طبعی ( فزیکل ) فرق ہے لھذا یہ بات ذھن میں رہنی چاہیۓ کہ ہر ایک وہی تعلیم حاصل کرے جو اسے اسکی طبعی زندگی میں اسکی فطرت کے مطابق کوئ کام کرنے کا اھل بنا سکے ۔ دوشیزہ کو علوم و معارف سکھلانے کے ساتھ ساتھ ہی اسکے اصل کام بیوی ، ماں اور گھر کی ملکہ بننے کے گر سکھلاۓ جائیں اسے آہندہ نسلوں کی تربیت کرنے اور مردان میدان کو جنم دینے والی ماں بنایا جاۓ اور نوجوان لڑکے کو خاندان کی باگ ڈور سنبھالنے کا طریقہ سکھلایا جاۓ تاکہ وہ علم و حکمت اور عقل و دانائ کے ساتھ اپنے گھر کی حکومت چلا سکے ۔

آج خاندان اور خانگی امور سے متعلقہ معاملات کے بارے میں تعلیمی مراحل میں کچھ کورسز شامل کرنا ایک اھم ضرورت بن گئ ہے خصوصا جبکہ موجودہ دور میں خاندانی روابط و رشتے کمزور پڑ رھے ہیں ، باہمی پیار و محبت کا قحط پڑتا جا رہا ہے ، گھر میں سربراہ کون ھوتا ہے اس سے لاعلمی بڑھ رہی ہے ، خاندان و خاندان کی بنیادیں ، اور اولاد کی تعلیم و تربیت کے اصول اور خاندانی مسائل کو حل کرنے کا فن مٹتا جا رہا ہے ، اور بالخصوص اس لۓ کہ آج طلاق کی شرح بہت بڑھ گئ ہے اور بلاشادی پڑے رہنے کی نسبت میں کافی اضافہ ھو گیا ہے ۔

( سبحان ربك رب العزہ عما يصفون و سلام علی المرسلين و الحمد للہ رب العالمين)

تانیہ
12-15-2010, 09:25 PM
نائس شیئرنگ...تھینکس