PDA

View Full Version : امریکی ہجوم ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : خورشید جاوید(پہلی قسط)



حبیب صادق
09-10-2020, 05:08 AM
امریکی ہجوم ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : خورشید جاوید(پہلی قسط)

میکسم گورکی کا نیو یارک کی مصروفیت پر ایک افسانہ

میرے کمرے کی کھڑکی ایک چوک میں کھلتی ہے۔ اس میں تمام دن بھر پانچ سڑکوں سے لوگ داخل ہوتے رہتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے کھلے منہ والی بوری سے آلو لڑھک کر باہر نکلتے رہتے ہیں۔ وہ بے مقصد ادھر ادھر گھومتے ہیں اور پھر جلد ہی کھسک جاتے ہیں۔ اور سڑکیں دوبارہ انھیں اپنے حلق میں کھینچ لیتی ہیں۔ چوک گول اور گندا ہے کسی کڑھائی کی طرح جس میں گوشت اُبالا جاتا ہو اور اسے کبھی مانجھا نہ گیاہو۔ اس پر ہجوم چوک میں چار ٹراموں کی پٹریاں داخل ہوتی ہیں اور تقریباً ہر منٹ بعد ٹرامیں اپنی اپنی باری پر لوگوں سے بھری گھگھو بجاتی داخل ہوتی ہیں۔
شہر کی منحوس موسیقی بِلا رُکے بین کرتی رہتی ہے۔ بھرائی ہوئی آوازیں اپنی باہمی وحشیانہ جنگ میں ایک دوسرے پر خنجر سے وار کرتی ہیں ایک دوسرے کا گلا دباتی ہیں۔ جس سے ذہن میں عجیب غمناک تصوراتی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔
آج اتوار ہے۔ آج لوگ کام پر نہیں گئے۔
اسی وجہ سے بہت سے چہروں پر پژمردگی، پریشانی اور تقریباً فکرمندی چھائی ہے۔ گزرا دن سادہ اور واضح معنی رکھتا تھا۔ انھوں نے صبح سے شام تک کام کیا۔ وقت مقررہ پر بیدار ہوئے۔ فیکٹری اور دفتر گئے یا سٹریٹ پر نکل آئے۔ وہ اپنی مقررہ جگہوں پر کھڑے ہوئے یا بیٹھے رہے اسی لیے وہ مطمئن تھے۔ انھوں نے سکے گنے تھے۔ اشیاء فروخت کی تھیں، زمین کھودی تھی، لکڑی کاٹی تھی، پتھر توڑے تھے۔ برمے سے سوراخ کیے تھے، لوہا کوٹا تھا۔ انھوں نے تمام دن اپنے ہاتھوں سے کام کیا تھا۔ وہ ایک آشنا تھکاوٹ کے احساس کے ساتھ سو گئے تھے اور آج صبح جب وہ اٹھے تو انہوں نے بے کاری کو آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوال کرتے پایا جس نے ان سے کہا۔ کیسے اس خلا کو پر کرو گے۔
انھیں صرف کام کرنا سکھایا ہے، زندہ رہنا نہیں۔ وہ اوزاروں کی طرح مشینیں، گرجا گھر، بڑے بحری جہاز اور سونے کی خوبصورت انگوٹھیاں بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کے لیے چھٹی کا دن بھی مکینیکل انداز میں کام کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ ہفتے کے چھ دنوں میںزندگی بہت آسان ہے۔ یہ ایک جناتی مشین جیسی ہے جس کے وہ کُل پُرزے ہیں، ہر کسی کو اپنی اپنی جگہ کا علم ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کے آنکھوں سے محروم میلے کچیلے چہرے کو پہچانتا ہے۔ لیکن ساتواں دن۔ آرام اور کاہلی کے دن ---- زندگی پھٹے گرد آلود لباس میں ان کے روبرو آ جاتی ہے۔ اس کا چہرہ ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ وہ اپنا چہرہ کھو چکی ہے۔
وہ سڑکوں پر بے کار گھومتے ہیں۔ سیلون اور پارک میں بیٹھتے ہیں۔ کبھی چرچ میں ہیں کبھی سڑک کے نکڑ پر کھڑے ہیں۔ بظاہر زندگی روزمرہ جیسی ہی ہے۔ لیکن ذہن میں یہ خیال آتا ہے ایک منٹ میں یا شاید ایک گھنٹے میں یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ یہ زندگی نامکمل ہے اور کچھ نیا ہونے والا ہے۔ کسی کو اس احساس کا شعورنہیں، کوئی بھی اسے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا، لیکن ہر کسی کو اذیت ناک ادراک ہے کہ کچھ انوکھا اور پریشان کن ہونے کو ہے۔ زندگی میں چھوٹی چھوٹی سمجھ آنے والی باتیں یکدم ذہن سے نکل گئی ہیں جیسے مسوڑھوں سے دانت گر جائیں۔
لوگ بظاہر مطمئن ہیں وہ سڑک کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرتے ہیں، وہ ٹراموں میں سوار ہوتے ہیں اور گپیں ہانکتے ہیں۔سال میں باون اتوار پڑتے ہیں اور ایک عرصے سے انھوں نے عادت سی بنا لی ہے کہ انھیں ایک ہی طرح سے گزارا جائے۔ لیکن ہر کوئی محسوس کرتا ہے کہ آج وہ نہیں ہے جو وہ کل تھا۔ اور اس کے ساتھی بھی ویسے نہیں جیسے وہ کل تھے، شاید انھیں اندر سے کچھ گھن کی طرح کھا رہا ہے، سنسناہٹ پیدا کرنے والا سونا پن ہے۔ ایک پریشان کن بلکہ خوف زدہ کرنے والی تیرگی ---- یہ سب کچھ اندر سے باہر آ جائے۔
وہ خاموشی سے سڑک کے نکڑوں پر کھڑے دیکھتے رہتے ہیں کہ اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ من کی موج میں وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، پھر گروہ بن جاتے ہیں، مزید زندہ اجسام ان کے پاس آتے رہتے ہیں۔ اور اجسام کی ایک دوسرے کے قریب آنے کی خواہش انھیں ایک ہجوم کی شکل دے دیتی ہے۔ یوں وہ دہشت ناک وحشی جانور جنم لیتا ہے جس کا معقول نام ہجوم رکھا گیا ہے۔
جب کوئی شخص جو عام آدمی دکھائی نہیں دیتا، اس لیے کہ اس کا لباس مختلف ہے یا کیونکہ وہ دوسروں سے تیز چلتا ہے اور سڑک کے کنارے کنارے چلتا ہے تو ہجوم اپنے کئی سو سر گھما کر تعاقب کرتی نگاہوں سے اس کا پیچھا کرتا ہے۔
اس نے دوسروں کی طرح لباس کیوں نہیں پہنا؟ مشکوک ہے۔ اور یہ اس سڑک پر اتنا تیز کیوں چل رہا ہے۔ جبکہ ہر کوئی آہستہ چل رہا ہے؟ عجیب بات ہے۔
یہ ہجوم باس کی اہمیت جانتا ہے وہی تو اصل طاقت ہے۔ وہ ہزاروں زندگیاں جی سکتا ہے۔ ہزاروں ---- ہجوم کو اس کی صورت میں ایک واضح مقصد نظر آتا ہے۔ باس کام دیتا ہے۔ لیکن ٹرام میں ایک سفید بالوں والا آدمی بیٹھا ہے۔ اس کے چہرے پرروکھاپن، نگاہوں میں درشتگی ہے۔ لوگ اسے بھی جانتے ہیں۔ اخبارات میں اس کا ذکر ایک خبطی کے طور پر ہوتا ہے جو ریاست کو تباہ کرنا چاہتا ہے، تمام فیکٹریاں، ریل کی پٹریاں اور بحری جہاز چھین لینا چاہتا ہے۔ وہ ہر چیز چھین لینا چاہتا ہے۔ اخبارات اسے ایک احمقانہ اور مضحکہ خیز منصوبہ کہتے ہیں۔ ہجوم اس بوڑھے کو سرزنش، بے حس ملامت اور تضحیک آمیز تجسس سے دکھتا ہے۔ ایک پاگل ہمیشہ دلچسپ ہوتا ہے۔
ہجوم صرف دیکھتا ہے، صرف محسوس کرتا ہے۔ یہ اپنے تاثرات کو خیالات میں نہیں ڈھال سکتا اس کی روح بے حس اور دل اندھا ہے۔
لوگ چلتے رہتے ہیں، ایک دوسرے کے پیچھے۔ وہ کہاں جا رہے ہیں اور کیوں؟ یہ سب کچھ عجیب سا ہے، نہ قابل سمجھ اور نہ قابل بیان ---- وہ بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ وہ دھات، لکڑی اور پتھروں کے ٹکڑوں سے مختلف ہیں، سِکوں، کپڑوں اور دوسرے تمام اوزاروں سے بھی جن کے ذریعے کل انھوں نے جانوروں کی طرح کام کیا تھا۔ یہی بات ہجوم کو کوفت میں مبتلا کرتی ہے۔( آخری قسط 12 ستمبر کی اشاعت میں ملاحظہ فرمائیں)
انھیں دھندلا سا احساس ہے کہ جو زندگی وہ بسر کر رہے ہیں اس کے علاوہ کوئی اور زندگی بھی ہے۔ جس میں عادت اور طور طریقے مختلف ہیں، ایک ایسی زندگی جس میں عجیب سی کشش ہے۔
ہجوم مضطرب ہے۔
اس زندگی میں وہ خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، ہجوم اپنے اندر حسد کی کروٹیں محسوس کرتا ہے جس سے اس کے پیٹ میں گڑگڑاہٹ ہوتی ہے۔روشنی میں بیش قیمت بگھیوں میں خوبصورت گداز جسموں والی عورتیں سفرکرتی ہیں۔ وہ گدیلی نشستوں پر دراز ہوتی ہیں۔ ان کے چہرے ستاروں جیسے ہیں اور ان کی خوبصورت آنکھیں لوگوں کو مسکرانے پر آمادہ کرتی ہیں۔
''دیکھو ہم کتنی سندر ہیں۔‘‘ عورتیں زبان حال سے پکارتی ہیں۔
ہجوم ان عورتوں کا بغور جائزہ لیتا ہے اور ان کا تقابل اپنی بیویوں سے کرتا ہے۔ استخوانی یا پھر بہت ہی زیادہ موٹی یہ بیویاں، ہمیشہ بیمار رہتی ہیں اور بہت لالچی ہیں۔ ان کے دانتوں میں درد رہتا ہے یا معدہ خراب رہتا ہے۔ اوروہ ہمیشہ آپس میں لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں۔
ہجوم بگھیوں میں بیٹھی عورتوں کو گھورتا ہے۔ ہجوم عورتوں کے مدور، تنے، اپنی تعریف و توصیف کو چھپا نہیں سکتا ۔ان کے بچے بھی دیکھنے کی چیز ہیں۔ ان کا رونا دھونا اور قہقہے ہوا میں جلترنگ جیسی موسیقی بکھیرتے ہیں۔ صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس، صحت مند بچے، پتلی اور سیدھی ٹانگوں والے۔ گلابی گال، صاحبان پرعزم و ارادہ ----
ہجوم کے بچے بیمار اور زرد چہروں والے ہیں۔ ان کی ٹانگیں کسی نہ کسی وجہ سے ٹیڑھی اور خمدار ہیں ---- ٹیڑھی ٹانگوں والے بچوں کا نظارہ بہت عام ہے ---- سارا قصور مائوں کا ہے۔ جب وہ انھیں جنم دے رہی تھیں تو انھیں کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے تھا جو انھوں نے نہیں کیا۔
یہ تقابل ہجوم کے تاریک دل میں حسد کی پرورش کرتا ہے۔ اس زودرنجی میں مخاصمت شامل ہو جاتی ہے جو ہمیشہ حسد کی زرخیز مٹی میں بہ آسانی پھلتی پھولتی ہے۔ ضخیم سیاہ جسم بے ڈھنگے پن سے اپنے ہاتھ پیر ہلاتا ہے۔ کئی سو آنکھیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور شدید چبھتی ہوئی نظروں سے جو کچھ وہ دیکھتی ہیں وہ عجیب اور ناقابل بیان ہے۔
ہجوم محسوس کرتا ہے کہ اس کا کوئی دشمن ہے۔ بڑا ہوشیار اور طاقت ور، جو ہر کہیں موجود ہے۔ اس لیے نظر بھی نہیں آتا۔
چوک کے وسط میں سرمئی رنگ ہیلمٹ پہنے پولیس کا ایک سپاہی کھڑا ہے اس کا کلین شیوڈ چہرہ تانبے کی طرح چمکتا ہے۔ یہ شخص ناقابل فتح طاقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس نے سرے پر جست منڈھا ،ایک چھوٹااور موٹا ڈنڈا پکڑ رکھا ہے۔ہجوم گوشہ چشم سے اس ڈنڈے کو دیکھتا ہے۔یہ سب ڈنڈے لکڑی اور دھات کے سوا کچھ نہیں۔ مگر اس چھوٹے اور سنگین ڈنڈے میں ایک شیطانی طاقت پوشیدہ ہے جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
ہجوم بغیر جانے ہر شے سے دبی دبی پُرخاش رکھتا ہے۔ یہ غصے میں رہتا ہے اور کچھ بھی خطرناک کرنے کے لیے آمادہ رہتا ہے۔ اضطراری طور پر اپنی آنکھوں سے چھوٹے ڈنڈے کو ناپتا رہتا ہے۔
ہجوم پرآہستہ آہستہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ کتنا تنہا ہے۔ اسے کسی دھوکے کا احساس ہوتا ہے۔ اس کی جھنجھلاہٹ میں اضافہ ہو جاتا ہے وہ مستعدی سے کسی شئے کی تلاش میں ہے جس پر وہ غصہ اتار دے۔ جو کچھ ارد گرد ہو رہا ہے اسے پرکھتا ہے اس پر سوچ بچار کرتا ہے۔ اس کے کسے آوازے تیز دھار اور خباثت سے لدے ہیں۔ اس کی نظروں سے کوئی بھی نئی چیز نقش پاء چھوڑے بغیر نہیں گزر سکتی۔
دھاتوں کے ٹکرائوسے پیدا ہونے والی آواز وں کے سرکش بھنور میں ہجوم چوک پر ذرا گھومتا ہے، رکتا ہے ، ہر جانب سے بگھیاں اور ٹرامیں اس کی سمت دوڑتی آ رہی ہیں۔ گھوڑوں کے سموں کی چاپ، ٹراموں کی غصے سے وارننگ دیتی ہوئی گھنٹیاں، ہر شے اس پر گرجتی برستی، اس پر چڑھ دوڑی ہے۔ہجوم کو اندازہ ہو گیا ہے کہ کچھ تفریح کا سامان پیدا ہو چلا ہے۔
ٹرام کا ڈرائیور گھنٹی بجاتا ہے۔ وہ جنگلے پر جھک کرایک آدمی پر چلاتا ہے۔ اس کا چہرہ اعصابی تنائو سے سرخ ہے۔ پھر ڈرائیور پوری طاقت سے ہینڈل گھماتا ہے ٹرام لرز کر جھٹکے سے رک جاتی ہے۔
پہلی ٹرام کے پیچھے سے دوسری ٹرام آہستہ سے نمودار ہوتی ہے ۔ وہ عالم مدہوشی میں ٹرام کے سامنے والے حفاظتی جنگلے پر گرتا ہے پھر آہستگی سے پٹری پر گرتا ہے اور جنگلہ اس کے چرمرے جسم کو گھسیٹتا لے جاتا ہے۔زمین پر خون ایک سرخ لکیر کی صورت بہتا ہے۔ کسی معنی خیز مسکراہٹ کی طرح۔
ٹرام کے اندر عورتیں چیختی ہیں۔ لیکن تمام آوازیں ہجوم کی گہری فاتحانہ غراہٹ میں ڈوب جاتی ہیں۔ جیسے ان پر کوئی بھیگی، وزنی بیڈ شیٹ پھینک دی گئی ہو۔ گھنٹیوں کا پریشان شور، سموں کی تال، بجلی کا رونا دھونا ہجوم کے غصے کے سیلاب میں بہہ جاتا ہے۔ کسی جانور کی طرح غراتی ہوئی ہجوم کی سیاہ لہر آگے بڑھتی ہے۔ ٹراموں کے ڈبے سے ٹکراتی ہے۔ اپنی سیاہی ان پر بکھیر دیتی ہے اور اپنا کام شروع کر دیتی ہے۔ جب ٹرام کے شیشے چکنا چور ہو کر گرتے ہیں۔ ہجوم کے وسیع جسم کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ غضبناک چیخ و پکار کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ وہ خوشی سے اپنی طاقت کا اعلان کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ بالآخر اس نے کرنے کے لیے کچھ پا لیا ہے۔
کئی سو بڑے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہیں، لاتعداد آنکھیں ایک عجیب تیز بھوک کی ندیدی چنگاریوں سے چمک اٹھتی ہیں۔سیاہ ہجوم کسی پر ٹوٹ پڑا ہے یہ کسی کو پیٹ کر اپنا غصہ نکال رہا ہے۔ملی جلی چیخوںکے طوفان کے اندر، آٹومیٹک چاقو کے لمبے تیز پھل جیسا ایک پھنکارتا لفظ نمودارہوتا ہے۔
''مار دو!‘‘
اس لفظ میں ہجوم کی مبہم خواہشات کو متحد کرنے اور اس شور شرابے کو ایک بڑھک میں بدلنے کی طلسمی طاقت ہے۔
''مار دو!‘‘
ہجوم کے کچھ حصے ٹرام کی چھت پر چڑھ جاتے ہیں اور وہاں سے بھی، ہوا میں کسی چابک کے لہرانے کی کی سڑاک جیسی آواز سنائی دیتی ہے۔
''مار دو!‘‘
ہجوم نے کسی شئے کو گھیرا ہوا ہے۔ اس کے درمیان ایک ٹھوس گیند موجود ہے جو حرکت میں ہے۔ ہجوم کا گنجان حصہ مرکز کے دبائو سے پیچھے ہٹتا ہے۔ اور اس کے ضخیم سیاہ جثے سے اس کا سر اور جبڑا نمودار ہوتا ہے۔اس کے جبڑے میں ایک کٹا پھٹا خون آلود جسم جھولتا ہے۔ اس کے جسم کی وردی پر بچی کھچی دھاریوں کے نشانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹرام کاڈرائیورتھا۔
اب وہ ایک چبائے جیسے گوشت کا ٹکڑا رہ گیا ہے۔ تازہ گوشت، اشتہا انگیز چمکدار خون سے آلودہ۔ ہجوم کا سیا جبڑا اسے اٹھائے ابھی بھی چبا رہا ہے۔ اور اس کے بازو کسی آکٹوپس کے ہاتھوں کی طرح، بے چہرہ جسم کو گھماتے ہیں۔
سپاہی بت کی مانند کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ڈنڈا نہیں ہلتا اور اس کی بے حس و حرکت آنکھیں پرسکون ہیں جن کی پلکیں نہیں جھپکتیں۔اپنی طاقت پر سپاہی کا اعتماد، ہجوم کے سلگتے چہرے پر ٹھنڈا پانی انڈیل دیتا ہے۔
ہجوم کا سرا بھی آہستہ آہستہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ اب اس کا کوئی دھڑ نہیں۔ تھکے اور خوف زدہ لوگ چوک کے کنارے کنارے چلنا شروع کر دیتے ہیں جیسے کسی بہت بڑے ہار کے سیاہ دانے بکھر گئے ہوں۔ ان کی سیاہ صورتیں گندی زمین پر بکھرنے لگتی ہیں۔ وہ گٹر جیسی سڑکوںپر خاموش اداس منہ اٹھائے چلتے رہتے ہیں۔ شکستہ دل لوگ، منشتر لوگ۔

حبیب صادق
09-13-2020, 01:54 AM
نیو یارک کی مصروف زندگی پر ایک افسانہ, امریکی ہجوم

تحریر : میکسم گورکی (ترجمہ :خورشید جاوید)۔
دوسری قسط

انہیں دھندلا سا احساس ہے کہ جو زندگی وہ بسر کر رہے ہیں اس کے علاوہ کوئی اور زندگی بھی ہے۔ جس میں عادت اور طور طریقے مختلف ہیں، ایک ایسی زندگی جس میں عجیب سی کشش ہے۔
ہجوم مضطرب ہے۔
اس زندگی میں وہ خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، ہجوم اپنے اندر حسد کی کروٹیں محسوس کرتا ہے جس سے اس کے پیٹ میں گڑگڑاہٹ ہوتی ہے۔روشنی میں بیش قیمت بگھیوں میں خوبصورت عورتیں سفرکرتی ہیں۔ وہ گدیلی نشستوں پر دراز ہوتی ہیں۔ ان کے چہرے ستاروں جیسے ہیں اور ان کی خوبصورت آنکھیں لوگوں کو مسکرانے پر آمادہ کرتی ہیں۔
''دیکھو ہم کتنی سندر ہیں۔‘‘ عورتیں زبان حال سے پکارتی ہیں۔
ہجوم ان عورتوں کا بغور جائزہ لیتا ہے اور ان کا تقابل اپنی بیویوں سے کرتا ہے۔ استخوانی یا پھر بہت ہی زیادہ موٹی یہ بیویاں، ہمیشہ بیمار رہتی ہیں اور بہت لالچی ہیں۔ ان کے دانتوں میں درد رہتا ہے یا معدہ خراب رہتا ہے۔ اوروہ ہمیشہ آپس میں لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں۔
ہجوم بگھیوں میں بیٹھی عورتوں کو گھورتا ہے۔ ہجوم عورتوں کے بارے میں اپنی تعریف و توصیف کو چھپا نہیں سکتا ۔ان کے بچے بھی دیکھنے کی چیز ہیں۔ ان کا رونا دھونا اور قہقہے ہوا میں جلترنگ جیسی موسیقی بکھیرتے ہیں۔ صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس، صحت مند بچے، پتلی اور سیدھی ٹانگوں والے۔ گلابی گال، صاحبان پرعزم و ارادہ ----
ہجوم کے بچے بیمار اور زرد چہروں والے ہیں۔ ان کی ٹانگیں کسی نہ کسی وجہ سے ٹیڑھی اور خمدار ہیں ---- ٹیڑھی ٹانگوں والے بچوں کا نظارہ بہت عام ہے ---- سارا قصور مائوں کا ہے۔ جب وہ انہیں جنم دے رہی تھیں تو انہیں کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے تھا جو انہوں نے نہیں کیا۔
یہ تقابل ہجوم کے تاریک دل میں حسد کی پرورش کرتا ہے۔ اس زودرنجی میں مخاصمت شامل ہو جاتی ہے جو ہمیشہ حسد کی زرخیز مٹی میں بہ آسانی پھلتی پھولتی ہے۔ ضخیم سیاہ جسم بے ڈھنگے پن سے اپنے ہاتھ پیر ہلاتا ہے۔ کئی سو آنکھیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور شدید چبھتی ہوئی نظروں سے جو کچھ وہ دیکھتی ہیں وہ عجیب اور ناقابل بیان ہے۔
ہجوم محسوس کرتا ہے کہ اس کا کوئی دشمن ہے۔ بڑا ہوشیار اور طاقت ور، جو ہر کہیں موجود ہے۔ اس لیے نظر بھی نہیں آتا۔
چوک کے وسط میں سرمئی رنگ ہیلمٹ پہنے پولیس کا ایک سپاہی کھڑا ہے اس کا کلین شیوڈ چہرہ تانبے کی طرح چمکتا ہے۔ یہ شخص ناقابل فتح طاقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس نے سرے پر جست منڈھا ،ایک چھوٹااور موٹا ڈنڈا پکڑ رکھا ہے۔ہجوم گوشہ چشم سے اس ڈنڈے کو دیکھتا ہے۔یہ سب ڈنڈے لکڑی اور دھات کے سوا کچھ نہیں۔ مگر اس چھوٹے اور سنگین ڈنڈے میں ایک شیطانی طاقت پوشیدہ ہے جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
ہجوم بغیر جانے ہر شے سے دبی دبی پُرخاش رکھتا ہے۔ یہ غصے میں رہتا ہے اور کچھ بھی خطرناک کرنے کے لیے آمادہ رہتا ہے۔ اضطراری طور پر اپنی آنکھوں سے چھوٹے ڈنڈے کو ناپتا رہتا ہے۔
ہجوم پرآہستہ آہستہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ کتنا تنہا ہے۔ اسے کسی دھوکے کا احساس ہوتا ہے۔ اس کی جھنجھلاہٹ میں اضافہ ہو جاتا ہے وہ مستعدی سے کسی شئے کی تلاش میں ہے جس پر وہ غصہ اتار دے۔ جو کچھ ارد گرد ہو رہا ہے اسے پرکھتا ہے اس پر سوچ بچار کرتا ہے۔ اس کے کسے آوازے تیز دھار اور خباثت سے لدے ہیں۔ اس کی نظروں سے کوئی بھی نئی چیز نقش پاء چھوڑے بغیر نہیں گزر سکتی۔
دھاتوں کے ٹکرائوسے پیدا ہونے والی آواز وں کے سرکش بھنور میں ہجوم چوک پر ذرا گھومتا ہے، رکتا ہے ، ہر جانب سے بگھیاں اور ٹرامیں اس کی سمت دوڑتی آ رہی ہیں۔ گھوڑوں کے سموں کی چاپ، ٹراموں کی غصے سے وارننگ دیتی ہوئی گھنٹیاں، ہر شے اس پر گرجتی برستی، اس پر چڑھ دوڑی ہے۔ہجوم کو اندازہ ہو گیا ہے کہ کچھ تفریح کا سامان پیدا ہو چلا ہے۔
ٹرام کا ڈرائیور گھنٹی بجاتا ہے۔ وہ جنگلے پر جھک کرایک آدمی پر چلاتا ہے۔ اس کا چہرہ اعصابی تنائو سے سرخ ہے۔ پھر ڈرائیور پوری طاقت سے ہینڈل گھماتا ہے ٹرام لرز کر جھٹکے سے رک جاتی ہے۔
پہلی ٹرام کے پیچھے سے دوسری ٹرام آہستہ سے نمودار ہوتی ہے ۔ وہ عالم مدہوشی میں ٹرام کے سامنے والے حفاظتی جنگلے پر گرتا ہے پھر آہستگی سے پٹری پر گرتا ہے اور جنگلہ اس کے چرمرے جسم کو گھسیٹتا لے جاتا ہے۔زمین پر خون ایک سرخ لکیر کی صورت بہتا ہے۔ کسی معنی خیز مسکراہٹ کی طرح۔
ٹرام کے اندر عورتیں چیختی ہیں۔ لیکن تمام آوازیں ہجوم کی گہری فاتحانہ غراہٹ میں ڈوب جاتی ہیں۔ جیسے ان پر کوئی بھیگی، وزنی بیڈ شیٹ پھینک دی گئی ہو۔ گھنٹیوں کا پریشان شور، سموں کی تال، بجلی کا رونا دھونا ہجوم کے غصے کے سیلاب میں بہہ جاتا ہے۔ کسی جانور کی طرح غراتی ہوئی ہجوم کی سیاہ لہر آگے بڑھتی ہے۔ ٹراموں کے ڈبے سے ٹکراتی ہے۔ اپنی سیاہی ان پر بکھیر دیتی ہے اور اپنا کام شروع کر دیتی ہے۔ جب ٹرام کے شیشے چکنا چور ہو کر گرتے ہیں۔ ہجوم کے وسیع جسم کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ غضبناک چیخ و پکار کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ وہ خوشی سے اپنی طاقت کا اعلان کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ بالآخر اس نے کرنے کے لیے کچھ پا لیا ہے۔
کئی سو بڑے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہیں، لاتعداد آنکھیں ایک عجیب تیز بھوک کی ندیدی چنگاریوں سے چمک اٹھتی ہیں۔سیاہ ہجوم کسی پر ٹوٹ پڑا ہے یہ کسی کو پیٹ کر اپنا غصہ نکال رہا ہے۔ملی جلی چیخوں کے طوفان کے اندر، آٹومیٹک چاقو کے لمبے تیز پھل جیسا ایک پھنکارتا لفظ نمودارہوتا ہے۔
''مار دو!‘‘
اس لفظ میں ہجوم کی مبہم خواہشات کو متحد کرنے اور اس شور شرابے کو ایک بڑھک میں بدلنے کی طلسمی طاقت ہے۔
''مار دو!‘‘
ہجوم کے کچھ حصے ٹرام کی چھت پر چڑھ جاتے ہیں اور وہاں سے بھی، ہوا میں کسی چابک کے لہرانے کی کی سڑاک جیسی آواز سنائی دیتی ہے۔
''مار دو!‘‘
ہجوم نے کسی شئے کو گھیرا ہوا ہے۔ اس کے درمیان ایک ٹھوس گیند موجود ہے جو حرکت میں ہے۔ ہجوم کا گنجان حصہ مرکز کے دبائو سے پیچھے ہٹتا ہے۔ اور اس کے ضخیم سیاہ جثے سے اس کا سر اور جبڑا نمودار ہوتا ہے۔اس کے جبڑے میں ایک کٹا پھٹا خون آلود جسم جھولتا ہے۔ اس کے جسم کی وردی پر بچی کھچی دھاریوں کے نشانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹرام کاڈرائیورتھا۔
اب وہ ایک چبائے جیسے گوشت کا ٹکڑا رہ گیا ہے۔ تازہ گوشت، اشتہا انگیز چمکدار خون سے آلودہ۔ ہجوم کا سیا جبڑا اسے اٹھائے ابھی بھی چبا رہا ہے۔ اور اس کے بازو کسی آکٹوپس کے ہاتھوں کی طرح، بے چہرہ جسم کو گھماتے ہیں۔
سپاہی بت کی مانند کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ڈنڈا نہیں ہلتا اور اس کی بے حس و حرکت آنکھیں پرسکون ہیں جن کی پلکیں نہیں جھپکتیں۔اپنی طاقت پر سپاہی کا اعتماد، ہجوم کے سلگتے چہرے پر ٹھنڈا پانی انڈیل دیتا ہے۔
ہجوم کا سرا بھی آہستہ آہستہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ اب اس کا کوئی دھڑ نہیں۔ تھکے اور خوف زدہ لوگ چوک کے کنارے کنارے چلنا شروع کر دیتے ہیں جیسے کسی بہت بڑے ہار کے سیاہ دانے بکھر گئے ہوں۔ ان کی سیاہ صورتیں گندی زمین پر بکھرنے لگتی ہیں۔ وہ گٹر جیسی سڑکوں پر خاموش اداس منہ اٹھائے چلتے رہتے ہیں۔ شکستہ دل لوگ، منشتر لوگ۔(ختم شد)