PDA

View Full Version : سپردِ خدا



تانیہ
12-22-2010, 05:15 PM
نیکی کر دریا میں ڈال

جج (ملزم سے): تم نے اپنے دوست رشید کو نوکری دلوانے کے بعد دریا میں کیوں دھکیلا؟

ملزم: صاحب جی، میری ماں ہمیشہ کہتی ہے نیکی کر دریا میں ڈال


غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ کر پوچھا۔

ویل، ٹم مسلمان ہے۔

مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔

کرنل بولا۔ کیا مطلب؟

مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔

کرنل یہ جواب سن کر ہنس پڑا اور مرزا کو بے ضرر سمجھ کر چھوڑ دیا۔

سپردِ خدا

ریاست رام پور کے نواب کلب علی خان انگریز گورنر سے ملاقات کیلئے بریلی گئے تو مرزا اسد اللہ خان غالب بھی انکے ہمراہ تھے، مرزا کو نواب صاحب سے کچھ وظیفہ وغیرہ کی امید بھی تھی ۔ اورانہیں دلی بھی جانا تھا بوقت روانگی نواب صاحب نے مرزا سے کہا۔۔

مرزا صاحب الوداع ، خدا کے سپرد۔

مرزا غالب جھٹ بولے۔

"حضرت خدا نے تو مجھے آپ کے سپرد کیا تھا، اب آپ الٹا مجھے خدا کے سپرد کر رہے ہیں۔ "

گدھے اور آم
مرزا صاحب کے دوستوں میں سے حکیم رضی الدین خاں کو آم نہیں بھاتے تھے اور اس مسئلے پر اکثر مرزا میں اور حکیم صاحب میں اختلاف رہتا تھا۔ ایک دن مرزا غالب ، حکیم رضی الدین خان کے ہمراہ برآمدے میں بیٹھے تھے، اتنے میں ایک کمہار اپنے گدھے لے کر گزرا، گلی میں آم کے چھلکے پڑے ہوئے تھے، گدھے نے انہیں سونگھا اور چھوڑ دیا، اس پر حکیم صاحب چہک کر بولے۔
"مرزا صاحب، دیکھیئے آم ایسی شے ہے جسے گدھا بھی نہیں کھاتا۔"
مرزا نے جواب دیا۔ "بے شک گدھا آم نہیں کھاتا۔"