PDA

View Full Version : میجر شبیر شریف شہید



علی عمران
12-22-2010, 06:24 PM
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
یہ لہو سُرخی آزادی کے افسانے کی
یہ شفق رنگ لہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف دھماکے ہو رہے تھے۔ گولیاں برس رہی تھیں۔ توپیں گولے داغ رہی تھیں۔ دشمن کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ پچھلے دنوں کی مسلسل مار نے دشمن کو اپنی پوری قوت کے ساتھ حملہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مرنے یا مارنے کی صورتِ حال عروج پر تھی۔ اچانک پاکستانی مورچے سے ایک فوجی اچھل کر باہر نکلا۔ دوسری جست لگا کر اس نے بھارتی مورچے کو جا لیا۔ ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں اس نے بھارتی مورچے کے اندر کود کر بھارتی فوج کے جاٹ رجمنٹ کے کمانڈر میجر نرائن سنگھ کو چوہے کی طرح دبوچ لیا۔ اس کے ہاتھ سے گن چھینی اور دوسرے لمحے میجر نرائن سنگھ کی لاش چھیتھڑوں میں بٹی پڑی تھی۔ اس کی حیرت سے پھٹی ہوئی آنکھیں اب بھی اس پاکستانی فوجی پر جمی ہوئی تھیں جس کا چہرہ جوش سے سُرخ اور جسم فولاد ہو رہا تھا۔ اے یقین نہ آ رہا تھا کہ جذبے ایسے بے خوف بھی ہوتے ہیں کہ ہر طرف موت کا میدان گرم ہونے پر جان کی پرواہ کئے بغیر دشمن کے گھر میں گھس کر اسے موت کے گھاٹ اتار دینے کا انمول اور بے مثال کارنامہ سر انجام دینے والے جوانوں کو موت بھی سلام کر کے گزر جاتی ہے۔ مردہ میجر نرائن سنگھ نرگ میں جا کر بھی حیران ہو رہا ہو گا کہ اسے کس جاں فروش نے موت کے گھاٹ اتارا تھا جو اسے فنا کرنے کے بعد اس کے مورچے کی تلاشی لے رہا تھا اور بلآخر کچھ لمحوں بعد اس کی ساری اہم فوجی دستاویزات سمیٹ کر جس طرح اس کے مورچے میں آیا تھا اسی بہادری، دلیری اور بے باکی سے دو جستوں میں واپس اپنے مورچے میں لوٹ گیا۔
یہ پاکستانی فوج کے مایہ ناز سپوت میجر شبیر شریف شہید تھے جو اپریل 1943 کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک راجپوت گھرانے سے تھا جس کا ماضی میں تعلق ایک ہندو راجپوت خاندان سے تھا۔ بعد میں یہ خاندان حلقہ بگوش اسلام ہوا تو کشمیر کی سکونت ترک کر کے گجرات کے قصبہ کنجاہ میں آباد ہو گیا۔
میجر شبیر شریف کے پردادا میاں محمد بخش ایک صوفی منش آدمی تھے اور دور دور تک اپنے انسان دوست کارناموں کے لئے مشہور تھے۔ ان کے بیٹے میاں غلام حسین اور میاں مہتاب نے اپنے خاندان کی ان روایات کو مرتے دم تک زندہ رکھا۔ میجر شبیر شریف کے والد میجر شریف، میاں مہتاب کے بیٹے تھے۔
میجر محمد شریف نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسلامیہ ہائی سکول کنجاہ ضلع گجرات سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1935 میں سگنل کور میں بطور سنگنلر بھرتی ہو گئے۔ ان کی*ڈیوٹی جیل پور میں لگائی گئی جو انگریزوں کے دورِ حکومت میں بھارت کے ملٹری ٹریننگ سنٹرز میں سے بہت بڑا سنٹر مانا جاتا تھا۔
میجر محمد شریف نے یہاں رہ کر بہت سے آرمی کورسز میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد کچنر کالج نوکانگ سے منسلک ہو گئے اور فوج کا اعلٰی ترین کورس یعنی سپیشل آرمی کورس کیا۔ اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ ایک عام سنگنلر سے ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچے اور 6 جون 1965 کو بحیثیت میجر ہی ریٹائر ہوئے مگر 2 ماہ بعد ہی 6 ستمبر 1965 کو جب مسلح جارحیت کے مرتکب ہوئے بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا تو ایمرجنسی رولز کے تحت میجر محمد شریف کی خدمات دوبارہ حاصل کی گئیں۔ اس جنگ میں میجر محمد شریف کے دو بیٹے کیپٹن ممتاز شریف اور میجر شبیر شریف شہید بھی وطن کے دفاع کے لئے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح سینہ سپر تھے۔ اس جنگ میں میجر شبیر شریف شہید نے ستارہ جرات اور کیپٹن ممتاز شریف نے ستارہ بسالت حاصل کیا جو ان کی بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
میجر شبیر شریف شہید کی خاندانی روایات گواہ ہیں کہ ان کے خاندان کا تقریباََ ہر فرد فوج میں رہا۔ میجر صاحب کی والدہ کے 5 بھائی یعنی میجر صاحب کے ماموں فوج میں مختلف عہدوں پر فائز رہے جبکہ ان کے نانا انگریزوں کے دور میں 1918 تک راجپوتانہ رائفلز سے جمعدار کے عہدے پر رہے۔ میجر صاحب کے بہنوئی میجر سعادت علی خان تھے۔ ان کا تعلق رام پور کے نواب خاندان سے تھا۔ یہ 1971 کی جنگ میں سلیمانکی فاضلکا سیکٹر میں میجر شبیر شریف شہید سے دو سو گز پیچھے ان کے سیکنڈ ان کمانڈ کی حیثیت سے مصروفِ جنگ تھے۔ جب میجر شبیر شریف شہید نے جامِ سہادت نوش کیا تو میجر سعادت علی خان ہی ان کے جسد خاکی کو فوج سے وصول کر کے گھر لائے تھے۔ اس خاندان کی رگوں میں وطن کی خدمت اور فوج میں رہ کر وطن کی حفاظت کا جو سودا سمایا ہوا تھا اس کی کتنی ہی انمٹ مثالیں موجود ہیں۔
میجر شبیر شریف شہید کو ابتدائی تعلیم کے لئے راولپنڈی میں پریزینٹیشن کانونٹ سکول میں داخل کرایا گیا۔ بعد میں جب ان کے والد میجر محمد شریف کا تبادلہ مری ہو گیا تو میجر شبیر شریف شرف سینٹ فرانسس گرامر سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخل ہوئے۔ 1959 میں میجر محمد شریف کی ڈیوٹی لاہور میں لگا دی گئی تو میجر محمد شبیر شریف کے لئے سینٹ انتھونی سکول لاہور کی درسگاہ کا انتخاب کیا گیا۔ یہاں سے انہوں نے سینئر کیمبرج کا امتحان نمایاں پوزیشن لے کر پاس کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے۔ گونمنٹ کالج میں ابھی ان کو بمشکل چھ ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ انہوں نے فوج میں اپلائی کر دیا اور سلیکشن کے لئے ملٹری سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کے قدوقامت، گفتگو اور خاندانی پس منظر نے ان کے سلیکٹرز کو بے حد متاثر کیا۔ میجر صاحب کی گونجدار آواز اور تن سازی کے شوق کا مظہر جسم ہر دیکھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے تھے۔ باوقار، باتمیز میجر شبیر شریف کی شخصیت میں ایک سحر تھا جو ہر آنکھ کو اپنے اوپر مرکوز کر لینے کا منتر جانتا تھا۔ موٹر سائیکل کی سواری ان کا مشغلہ تھا اور وہ ایک خاص انداز میں موٹر سائیکل پر سواری کرتے۔ اسے روک کر پاؤں نیچے رکتے تو کتنے ہی دل دھڑک اٹھتے۔ سیالکوٹ سے کوئٹہ اور پھر واپس کوئٹہ سے سیالکوٹ کا سفر انہوں نے اپنی خطر پسند اور مہماتی طبیعت کی تسکین کے لئے موٹر سائیکل پر کر کے ثابت کر دیا تھا کہ ان کو خطروں سے پیار ہے ان کی فطرت میں ڈر یا خوف نام کی کوئی شے نہیں پائی جاتی۔
کیڈٹ کے طور پر فوج میں بھرتی ہو جانے کے بعد ان کو ملٹری اکیڈمی کاکول بھیج دیا گیا۔ یہاں سے 1965 میں انہوں نے کمیشن حاصل کیا۔ 1970 میں ان کی شادی ایور شائن پینٹس کے ڈائریکٹر میاں محمد افضل کی صاحب زادی کے ساتھ ہو گئی جن کا نام روبینہ بیگم تھا۔
ان کی بیگم محترمہ روبینہ شریف ہوم اکنامکس میں بی اے پاس تھیں۔ ان سے میجر شبیر شریف کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام میجر صاحب نے تیمور شریف رکھا۔ یہ ان کی اپنے والد میجر محمد شریف سے محبت اور عقیدت کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد میجر شبیر شریف شہید نمبر 6 ایف ایف رجمنٹ میں تعینات ہوئے۔ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) کے بعد یہ دوسرے فوجی تھے جنہوں نے پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر شمشیر اعزازی یعنی SWORD OF HONOUR حاصل کی۔
فوج میں رہتے ہوئے انہوں نے بہت کم عرصے کے دوران مختلف فوجی کورسز پاس کئے جن کا مختصر اندراج یہ ہے۔
1:۔ ویپنز کورس
2:۔ انٹیلیجنس کورس
3:۔ پیراشوٹ کورس
اگلے کئی برس تک میجر شبیر شریف فوج کے مختلف شعبہ جات میں خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 1965 میں جب بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا تو پاک فوج کے جیالوں میں میجر شبیر شریف بھی شامل تھے۔ اس وقت یہ سیکنڈ لیفٹنینٹ کے عہدے پر تھے اور ان کو ایک کمپنی کی کمان دے کر کشمیر کے محاذ پر بھیجا گیا تھا۔
ستمبر 1965 کو پاکستانی فوج کے کچھ دستوں کو بے حد گھمسان کی جنگ لڑنا پڑی۔ یہ جنگ جوڑیاں کے محاذ پر ہوئی۔
پاک فوج پیش قدمی کرتے ہوئے رات کے دوسرے پہر شمالی پہاڑیوں کے دامن سے گزرتی ہوئی اس جگہ پہنچی جہاں باجرے کے کھیت تھے۔ ان دستوں کا توپ خانہ ابھی پیچھے آ رہا تھا۔ ان دستوں کی قیادت میجر شبیر شریف کے سپرد تھی۔
باجرے کے کھیتوں کے پاس پوزیشن سنبھالے ہوئے ابھی ان لوگوں کو دس پندرہ منٹ گزرے ہوں گے کہ مشرقی سمت سے غبار سا اٹھتا دکھائی دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد دشمن کی بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک کچی سڑک پر نمودار ہوئے اور ان کی طرف بڑھنے لگے۔
میجر شبیر شریف کا اندازہ تھا کہ یہ کچی سڑک ان سے تقریباََ دو ہزار گز کے فاصلے پر ہے۔ پاک فوج کے دستے دو حصوں میں تقسیم ہو کر اس محاذ پر پیش قدمی کر رہے تھے اور دونوں کے درمیان ڈیڑھ پونے دو میل کا فاصلہ تھا۔ دشمن کی فوج کا منصوبہ یہ تھا کہ اس ڈیڑھ پونے دو میل کی خالی پٹی میں سے خاموشی کے ساتھ*آگے کی جانب سفر کرتے گجرات پر قبضہ کر لیا جائے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ منصوبہ بے حد مکمل اور بڑا جاندار تھا مگر وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ پاک فوج اس جگہ آ چکی ہے اور ان کی نقل و حرکت پر پوری نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ دشمن کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی ایک کھیپ گزر گئی۔ دوسری کھیپ گزر گئی۔ تیسری کھیپ سامنے آئی تو پاک فوج نے اس پر اچانک حملہ کر دیا۔ دشمن بوکھلا گیا۔ اسے اس حملے کی توقع نہیں تھی۔ اسے سنبھلنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ دوسری طرف میجر شبیر شریف شہید کے دستوں کو یہ پریشانی تھی کہ ان کے پاس توپیں نہیں تھیں۔ آرٹلری، فوج کے اس حصے میں تھی جو ان سے ڈیڑھ دو میل دور پیش قدمی کر رہا تھا۔ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لئے ان کے پاس صرف راکٹ تھے جن کی محدود تعداد بلآخر محتاط استعمال کے بعد ختم ہو گئی۔ صورتحال ایک دم خطرناک ہو گئی۔
مرکز سے رابطہ کرنے پر میجر شبیر شریف کو جواب ملا کہ فوری طور پر ان کو کمک نہیں مل سکتی۔ اب اہیں اپنے طور پر دشمن کا مقابلہ کرنا تھا۔ اسے روکنا تھا۔ اسے فنا کے گھاٹ اتارنا تھا اور نقصان سے بچنا بھی تھا۔
دشمن کے ٹینک بمشکل ایک ہزار گز دور تھے۔ جب بھی وہ آگے بڑھنا چاہتے پاک فوج کی طرف سے مشین گنیں ان پر موت کا دہانہ کھول دیتیں اور وہ رک جاتے۔ مگر کب تک۔۔۔۔ صرف مشین گنیں ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کا راستہ کتنی دیر روک پاتیں۔ میجر شبیر شریف شہید بڑی باریک بینی سے صورتِ حال کو متفکرانہ انداز میں دیکھ رہے تھے اور دشمن کو محض مشین گنوں سے فائرنگ کر کے آگے بڑھنے سے روکے ہوئے تھے۔
دشمن کے ٹینک چیونٹی رفتار سے قدم قدم رینگتے ہوئے بلآخر برساتی نالے کے دوسرے کنارے تک آ پہنچے جو پاک فوج اور ان کے درمیان حائل تھا۔ چھوٹا سا یہ نالہ اس وقت دونوں فوجوں کے درمیان سرحد کا کام دے رہا تھا۔
ایک دم بھارتی ٹینکوں نے تیز رفتاری سے آگے بڑھنا شروع کیا۔ وہ نالہ پار کر کے میجر شبیر شریف شہید اور ان کے جوانوں کو روند ڈالنا چاہتے تھے۔ اور اس کے لئے ان کو محض چند منٹ کی مہلت درکار تھی۔ میجر شبیر شریف شہید نے اس نازک وقت میں برق رفتاری سے کام لیا۔ فوری فیصلہ کیا اور چھوٹے ہتھیاروں سے دشمن کے ٹینکوں کو نشانہ بنانے کے لئے آگے بڑھے۔
اسی وقت ان کو اپنے دائیں طرف سے پاک فوج کی ایک گاڑی آتی دکھائی دی جس پر دو چھوٹی یعنی ہلکی توپیں موجود تھیں۔ میجر صاحب نے جوانوں کو حکم دیا اور چند لمحوں میں دونوں توپیں گاڑی سے اتار کر دائیں بائیں دو موزوں جگہوں پر نصب کر دی گئیں۔
جو توپ بائیں طرف نصب کی گئی اس کا توپچی سامنے دشمن کے ٹینکوں کی تعداد اور رفتار دیکھ کر نروس ہو گیا۔ اس کو گھبراہٹ کے عالم میں ٹینکوں پر فائر کرنا محال ہو رہا تھا۔ یہ گھبراہٹ اس کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔ دشمن نے توپوں کی موجودگی کی خبر ہوتے ہی بمباری شروع کر دی۔ ایک گولہ دوسرے ہی لمحے اس توپچی پر آ گرا۔ توپچی اور گاڑی کا ڈرائیور موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ جبکہ دائیں طرف نصب توپ دشمن پر مسلسل آگ اگل رہی تھی۔ اس کا گنر دائیں بائیں سے دشمن پر گولے داغ رہا تھا۔ اور اسے سانس لینے کی مہلت نہ دی۔ اس گولہ باری کا ایک مثبت اثر یہ ہوا کہ دشمن کی پیدل فوج پیچھے ہی دبک گئی۔ اس کو آگے بڑھنے میں موت دکھائی دے رہی تھی، اس لئے وہ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے پیچھے چھپ کر فائرنگ کرتی رہی۔
ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک شدید گولہ باری ہوئی۔ میجر شبیر شریف نے بھارتی فوج کے 4 ٹینک اڑا دئیے۔ دو بکتر بند گاڑیاں اڑا دیں گئیں۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو چھوڑ کر دشمن نے فرار کی راہ اختیار کی اور میدان میجر شبیر شریف کے ہاتھ رہا۔
چونڈہ ۔۔۔۔۔۔۔ ضلع سیالکوٹ کا ایک سرحدی گاؤں ہے جہاں ایک دن میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی اور چونڈہ کو جنگِ ستمبر 1965 کے حوالے سے دنیا بھر میں بے پناہ شہرت و اہمیت حاصل ہو گئی۔ میجر شبیر شریف شہید نے اس محاذ پر بھی دادِ شجاعت دی اور اپنے وطن کی حفاظت کے لئے جان کی بازی لگا دی۔
سیالکوٹ سیکٹر کا محاز دشمن کی پلاننگ کے تحت بہت زیادہ پھیلا ہوا تھا۔ چپراڑ سے لے کر جسٹر تک کا 24 میل کا علاقہ میدانِ کارزار بنا ہوا تھا۔ بھارتی فوج کی پلاننگ یہ تھی کہ چونڈہ کو ہر قیمت پر فتح کر لیا جائے تاکہ ڈسکہ اور گوجرانوالہ کو بآسانی نشانہ بنایا جا سکے۔ اس کے لئے اس نے اپنی بہترین فوج اور ٹینکوں کو جنگ میں جھونک دیا۔ اگر وہ چونڈہ پر قبضہ کر لیتا تو بڑی آسانی سے گوجرانوالہ کے نزدیک جرنیلی سٹرک کو کاٹ سکتا تھا۔
چونڈہ کا محلِ وقوع یہ ہے کہ سیالکوٹ سے پندرہ میل دور جنوب مشرق میں پسرور سے ڈسکہ اور گوجرانوالہ کے راستے پر یہ بے حد اہم جگہ پر واقع ہے۔ اگر دشمن چونڈہ کو سر کر لیتا تو اسے دو فائدے فوری طور پر حاصل ہو جاتے:
1: سیالکوٹ اس کے قبضے میں چلا جاتا۔
2:۔ لاہور، وطنِ عزیز کے دوسرے علاقوں سے مکمل طور پر کٹ جاتا۔

علی عمران
12-22-2010, 06:29 PM
سیالکوٹ کے محاذ پر دشمن کی منصوبہ بندی کے تحت اس کے اہداف میں سیالکوٹ کے ساتھ بڈیانہ، ظفروال اور چونڈہ تھے۔ جس کے لئے اس نے سات محاذ کھول رکھے تھے۔ ان سات محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے جب وہ پاک سرحدوں پر پہنچا تو اس کی فوج 12 حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی جن کو پلاننگ کے تحت کہیں تو آگے بڑھنا تھا اور کہیں دائیں اور بائیں طرف سے سفر کرتے ہوئے بلآخر ایک دوسرے کے ساتھ آ ملنا تھا۔ اور جب یہ فوج کے 12 حصے کسی ایک مقام پر جمع ہو جاتے تو ایک جرار لشکر کی شکل میں پاک فوج کے سامنے ڈٹ جاتے۔
بھارتی فوج کا ایک حصہ نالہ ڈیک کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ اس حصہ کو فوج میں بھارتی فوج کے تین ڈویژن پیدل اور ایک ڈویژن بکتر بند شامل تھا مگر سامنے پاک فوج کا جیالا توپ خانہ موجود تھا جس نے اس ٹڈی دل کو اپنی جگہ سے ایک قدم آگے بڑھنے نہ دیا اور اپنی گولہ باری سے اس کا ناک میں دم کئے رکھا۔
سیالکوٹ سیکٹر کے عقب میں تقریباََ تیس میل طویل اور پانچ دس میل چوڑی پٹی پر تاریخ کی سب سے بڑی مشینی جنگ لڑی گئی۔ یہ میدان بظاہر چھوٹا سا تھا مگر اس میں 10 لاکھ سے زائد فوجی، 600 سے زائد ٹینکوں اور ہزاروں دیگر خود کار ہتھیاروں کے ساتھ باہم بر سرِ پیکار تھے۔ ان کے سروں پر فضا میں بمبار جیٹ مصروفِ کار تھے۔ زمین کا سینہ گولوں کی گھن گرج سے دہل رہا تھا۔ آگ اور دھوئیں کے بادل آسمان سے باتیں کر رہے تھے اور ہر طرف چیخوں اور نعروں کا طوفان برپا تھا۔
پاک فوج کے سینکڑوں جوان دشمن کے ٹینکوں کی اس ہولناک یلغار کو روکنے کے لئے دیوانہ وار آگے بڑھے اور اپنی جانوں پر کھیل گئے۔ ان کے پاس ہینڈ گرینیڈ، بزوکا رائفلیں اور راکٹ لانچر تھے جن سے کام لیتے ہوئے وہ تحفظ وطن کے جذبے سے سرشار دشمن کے آگ اگلتے، گولے براتے، فائرنگ کرتے ٹینکوں کی قطاروں میں گھس گئے اور وہ اپنی ہر کوشش کو دشمن کی تباہی کے لئے آزماتے ہوئے اس کے لئے بربادی کا پیغام بن گئے۔
اس وقت پاک فضائیہ کے شاہین بھی ان کی مدد کو آن پہنچے۔ بھارت کے مسلسل حملوں کو ناکام بنانے میں فضائیہ نے جو عظیم الشان اور قابلِ قدر کردار ادا کیا اس کی مثال*صدیوں تک نہ ملے گی۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی بمباری سے دشمن کی سپلائی لائن کاٹ دی۔ گولہ بارود کے ذخیرے کو جہنم زار بنا دیا اور بار بار اس کے ٹینکوں کی قطاروں اور پیدل فوج پر ایسے شاندار حملے کئے کہ دشمن کو جان بچا کر بھاگنا بھی دشوار ہو گیا۔ میجر شبیر شریف شہید نے چونڈہ کے محاذ پر جو کارہائے نمایاں سر انجام دئیے، ان کے اعتراف میں انہیں ستارہ جرات کا اعزاز دیا گیا۔
دسمبر 1971 کی جنگ میں بھی بھارت نے مغربی محاذ پر بُری طرح منہ کی کھائی۔ 3 دسمبر کو جب بھارت نے مغربی پاکستان پر حملہ کیا تو میجر شبیر شریف شہید کو حکم ملا کہ وہ مسلسل پیش قدمی کریں اور متعلقہ محاذ پر دشمن کو واپس اس کی سرحدوں میں دھکیل دیں۔
اس جنگ میں میجر شبیر شریف شہید نے بیری والا اور گورمکھڑا کے محاذ پر وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنے فوجی دستوں کی کمان کی اور ایسے محیر العقول انداز میں اپنا فرض ادا کیا کہ ان کی بہادری کی داستانیں آج بھی پاک فوج میں زبان زدِ عام ہیں۔
سب سے پہلے میجر شبیر شریف شہید نے جھنگر کی پوسٹ کو تباہ کیا۔ اس کے بعد بیری والا پوزیشن کو اپنے حق میں کیا۔ میجر بارودی سرنگوں کے جان لیوا بھارتی علاقے سے بے خوف و خطر گزرتے ہوئے دشمن کی بھاری خودکار آرٹلری اور ٹینکوں کی موجودگی میں نالہ سربونا کے ساتھ بنے ہوئے پشتہ پر مسلسل حملے کئے۔ چند ہی گھنٹوں کے اندر اندر انہوں نے نالہ سربونا پر قبضہ کر لیا اور دشمن کو بلند پشتے پر تعمیر شدہ شیل پروف بنکروں سے مار مار کر بھگا دیا۔ یہ ان کی قائدانہ اور حربی صلاحیتوں کا بے مثال کارنامہ تھا جس کے تحت انہوں نے بھاتی توپ خانے اور بکتر بند دستوں کے مسلسل حملوں کو متواتر ناکام بنایا اور اپنے قبضے میں آئے ہوئے علاقے کا ایک انچ بھی واپس دشمن کے قبضہ میں نہ جانے دیا۔ ان کی بہادری کا یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ انہوں نے جنگ کے دوران اسلحہ اور نفری کی کمی کو ہمیشہ اپنی پلاننگ اور پیش قدمی کے عجیب و غریب طریقوں سے پورا کیا۔
پاک فوج کے دستوں نے پکا گاؤں کے محاذ پر ابتداء میں ہی بھارتی فوج کی پیدا کردہ مشکلات کو خاطر میں لانے سے انکار کر دیا۔ شمال مشرق میں ڈھوک کی پوسٹ پر قبضہ کرنے کے بعد انہوں نے خاموشی سے دشمن پر دھاوا بول دیا۔ بے ترتیبی اور دہشت کے عالم میں دشمن خوف زدہ ہو کر اٹھ بھاگا اور اپنے پیچھے ان گنت لاشیں چھوڑ گیا۔ اس مقام پر تقریباََ ڈیڑھ سو بھارتی فوجیوں کو گرفتار کیا گیا جن کے رنگ دہشت اور خوف کے مارے زرد پڑے ہوئے تھے۔ ہتھیار ڈال کر جان بچا لینے کی خوشی ان کے چہروں سے ظاہر تھی۔
اس کے بعد خان والا کا وہ واقعہ پیش آیا جو جنگی مہارت اور حربی حکمت عملی کا بے مثال نمونہ ہے۔ اس معرکے کے دوران پاک فوج کے چند چھوٹے دستے نالہ سربونا تک دشمن کے علاقے میں گھس گئے اور علاقہ پر قبضہ کر لیا۔
خان والا پوسٹ اور خان والا گاؤں پر دشمن کا قبضہ تھا۔ اس نے پاک فوج کے دستوں کی مزاحمت کی مگر جب اس طرف سے اس پر مسلسل دباؤ بڑھتا چلا گیا تو اس پر خوف و ہراس طاری ہونے لگا۔ دھیرے دھیرے اسنے علاقہ خالی کرنا شروع کیا۔ اور بلآخر ایک تنگ جگہ میں سمٹ کر رہ گیا۔ یہ دراصل دشمن کی وہ چال تھی جو پاک فوج نے خود اسی پر الٹ دی تھی۔
اب میجر شبیر شریف شہید سلیمانکی سیکٹر میں دشمن کی سرکوبی کے لئے ایف ایف رجمنٹ کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کا ٹارگٹ گورمکھیڑا اور بیری والا گاؤں کے اتصال پر ایک اونچا ڈیم تھا جس کی فوجی نقطہ نظر سے بے حد اہمیت تھی۔ دوسری طرف سے اس ڈیم کا دفاع بھارتی فوج کی آسام رجمنٹ کی ایک کمپنی کر رہی تھی۔ اس کمپنی کو 18 نمبر ہڈسن ہارس ٹینکوں کے ایک سکواڈرن کی مدد بھی حاصل تھی جو اس کے لئے سب سے اطمینان بخش ہتھیار تھا۔
اس علاقے میں ایک ایک انچ پر بارودی سرنگوں کا جال پھیلا ہوا تھا۔ یہ بارودی سرنگیں ہلکی بھی تھیں اور ایسی طاقت کی حامل بھی تھیں کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ ٹینکوں کی بھی فضا میں روئی کے گالوں کی طرح اڑا دیں۔
بھارتی توپ خانہ ہر چہار اطراف میں شدید گولہ بھاری کر رہا تھا۔ اوپر سے بھارتی فضائیہ بمباری کر رہی تھی۔ آگ اور دھماکوں کو طوفان برپا تھا۔ سامنے اور اردگرد سے مضبوط مورچوں میں موجود بھارتی فوجی ہلکی مشین گنوں، مارٹروں اور رائفلوں سے فائرنگ کرنے میں مصروف تھے۔ ان کے لئے نہ اسلحہ کی کمی تھی نہ ان کو نفری کی فکر تھی۔ ایک ٹڈی دل تھا جو بھارتی فوج کی شکل میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔
ہر طرف آگ تھی۔ دھماکے تھے۔ بارود تھا اور گولیاں تھیں۔ اس بارانِ اجل میں پاک فوج کو ایک بھارتی چوکی جھانگر پر قبضہ کرنا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ نالہ سربونا کو پار کرنا تھا جو چھوٹی موٹی نہر کے برابر تھا۔
نہر نما سربونا نالہ تیس فٹ چوڑا اور دس فٹ گہرا تھا اور گور مکھیڑا کے اونچے بند کے قریب واقع تھا۔ اس پر دشمن کی مسلح نفری اس قدر زیادہ تھی کہ قبضہ کرنا بے حد مشکل تھا مگر میجر شبیر شریف شہید کو تو ہر صورتِ حال کو پھلانگ کر یہ کارنامہ سر انجام دینا تھا۔
میجر صاحب نے اپنے زیرِ کمان فوجی دستے کو ساتھ لیا اور بارودی سرنگوں سے اٹے پڑے علاقے کو نہایت احتیاط سے عبار کر گئے۔ خطرناک حدود پار کرتے ہی وہ دشمن پر ٹوٹ پڑے اور بھارتی فوج کی اندھا دھند فائرنگ اور بمباری کے باوجود جھانگر پر قبضہ کر لیا۔
یہ مورچہ ہاتھ سے نکلتے ہی بھارتیوں نے گورمکھیڑا کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔ جہاں اطلاعات کے مطابق دشمن کی بھاری نفری جدید ترین اسلحے کے ساتھ موجود تھی۔ یہ صورتِ حال خاصی فکر مند کر دینے والی تھی۔
میجر شبیر شریف نے بیری والا گاؤں پہنچ کر وائرلیس پر اپنے کمانڈر سے رابطہ قائم کیا:
“ سر ۔۔۔۔۔۔۔ ہم اس وقت بیری والا میں موجود ہیں!“
“میجر۔۔۔۔۔۔ میدان کی صورتِ حال کیا ہے؟“ کمانڈر نے پوچھا۔
“ جھانگر پر ہمارا قبضہ ہے اور دشمن گورمکھیڑا پر پناہ لے چکا ہے سر۔“
“اوہ۔۔۔۔۔“ کمانڈر نے تشویش سے کہا۔“ وہاں تو اس کی خاصی زیادہ نفری موجود ہے اور یہ اطلاعات بھی ہیں کہ وہاں ایمونیشن کی مقدار بھی بہت زیادہ ہے۔“
“ یس سر۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری اطلاعات کے مطابق بھی یہ بات درست ہے۔“
“ محتاط رہنا میجر۔۔۔۔۔۔۔ تم اس وقت ان کے مقابلے میں نفری اور اسلحہ ہر دو لحاظ سے کمزور ہو۔“
“ نو سر۔۔۔۔۔۔۔“ میجر شبیر شریف شہید نے تڑپ کر کہا۔“ اللہ ہمارے ساتھ ہے سر۔ ہم کمزور نہیں ہیں۔“
“ گُڈ سے (say) میجر۔“ کمانڈر کا لہجہ بھی جوش سے بھر گیا۔“ تم نے بلکل درست کہا۔ جب اللہ ہمارے ساتھ ہے تو دشمن کی نفری اور اسلحہ کیا بیچتا ہے۔ اوکے وش یو گڈ لک۔ بی کئیر فل۔“
“اوکے سر۔“
میجر شبیر شریف شہید نے رابطہ منقطع کیا اور اپنے جوانوں کو منظم کر کے آگے بڑھے۔ چند لمحوں کے بعد وہ سربونا نہر کے کنارے موجود تھے۔
سربونا نہر کے اونچے بند کے قریب دشمن نے آرٹلری اور خود کار ہتھیاروں کو مکمل طور پر تیار کر رکھا تھا۔ میجر شبیر شریف شہید کو یہاں پہنچ کر ایک اور مشکل کا سامنا کرنا پرا اور وہ یہ کہ نہر کا پانی سردیوں کے باعث یخ ہو رہا تھا مگر یہ مشکلات ان کا راستہ نہ روک سکتی تھیں۔ انہوں نے اپنے جوانوں کو نہر پار کرنے کا حکم دے دیا اور جوانوں نے گنیں سروں سے بلند کرتے ہوئے برف سے زیادہ سرد پانی میں قدم رکھ دئیے۔
دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی گھمسان کا رن پرا۔ دوبدو لڑائی شروع ہو گئی۔ فائرنگ میں ایسی شدت آئی کہ الامان۔۔۔ تاہم پاک فوج کا پلہ بھاری رہا اور تھوڑی ہی دیر کے بعد میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کے مضبوط کنکریٹ کے مورچے پر قبضہ کر لیا۔ اس دوران ایک سو سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے تھے۔ چلیس سے زیادہ کو قیدی بنا لیا گیا اور اس کے دس شرمن ٹینک تباہ کر دئیے گئے۔
اس مورچے سے پاک فوج کو بے شمار اسلحہ اور گولہ بارود ہاتھ لگا۔ بند پر قبضہ ہو جانے کے بعد پاک فوج نے اس پل پر اپنا مورچہ قائم کیا جو گورمکھیڑا کو جانے والا واحد راستہ بھی تھا۔ دشمن کی فوج کافی پیچھے ہٹ کر پوزیشنیں سنبھال رہی تھی کہ اس کو مزید فوجی کمک مل گئی۔ تازہ دم فوج نے آتے ہی اپنی ذلت آمیز پسپائی کا بدلہ لینے کی ٹھان لی مگر اسے کون سمجھاتا کہ جنگ ہتھیاروں اور افرادی قوت کی کثرت سے نہیں جذبوں سے جیتی جاتی ہے جو اس کے پاس ناپید تھے۔
رات بھر دونوں طرف سے شدید فائرنگ ہوتی رہی۔ دشمن بار بار آگے بڑھنے کی کوشش کرتا مگر میجر صاحب اور ان کے جوان اسے پھر دم دبا کر پیچھے ہٹ جانے پر مجبور کر دیتے۔ وہ دشمن کے ہر اقدام کا دندان شکن جواب دیتے رہے۔ چونڈہ کے محاذ کی طرح اس مقام پر بھی دشمن نے بے شمار ٹینک آگ اور خون کے دریا میں جھونک دئیے۔ اس کے خود کار ہتھیار ایک لمحہ کو بھی فائرنگ سے نہ رکے اور مسلسل آگ اگلتے رہے لیکن پاک فوج کے بہادر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اس کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اور بلآخر ایک بار پھر پسپائی دشمن کے حصے میں آئی۔ وہ اپنے تباہ شدہ ٹینک، ہلاک شدہ فوجی اور زخمی سپاہی چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ آخری حملے میں اس نے پورا زور لگایا اور شدید ترین دباؤ ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ یہ وہی لمحہ تھا جب میجر شبیر شریف شہید نے جوشِ ایمانی کا وہ بے مثال مظاہرہ کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ وہ دو جستوں میں بھارتی فوج کے مورچے میں کود اترے، میجر نرائن سنگھ جو جاٹ رجمنٹ کا کمانڈر تھا، اسے اسی کی گن سے ہلاک کیا اور اہم ترین فوجی دستاویزات سمیٹ کر لوٹ آئے۔
یہ آخری حملہ اس قدر شدید اور خوفناک تھا جس میں تیسری آسام رجمنٹ اور چوتھی جاٹ رجمنٹ کی دو بٹالینوں کے ساتھ ساتھ 18 کیولری کے ٹینکوں نے بھی بھارتی فوج کے ساتھ حصہ لیا۔ دورانِ جنگ بھارتی فضائیہ کو بھی جھونک دیا گیا جو مسلسل پاک فوج پر بم برسا رہی تھی۔ اوپر طیاروں کی برستی ہوئی*آگ۔ نیچے توپوں کی ابلتی ہوئی آگ۔ ہر طرف دھماکے تھے۔ دھواں تھا۔ میدانِ حشر کا سماں تھا جو پاک فوج کے مسلسل آگے بڑھنے اور دشمن کے متواتر پیچھے ہٹنے کا منظر پیش کر رہا تھا۔
دباؤ بے حد شدید بلکہ ناقابلِ برداشت ہو گیا تو حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے میجر شبیر شریف شہید نے ایک توپچی کی جگہ خود سنبھال لی۔ ان کے تاک تاک کر پھینکے ہوئے گولوں نے دشمن کے کئی ٹینکوں کے پرخچے اڑا دئیے۔ بے شمار فوجیوں کے جسم روئی کے گالوں کی طرح فضا میں بکھیر دئیے۔
دشمن کے ایک ٹینک میں موجود گنر نے جب ایک ہی جگہ سے مسلسل آتے ہوئے ہر گولے پر اپنی فوج کی تباہی لکھی دیکھی تو اس نے پوری مہارت سے کام لیتے ہوئے اس جگہ کو نشانہ بنایا۔ ٹینک سے گولہ سنسناتا ہوا آیا اور میجر شبیر شریف شہید کے سینے کو چیرتا ہوا نکل گیا۔
“ ساتھیو۔۔۔۔۔۔۔ دشمن کی شکست قریب ہے۔ ڈٹے رہو“ میجر شبیر شریف شہید نے شدید زخمی ہونے پر ڈوبتی ہوئی آواز میں زور سے کہا۔ جوانوں نے اپنے زخمی ہوتے کمانڈر کو دیکھا۔ ان کے پیغام کو سنا اور قہر بن کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ ہر جوان* آگ کا وہ شعلہ بن گیا جس کا مقصد صرف اور صرف خرمن دشمن کو جلا کر راکھ کر دینا تھا۔
پاک فوج کے جوان اپنے مورچوں سے باہر کود پڑے۔ وہ نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہوئے دشمن کی طرف یوں بڑھے کہ وہ خوفزدہ ہو کر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ نکلا۔ اسے دہشت نے جکڑ لیا تھا کہ آگ اور خون کے اس دریا میں پاک فوج کے جوان یوں اس کی طرف بڑھے چلے آ رہے تھے جیسے اسے کچا چبا جائیں گے۔
دشمن پسپا ہو کر بھاگ اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پیچھے بے شمار لاشیں چھوڑیں۔ گورمکھیڑا کا محاذ فتح کر لیا گیا۔
فوجی جوان اپنے کمانڈر میجر شبیر شریف شہید کی لاش کے قریب کھڑے سلامی دے رہے تھے جن کے ہونٹوں پر ایک ابدی مسکراہٹ تیر رہی تھی۔ ایک شہید کی مسکراہٹ جو اپنے دین، اپنے وطن پر نثار ہو گیا تھا۔
میجر شبیر شریف شہید کو ان کے لازوال کارنامے پر نشانِ حیدر سے نوازا گیا جو اس بات کا اعتراف ہے کہ مسلمان نہ دشمن کی کثرت سے ڈرتا ہے نہ ہتھیاروں کی فراوانی سے۔ اسے صرف اور صرف اپنے فرض کی تکمیل، اللہ کی راہ میں جان دینے اور اپنے وطن کی حفاظت کا جذبہ عزیز ہوتا ہے اور یہ جذبہ اس کے لہو میں ہر وقت انگڑائیاں لیتا ہے۔ آج بھی میجر شبیر شریف شہید کی باتیں، ان کی یادیں اور ان کے کارناموں کا تذکرہ سننے والوں کے دلوں میں آ گ لگا دیتا ہے جو صرف اور صرف شہادت کی شبنم سے ہی سرد ہو پاتی ہے۔

تانیہ
12-22-2010, 09:14 PM
زبردست شیئرنگ....ویری نائس تھینکسسسس

علی عمران
12-24-2010, 12:14 AM
پسند کرنے کا بے حد شکریہ

بےباک
12-25-2010, 12:48 AM
علی عمران جی آپ ہمیں ایسے ھستیوں کے کارناموں سے روشناس کرا رہے ہیں ، جو ہمارے لیے سرمایہ فخر ہے ،
آپ اسے جاری رکھیے ، ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں ،

سیما
05-01-2012, 05:35 AM
بہت ہی اچھا لکھا بہت بہت شکریہ
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو۔۔ ان شاء اللہ

انجینئرفانی
10-07-2012, 07:00 AM
اچھی معلومات ہیں۔

pervaz khan
10-07-2012, 02:01 PM
خوبصورت شیئرنگ کے لیئے بہت شکریہ