PDA

View Full Version : گریٹ فائر آف شکاگو ۔۔۔۔ محمد ندیم بھٹی



حبیب صادق
10-14-2020, 02:42 AM
گریٹ فائر آف شکاگو ۔۔۔۔ محمد ندیم بھٹی

گائے پر شکاگو شہر کو جلانے کا الزام

امریکہ کے بد ترین المیوں میں ''گریٹ فائر آف شکاگو‘‘ کا واقعہ بھی شامل ہے۔ جب 8اکتوبر1871ء کو لگنے والی خوفناک آگ دو روز تک بھڑکتی رہی، کسی طوفان کی مانند پھیلتی رہی۔
اس وقت تمام شہر سویا ہوا تھا، رات کا اندھیرا پھیل رہا تھا،موسم سرد اور ہوا میں خنکی تھی، شہر کے باسی کمبلوں اور رضائیوں میں دبکے ہوئے تھے، اتنے میں ایک گائے کی مالکہ کیتھرین او لیری نے لالٹین جلائی ،اس بوڑھی عورت نے پانچ گائیں بھی پال رکھی تھیں۔اندھیرا مٹانے کی خاطر لالٹین جلائی تو گائے نے او لیری کی لالٹین کو دم ماری ، جو ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری ،ہر جانب تیل پھیل گیا، لمحہ بھر میں آگ شہر کے مرکزی حصے میں پھیل گئی۔
شعلے ''ڈیکوون سٹریٹسے شمال مشرق کی جانب پھیلنا شروع ہوئے۔راستے میں آنے والی ٹیلر سٹریٹ پر سب کچھ جل کر خاکستر ہو گیا، ایک مکان یا دفتر بھی سلامت نہیں بچا۔ آگ کی شدت ،حرارت اور دھواں اس قدر شدید تھا کہ فائر مینوں کے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ناک ،منہ جھلس رہے تھے۔ فائر مین چارلس اینڈرسن کے مطابق ، ''سانس کی جگہ بھاپ ناک میں جانے سے گلا جل رہا تھا۔بھاپ سے اس کی ٹوپی ہل رہی تھی،
'' یوں لگا جیسے جہنم ہم میں آگئے ہوں‘‘۔کچھ لوگوں نے کہا۔
چلو اسی بہانے وہ جنت اور جہنم کے تصور کو تو مان گئے!
شکاگو ٹریبیون نے آتش زدگی کو 1812ء میں نپولین کی جانب سے ماسکو کے محاصرے کے برابر کا واقعہ قرارد یا تھا،
شعلوں کا بھنوریا شیطانی روح
شہر کا موسم سرد تھا لیکن گرم شعلوں سے ماحول تپ رہا تھا۔ عام تاثر تھا کہ آگ ہوا کے رخ پر پھیل رہی ہے لیکن ایسا نہیں تھا ،آگ کے شعلے ایک سو فٹ بلند تھے ،اور مرغولوں کی شکل میں چاروں طرف پھیل رہے تھے۔جیسے ایک بھنور ہو، بڑا سا بھنور۔ محکمہ موسمیات والے اسے (convection whirls) کہتے ہیں ۔ اگرچہ شکاگو شہر میں آندھی پہلے کبھی 30 میل فی گھنٹہ سے تیز نہیں چلی تھی، لیکن اس روز آ ٓندھی کی رفتار اس سے کہیں تیز تھی۔ منگل 10اکتوبر تک یہ ہنستا کھیلتا شہر اجڑ چکا تھا۔فائر مین جونہی آگ بجھا نے کی کوشش کرتے ،اس کی تپش میں اضافہ ہونے لگتاتھا۔ آگ تھی یا کوئی شیطانی بد روح ہو!۔
دو ہزارایکڑ زمین پر قائم مکانات اور دفاتر شعلوں کی لپیٹ میں آئے تھے۔ہوا کا دبائو طوفانی تھا، جس سے آگ پھیل رہی تھی۔ایک اور عینی شاہد نے کہا، ''میں نے جو کچھ بھی دیکھا تھا ،لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے‘‘۔
شہر میں فوج بلا لی گئی
آتش پر قابو پانے کیلئے فالتو قرار دیئے گئے فائر انجن بھی طلب کر لئے گئے، فوری طور پر قابو پانے کیلئے میئر راسل بی میسن نے ایمرجنسی لگاکر فوج طلب کی تھی۔ جنرل فلپ ایچ شیریڈان نے شہر کا کنٹرول سنبھال کر آگ بجھائی۔ اس کے باوجود آگ نے ہزاروں مکانات کو جلا کر راکھ کر دیا،ایک لاکھ افراد بے گھر ہوئے ۔ایک عرصے تک تاریخ کی کتابوں میں بچوں کو یہی پڑھایا جاتا رہا کہ ''شکاگو شہر میں یہ آگ ایک گائے کے دم مارنے کی وجہ سے لگی۔ذرا سی کوتاہی سے شہر کا بڑا حصہ جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
لوک کہانیاں اور نظمیں
آج بھی یہ سوال اٹھایا جا تا ہے کہ ''شکاگوکی خوفناک آگ کیسے لگی، یا کس نے لگائی؟۔ کیا واقعی اس آتشزدگی کے پیچھے کسی گائے کی ایک دم تھی یا انسانی غفلت نے شہر کو کھنڈر میں بدل دیا تھا؟
اسی حوالے سے ایک شاعر نے نظم لکھی، جو اب ان کی لوک کہانیوں میں بھی شامل ہے،یہ لوگ گیت مقبول ہے، اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے،
تمام شہر میٹھی نیند میں تھا،
گپ اندھیرے میں او لیری کو لالٹین جلانے کی سوجی
بس۔۔۔ پھر کیا تھا،
اس کی گائے نے دم ہلائی ،
گائے نے آنکھیں بند کیں اور ڈکار سی لی،
جیسے کہہ رہی ہو، یہ سرد رات آج کافی گرم ہو گی
نقصانات کا تخمینہ
بے گھر افراد :ایک تہائی آبادی یعنی ایک لاکھ۔
مالی نقصان:2018ء میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق 4.593 ارب ڈالر
عمارات تباہ:17500
اموات: 300
نقصان کا رقبہ:3.3مربع میل میں کوئی چیز سلامت نہیں بچی
سڑکوں کا نقصان:73میل لمبی سڑکیں تباہ
پیدل چلنے کے راستے : 120میل لمبے فٹ پاتھ وغیرہ برباد
روشنی کے مینار (لیمپ پوسٹیں) : 2ہزار تباہ
سازشی تھیوریاں
کیتھرین او لیری کی ہمسائی کے بچوں نے کہا کہ آگ او لیری نے لگائی۔ کچھ اور کولوگوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ انہوں نے سازشی تھیوریوں کو بیان کیا،کہ اس بوڑھی عورت نے دانستہ طور پر اپنے بوڑھے جسم اور محنت کا بدلہ لینے کے لئے آگ لگائی۔ جونہی رپورٹروں کو اس بات کا علم ہوا،او لیری کے گھر کے باہر ہجوم جمع ہو گیا، سبھی آگ اور گائے کی کہانی سننے کے لئے بے تاب تھے۔ او لیری گندے ہاتھوں کے ساتھ باہر نکلتی ،کپڑوں سے تیل کی بو اٹھ رہی ہوتی۔
انکوائری کمیشن کوئی فیصلہ نہ کر سکا
ایک بڑے اخبارنے او لیری کا نام لیتے ہوئے لکھا، ''شہر کو راکھ کا ڈھیر بنانے والی آگ ایک گائے کی وجہ سے لگی ۔آگ کا مرکز ٹیلوفتھ سٹریٹ میں واقع او لیری کا گودام تھا۔جب صبح کے 9بجے او لیری وہاں لالٹین جلا رہی تھی تو گائے نے دم ماری ۔جس سے لالٹین گرنے سے آگ پھیل گئی۔متعدد مضامین میں او لیری اور اس کی لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لئے ''بورڈ آف پولیس اینڈ فائر‘‘ نے تحقیقات کی۔اپنے بیان میں او لیری نے صرف اتنا کہا ،
''میں تو سوئی ہوئی تھی کہ میرے شوہر ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے۔مجھے جھنجھوڑتے ہوئے کہا ، کیٹ اٹھو!ہمارسے اصطبل میںآگ بھڑک رہی ہے۔لگ بھگ 8بج کر 38 منٹ ہوئے ہوں گے۔میں باہر لپکی ۔میں نے دیکھا کہ سبھی بالٹیاں بھر بھر کر اپنے مکانات میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
پولیس کا شبہ اسی علاقے کے ایک اور آدمی ڈینئیل سولیوان پر بھی گیا، وہ بھی بے گناہ نکلا۔ اس نے کہا تھا کہ ''میں نے 5 جانوروں کو جھلستے دیکھا تو انہیں کھولنے کے لئے وہاں گیا تھا‘‘۔
انکوائری کمیشن نے 50گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے لیکن 1100 صفحات پر مشتمل رپورٹ بے نتیجہ تھی۔
ایک امیگرنٹس پر الزام لگا
اس آتش زدگی کی مرکزی کردار یعنی او لیری اور ان کے شوہر پیٹرک آئر لینڈ سے آئے تھے ،وہ شکاگو میں اجنبی تھے،انہوں نے اپنے 5بچوں کے ساتھ ویسٹ سائٹ میں رہائش اختیار کی تھی۔پیٹرک مزدورتھے جبکہ او لیری گھر گھر جا کر گائے کادودھ بیچتی تھیں۔
مرکزی کردار کی موت ''دل ٹوٹنے ‘‘سے ہوئی
آتشزدگی کے بعد24برس زندہ رہی۔کتابوں میں آتش زدگی کے بارے میں پڑھنے کے بعد جب لوگ اس کے گھر کا رخ کرتے ،اور اپوچھتے '' اماں جی ! آگ کیسے لگی‘‘۔ اماں جی غصیلی آنکھوں سے گھورتیں، لاٹھی سر پر پڑنے سے پہلے ہی وہ بھاگ جاتے۔ لیکن اماں جی بھی کم نہ تھیں۔ بوڑھی ہڈیوں کے باوجود پوری طاقت سے اپنا مذا ق اڑانے والے کاپیچھا کرتیں۔اس آگ سے انہیں شہرت تو ملی، لیکن آتشزدگی کے بعد 24سال لوگوں کو وضاحتیں کرتے ہوئے گزر گئے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ان کی موت نمونیہ سے ہوئی لیکن محلے دار موت کا سبب دل کا ٹوٹنا بتاتے ہیں۔