PDA

View Full Version : ایک دکھ بھرا قصۃ



سقراط
12-26-2010, 01:12 AM
ہمارے کچھ قبائل میں ایک رسم ہے کہ جب کوئی قبیلے کا نیا سردار چنا جاتا ہے تو تمام لوگ مل کر دعا مانگتے ہیں کہ ”یا اللہ قبیلے کو بزدل سردار سے بچانا“ دلیر سردار اگر ظلم بھی کر لے تو لوگ بخوشی برداشت کر لیتے ہیں کیونکہ وہ قبیلے کو دوسروں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیتا لیکن بزدل سردار ہمیشہ قبیلے کو ذلت اور رسوائی تک لے جاتا ہے‘ اس لئے باغیرت لوگ ذلت و رسوائی سے پہلے موت گلے لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بہادر آدمی ہمیشہ ذلت کی زندگی کی نسبت بہادری کی موت پر فخر کرتا ہے۔

ٹیپو سلطان جیسا حکمران بھی یہ کہے بغیرنہ رہ سکا کہ ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے “ پشتو کے مشہور شاعر خوشحال خان خٹک نے بھی اپنے قبیلے کو یہی درس دیا ”وہ قوم قوم ہی نہیں جو اپنی عزت کیلئے مرنا نہیں جانتی۔“ مشرقی پاکستان کا سانحہ بھی کچھ اسی قسم کا تھا جو ہماری قومی غیرت کیلئے چیلنج ثابت ہوا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی لیکن کسی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ بدنامی اور بے شرمی کی کالک تمام قوم کے چہرے پر ملی گئی۔ تاریخ میں شاید یہ پہلی شکست تھی جو مسلمانوں نے ایک عورت سے کھائی تھی۔ غلطی جس کی بھی تھی اس کا فیصلہ تاریخ نے کر دیا ہے۔ بدنامی پوری قوم اور ہماری آنے والی نسلوںکے نام لکھ دی گئی ہے۔ اس بدنامی پر ہر پاکستانی دکھی تھااور آج تک دکھی ہے۔ ہمارے ایک بلوچ بزرگ سردار کا ردِ عمل توجہ کا حامل ہے جو قارئین کے گوش گزار ہے۔

1973ءمیں ہمارے گاﺅں کے کچھ فوجی جو جنگی قیدی تھے جب واپس آئے تو لوگوںنے اپنے اپنے طریقے سے خیرات بانٹی۔ گاﺅں کی مسجد میں نوافل ادا کئے گئے۔ شام کو لوگ جب گاﺅں کے واحد ڈیرے پر اکٹھے ہوئے تو خیرات کے چاول ڈیرے پر بیٹھے تمام لوگوں کو بھیجے گئے۔ لا محالہ بات مشرقی پاکستان کی طرف چلی گئی۔ میں اس وقت نیا نیا میجر بنا تھا اور گاﺅں چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ گاﺅں کا ایک بزرگ جو تھا تو بالکل ان پڑھ لیکن تھا بڑا غیرت مند اور بہادر انسان۔ ساری عمر سر اٹھا کر گزاری تھی۔ قبیلے کی نوجوان نسل کے لئے وہ مثالی شخصیت تھی۔ اسے ہم سب عزت سے بڈھا بلوچ یا بڈھا سردارکے نام سے پکارتے تھے۔ جب چاول بانٹے گئے تو بابا جی ڈیرے پر موجود تھے۔ بابا جی نے حقے کا کش لیا اور میری طرف متوجہ ہو کر پوچھا:

”پتر اس جنگ میں کتنے جرنیل مارے گئے ہیں؟“ ”جرنیل تو کوئی نہیں لیکن بہت سے آفیسرزاور جوان شہید ہوئے ہیں“ جو مجھے یاد تھا۔ میں نے جواب دیا۔
”کتنے مولوی اور سیاستدان جہاد پر گئے تھے یا شہید ہوئے ہیں“۔ بابا جی نے مزید پوچھا۔
”میری اطلاع کے مطابق کوئی نہیں“ میں نے جواب دیا۔
اس پر بابا جی نے ایک قصہ سنایا۔کہنے لگا:
” ایک دفعہ چند مکھیاں پروانوں کے پاس گئیں اور کہا کہ ہم آپ سے رشتہ داری کرنا چاہتی ہیں۔ ہمیں بھی اپنے گروپ میں شامل کر لیں۔ پروانوں کے بزرگ نے جوا ب دیا کہ اچھا ہم سوچ کر جواب دیں گے۔ شام کے وقت جب لوگ دئیے جلاتے ہیں تو پروانوں کے بزرگ نے مکھیوں کو بلا کر کہا کہ جاﺅ گاﺅں میں دیکھ آﺅ کتنے دئیے جل رہے ہیں۔ مکھیاں چلی گئیں اور کچھ دیر بعد واپس آکر بتایا کہ کتنے دئیے جل رہے ہیں۔ یہ سن کر بزرگ پروانے نے کہا کہ تم لوگ چلے جاﺅ۔ آپ اور ہماری رشتہ داری نہیں ہو سکتی۔
”کیوں؟ “ مکھیوں نے حیران ہو کر پوچھا۔
بزرگ پروانے نے جواب دیا ”پروانوں کا کام ہوتا ہے شمع پر جل مرنا۔ اگر تم ہماری رشتہ دار ہوتیں تو ادھر ہی جل کر مر جاتیں ہمیں بتانے کیلئے واپس نہ آتیں۔“

بابا جی نے حقے کا ایک اور لمبا کش لیا اور گھمبیر آواز میں کہا ”پتر ہم سب مکھیاں ہیں مکھیاں، اگر ہم صحیح پاکستانی ہوتے تو وہاں مرجاتے واپس کیوں آتے؟ میں نے پاکستان بنتے دیکھا ہے پروانہ تو محض ایک ہی شخص تھا اور وہ شخص تھا قائد اعظم جو چلا گیا۔ اب تو ہمارے سیاستدان۔ مولوی اور جرنیل سب ایسے ہی ہیں۔ اگریہ پروانے ہوتے تو یوں پاکستان نہ ٹوٹتا۔ اٹھا لو میرے سامنے سے یہ خیرات کے چاول۔ ملک دے کر اور عزت لٹا کر آنے والے عزت دار نہیں کہلا سکتے اور ہم پیچھے بیٹھنے والے پاکستان کی عزت کے محافظ کیسے بن بیٹھے ہیں؟ فوج قوم کے بل بوتے پر لڑتی ہے ہم تو انہیں محاذِ جنگ پر بھیج کر ان کیلئے کچھ بھی نہ کر سکے۔ فوج کے جرنیل جن کا کام تھا فوج کو لڑانا۔ انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ ہر وقت گرج چمک کے ساتھ شور مچانے والے سیاستدان اور مولوی حضرات بھی قوم کی سرداری نہ سنبھال سکے تو اب خیرات کے چاول بانٹنے کا کیا فائدہ؟ جو قوم اپنی غیرت کی حفاظت نہ کر سکے وہ کیسی قوم ہے“

محفل پر سناٹا چھا گیا۔ خیرات کے چاول بابا جی کے سامنے سے اٹھا کر خواتین اور بچوں میں تقسیم کر دئیے گئے۔ بابا جی کے چہرے پر دو موٹے موٹے آنسو آکر داڑھی کے بالوں میں رک گئے۔ قید سے واپس آنے والوں میں ایک بابا جی کا عزیز بھی تھا۔ بابا جی بقیہ زندگی اس سے نہیں بولے۔ ہمیشہ دکھ سے کہتے تھے میرا خون اتنا بے غیرت کیوں ہوگیا ہے؟

ہم سب نے بابا جی کو بہت سمجھایا کہ یہ تو میڈیکل کور میں تھا۔ سی ایم ایچ میں ڈیوٹی دے رہا تھا۔ اس نے تو کوئی بزدلی نہیں دکھائی۔ لیکن بابا جی کا ایک ہی جواب تھا: ”پاکستان فوج میں تو تھا۔ وردی بھی پاکستان کی پہنی ہوئی تھی۔ پھر یہ بزدل کیوں نہیں لڑا؟“ پھر ایک دن بیٹھے بیٹھے کہنے لگے۔ ”اگر ہم پاکستان کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے تو پاکستان بنایا کیوں تھا؟“

جب آخری وقت باباجی بیمار ہوئے تو ان کا یہ عزیز حکیم صاحب کو لے آیا۔ باباجی کی طبیعت کو جانتے ہوئے اسے ہم نے دروازے پر روک لیا لیکن بابا جی کی نظر پڑ گئی۔ باباجی نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ آہستہ سے ہونٹ ہلے ہمارا خیال تھا کہ باباجی کلمہ پڑھ رہے ہیں لیکن ساتھ بیٹھے مولوی صاحب نے بتایا کہ باباجی کے منہ سے نکلا تھا ”بزدل“ اس کے بعد کلمہ پڑھا اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔
کیا موجودہ18کروڑ پاکستانیوں میں سے کوئی بھی اس روح کو سکون دے سکتا ہے؟

ایک دکھ بھرا قصّہ (سکندر بلوچ) (http://www.karachiupdates.com/v2/index.php?option=com_content&view=article&id=7344:2010-12-22-18-15-12&catid=63:2009-07-31-13-36-49&Itemid=15)

بےباک
01-03-2011, 03:21 AM
ہم سب مکھیاں ہیں مکھیاں، اگر ہم صحیح پاکستانی ہوتے تو وہاں مرجاتے واپس کیوں آتے؟ میں نے پاکستان بنتے دیکھا ہے پروانہ تو محض ایک ہی شخص تھا اور وہ شخص تھا قائد اعظم جو چلا گیا۔ اب تو ہمارے سیاستدان۔ مولوی اور جرنیل سب ایسے ہی ہیں۔ اگریہ پروانے ہوتے تو یوں پاکستان نہ ٹوٹتا۔ اٹھا لو میرے سامنے سے یہ خیرات کے چاول۔ ملک دے کر اور عزت لٹا کر آنے والے عزت دار نہیں کہلا سکتے اور ہم پیچھے بیٹھنے والے پاکستان کی عزت کے محافظ کیسے بن بیٹھے ہیں؟ فوج قوم کے بل بوتے پر لڑتی ہے ہم تو انہیں محاذِ جنگ پر بھیج کر ان کیلئے کچھ بھی نہ کر سکے۔ فوج کے جرنیل جن کا کام تھا فوج کو لڑانا۔ انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ ہر وقت گرج چمک کے ساتھ شور مچانے والے سیاستدان اور مولوی حضرات بھی قوم کی سرداری نہ سنبھال سکے تو اب خیرات کے چاول بانٹنے کا کیا فائدہ؟ جو قوم اپنی غیرت کی حفاظت نہ کر سکے وہ کیسی قوم ہے“

بہت ہی خوب سقراط جی ،شاندار