PDA

View Full Version : فیس بک کا ایک اور فتنہ ..........سیلانی کے قلم سے



گلاب خان
12-26-2010, 07:35 AM
جمعرات, 22 جولائی 2010 11:28

یار! لوگ تو بس وہیں کے ہیں…
بھئی جیتے تو گورے ہیں۔ زندگی سے بھرپور انجوائے کرتے ہیں…
وہاں کسی کو کسی سے غرض نہیں کہ آپ کیا پہن رہے ہیں، کہاں جارہے ہیں، آپ کا رخ چرچ کی جانب ہے یا مسجد کی طرف یا آپ مندر کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں۔ وہاں فریڈم ہے۔ مکمل آزادی…
سیلانی کی طرح یہ جملے ہر اس شخص نے اس شخص سے سن رکھے ہوں گے جویورپ یا امریکہ میں پیٹرول پمپ پر گاڑیوں میں گیس ڈالنے یاکسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں برتن مانجھنے کا باعزت فریضہ سرانجام دیکر وطن لوٹا ہو۔ کاش اس وقت کوئی دیار غیر میں وطن کا نام روشن کرنے والامل جاتا تو سیلانی اسے گدی سے پکڑ کر کھینچتا ہوا اپنے کمرے میں لاتا اور کہتا: کھول آنکھیں اور دیکھ، یہ ہیں تیرے آقا زادوں کے کرتوت… دیکھ، کیا سوچا ہے ان کی غلیظ ذہنیت نے… پڑھ، کیا لکھا ہے کی بورڈ پران کی ناپاک انگلیوں کی جنبش نے…
دل کو شق کر دینے والے اس فتنے کی جانب سیلانی کی توجہ سلمان نے دلائی۔ سیلانی اس نوجوان کو نہیں جانتا۔ کبھی ملا ہے نہ بات کی ہے۔ اس اجنبیت کے باوجود کلمے کے رشتے نے اسے سیلانی کوفون کرنے پر مجبور کردیا۔ سیلانی اس وقت لکھنے بیٹھا ہی تھا۔ وہ گزشتہ رات ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں سات ہلاکتوں پر لکھنا چاہ رہا تھا، لیکن سلمان کی کال نے توسب کچھ فیوز کر دیا۔
’’سیلانی بھائی! آپ فیس بک استعمال کرتے ہیں؟‘‘ سلمان نے اپنا تعارف کرانے کے بعد تیزی سے کہا۔ اس کے لہجے میں عجلت اور دبا دبا جوش بتا رہا تھا کہ کوئی غیر معمولی بات ہے
’’الحمدللہ اب نہیں کرتا‘‘
’’بھائی! انہوں نے پہلے ہمارے حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی اب وہ قرآن پاک کے خلاف جمع ہو گئے ہیں۔ فیس بک پرEVERY BODY BURN QURAN DAY کے نام سے پیج بنا ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے جو مغلظات بکی ہیں، جو خرافات لکھی ہیں، وہ پڑھنے کی ہمت نہیں اور میں حیران ہوں کہ حکومت چپ ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں کہ فیس بک کیا گل کھلا رہی ہے‘‘
’’ایک منٹ میرے دوست‘‘ سیلانی نے سلمان کو ہولڈ کرایا اور فیس بک کھول لی۔ اک عرصے کے بعد وہ log inn ہوا تھا۔اس نے فیس بک کھولنے کے بعد سلمان سے پوچھا ’’فیس بک تو کھول لی، اب اس پیج کا بتاؤ‘‘
’’بھائی آپ سرچ پر EVERY BODY BURN QURAN DAY لکھیں‘‘
سیلانی نے دل کڑا کرتے ہوئے سرچ کے کالم میں یہ منحوس الفاظ لکھ ڈالے۔ تھوڑی دیر میں فیس بک کے چہرے سے نقاب اتر گیا۔ اس مذموم نام سے کھلنے والا page سامنے تھا، اس میں بائیں جانب سیاہ لباس میں ملبوس کوئی سیاہ بخت عورت ایک ہاتھ میں موم بتی اور دوسرے ہاتھ میں کوئی کتاب پکڑے اسے جلانے کو تھی۔page کایہی مذموم عنوان تھا کہ قرآن کو نذر آتش کئے جانے کادن۔ نعوذباللہ۔ اس کے ساتھ درج تھا:
We are 1045 in 2 weeks,not bad,invite as many as you can!!spread the massege!long live the freedom of speech and expression !death to Extremism!
آزادیٔ اظہار کے نام پرگوروں کی تاریک ذہنیت ایک بار پھر عیاں ہوگئی تھی۔ فیس بک کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی تھی۔ پتہ نہیں اسلام سے انہیںکیا پرخاش ہے۔ یہ کیوں چڑتے ہیں۔ کیوں تپتے ہیں۔ مادر پدر آزادی نے انہیں جہنم کا ایندھن بنا دیا ہے۔ سیلانی نے یہ جہنمی عبارت پڑھی اور سوچ میں پڑ گیا کہ گوروں کو آزادیٔ اظہار کے معنی کیسے سمجھائے جائیں۔ اس نے یہی بات سلمان سے کہی ’’ان گوروں کو آزادیٔ اظہار اور دل آزاریٔ اظہار کا فرق نہیں پتہ۔ یہ تو تہذیب یافتہ قوموں میں سے ہیں، پھر بھی‘‘
’’سیلانی بھائی! ان خبیثوں کو سب پتہ ہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں جب اسی فیس بک نے سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے جہنمیوں کو پلیٹ فارم دیا تھا کہ کوئی بھی شخص کائنات کی عظیم ترین ہستی کا خاکہ بنا کر فیس بک پر مشتہر کر سکتا ہے تو ردعمل میں کراچی کے ایک نوجوان سعد مصطفٰی وڑائچ نے یہودیوں کی دم پر پیر رکھ دیا۔ اس نے فیس بک کے نام پر’’ ہٹلر‘‘ کی حمایت کردی اور ہٹلر کے نام سے اکاؤنٹ بنا دیا‘‘
’’زبردست… پھر کیا ہوا‘‘سیلانی نے دلچسپی سے پوچھا۔
’’سیلانی بھائی! ایک گھنٹے میں دس افراد اس کے ساتھ شامل ہوگئے۔ ان میں اطالوی فٹبالرPOLO DI CONIO بھی شامل تھا۔ لیکن اس ایک گھنٹے بعد ’’ہٹلر‘‘نے log inn ہونے کی کوشش کی توکامیاب نہ ہوسکا۔ فیس بک انتطامیہ نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر فوری پابندی لگا دی تھی۔ میرے پاس سعد کی ای میل موجود ہے۔ آپ اپنا ای میل ایڈریس دیں، میں آپ کو بھی بھیج دیتا ہوں‘‘
سیلانی نے سلمان کو اپنا ای میل ایڈریس دیا ۔تھوڑی دیر بعد ہی سعد وڑائچ کی ’’ فیس بک بیتی‘‘ سیلانی کے سامنے تھی ۔
ہٹلر کے نام سے یہودیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ انہیںا ذیت ہوتی ہے۔ اس لئے فیس بک نے یہودیوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے’’ ہٹلر‘‘ کو بھگا دیا۔ آج بھی کوئی شخص فیس بک پر ہٹلر یا نازی کے نام سے کوئی اکاؤنٹ کھول کر دیکھ لے، اسے اندازہ ہو جائے گا کہ آزادیٔ اظہار صرف یہودیوں اور گوروں کے لئے ہے۔ ہم مسلمانوں کے جذبات ہیں، نہ احساسات۔ جس کا جب دل چاہے ہمیں گالیاں دیتا چلا جائے…
سیلانی کادل بجھ سا گیا۔ قرآن جیسی متبرک کتاب، کلام اللہ کے ساتھ ظالموں کا یہ سلوک ۔ وہ سرعام دعوت دے رہے ہیں کہ آؤ اس کتاب کو جلا دیتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔ آگ کے شعلوں میں پھینک دیتے ہیں۔ راکھ کر دیتے ہیں اور ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ فیس بک کا استعمال چھوڑ دیں۔ سیلانی کو حیرت اور دکھ تو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن پر ہوا۔ جانے اس کے چئیرمین صاحب اور ان کی ٹیم کس کیفیت میں ڈیوٹی انجام دے رہی ہے۔ پاکستان میں کراچی سے لے کر زیارت تک ہر اس گھر میں جہاں انٹر نیٹ کا کنکشن ہے، فیس بک اعلان کرتی پھر رہی ہے’’آؤ قرآن جلا دیں‘‘ اور انہیں پتہ ہی نہیں۔ پی ٹی اے کے چیئرمین کی ڈگری پر کوئی سیاہ لکیر پھیر دے تو وہ تکلیف سے بلبلا اٹھیں گے کہ ہائے میری سولہ سال کی محنت… یہاں کلام اللہ کو جلانے کی بات ہو رہی ہے اور وہ چپ ہیں۔ پی ٹی اے کوکیوں خبر نہیں کہ فیس بک ایک اور فتنہ کھڑا کر چکی ہے۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ چیک رکھیں کہ پاکستان میں انٹر نیٹ پر کیا مواد آ رہا ہے اور کیاوہ اسلام، پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متصادم تو نہیں؟ نہیں چیک رکھ سکتے تو اسلام آبا دکی سپر مارکیٹ میں سی ڈیز کی دکان کھول لیں۔ زیادہ کمالیں گے… سیلانی یہ سوچتے ہوئے فیس بک سےlog off ہوا اور نفرت بھری نگاہوں سے گوروں کی گھٹیا سوچ کی عکاس فیس بک کو دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔[/color]

آزاد خان
12-26-2010, 02:49 PM
گلاب صاحب آپکی تحریر دیکھی یھ تو ہمیشھ سے چلتا آیا ھے تو کیا اسلام میں کویی تبدیلی ھویی نھی
یھ جو قران جو جلانے کا سوچتے ھیں کیا جن کے سینوں میں قران دفن ھے جو حافظ قرآن ھیں ان کا کیا کریں گے
یھ ان کے دل کی جلن ھے ان شعلوں میں خود ھی جلیں گے انشااللہ