PDA

View Full Version : علامہ اقبال کی ایک نظم



نازک حسین
12-28-2010, 11:38 AM
علامہ اقبال کی نظم" طلوع اسلام "جو انہوں نے 31 مارچ 1923ء کو انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں پڑھی. اس میں سے کچھ اشعار حاضر خدمت ہیں.

یہی مقصود و فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

بتان رنگ وخوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تو رانی رہے باقی ، نہ ایرانی ، نہ افغانی

میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک
ترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانی

گمان آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی !

مٹایا قیصر و کسرٰی کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا ، زور حیدرّ ، فقر بو ذر، صدق سلمانی

ہوے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی

ثبات زندگی ، ایمان محکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تورانی

جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الا میں پیدا

بےباک
12-28-2010, 12:16 PM
شکریہ جناب نازک حسین صاحب ،
کیا زبردست شعر ہیں ۔مرحوم علامہ اقبال صاحب فرماتے ہیں ،

ثبات زندگی ، ایمان محکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تورانی

جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا

کا کا سپاہی
12-28-2010, 09:32 PM
بہت ہی لاجواب شئیرنگ کی ہے آپ نے