PDA

View Full Version : ’عقیدہ‘ سے ’اخلاق‘ اور ’تہذیب‘ تک



گلاب خان
12-28-2010, 07:00 PM
مسند احمد میں سعد بن ہشام سے روایت کرتے ہیں:
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر دریافت کیا:
”اُم المومنین! رسول اللہ کے خلق کی بابت ذرا کچھ بیان فرمائیے گا“
فرمانے لگیں: کان خلقہ القرآن ”قرآن ہی آپ کا خلق تھا“ کیا تم قرآن میں اللہ کا یہ ارشادنہیں پڑھتے: وانک لعلی خلق عظیم؟
بخاری الادب المفرد باب من دعا اﷲ ان یحسن خلقہ میں اور بہیقی شعب الایمان باب ”حب النبی“ میں کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ اس معنی کی ایک حدیث یزید بن بابنوس سے بیان کرتے ہیں کہ: ہم عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں گئے اور دریافت کیا: ام المومنین! رسول اللہ کا خلق کیا تھا؟ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا: ”قرآن ہی آپ کا خلق تھا۔ کیا تم نے سورہ المومنون:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاء ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ أُوْلَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ

[font=Alvi Nastaleeq][size=large][color=#C71585]عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہنے لگیں: ”رسول اللہ کا خلق یہی تو تھا“ شعب الایمان کی ایک روایت میں ہے کہ میں سورہ المومنون کی تلاوت کرتے ہوئے دسویں آیت پر پہنچا تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بولیں: “بس یہی کچھ آپ کا خلق تھا“۔
شعب الایمان کی ایک روایت میں ابوالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ کے اسی سوال پر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ جواب نقل ہوا ہے: کان خلقہ القرآن یرضی لِرِضَاہ ویستخط لسخطہ ”قرآن ہی آپ کا خلق تھا۔ جو اس کو پسند وہ آپ کو پسند۔ جو اس کو ناپسند وہ آپ کو ناپسند“۔
××××××××××××
یہاں کچھ دیر ہم ”خُلق“ کے معنی پر رکیں گے اور پھر عقیدہ کی کچھ تہذیبی جہتوں کا ذکر کریں گے۔
اسلامی تراث کی بعض اصلاحات ایسی ہیں جو بیک وقت ایک وسیع تر مفہوم رکھتی ہیں تو ایک مخصوص تر مفہوم۔ عمومی استعمال میں کسی وقت اس کا کوئی ایک مفہوم معروف ہو گیا ہوتا ہے تو کسی وقت دوسرا۔ مگر کہیں پر یہ ہر دو پہلو سے مراد ہوتا ہے لفظ خُلق کا بھی یہی معاملہ ہے۔
الجزائر کا دارالحکومت بھی اتفاق سے الجزائر ہی کہلاتا ہے۔ یہ اس سیاق میں ہمارے لئے ایک اچھی مثال ہو سکتی ہے اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ ’الجزائر‘ سے باہر بھی ایک متعین سرحد تک ’الجزائر‘ ہی پایا جاتا ہے!
اسی قاعدہ کی ایک مثال لفظ ’عبادت‘ ہے ....
عبادت کا شریعت میں ایک وسیع مفہوم ہے جس میں نماز روزہ ہی کی طرح معاملات اور خانگی وسماجی زندگی کے سب امور آجاتے ہیں اور جو کہ ایک درست مفہوم ہے اور جس کے نظرانداز کر دیئے جانے کے باعث لوگ اب معاشرے میں عموماً ’مذہبی‘ و ’غیر مذہبی‘ کی تقسیم کرنے لگے ہیں اور جس کے باعث ’اللہ لوگ‘ ہونے کی ایک خاص فضیلت ذہنو ں میں پرورش پا گئی ہے دوسری طرف سیکولرزم کی گمراہی بھی اسی حقیقت کے نظرانداز ہوجانے سے ایک مقوی غذا پاتی ہے .... جبکہ لفظ ’عبادت‘ کا ایک مخصوص تر مفہوم ہے جس کی رو سے امور دین کو ___ سہولت مبحث کیلئے ___ اور شاید کچھ دیگر اعتبارات کے تحت بھی ___ ’عبادات‘ اور ’معاملات‘ میں تقسیم کر لیا جاتا ہے اور اس مخصوص تر مفہوم کی رو سے ’عبادات‘ کا اطلاق ان خاص حالتوں اور کیفیتوں پر کیا جاتا ہے جو خدا کا تقرب پانے کیلئے شعور کی ایک خاص توجہ کے ساتھ اور خدا کی تعظیم اور اپنی حاجت مندی کی تعبیر میں ایک خاص اہتمام کے ساتھ انسان پر گزرتی ہیں مثلاً دُعا، نماز، ذبیحہ، نذر اور طواف وغیرہ۔
ایک طویل رکود اور جمود کے بعد اب جب سے حقیقت دین کی تفہیم کچھ عام ہونے لگی ہے اور دین کے کچھ بنیادی موضوعات لوگوں کے زیربحث آنے لگے ہیں، تب سے یہ بحثیں بھی چل نکلی ہیں کہ فقہائے اسلام کا دین کو ’عبادات‘ اور ’معاملات‘ میں تقسیم کر لینا آیا صحیح بھی ہے یا نہیں اور یہ کہ یہ تقسیم ’عبادت‘ کا مفہوم سکیڑے جانے کے عمل میں آیا مُمدد تو نہیں۔ ادھر یہ بحثیں ہیں تو دوسری جانب کچھ بیمار ذہن ’دین‘ کو ’معاملات‘ اور ’کارہائے دنیا‘ سے بے دخل کر دینے کیلئے فقہاءکی اس تقسیم کو ایک ایسی ’دلیل‘ کے طور پر دیکھتے اور پیش کرتے ہیں جو شاید اجماع سے بھی بڑھ کر ان کے ہاں شرف پاتی ہے (’اجماع‘ کا کوئی شرف ان کے ہاں ہے یا نہیں، خدا معلوم) اور یوں ’اموال واولاد‘ سمیت امور زندگی اور شوؤن معاشرہ کو شریعت کے تابع لانے کی دعوت جو کہ موجودہ دور میں ’حاکمیت‘ کے نام سے معروف ہوئی ہے ان لوگوں کو محض ایک ’فکری مغالطہ‘ نظر آتا ہے جو بعض ’انتہا پسندوں‘ کے ذہن میں بے سبب کہیں سے آسمایا ہے اور بے ’وقت‘ لوگوں کو پریشان کئے جا رہا ہے!
معاملہ یہ ہے کہ نہ فقہائے اسلام اپنے اس اصطلاحی استعمال اور اس مبحثی تقسیم میں غلط ہیں اور نہ آج کے گمراہ ’دین‘ اور ’عبادت‘ کے مفہوم کو انسانی زندگی کے ایک بڑے حصے سے بے دخل کرنے (اور دراصل انسانی زندگی کے اس حصے میں عبادت غیر اللہ کا چلن کروانے) کیلئے فقہاءکی اصطلاحی تقسیم کو بنیاد بنانے میں حق بجانب۔
معاملہ صرف اتنا ہے کہ ایک لفظ کا بیک وقت ایک وسیع مفہوم ہو سکتا ہے اور ایک مخصوص تر مفہوم۔ اور اس معاملہ میں حکم arbiter وہی لوگ اور وہی مراجع ہوتے ہیں جنہوں نے یہ اصلاحات وضع کی ہوں نہ کہ ’دوسرے‘ لوگ۔
شرک کا ___ مثلاً ___ ایک وسیع تر مفہوم ہے جس میں شرک اکبر بھی آتا ہے اور شرک اصغر بھی۔ گو مطلق استعمال ہو تو علماءعقیدہ کے ہاں اس سے شرک اکبر مراد ہوتا ہے۔ لفظ کفر کا معاملہ بھی ہوبہو ایسا ہے۔
یہی معاملہ ’ظلم‘ اور ’فسق‘ کا ہے۔ گو ’شرک‘ اور ’کفر‘ کے برعکس مطلق سیاق میں آئیں تو ’ظلم اصغر‘ اور ’فسق اصغر‘ مراد ہوتا ہے مگر کسی وقت ان الفاظ کا ایک وسیع تر مطلب بھی مراد ہو سکتا ہے جس کی رو سے یہ اصغر اور اکبر دونوں کو شامل ہو۔
یہ بہرحال یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔
خُلق کا ایک وسیع مطلب ہے جس میں انسان کے سب ظاہری وباطنی اعمال آجاتے ہیں اور ایک اس کا محدود مطلب جس میں انسان کا ”لوگوں کے ساتھ پیش آنا“ اور ”مخلوق کے ساتھ برتاؤ کرنا“ آتا ہے۔ مذکورۃ الصدر روایت میں یہ دونوں مفہوم بیک وقت مراد نظر آتے ہیں جس کے قرائن روایت کے الفاظ ہی سے واضح ہیں .... گو اس کا وسیع تر مفہوم کا تاثر یہاں اغلب ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کا المومنون کی پہلی پانچ یا دس آیات پڑھ کر رسول اللہ r کے خلق کی نشاندہی کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے، ان آیات میں سب سے پہلے ایمان آتا ہے پھر نماز کا خشوع، پھر لغو سے اعراض، پھر زکوٰۃ کا فعل، پھر عفت کی حفاظت، پھر امانت اور ذمہ داری کا پاس۔ پھر ایفائے عہد اور پھر نماز کی رکھوالی۔
مزید برآں، قرآن ہی کا رسول اللہ r کی پسند وناپسند اور آپ کا ذوق بن جانا بھی ’خلق‘ کی اسی وسیع تر جہت پر دلالت کرتا ہے۔
پھر اُم المومنین رضی اللہ تعالی عنہ سورہ القلم کی آیت وانک لعلی خلق عظیم کا حوالہ دیتی ہیں .... اس کے تحت بھی مفسرین نے ’خُلق‘ کے مخصوص تر مفہوم سے پہلے اس کا وسیع تر مفہوم ہی بیان کیا ہے۔ مثلاً ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ آیت کی ابتدا یہاں سے کرتے ہیں:
”عوفی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں وانک لعلی خلق عظیم (سے مراد ہے) آپ ایک عظیم الشان دین (طرز زندگی وبندگی) پر ہیں، جو کہ اسلام ہے۔ ایسا ہی قول مجاہد، ابو مالک، سدی اور ربیع بن انس کا ہے اور یہی قول ضحاک اور ابن زید کا ہے“۔ (1)
(1 دیکھیے تفسیر ابن کثیر (بہ ذیل سورہ القلم آیت 4)
اس کے بعد ابن کثیر دیگر اقوال سلف بیان کرتے ہیں جن میں ”خُلق‘ کا مخصوص تر مفہوم بھی وضاحت سے مذکور ہوا ہے۔ پھر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا والی مذکورۃ الصدر حدیث اور کچھ دیگر احادیث لائے ہیں۔ آخر میں بھی ابن کثیر اپنی تعلیق دیتے ہیں:
”قرآن کا، اس کے تمام تر امر ونہی سمیت ایک بے ساختہ اظہار بن جانا آپ کیلئے طبیعت اور مزاج کا درجہ اختیار کرگیا اور انسانی امور جبلت تو آپ کی سیرت میں متروک ہی ہو کر رہ گئے تھے۔ پس قرآن کا جو کوئی تقاضا تھا آپ سے آپ وہ آپ کا عمل تھا اور قرآن جس بات سے روکے وہ آپ کے ہاں متروک۔ یہ آپ کی ان عظیم طبعی صفات پر مستزاد تھا جو خدا نے آپ کو ویسے ہی وافر بخش رکھی تھیں۔ یعنی آپ کی طبعی عفت، حیا، سخاوت، دلیری، عفو ودرگزر، بردباری اور ہر اچھا انسانی وصف“۔
طبری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، ابن زید رحمۃ اللہ علیہ اور ضحاک رحمۃ اللہ علیہ سے ’خُلق‘ کا مطلب ’دین‘ بیان کیا ہے۔
قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: لغت میں خُلق کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خود پر کوئی خاص طرز عمل یا اسلوب و رویہ حاوی کرلے۔ یوں کہ وہ طرز عمل وہ رویہ بالآخر اس کا اسی طرح حصہ بن جائے جیسے کہ اس کی پیدائشی ساخت۔
قرطبی کا، اس آیت کے ضمن میں، ایک اور حوالہ بھی لائق توجہ ہے: جنید رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: ”رسول اللہ r کے ’خُلق‘ کو ’عظیم‘ کہا گیا ہے اس لئے کہ آپ کا عزم وحوصلہ ’خدا‘ سے کم کسی منزل پہ قناعت نہ کرتا تھا“۔
×××××××××××××××××××
سچ یہ ہے کہ عربی ایک بے انتہاءخوبصورت زبان ہے۔ ’خَلق‘ اور ’خُلق‘ انسان کے وجود کی دراصل دو جہتیں ہیں۔ اول الذکر ’تخلیق‘ اور ’پیدائش‘ کیلئے مستعمل ہے اور ثانی الذکر ’سیرت‘ اور ’کردار وعمل‘ کیلئے۔(1) جذر دونو ں کا ایک ہے۔ خَلق (خ کی زبر کے ساتھ) سے مراد ہے انسان کا چہرہ مہرہ، ڈیل ڈول، شکل وشباہت اور نقوش وغیرہ (مضغۃ مخلقۃ وغیر مخلقۃ الحج: 5) اور خُلق سے مراد وہ اسلوب اور انداز اور طریق تعامل ہے جو انسان اپنی مرضی اور اختیار سے اپنے لئے زندگی میں اپناتا ہے۔ یعنی ایک اس کی جسمانی زندگی ہے تو ایک اس کی معنوی زندگی۔ اول الذکر اگر وہ چیز ہے جو انسان کے اندر خدا ’پیدا‘ کرتا ہے اور اس کا ’پیدا‘ کرنا خدا کے ہی اختیار میں ہے تو ثانی الذکر وہ چیز ہے جو انسان اپنے اندر آپ ’پیدا‘ کرتا ہے جس کے ’پیدا‘ کرنے اور ’صورت دینے‘ والا خدا ہے اور اس میں کسی پر کوئی ملامت ہے اور نہ سرزنش۔ کوئی گورا ہے یا کالا، لمبا ہے یا کوتاہ قامت، خوبصورت ہے یا بدصورت اس کا اپنا اس میں کوئی دخل ہی نہیں۔ البتہ دوسرے پہلو سے، اپنے آپ کو ’پیدا کرنے‘ اور ’صورت دینے‘ والا بڑی حد تک انسان خود ہے اور اس پر تحسین یا مذمت خود اسی کو جاتی ہے۔ یہ ہدایت وضلالت میں انتخاب کرنے کا میدان ہے اور ادب وتہذیب اختیار کرنے یا نہ کرنے کا۔
(1 دیکھیے لسان العرب (بہ ذیل خلق)
پس جس پہلو سے انسان اپنے آپ کو آپ ’بناتا‘ ہے اور ’بناتے‘ رہنے کی اس کے پاس زندگی زندگی گنجائش رہتی ہے خُلق کہلاتا ہے جس کی جمع اَخلاق (2)ہے۔ البتہ جس پہلو سے انسان دُنیا میں ’بنا بنایا‘ آتا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی لے آنے کی اس کے اپنے پاس کوئی گنجائش نہیں ہوتی خَلق کہلاتا ہے۔ دونوں کا مطلب ’ساخت‘ ہے مگر ایک مادی وجسمانی ہے تو ایک شعوری و روحانی۔ البتہ ’ساخت‘ کا تصور جب دنیوی اور اخروی جہتوں میں بڑھتا ہے تو اس کو کچھ اور ہی معانی مل جاتے ہیں۔
(2 الف کی زبر کے ساتھ۔ الف کی زیر کے ساتھ یہ جمع نہیں رہتا بلکہ باب افعال سے مصدر اخلاق بنتا ہے جو کہ بالکل ایک اور معنی رکھتا ہے یعنی کسی چیز کو برت کر پرانا اوربوسیدہ کرلینا۔
ایک مسنون دُعا میں یہ دونوں جہتیں آمنے سامنے لے آئی جاتی ہیں کیونکہ وہ ایک موقع ہی ’آمنے سامنے‘ کا ہوتا ہے ....
آدمی آئینے کے سامنے کھڑا ہو تو وہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب پوری کائنات سے نگاہ ہٹ کر اس کا اپنا سراپا ہی اس کے سامنے آجاتا ہے۔ آئینے کے روبرو کھڑا اپنی جسمانی صورت پر انسان کسی پہلو سے اتراتا ہے تو کسی پہلو سے کچھ ’حسرتیں‘ تازہ کرتا ہے۔ یہاں ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کے شعور کو حسن وبدصورتی کی ایک اور جہت سے بھی آشنا کرایا جائے۔ حسن وبدصورتی کی یہ وہ جہت ہے جس کے دیکھنے کو ’آئینہ‘ بھی کم ہی کہیں دُنیا میں میسر آتا ہے اور جو کہ ’انسان‘ کے پریشان ہونے کی اصل بات ہے کیونکہ یہ تصویر تو جو آئینے میں اب اس کے سامنے ہے اچھی یا بُری چند سالوںکے اندر اپنے سب ’نقوش‘ سمیت خاک میں دفن ہو جانے والی ہے جبکہ اس کی دوسری تصویر ایک ایسی امر صورت ہے کہ مٹی جس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور وہ اتنی اہم ہے کہ اس کو دیکھ کر ہی اس کو دارالمتقین میں جگہ ملنے والی ہے کہ جہاں ’بدصورتوں‘ کو پاس پھٹکنے تک نہ دیا جائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کو بنانے کیلئے ’برش‘ شروع زندگانی سے اس کے اپنے ہی ہاتھ میں رہا ہے اور اس کیلئے اصل طعنہ تو وہی کوڑھ پن اور وہی بدصورتی ہو سکتی ہے جو اس کی اپنی بنائی ہوئی اس تصویر میں پائی جائے اور جس پر جگ ہنسائی اس دن ہوگی جب سارا جگ اکٹھا ہوگا اور جب لوگوں کے خود اپنی ہی اختیار کی ہوئی ’صورتوں‘ پر مبنی ’نتیجے‘ نکلیں گے۔
اس چھوٹی سی وقتی سی مختصر دُنیا میں بھی .... ذرا تصور کیجئے اپنی شکل وصورت، رنگ وروپ، حلیہ اور قسمت ’بنانے‘ کا تمام تر اختیار اگر یہاں لوگوں کے اپنے ہی پاس ہوتا! خدایا!!! صورت کا نقص تب کتنا بڑا عیب کہلاتا! معیوب صورتوں کو ڈوب مرنے کا ہر طرف سے ’مشورہ‘ ملتا۔ ہر شخص سب سے پہلا کام شاید یہ کرتا کہ اپنی صورت کا وہ بھدا پن جس پر وہ آئینے کے سامنے اپنے سراپے کے ساتھ گھنٹوں ’مفاہمت‘ کرتا ہے ایک لمحے سے پہلے اتار پھینکتا اور دُنیا یہاں ایک ایسا ’مقابلہ حسن‘ دیکھتی کہ اس کا تصور بھی ویسے محال ہے۔ ابھی جب لوگوں کا اپنی جسمانی شکل وصورت اور قدوقامت پر ذرہ بھر اختیار نہیں اور سب ایک دوسرے کی یہ ’مجبوری‘ بخوبی سمجھتے ہیں لوگ ایک دوسرے کو بخش دینے پر بہت کم راضی ہوتے ہیں! اب بھی صورتحال یہ ہے کہ بہت سے مرد وخواتین جمالِ صورت کی پریشانی میں ہر وقت گھلے جاتے ہیں۔ رنگت میں معمولی ترین فرق لے آنے کیلئے ہزاروں پاپڑ بیل سکتے ہیں جبکہ ’آرزو وانتظار‘ کے یہ کل ’چار دن‘ ہیں .... وہ بھی ’اگر‘ ہیں ....
اب اگر انسان کو اپنی صورت آپ بنانے کا اختیار ہو جائے اور وہ بھی ایک دائمی جہان میں اور خلد کی زندگی میں جہاں ’آرزو‘ نہ ’انتظار‘ .... وہاں بدصورت پھرنے کا روادار پھر کون ہو؟ لیکن ادھر اس علیم اور حکیم کو دیکھئے .... ہمیشگی کے جہان کی بات آتی ہے تو ’قلم وقرطاس‘ انسان کے اپنے ہی ہاتھ میں تھما دیتا ہے کہ لو آپ اپنی شکل تجویز کر لو اور اپنی دائمی صورت کی نقشہ گیری یہیں دارِ عمل سے کرجاؤ۔
’اپنی صورت پر بھلا کس کو اختیار؟‘ یہ بے بسی بس اسی جہان محدود کا واقعہ ہے اگلے جہان کا تو اصل چیلنج ہی یہ ہے کہ وہاں ہر کسی کو اس کی اپنی ہی تجویز کردہ صورت وہئیت ملنے والی ہے! خدایا خیر!!
پس یہ ’مقابلہ حسن‘ تو یہاں بالفعل اس وقت ہو رہا ہے اور پورے زور وشور سے منعقد ہے مگر وائے حسرت، حُسن کا کوئی جتنا بڑا پجاری وہ یہاں اتنی ہی بڑی مات کھا کر جاتا ہے۔ پر جو یہاں آکر سب سے پہلے حسن کے خالق کا ہی پتہ دریافت کرے اور حسن کی بجائے حسن کو وجود دینے والے کی ہی پوجا کرکے جائے اس کو پھر خالق بھی ملتا ہے اور حسن بھی۔ یہ وہ خوش بخت ہے جو اس معبود کو ہی ہدیہ تحسین پیش کر لینے کا سلیقہ اور برتہ رکھتا ہے جس نے ہستی میں نہ صرف حسن پیدا کیا بلکہ انسان کو اس حسن کے سراہ لینے کا ملکہ بھی ودیعت کیا۔ یہ جب اس ذات کو سجدہ کر لیتا ہے اور اسی کی پاکی اور تسبیح کو اس اعزاز کے بعد پھر کیا کمی!!؟
للذین اَحسنوا الحسنی وزیادہ ولا یرھق وجوھم قترولا ذلۃ اولئک اصحاب الجنۃ ھم فیہا خالدون۔ والذین کسبوا السیئات جزاءسیئۃ بمثلہا وترھقہم ذلۃ مالہم من اﷲ من عاصم کانما اغشیت وجوھہم قطعا من اللیل مظلما اولئک اَصحاب النار ھم فیہا خالدون (یونس: 26)
”جن لوگوں نے یہاں (سوچ اور کردار کا) حُسن پیدا کرلیا ان کا بدلہ بھی کیا ہی حسین ہے اور ’وہ‘ بھی جو اس سے بڑھ کر ہے۔ ان کی صورتوں پہ کالک آئے گی اور نہ ان پر ذلت برسے گی۔ وہ بہشت کے مکین ہیں کہ جہاں وہ جاوداں ہو رہنے والے ہیں۔
”پر وہ جن کی کمائی پر برائیاں اور بدکاریاں رہیں، سو جیسی ان کی برائی ویسا ان کا بدلہ۔ ان پر ذلت ہی ذلت برسے گی۔ کوئی ان کو خدا سے بچا کر نہ دے گا۔ ان کی صورتیں کیا ہوں گی گویا رات کے سیاہ پردے اوپر سے اوپر اُن پر تان دیے گئے۔ یہ دوزخ کے اصحاب ہیں جہاں سے کبھی ان کی جان نہ چھوٹے“۔
یہ ہے خَلق اور خُلق میں جزا از جنس عمل۔ جس چیز کو ’ساری عمر‘ مانگا اسی سے ’ساری عمر‘ محروم رہنے کا عذاب .... سوائے ان کے جن کا معبود سچا تھا!!! کیا کوئی حسن کے پجاریوں کو بتا سکے گا!!؟
یہ ہے ’خَلق‘ اور ’خُلق‘ میں بیک وقت وہ لفظی اور معنوی مناسبت جو شاید عربی زبان میں ہی ادا ہو سکتی تھی۔
اللھم حسَّنت خَلق فحسِّن خُلقی (1)
(1 مسند ابی یعلی: مسند عبداﷲ بن مسعود حدیث نمبر 5075، صحیح ابن حبان کتاب الرقائق، باب الادعیہ 9359، والبہیقی فی شعب الایمان عن عائشہ: اللہم احسنت خلقی فاحسن خلقی: 8543
”خدایا! جس طرح تو نے مجھے صورت کا حسن دیا ویسے ہی مجھے سیرت کا حسن دے“۔
×××××××××××××××××
اسلامی عقیدہ، جو کہ بعثت انبیاءکے مقصد سے آشنائی پانے کا نام ہے اور وجود میں خدائی منصوبہ کے رازوں سے آگاہی پا لینے کا، جب اختیار کیا جاتا ہے تو وہ انسان کے ایک نئے جنم کا اعلان ہوتا ہے۔
کذلک الایمان اذا خالطت بشاشتہ القلوب
یہ کوئی ’اعمال‘ کے ڈھیر لگا دینے کا پروگرام نہیں ہوتا۔ یہ ’ورد‘ اور ’وظیفوں‘ کی ریاضت نہیں۔ ایمان کوئی ’تنظیمی‘ عمل نہیں۔ یہ کوئی ’مناظرانہ‘ سرگرمی نہیں۔ ’دلائل‘ لاکھڑے کرنے کا نام نہیں۔ ’علمی نکتے‘ بیان کرنے کرانے کا شغل نہیں۔ ’ایمان‘ ایک حُسن ہے جو نفس میں عقیدہ کے حقائق جاگزیں ہو جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ خدا کی صفات سے لو پانے کا ایک فطری انعکاس ہے۔ خدا کی تعظیم وتکبیر اور تسبیح وتمجید اور توحید وتقدیس کا وہ نبوی سلیقہ ہے جو انسان کی ہستی کو ملائکہ سے ایک نسبت دے جاتا ہے۔ خدا کے ماسوا ہستیوں کی بڑائی اور پرستش سے بے زار ہو جانے کی وہ پاکیزگی ہے اور اس کامل بے عیب ذات کو تنہا مقصود اور یکتا معبود بنا لینے کی وہ لطافت جو انسان کو ملی ہے تو پھر اس کے وجود میں ہر پہلو سے بولتی ہے اور یہ تو معلوم ہے کہ انسانی وجود کرہءارض پر ہزارہا پہلوؤں سے اپنا پتہ دیتا اور اپنے آثار چھوڑتا ہے۔ باطن کی خوبی ظاہر میں بھی آپ سے آپ جھلکتی ہے۔ یہاں تک کہ افکار واعمال، طرز بودوباش اور اسلوب تعامل ہر ہر معاملہ میں ___ زندگی کے سب ہنگاموں میں شریک رہتے ہوئے اور یہاں کی سب ناہمواریوں سے گزرتے ہوئے بھی ___ اس کی ذات حسن اور پاکیزگی کی ہی آماجگاہ رہتی ہے۔ یہ اپنے نفس کے شر سے خدا کی پناہ میں آتا ہے تو ماحول کی آلائش سے صاف ہونے کی بھی سعی کرتا ہے۔ نماز کے عمل سے گزر کر اپنا آپ اجلا کرتا ہے۔ زکوٰۃ کی راہ سے نفس کی میل اتارتا ہے۔ استغفار سے اپنا باطن دھوتا ہے۔ دُعا اور ذکر سے اس کو نکھارتا ہے اور سنوارتا ہے۔ صداقت سے اپنی خوبی اور اچھائی بڑھاتا ہے.... اس کا ایک امتحان البتہ یہ بھی ہے کہ یہ زمین کی خارجی خوبصورتی میں کتنا اضافہ کرکے آتا ہے۔ یعنی ’اخلاق‘ اور ’تہذیب‘ کی راہ سے یہ اپنے آپ کا کیسا ’اظہار‘ کرتا ہے اور گرد وپیش کے ساتھ کیونکر پیش آتا ہے۔
’ایمان‘ خدا سے ملنے کی ایک تیاری ہے جس میں آدمی کو سماج کے عین بیچ سے گزارا جانا ہوتا ہے ورنہ محض ’مراسم بندگی‘ کی اگر بات ہو تو یہ امتحان ’عالم ارواح‘ میں یا کسی اور جہان میں بھی ہو جاتا! کئی کروڑ اسی جیسے انسانوں سے بس اس دُنیا میں لاکر ہی اس سے یہ امتحان لیا جانا یہی معنی رکھتا ہے کہ اس امتحان کے نقشے کی ابتداء’بندے اور خدا‘ کے اس تعلق میں کئی اور جہتیں بھی مختلف حیثیتوں میں کارفرما ہوں اور یہ کہ ان سب جہتوں سے ہی اور ان سب حیثیتوں میں ہی انسان برابر حُسن اور اجالا کرتا جائے۔
انا جعلنا ما علی الارض زینۃً لہا لنبلوھم ایہم احسن عملاً۔ وانا لجاعلون ما علیھا صعیداً جرزاً (الکہف: 7، 8)
”روئے زمین پر جو کچھ ہے اسے ہم نے زمین کی رونق بنایا ہے اس لئے کہ اس کو ہم لوگوں کی آزمائش بنا ڈالیں کہ کون سب سے بڑھ کر عمل میں حسن پیدا کر پاتا ہے۔ پھر آخرکار اس سب کو ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں“۔
ماحول میں ’انسان‘ کی روشنی ہونا بھی پس اس امتحان کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس روشنی کو پھوٹنا تو ’درون‘ سے ہے مگر ’نمودار‘ ہوکر رہنا ہے۔
’ایمان‘ ایک ایسی قندیل ہے جس میں آگ اندر جلتی ہے تو روشنی باہر ہر طرف ہونے لگتی ہے کمشکوٰۃ فیھا مصباح نہ آگ بجھے اور نہ روشنی چھپے۔ یکاد زیتھا یضیءولولم تمسسہ نار انسان کی فطرت میں خدا نے دراصل ایک جوہر رکھ چھوڑا ہے جس کو علم نبوت کے لمس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر یہ وہ روشنی کرتا ہے کہ آسمان تک جائے اور زمین تو اس سے خوب ہی روشن ہو۔ شرط یہ ہے کہ نہ یہ انسانی جوہر کسی وقت مسخ ہو اور نہ نبوت سے لیا جانے والا علم شوائب زدہ۔ یہدی اﷲ لِنورہ من یَشاءواﷲ بکل شیءعلیم
×××××××××××
چنانچہ خُلق اپنے وسیع معنی میں ایک عقیدہ کا ہی انسان کی سیرت اور کردار اور سلوک میں جھلکنا ہے .... اچھے معنی میں ہو یا بُرے معنی میں۔
’عقیدہ سے فکر اور ثقافت تک‘ کے عنوان کے تحت اس سے پہلے ہم عقیدہ کی فکری جانب پر کچھ روشنی ڈال آئے ہیں۔ اس سے پہلے کے بعض مضامین میں ’عقیدہ‘ کے بعض قلبی، شعوری اور وجدانی جوانب پر کچھ بات کر آئے ہیں۔ خدا کے ہاں سے نازل ہونے والی اس حقیقت، اس روح اور اس نور کے انسان کی دُنیا میں رونما ہونے کی ایک جہت اب یہ ہے جو کہ خُلق، سیرت، کردار، رویہ، اسلوب، اطوار، تعامل اور سلوک کہلاتی ہے۔ ’عقیدہ‘ کو ایمان بننے کیلئے یہ سب جہتیں درکار رہتی ہیں۔ ان سب پہلوؤں سے ہی ’عمل‘ اور ’باعث عمل‘ کی درستی ہو جائے تو اس دین کو دُنیا میں اس کا ایک مطلوبہ انسان لے کر دیا جا سکتا ہے۔
جہاں تک اس عقیدہ کے سماج اور معاشرے میں اتر آنے کی بات ہے .... تو ’عقیدہ‘ ایک بار جب شعور اور وجدان میں ’ایمان‘ بن کر موجزن ہو جاتا ہے تو ایک طرف پھر وہ ’فکر‘ کے راستے ’ثقافت‘ میں ڈھلتا ہے تو دوسری طرف ’سیرت‘ اور ’کردار‘ اور ’اخلاق‘ کے راستے ’تہذیب‘ میں۔ کسی دور میں اسلامی ثقافت اور تہذیب کا صحیح معنوں کے اندر وجود میں آنا (نہ کہ ورثے کی صورت محض ’اوراق‘ کے اندر محفوظ رہنا) پس کلیتاً اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ اسلامی عقیدہ کو فکر اور اخلاق کی ’زبان‘ ملے۔ ’اسلامی تہذیب‘ کے کسی دور میں پنپنے اور دُنیا کے اندر نشوونما پانے کے فکرمندوں کو ہمیشہ اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ یہ عقیدہ فکر اور اخلاق کے راستے اپنے عہد اور زمانے کے ساتھ کہاں تک اور کس سطح کے مکالمہ اورمعاملہ کر پایا ہے اور یہ کہ ’ماحول‘ اور ’سماج‘ میں ’عقیدہ‘ کے شہود میں آنے کو اس دور کی ’مسلم عقل‘ اور ’مسلم کردار‘ کہاں تک ایک موثر ذریعہ medium بن پائے؟
یہ چیز اصل ہے۔ اس کے عمل میں آنے کو درحقیقت ایک بڑا ہی جہاد درکار ہوتا ہے۔ جہاد دراصل اسی کے ہی راستے میں ہوتا ہے یعنی ’عقیدہ‘ کا نفس اورمعاشرے کے اندر پیر رکھوانے اور پیر جمانے کی راہ میں۔
اس لحاظ سے ’جہاد‘، ’عقیدہ‘ کے ساتھ ہی وجود میں آتا ہے کیونکہ عقیدہ کو ’نفس‘ میں جیت دلوانے کیلئے نفس کے خلاف جہاد درکار ہوتا ہے اور ’دُنیا‘ میں جیت دلوانے کیلئے ’دُنیا‘ کے ساتھ .... جبکہ شیطان کے ساتھ واسطہ یہاں بھی پڑا رہتا ہے اور وہاں بھی۔ مگر یہ اس لحاظ سے عقیدہ سے متاخر ہے کہ سب سے پہلے عقیدہ کو ہی اپنی تمام تر جہتوں سے روپذیر اور پھر رونما ہونا ہوتا ہے۔ جہاد کو اسے صرف راستہ دلوانا ہوتا ہے نفس میں بھی اور معاشرے میں بھی۔ اس لحاظ سے جہاد کو عقیدہ کا ’راستہ‘ بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عقیدہ کے ظہور پذیر ہونے کا ’راستہ‘ انسانی فکر وشعور ہے یا پھر انسانی سیرت وکردار اور پھر فکر اور سیرت کے جملہ انسانی مظاہر۔ جس کے بعض مراحل میں اس عقیدہ کو سماجی رحجانات اور جتماعی نشاط کے سب یا بیشتر مظاہر پر بھی تسلط حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ تمام تر راستہ چلنا البتہ اپنے عمومی معنی میں ’جہاد‘ کہلاتا ہے۔
اس باب میں الفاظ اور پیرائے اہم نہیں۔ نہ یہ ہمارا یہاں مقصد ہے۔ کلمات اور تعبیرات کا اختلاف اس معاملہ میں ضرر رساں نہیں اور اس کی پوری پوری گنجائش ہے۔ لہٰذا ’الفاظ‘ اور ’تعریفات‘ کی حد تک دقت نظری سے لکھنا اس وقت ہمارے پیش نظر نہیں۔ البتہ یہ نہایت ضروری ہے کہ یہ عقیدہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہی نہیں راستے medium اور غایت scope کے اعتبار سے بھی پوری طرح واضح ہو جائے۔ اس پہلو سے ’دعوت‘ بذات خود کوئی منہج نہیں۔ خود ’دعوت‘ کا کوئی منہج ہونا چاہیے۔ یہی معاملہ تبلیغ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، قِتال وغیرہ کا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چیز بذات خود ’راستہ‘ ہو سکتی ہے اور نہ ’غایت‘۔ یہ سب چیزیں دراصل معاشرے کے اندر محنت اور کوشش اور جدوجہد کی صورتیں ہیں۔ ’دعوت‘ کی بابت دیکھنے کی اصل چیز تو دعوت کا ’مضمون‘ (Content) ہے کہ وہ کس پائے کا ہے اور کس قدر زرخیز وتوانا rich ہے اور یہ کہ کہاں تک وہ عقیدہ کے حقائق کا شعوری، واقعاتی، اخلاقی اور تہذیبی وسماجی ترجمہ ہے۔ پھر یہ تو سب سے آخر میں دیکھا جائے گا کہ وہ (دعوت) کن منا بر سے forom میں دی گئی، آیا جرائد ومجلات، یا ٹی وی اور ریڈیو، یا مساجد کے اجتماعات و خطبات، یا تعلیمی ادارے اور سیمینار، یا گلیوں بازاروں اور سڑکوں پارکوں کے اکٹھ یا میدان ہائے کارزار سے نشتر ہونے والے پیغام .... جن میں سے ہر ایک کی اپنی اہمیت ہو سکتی ہے اور کوئی بھی فورم شاید نظر انداز ہونے کے قابل نہیں البتہ یہ واضح ہونا سب سے ضروری ہے کہ دعوت کا مضمون ایک چیز ہے (اور سب سے اہم ہے) پھر انسانی تلقی human reception کے کن کن جوانب کو اس کی زد میں لانے کا اس میں انتظام ہے، ایک دوسری چیز اور پھر اس کے لئے کون کون سے منبر (1) استعمال ہو رہے ہیں اور پھر یہ کہ اس پر میری اور آپ کی کس قدر محنت ہو رہی ہے (یا بالکل نہیں ہو رہی!؟) ایک تیسری چیز۔
(1 یہ لفظ ہم اکثر استعمال کریں گے۔ غلط العوام میں اس کو انگریزی کے لفظ ممبر کے ساتھ خلط کر دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے رکن۔ یہ البتہ عربی کا لفظ ہے میم کی پوری زیر اور نون کے ساتھ منبر جس کا مطلب ہے آواز اٹھانے کا ذریعہ یا ٹھکانہ، نبرۃ عربی میں صدا یا لہجے کیلئے مستعمل ہے۔
××××××××××××××
علم اخلاق کی ’تفصیلات‘ اس وقت ہمارا موضوع نہیں البتہ اس کے شمول اور وسعت کی جانب اشارہ کر دینا ضرور ہمارے پیش نظر ہے۔
’اخلاق‘ کی بابت ہمارے نصابوں میں بے شک ایک تلقین پائی جاتی ہے۔ بلکہ ہر ملک کے نصاب میں پائی جاتی ہے اور بلاشبہ انبیاءکی چھوڑی ہوئی تعلیم کے ساتھ خال خال کہیں اس کا ایک اشتراک بھی ہوسکتا ہے مگر ان دونوں کے اصل مضمون content اور پھر اس تک پہنچنے کی جہت aproach میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ذرائع ابلاغ کے ’روحانی صفحات‘ اور ’مذہبی نشریات‘ کا معاملہ بھی ان جاہلی نصابوں سے کچھ مختلف نہیں .... بلکہ کچھ زیادہ ہی بُرا ہے۔
البتہ زیادہ پریشان کن بات ہماری اپنی مساجد اور منابر سے نشر ہونے والے پیغام کی ہے جس میں کبھی ’اخلاق‘ کی تعلیم ہو بھی تو وہ زیادہ تر ’میل جول‘ اور ’تعلقات‘ کے معاملے میں ایک ’شریف‘ اور ’بھلا مانس‘ آدمی بن کر رہنے سے بڑھ کر کسی خاص مضمون پر مشتمل نہیں ہوتی۔
’اخلاق‘ کا جو تصور البتہ ہمیں ’اصول سنت‘ میں ملتا ہے اس کا دائرہ بے حد وسیع ہے البتہ اس کی اصل بنیاد، جس میں یہ سب جاہلی نصابوں اور مناہج سے متمیز ٹھہرتا ہے ’تہذیب نفس‘ ہے۔ علوم سلف میں یہ موضوع شاید سب سے زیادہ جگہ گھیرتا ہے۔
’تہذیب‘ کی اس ’سلفی‘ بنیاد کے واضح نہ ہونے کے باعث ہی لوگ شاید اس امر کی طرف توجہ نہیں دے پاتے کہ کیوں ہر بڑا محدث اور مولف اپنے ترکہ میں عموماً ایک عدد کتاب الزھد، چھوڑ کر جانے کی تسلی کرتا رہا ہے اس نام سے گو زیادہ مشہور عبداللہ بن المبارک، احمد بن حنبل، بیہقی، ابن ابی عاصم، وکیع، ابو حاتم، الرازی، احمد بن بشر اور ابن تیمیہ کی تالیفیات رہی ہیں مگر اس عنوان سے بے شمار ائمہ نے کوئی نہ کوئی علمی یادگار چھوڑی ہے۔ حدیث کی بیشتر کتب مانند کتب ستہ ودیگر کی ہر تصنیف میں آپ کتاب الزہد یا کتاب الادب وغیرہ نام سے ابواب کا ایک پورا مجموعہ دیکھتے ہیں۔ امام بخاری ”الادب المفرد“ کے عنوان سے الگ ”جزئ“ تالیف کرتے ہیں .... وجہ یہی ہے کہ ’تہذیب نفس‘ اہلسنت کے خاص امتیازات اور خصائص میں شمار ہوتی ہے۔ قرون اولی کا مسلمان یونہی اقوام عالم کا امام نہیں ہو گیا تھا۔
آئیے ذرا ایک نظر صحیح مسلم کے چند پاروں (کتب) کے سارے نہیں چیدہ چیدہ ابواب کے صرف عناوین پر ہی ڈالیں اور دیکھیں کہ ہماری دولت مندی کا اندازہ دُنیا کا کوئی نصاب ساز کیونکر کر سکتا ہے۔ یہ محض اس ’گردوں‘ کی ایک تصویر دیکھنے کی کوشش ہے نہ کہ تفاصیل میں جانے کا بیان!
کتاب الزہد والرقائق:
.... اس بات کا بیان کہ: ظلم کرکے تباہ ہو جانے والوں کی بستیوں سے مت گزرو سوائے یہ کہ تم وہاں سے گزرتے وقت گریہ زار ہو۔
.... بیوہ، مسکین اور یتیم کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان۔
.... اس شخص کا بیان جو اپنے عمل (کے مقصود) میں خدا کے غیر کو شریک کر بیٹھے۔
.... اس حقیقت کا بیان کہ کسی وقت کوئی ایک کلمہ بول لینے سے بھی آدمی جہنم میں جا پڑتا ہے۔
.... اس شخص کی سزا جو بھلائی کا حکم دے مگر خود اس پر عمل پیرا نہ ہو یا جو بُرائی سے روکے اور خود اس کا مرتکب ہو۔
.... خدا نے آدمی کا پردہ رکھ لیا ہے تو اس کو چاک کر دینے کی ممانعت۔
.... چھینک لینے والے کو پرمسرت کلمات کہنا اور ’جمائی‘ لینے کی کراہت۔
.... مومن ایک بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔
.... مومن ہر حال میں ہی خوب رہتا ہے۔
.... کسی کی حد سے بڑھ کر تعریف کرنے سے، جبکہ اس کے فتنہ میں پڑ جانے کا ڈر ہو، ممانعت۔
.... چیز پیش کرتے وقت بڑے کو چھوٹے کی نسبت مقدم رکھنے کا بیان۔
کتاب البر والصلۃ والآداب:
.... والدین کے ساتھ صلہ رحمی اور خدمت کو نفلی نماز وغیرہ پر مقدم رکھنے کا بیان۔
.... اس آدمی کی خدمت جو ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کو پالے اور پھر اس کی خدمت کرکے جنت نہ لے۔
.... اس بات کی خوبی کا بیان کہ آدمی ماں باپ کے دوستوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرے۔
.... صلہ رحمی کی فضیلت اور قطع رحمی کی حرمت۔
.... ایک دوسرے سے حسد کرنے، بغض رکھنے اور تعلق قطع کر لینے کی حرمت۔
.... بلاشرعی عذر تین روز سے زیادہ تعلق توڑ رکھنے کو حرام ثابت کرنے کا بیان۔
.... اس بات کے حرام ہونے کا بیان کہ آدمی بدگمانی کرے یا جاسوسی یا نقصان پہنچانے کی غرض سے دوسرے کو پیچھے کرے یا اس کی بولی پر چڑھ کر بولی دے وغیرہ وغیرہ۔
.... مسلمان پر ظلم کرنے یا اس کو بے یارومددگار چھوڑ دینے یا اسے یا اس کی جان یا اس کے مال یا اس کی آبرو کو حقیر جاننے کی حرمت۔
.... مریض کی تیمارداری کو خوب جاننے کا بیان۔
.... گالی گلوچ کی ممانعت۔
.... معاف کر دینے اور تواضع اختیار کر رکھنے کا استحباب۔
.... چغلی کو حرام جاننے کا بیان۔
.... جس آدمی کی بدزبانی سے لوگ بچ کر رہتے ہوں اس کے ساتھ لحاظ سے رہ لینے کا جواز!
.... نرم خوئی کو اچھا جاننے کا بیان۔
.... جانور کو گالی اور لعن طعن کرنے سے ممانعت!
.... دوغلے آدمی کو کریہہ اور اس کے فعل کو حرام جاننے کا بیان۔
.... لگائی بجھائی کو حرام سمجھنے کا بیان۔
.... جھوٹ کا قبیح ہونا اور سچ کا خوب ہونا۔
.... اس آدمی کی فضیلت جو طیش میں خود پر قابو رکھے اور اس بات کا بیان کہ طیش کو کیونکر وضع کیا جائے۔
.... چہرے پرمارنے کی ممانعت۔
.... اس آدمی کیلئے شدید ترین وعید جو کسی کو ناحق سزا دے۔
.... مسجد، بازار یا کسی ایسی جگہ پر کسی کو اسلحے کے ساتھ دیکھے تو اسے کیسے سمجھائے۔
.... مسلمان کی جانب اسلحہ سے اشارہ کر دینے تک کی ممانعت!
.... راستے سے اذیت دور کرنے کی فضیلت۔
.... بلی یا کسی غیر موذی جانور کو اذیت دینے کی حرمت۔
.... کسی انسان کو خدا کی رحمت سے مایوسی میں ڈال دینے سے ممانعت!
.... کمزوروں اور ناتوانوں کو افضل جاننے کا بیان!
.... پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کیا جانے کی تاکید۔
.... خندہ پیشانی سے ملنے کا استحباب۔
.... معاملہ ناجائز نہ ہو تو (حقدار ضرورتمند کیلئے) سفارش کر دینے کا استحباب۔
.... اچھے لوگوں کی ہمنشینی اختیار کرنے اور بُروں کی صحبت سے دُور رہنے کا استحباب۔
.... بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت۔
کتاب الآداب:
.... اس بات کی کراہت کہ بچے کا نام رکھتے وقت بُرے لفظ کا انتخاب کیا جائے۔
.... نومولود کو گھٹی دینے کیلئے کسی نیک شخص کے پاس اٹھا کر لے جانے کا استحباب۔
.... اس بات کا جواز اور استحباب کہ آدمی کسی دوسرے کے بچے کو بھی ازراہ شفقت ’بیٹا‘ کہہ لیا کرے!
.... اجازت لینے کا بیان۔
.... کسی دوسرے کے گھر پہ نظر ڈالنے کی حرمت۔
.... اچانک نظر پڑ جانے کا بیان!
کتاب السلام:
.... سوار کا پیدل کو سلام کہنا اور تھوڑوں کا زیادہ کو۔
.... چھوٹے بچوں کوسلام کہنے کا استحباب۔
.... غیر عورت کے ساتھ خلوت میں پائے جانے کی حرمت۔
.... اس آدمی کیلئے کیا کہنا مستحب ہے جو کسی عورت کے ساتھ کہیں خلوت میں پایا جائے جبکہ وہ اس کی اپنی بیوی ہو!
.... اس بات کا بیان کہ آدمی مجلس میں جگہ خالی پائے تو وہاں بیٹھے ورنہ پیچھے جا کر بیٹھے!
.... کسی پہلے سے بیٹھے آدمی کو اس کی مجاز جگہ سے اٹھا کر بیٹھنے کی حرمت۔
.... اس بات کا بیان کہ کوئی شخص مجلس سے نکل کر واپس آئے تو اپنی پہلے والی جگہ پر بیٹھنے کا اسی کو سب سے بڑھ کر حق ہے۔
.... راستے میں کسی غیر عورت کو تھکاوٹ سے چور دیکھے تو اس کو سواری پر پیچھے جگہ دے دینے کا جواز۔
.... دو آدمیوں کا تیسرے کو اکیلا چھوڑکر، بغیر اس کی رضامندی، آپس میں سرگوشی کرنے کی ممانعت۔
کتب الاشربہ:
.... اس بات کا استحباب کہ گٹھلی کھجوروں کے طشت میں ہی نہ رکھ دی جائے! اور اس بات کا استحباب کہ مہمان (اختتام طعام پر) میزبان کیلئے دُعائیہ کلمات کہے! اور اس بات کا استحباب کہ مہمان کوئی نیک آدمی ہو تو گھر والے اس سے دُعا کی درخواست کریں اور یہ کہ وہ ان کی درخواست قبول کرلے!
.... اکٹھے کھا رہے ہوں تو ایک ساتھ دو کھجوریں یا دو لقمے اٹھا لینے کی ممانعت!
.... لہسن کھانے کا جواز اور یہ کہ جس کو معزز لوگوں کے ساتھ شریک گفتگو ہونا ہو وہ البتہ اس کو کھانے سے پرہیز کرے۔
.... مہمان کے اکرام اور اس کو اپنے پر مقدم رکھنے کا بیان۔
.... تھوڑے کھانے میں دوسروں کو شریک کر لینے کی فضیلت اور یہ کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کو کفایت کرتا ہے!
.... مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں بھرتا ہے!
.... کھانے میں عیب نہ نکالنے کا بیان۔
.... برتن کے اندر سانس لینے کی کراہت اور اس بات کا استحباب کہ آدمی مشروب کی تین سانسیں کرے!
.... کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے، برتن صاف کرنے اور گرا ہوا لقمہ بھی اٹھا کر کھا لینے کا استحباب۔
.... مہمان کے ساتھ کوئی بن بلایا دوست ہو تو وہ کیا کرے اور اس بات کا استحاب کہ وہ میزبان سے اپنے ساتھی کیلئے اجازت لے۔
کتاب اللباس والزینۃ:
.... خوردونوش کیلئے سونے چاندی کے ظروف زیراستعمال لانے کی حرمت۔
.... ضرورت سے زائد بستر اور لباس وغیرہ رکھنے کی کراہت۔
.... اپنی پوشاک پر اترانے اور ٹھاٹھ سے چلنے کی حرمت۔
.... جوتے وغیرہ پہن کر رکھنے کا استحباب۔
.... جوتا پہنتے وقت دایاں پیر پہلے اور اتارتے وقت بایاں پہلے کا استحباب۔
.... جانور کو منہ پر مارنے کی ممانعت (1) جانور کو منہ پر داغنے کی ممانعت۔
(1 وہ والدین اور ’اساتذہ‘ توجہ کریں جو اپنی ’اولاد‘ کومارنے کیلئے سب سے ’آرام دہ‘ جگہ اپنے ’نونہال‘ کا ’چہرہ‘ پاتے ہیں!
.... آدھا سر منڈوانے کی کراہت۔
.... گلیوں میں بیٹھک جمانے کی ممانعت اور (اگر بیٹھیں تو) راستے کو اس کا حق دینے کی تاکید!
.... ایسا لباس پہننے کی ممانعت جس سے آدمی لوگوں کو اپنی حیثیت کی بابت دھوکا دے لے اور اس بات کی ممانعت کہ آدمی اپنے آپ کو اپنی اوقات سے بڑھ کر ظاہر کرے۔
××××××××××××××××
شہزادوں کو بھی کبھی کسی نے اس طریقے سے پروٹوکول نہ سکھائے ہوں گے؟
یہ ’نقطے‘ محض ایک ’تصویر‘ بنانے کیلئے ہیں اور یہ صرف حدیث کی ایک ہی کتاب کے چند پاروں سے لئے گئے ہیں۔ ’خلق‘ چونکہ انسانی وجود کی لافانی اور جاودانی جہت ہے اور یہ انسان کی وہ اخروی ’شکل وشباہت‘ ہے جس پر اپنے حسن پہ ستائش پانا بھی اس کا حق بنتا ہے اور اپنی بدشکلی پر مذمت بھی.... دیکھیے رسول اللہ تہجد کے ابتدائیہ میں کیونکر اور کس طرح خوبصورت تمہید کے ساتھ لب پہ یہ دُعا لاتے ہیں:
عن علی بن ابی طالب عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم انہ کان اذا قام الی الصلاۃ قال:
”انِیّ وجھت وجھی للذی فطر السماوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین انَّ صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی ﷲ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا من المسلمین اللھم انت الملک لا الہ الا انت انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی واعترفت بذنبی فاغفرلی ذنوبی جمیعاً انہ لا یغفر الذنوب الاّ انت واھدنی لاحسن الاخلاق لا یھدیٰ باَحسنھا الا انت واصرف عنی سئیھا لا یصرف عنی سئیھا الا انت لبیک وسعدیک والخیر کلہ فی یدیک والشر لیس الیک انا بک والیک تبارکت وتعالیت استغفرک واتوب الیک“ (صحیح مسلم: کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا باب الدعاءفی صلاۃ اللیل وقیامہ، حدیث: 1290)
علی رضی اللہ تعالی عنہ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ رات کو قیام میں کھڑے ہوئے تو گویا ہوئے:
”میں نے اپنا رخ سارے کا سارا پھیر دیا اس ذات کی سمت جس نے وجود دیا آسمانوں کو اور زمین کو ___ اسی کی طرف یکسو ہو کر ___ اور میں ہرگز مشرکوں میں سے نہیں۔ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اورمیرا مرنا درحقیقت اللہ رب العالمین کیلئے ہے کہ (اس میں) کوئی اس کا شریک نہیں۔ میں مامور ہوں اس بات کا اور میں ہوا سر خم کر دینے والوں میں۔ خدایا تو بادشاہ، نہیں لائق بندگی کوئی سوائے تیرے۔ تو میرا مالک پروردگار ہے تیرابندہ غلام۔ مجھ سے ہی ظلم ہوا ہے اپنی جان پر۔ میں نے اپنا قصور مانا۔ پس بخش دے مجھے میرے سارے کے سارے قصور۔ کوئی نہیں جو قصور معاف کرے ایک تیرے سوا۔ مجھے اعلیٰ ترین خوبیوں سے متصف کر کوئی نہیں جو اعلیٰ خوبیاں بخش دے سوائے تیرے۔ معیوب خصلتیں مجھ سے دور کردے کوئی نہیں جو معیوب خصلتوں سے جان چھڑا دے سوائے تیرے۔ لبیک وسعدیک۔ بھلائی ساری کی ساری تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ شر کو نسبت تجھ سے نہیں۔ میں تیرے سہارے ہوں اور تیری ہی جانب یک رخ۔ تو بابرکت۔ تو بلند وبالا۔ تجھ ہی سے بخشش کا سوالی ہوں اور تیرے ہی در کا تائب“۔
××××××××××××
ہمارے ایک مخصوص طبقے کے ہاں یہ تاثر بہت عام ہے کہ ’صحیح راستے‘ اور ’حق‘ پر پائے جانے کیلئے کسی جماعت کا اصل امتیاز بس ’عقیدہ‘ ہونا چاہیے۔ اس اپروچ کی سطحیت حد سے زیادہ ہے اور عموماً یہ اپروچ موقف بیان کرتے رہنے، سے بڑھ کر کسی سمت نہیں جاتی۔
اس سے بڑی زیادتی البتہ یہ ہے کہ آدمی رسولوں کی بابت بھی قریب قریب کچھ ایسا ہی گمان رکھے۔ گویا رسولوں کی عوامی سرگرمی بھی اگر کوئی تھی تو وہ اپنے موقف کی ’وضاحتیں‘ کرنا تھا اور کچھ ’عقائد‘ اور ’اعمال‘ کی تصحیح کرا دینا!
انبیاءخدا کے ہاں سے جس ’حقیقت‘، جس ’روح‘ اور جس ’نور‘ کو لے آکر آتے تھے وہ ایک بڑی ہی ہمہ جہت چیز تھی۔ اس کو تصور میں لانے کیلئے سطحیت سے نکل آنا اور اپنے پیشگی مقدمات اور گروہی تاثرات سے آزاد ہو لینا اس ’حقیقت‘، اس ’روح‘ اور اس ’نور‘ کا اپنا ہی حق ہے۔
چنانچہ انبیاءسے انسانوں کو جو روشنی ملتی تھی وہ بے شمار جہتوں میں انسانی تلقی کی دنیا میں بیک وقت بڑھتی اور پھیلتی تھی۔ ان کے ایک ہی جملے میں عقیدہ، ایمان، عبادت، شریعت، تہذیب، اخلاق، فہم، فکر، علم، عقل، تاریخ، معاشرہ، سماج، شعور، آگہی، عمل، جہاد، دُنیا، آخرت.... نہ جانے کیا کیا جہتیں بول رہی ہوتی تھیں۔ ان پر تو ایک نگاہ ڈال لینے سے ہی ان کے ساتھ تو چند گھڑیاں گزار لینے سے ہی.... ان کو تو چلتے ہوئے ایک نظر دیکھ لینے سے ہی آدمی کے ’تصورات‘ سرتاپیر بدل جاتے تھے۔ اور یہ بات محض ہم ’صوفیانہ‘ اور ’تبرکانہ‘ انداز میں نہیں کررہے.... حقیقتاً ’تبدیلی‘ کی ایسی ایسی جہتیں اور ایسے دور رس پیغام ان کی نگاہوں سے اور حتی کہ ان کی سکوت سے نشتر ہوتے تھے کہ آدمی دم بخود رہ جائے۔
یہ ایک بے انتہا اہم مقدمہ ہے جو کتب اور روایات کی وساطت، علم نبوت سے فیضاب ہونے کیلئے پیش نظر رہنا ضروری ہے۔ اس کا روپوش ہونا ہی اس سطحیت کا پیش خیمہ ہے جس کا ہمارا آج کا تحریکی اور دعوتی عمل عموماً شکار ہے۔
’فہم کے ابتدائی مرحلے ہمارا آج کا تحریکی اور دعوتی ذہن بے انتہا تیزی کے ساتھ پھلانگ جاتا ہے اور پھر ’کرنے کا کام‘ مانگتا ہے جو کہ ان بنیادوں کو یوں ’کود کر‘ گزر جانے کے باعث دیا بھی نہیں جا سکتا سوائے یہ کہ وہ ’کرنے کا کام‘ تو ہو مگر کہیں ’پہنچنے‘ کا کام نہ رہے!
نبوت سے لی جانے والی نصوص ’کارِ انبیائ‘ کی بابت دراصل ایک پوری ’تصویر‘ بنانے کیلئے ہیں۔ اس تصویر کا کم از کم ایک ہیولیٰ بھی ذہن میں بن گیا ہو تو پھر ہر نص اس تصویر کی ایک پختہ اور باقاعدہ جہت بن جاتی ہے اور یوں ’ایمان‘ اور ’عمل‘ کی یہ تصویر انسان کے پردہء تصور پر واضح بھی ہوتی جاتی ہے اور گہری بھی۔ اس کا مقدمہ البتہ وہی پیشگی تصور ہے جو انسان کو نبوت سے ملنے والے ’علم‘ اور ’نور‘ کی بابت رکھنا ہوتا ہے۔ تب انسان ورثہ نبوت میں وہ کچھ پڑھتا ہے جس کی طرف ویسے اس کی نگاہ نہ جا پاتی۔
چنانچہ یہ سوال کہ رسول اللہ r کے پیش نظر کام اور مشن کیا تھا، اگر آج کے عمومی تحریکی ذہن کو سامنے رکھ کر اس کا جواب ڈھونڈیں توبے حد سطحی نتائج دیکھ سکتے ہیں۔
”رسول اللہ r نے مکہ میں دعوت دی، مدینہ میں جہاد کیا، بات ختم .... اس سے بڑھ کر ’پتہ کرنے‘ کی اس میں کیا بات ہے“؟!
مکہ میں جہاد کیوں نہ کیا؟ ”طاقت نہیں تھی“!! یعنی ’طاقت‘ ہوتی تو وہاں بھی ’جہاد‘ ہی ہوتا اور ’دعوت‘ زیادہ سے زیادہ ’الٹی میٹم‘ کی ہم معنی ہوتی!؟ کیا ’دعوت‘ کی اس سے علاوہ کچھ اور جہت بھی ہے؟ اور کیا جہاد کی اس سے بڑھ کر کچھ اور اہمیت بھی ہے؟
”رسول اللہ r نے مکہ میں اسلامی حکومت کا نقشہ پیش کیا اس کی تیاری اور اس کے لئے مواقع کی تلاش میں لگے رہے، مدینہ میں اس کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو گئے“!
یعنی ’مکہ‘ میں ’مدینہ‘ کے ہی تمام تر نقشے بنتے رہے ’مکہ‘ کا اپنا کیا واقعتا کوئی ’نقشہ‘ نہیں!؟؟ ’مکہ‘ میں جو ہوا اس کی مستقل بالذات کوئی حیثیت نہیں!؟
غرض کتب سیرت اور ’ذخیرہء نصوص‘ سے خواہ وہ کوئی سی بھی ہو، تیزی کے ساتھ گزر جانا اور ’عمل‘ کی بھی اس میں ایک سطحی اور گروہی سی ہی صورت بنا سکنا، چاہے اس پر عملدرآمد کرنے اور کروانے میں کتنی بھی سنجیدگی بلکہ سختی ہو .... اور یوں دین کے کسی بہت چھوٹے سے جزو کو کل سے بھی بڑا کر دینا.... ایک ناکافی نظر سے دیکھی اور سمجھی جانے والی چیز کو حرف آخر اور دین کی کلی تفسیر کا درجہ دے لینا اور اسی کو صلائے عام کا موضوع بنانا ہماری دعوتی دُنیا کا ایک عام مظہر ہے۔
ابھی ’تکفیر حکام‘ اور ’مخالفت ِنظام‘ ایک پوری دعوت ہے!
’خلافت‘ ایک پوری (full fledge) دعوت ہے!
بعض فرقوں اور جماعتوں کا تعاقب ’عمل‘کا ایک جامع پرگرام ہے!
دین کا ابھی کتنا کچھ اور پڑا ہے جس کی بنیاد پر ’دعوتیں‘ کھڑی کی جاسکتی ہیں؟! یہ عمل اگر ’تقسیم شعبہ جات‘ کے طور پر ہو، جیسا کہ اس سے پہلے اپنے ایک مضمون میں ہم کہہ آئے ہیں تو باعث حرج نہیں۔ تب یہ ایک دوسرے کو مکمل کرنے کیلئے ہوں نہ کہ ایک دوسرے کو ’نامکمل‘ ثابت کرنے کیلئے۔ مگر یہ سب کچھ تو دین کی ایک ’باقاعدہ‘ اور ’مکمل‘ تفسیر کی کوشش کے طور پر ہو رہا ہے، جو کہ ایک توجہ طلب امر ہے۔
اہلسنت کے ’اصول‘ اور ’خصائص‘ کا استعیاب کرانا ہمارے تحریکی عمل کی ایک بڑی ضرورت ہے۔
××××××××××××××
’علم‘، ’فہم‘ اور ’فکر‘ کے ساتھ ساتھ ’سلوک‘، ’طرز عمل‘ اور ’شخصیت‘ وہ دوسری بڑی جہت ہے جو ’صحیح راستے‘ اور ’حق‘ پر پائے جانے والے لوگوں کو دُنیا میں اپنا ظہور کرنے کیلئے درکار ہوتی ہے اور اہم بات یہ کہ یہ بھی ”امتیاز“ کے طور پر ہی درکار ہوتی ہے.... اور یہ آخری بات حد درجہ غور طلب ہے۔
یہ دُنیا کچھ یوں بنائی گئی ہے کہ ہر طبقہ اور ہر فرد یہاں محض اپنے ’تخصص‘ اور اپنی ’استناد‘ credentials سے ہی نہیں پہچانا جاتا بلکہ توقع یہ بھی کی جاتی ہے کہ اس کا وہ ’تخصص‘ اور اس کی ’اسناد‘ اس کے لہجے اور اسلوب میں ہی بونے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ خاص طبقے اپنے سلوکی خصائص، کو اپنے اندر باقی رکھنے اور اپنی آئندہ نسلوں کو منتقل کرنے کا خاص انتظام کرتے ہیں۔
شاہی خاندان کے بچوں کو اپنی نشست وبرخاست میں ایک خاص اسلوب رکھنے کی تربیت دینے پر اتالیق مقرر ہوتے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ ایک ’شہزادہ‘ بے سروسامانی کی حالت میں بھی دیکھنے کے انداز سے ہی پہچان میں آجائے اور یہ کہ وہ خاموش بھی ہو تو اس کی ایک خاص شان ہو اور اس میں ایک خاص اعتماد اور ایک بڑائی پائی جائے۔
’بڑے خاندانوں‘ کے بچے اپنے اسلوب اور انداز سے پہچان لئے جاتے ہیں۔
ای

بےباک
12-31-2010, 08:58 AM
واہ گلاب خان ، زندگی گزارنے کے سب ہی بہترین اصول ایک ہی مضمون میں پیش کر دیے ، میں اس کو مکمل تو نہیں پڑھ سکا ،
مگر اس کے اہم عنوان دیکھے اور اس کو پڑھا ، اور اس کی گہرائی محسوس بھی کی ، کہ اسلام کتنا ہی مہربان مذھب ھے اور دین فطرت ہے ،
اے اللہ تعالی ہمیں مسلمان ہونے پر فخر ہے اور ہمیں مسلمان ہی مرنا نصیب ھو ،