PDA

View Full Version : ہدایت نامہ



گلاب خان
11-26-2010, 08:23 PM
(1) اپنی نئی ذمہ داریوں کی تفصیلات معلوم کر لیجئے۔ کیا کرنا ہے ؟ کہاں جاناہے؟ دعوت کا کام اجرت پر ہے یا رضاکارانہ ؟ کیا تنخواہ ہوگی ؟ اس میں قیام وطعام شامل ہے یا نہیں ؟ ( ملازمت کے آغاز میں داعی /استاذ/موذن/امام ‘ مروت میں مذکورہ تفصیلات معلوم نہیں کرتے جس کے نتیجہ میں بعد میں باہم مناقشہ شروع ہوجاتاہے۔ اور دونوں فریقوںکو نقصان اٹھانا پڑتاہے۔)
(2) جس علاقہ، گاﺅں یا حلقہ میںجارہے ہوں وہاںکے لوگوں پر بوجھ مت بنئے ۔” اپنی مدد آپ “ پر عمل کیجئے۔
(3) احباب کے ساتھ دعوت وتبلیغ کے لےے جارہے ہوں تو کسی کو امیر سفر مقرر فرمالیجئے اور اس کی اطاعت کیجئے۔
(4) باہمی اخوت کا مظاہرہ کیجئے۔ دعوت کی راہ میں یہ مضبوط ہتھیار ہے۔ طنزیہ اور سوقیانہ الفاظ سے گریز کیجئے ۔
(5) اپنے اندر تفاہم کی خوبی پیدا کیجئے ۔ تفاہم کے معنی ہیں کہ داعی اپنے احباب ورفقاءکو اپنی ہمدردی ،خیر خواہی اور تعاون کا یقین دلاوے۔ اس کے احباب ورفقاءاس کی جانب سے امن وامان ،اور اطمینان وسکون محسوس کریں۔ بسا اوقات انسان اپنی پریشانیاںدوست سے بیان کرکے دل کا بوجھ ہلکا کر سکتاہے۔ جس سے اس کے دل کو سکون حاصل ہوتاہے۔ اس گہرے تعلق کا نام تفاہم ہے۔
(6) آپس میں تکافل ( ایک دوسرے کی خبر گیری) کا معاملہ کیجئے۔
(7) دوران سفر یا دوران قیام جسمانی مشقت اور ذہنی کوفت جیسے مسائل سے سابقہ پڑ سکتا ہے۔ ذہنی طور پر تیار رہےے۔ بسا اوقات ہوائی جہاز ،ٹرین یا بس کے انتظار میںوقت برباد ہوتاہے ۔ اپنے ساتھ مطالعہ کے لےے ایک دو کتابیں رکھےے یا کوئی نئی زبان سیکھنے کی کتاب ساتھ رکھےے۔ ان اوقات میں لکھنے پڑھنے کا فائدہ حاصل کیا جاسکتاہے۔
(8) سفر کی ضروری معلومات ،مسافت ، مقام دعوت تک پہنچنے کے لےے ٹرین،بس یا رکشا کی ضروری معلومات حاصل کرلیجئے۔
(9) جس شہر یا قصبہ میں آپ وارد ہورہے ہیںیا جہاں سے آپ کا گذر ہورہاہے۔ وہاں کے احباب کے پتے اور ٹیلی فون نمبر اپنے پاس رکھےے، ہوائی اڈہ،اسٹیشن یا بس اڈہ سے بھائیوں سے فون پر رابطہ کرلینا یا ان سے ملاقات کرنا دعوتی سفر کا اضافی فائدہ ہوگا ۔
(10) جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ یا بیماری کی حالت میں تقریر کرنے یا قومی مسائل پر بحث کرنے سے پرہیز کیجئے ۔ آپ اسلام کو بہتر ڈھنگ سے نہیں پیش کر پائیںگے۔ اس سلسلہ میں انور سادات کا واقعہ پیش کرنا مناسب معلوم ہوتاہے :
” امریکی اخبارات نے ایک بار صدر سادات اور بیگن کے سفر امریکہ کے درمیان فرق پر لکھا کہ بیگن امریکہ پہنچ کر ایک دن مکمل آرام کرتاہے۔ پھر اگلے دن یہودی آبادیوںکے سرداروںسے ملتاہے اور تیسرے دن امریکی صدر سے ملاقات کرتاہے۔ لیکن صدر سادات جو امریکیوں کے تئیں احساس کمتری میں مبتلا رہتے ہیں۔ تھکے ہارے بیمار بن کر امریکہ پہنچتے ہیں اور اس کے باوجود وہاں پہنچتے ہی دو گھنٹے کے اندر امریکی صدر سے ملاقات کرلیتے ہیں ۔ امت کے مسائل پر بات چیت کرتے ہیں ۔ فرق تو یہاں احساس بر تری اور احساس کمتری کا ہے۔“
(10) لوگوںکے ساتھ نرمی اور شیریں کلامی سے پیش آئيے۔ جذباتی اور کرخت اسلوب سے پرہیز کیجئے۔
(10) اپنے عنوان یا مضمون پر مہارت حاصل کیجئے۔
(10) آپسی اختلافات سے بچئے۔ احباب کے درمیان رائے مخالف کا احترام کرنا ضروری ہے۔ اس سے باہمی تعاون اور اتباع حق کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ صرف اپنے نقطئہ نظر کو حق وباطل کا پیمانہ ثابت نہ کیجئے۔
(10) بُرے لوگوںکی صحبت سے اجتناب کیجئے۔ کیوںکہ یہ چیزداعی کے کردار کو متاثر کرتی ہے ۔
(10) ایسے کھانوںسے پرہیز کیجئے جن کے بارے میں شبہ ہو کہ اس کے حصول میں ناجائز کمائی کی آمیزش ہوسکتی ہے۔
(10) بدبودار جسم اور بدبودار لباس سے اجتناب کیجئے۔
(10) عوام کو ایسے مسائل نہ بتائےے جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہوں۔ ورنہ وہ فتنہ میں پڑ جائیںگے۔
(10) اپنے نفس کی خبر گیری کرتے رہيے ۔
خود احتسابی کا چارٹ برائے دعاة
تزکیہ نفس کے حوالے سے اپنا رجحان معلوم کیجئے :
· کیا آپ نے اپنی زندگی کے لےے کوئی واضح مقصد متعین کیا ہے ؟
· کیا اس مقصد کے حصول کے لےے مناسب عملی اقدامات کی ترجیحی فہرست موجود ہے ؟
· کیا عام حالات میں معمولات کے لےے وقت کا تعین ہے ؟
· کیا آپ کی ساری نمازیں مسجد میں باجماعت ادا ہوتی ہیں ؟
· کیا آپ کو جماعت چھوٹ جانے پر افسوس ہوتاہے ؟
· کیا آپ روزانہ اذکار مسنونہ کا اہتمام کرتے ہیں ؟
· کیا تلاوت قرآن آپ کے روزانہ کے معمولات میں شامل ہے ؟
· کیا آپ حفظ قرآن کا بھی اہتمام کررہے ہیں ؟
· كیا آپ حدیث اور مسنون دعاﺅںکے یاد کرنے کا رجحان رکھتے ہیں ؟
· کیا آپ کو سیرت رسول ا اور سیرت صحابہ کے مطالعہ کا شوق ہے ؟
· کیا دینی کتابوں کا آپ با ضابطہ مطالعہ کرتے ہیں ؟
· کیا وقت کی پابندی آپ کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہے ؟
· کیا ایک دن میں چھ یا سات گھنٹے کی استراحت آپ کے ليے کافی ہوتی ہے ؟
· کیا آپ اپنے اندر اپنے نقائص کو صبر کے ساتھ سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں ؟
· کیا ہر حال میں اور ہر مقام پر دعوت آپ کی فطرت سلیمہ بن چکی ہے ؟
· اپنے مقصد زندگی کے لےے کیا آپ ہر قسم کا ایثار پیش کر سکتے ہیں ؟
· کیا آپ کو روزنامچہ لکھنے کی عادت ہے ؟
· کیا رات کو سونے سے پہلے اس دن کے تمام کاموں کا اجمالی جائزہ لینا آپ کے معمولات میں شامل ہے ؟
· کیا آپ دعا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ؟
· کیا آپ نے اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی( استغفار ) مانگ لی ہے ؟
· کیا آپ عادات سیئہ،غیبت اور جھوٹ وغیرہ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ؟
نوٹ : کم از کم بارہ جوابات کا ” ہاں“ میں ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آپ تزکیہ نفس کی شاہراہ پر گامزن ہیں، بصورت دیگر غفلت سے نجات کی فکر کریں ۔

تانیہ
12-15-2010, 09:35 PM
تھینکس فار شیئرنگ