PDA

View Full Version : مختصر تعارف



نازک حسین
12-29-2010, 01:44 PM
بال جبریل ( مختصر تعارف)

یہ ہمارے شاعر مشرق علامہ اقبال کی ایک کتاب کا نام ہے جو بانگ درا کے تقریبا 12 سال بعد جنوری 1935ء میں طبع ہوئی- اس میں وہ اردو کلام شامل ہے جو علامہ اقبال نے بانگ درا کی تکمیل سے بال جبریل کی اشاعت تک کہا تھا-
اس کا پہلا حصہ غزلیات پر مشتمل ہے - دوسرے حصے میں نظمیں شامل ہیں- دونوں حصے اقبال کی شاعری فن کے اعتبار سے بے حد اہم ہیں- حصہ غزل میں پہلی سولہ (16) غزلیں بقیہ غزلوں سے الگ درج کی گئی ہیں اس کا سبب یہ بیان کیا جاتاہے کہ یہ زیادہ تر بعد الطبیعاتی موضو عات پر محیط ہیں- یعنی خدا، کائنات اور انسان کے تعلق کو واضح کرتی ہیں- اس کے بعد حکیم سنائی (فارسی شاعر) کی زمین میں ایک قصیدہ نما غزل ہے اور پھر غزلیات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے- وہ تمام موضوعات جن کا ذکر بہت کثرت سے آتا ہے ان میں خودی ، عشق ، کشمکش حیات ، فقر ، وجدان اور عقل کا تقابل ، اصل اسلام کی طرف واپسی یا دوسرے لفظوں میں ان تمام عناصر کا اسلام سے اخراج جو مسلمانوں نے غیر مذاہب سے لے کر اسلام میں داخل کر لیے ہیں ان کے علاوہ صوفی و ملا کی بے عملی ، مغرب کے مشرق پر ہلاکت خیز اثرات ، مغربی تعلیم کے نقصانات وغیرہ کو بھی بار بار بڑے زور دار اشعار میں بیان کیا گیا ہے.
بال جبریل کی غزلیات اردو غزل کی پوری تاریخ میں ایک نئی آواز ہیں- ان کے انداز بیان میں ایسی جدتیں ہیں جو ان سے پہلے کی غزلیات میں نہیں ہیں- گویا اقبال نے غزل کا باطن بھی تبدیل کر دیا ہے اور ظاہر بھی- اس کی چند مثالیں یہ ہیں

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں
نہ گلہ ہے دوستوں کا نہ شکایت زمانہ

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی نہ خوش
میں زہر ہلا ہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

کرتی ہے ملوکیت آثار جنوں پیدا
اللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا چنگیز

تو عرب ہو عجم تیرا لا الہ الا
لغت غریب جب تک تیرا دل نہ دے گواہی

بال جبریل کا دوسرا حصہ جن میں اکثر نظمیں مختصر ہیں مگر تین طویل نظمیں بھی اس میں شامل ہیں جن میں سے ہر ایک کے بارے میں مختلف نقاد یہ آرا رکھتے ہیں کہ یہ علامہ اقبال کی بہترین نظم ہے-
ذوق و شوق ، مسجد قرطبہ اور ساقی نامہ ایسے عظیم کارنامے ہیں جن پر کوئی بڑی سے بڑی ترقی یافتہ زبان بھی فخر کر سکتی ہے- ذوق و شوق ایک لا جواب نعتیہ نظم ہے - مسجد قرطبہ اور ساقی نامہ میں علامہ اقبال کے تمام نظریات کا خلاصہ موجود ہے -
تینوں نظموں کا خلوص ، انداز بیان اور موضوع کی ہم آہنگی اور زور بیان ایسا ہے کہ بہت کم یکجا ہو جاتا ہے پھر نظموں کا ربط و تسلسل دیدنی ہے -
مختصر نظموں میں طارق کی دعا ، الارض اللہ ، لالہ صحرا ، زمانہ شاہین وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں - بال جبریل کے آخر میں چند نظمیں ایسی بھی ہیں جن میں خیالات کا اظہار براہ راست طریقے سے کیا گیا ہے - مثلا آزادی افکار ، یورپ ، سینما ، فقر وغیرہ -
[/font]

علی عمران
12-29-2010, 02:19 PM
واہ بہت خوب نازک حسین جی..............