PDA

View Full Version : اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناوں



سرحدی
01-01-2011, 11:50 AM
معاشرہ کی بدحالی کے بارے میں جناب امیر الاسلام ہاشمی کے قلم سے ۔۔۔ سینہ فگاروں کے لئے

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

دہقاں تو مرکھپ گیا اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشہء گندم کہ جلاؤں
شاہیں کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہر ایک آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر ؟
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوق یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

شاہیں کا جہاں آج کرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملا سے، مجاہد کی اذاں ہے ؟
مانا کہ ستاروں سے آگے ہیں جہاں* اور
شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

مرمر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے ، لیکن
دیکھو تو کہیں نام کا کردار نہیں ہے
اقبال تیری دیس کا کیا حال سناؤں

بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے
اس بندہء مومن کو اب لاؤں کہاں سے
وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو
اک بار تھا ہم چھُٹ گئے اس بارِ گراں سے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نصب کے
اگتے ہیں تہہ سایہء گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی
اِس کے گلِ خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

محمودوں کی صف، آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے، سلطانی جمہور ڈرے ہیں
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا
مرمر کے جیے ہے کبھی جی جی کے مرے ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

دیکھو تو ذرا محلوں کے پردوں کو اٹھا کر
شمشیر وسناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سو گئی طاؤس پہ آ کر
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

کردار کا، گفتار کا، اعمال کا، مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن، کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں، قرآن کا مومن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
۔۔۔۔ امیر الاسلام ہاشمی