PDA

View Full Version : اپنے اندر چھپے یورینیم کو دریافت کریں



گلاب خان
11-26-2010, 08:45 PM
کیا آپ جانتے ہیں کہ یورینیم کے ایک ذرہ کے پھٹنے سے 10کروڑ وولٹ (Volt ) کی طاقت حاصل ہو تی ہے؟چٹکی بھر مادے میں اتنی قوت پوشیدہ ہے کہ اس سے ایک ریل گاڑی پوری دنیا کے چکر کاٹ سکتی ہے۔جو کام آج کئی لاکھ ٹن کوئلے سے لیا جا تا ہے وہ صرف ایک پونڈ یو رینیم سے ممکن ہے۔مثلاً ایٹمی طا قت سے چلنے والا ایک سمندری جہاز ممبئی سے روانہ ہوتو وہ ساری دنیا کا چکر کاٹ کے واپس آسکتا ہے ۔ راستے میں اسے کہیں بھی ایندھن Fuel) (لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
یو رینیم قوت کا ایسا اتھاہ خزانہ ہے ،جو انسان کو بجلی کوئلے اور تیل سے بے نیاز کر کے نہایت سستے داموں سارے کام انجام دینے کے قابل بنا سکتا ہے۔ اور اسی یورینیم کے استعمال سے دنیا کو تباہ و برباد بھی کیا جا سکتا ہے۔ جس کی مثال ہیروشیما اور ناگا ساکی، کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جس سے آج کا تقریباًہر پڑھا لکھا انسان واقف ہے ۔جس بات سے عام طور پر لوگ واقف نہیں ہیں وہ خودان کے اندر چھپی یو رینیم سے بڑی طاقت ہے ۔ انسانی زندگی میں ایک چیز ایسی ہے جو یو رینیم سے زیادہ طاقتور ہے۔ ہر انسان اپنے اندر قوت کا اتھاہ خزانہ لیئے پھر رہا ہے ۔وہ اتھاہ خزانہ کیا ہے؟وہ اتھاہ خزانہ انسان کا دماغ(Mind (ہے۔
دماغ کیا ہے ؟ دماغ قوت کا اتھاہ خزانہ ہے۔ اسی دماغ کے ذریعہ انسانی تہذیب صحراﺅں سے نکل کر سائنس اور ٹکنا لوجی کی دنیا میں پہنچی ہے۔ اسی دماغ کے ذریعہ یو رینیم کی دریافت ہو سکی ہے۔ اسی دماغ کا استعمال کر کے انسان چاند اور ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے۔اسی دماغ کے ذریعہ سمندر اور پہاڑوںکو قابو میں کیا گیا ہے۔اسی دماغ سے آدمی یہ جانتا ہے کہ اس کے لئے اچھا کیا ہے اور برا کیاہے۔اسی دماغ کے ذریعہ وہ کسی سے محبت کرنا سیکھتا ہے اور کسی سے نفرت کرنا۔اسی دماغ کے ذریعہ انسان کسی چیز کو جانتا اور پڑھتا ہے اور کسی چیز کو یاد کرتا ہے اور اسے بھلا دیتا ہے۔ اسی دماغ کے ذریعہ انسان اپنے خیالات کا اظہار کرپا تا ہے۔ اسی دماغ کے ذریعہ کسی تہذیب کا عروج ہوتا ہے اور کوئی تہذیب نیست و نابود ہو کر رہ جا تی ہے۔
اگر انسانی زندگی سے دماغ کو نکال دیا جائے تو پھر وہ انسان نہیں رہ جاتا بلکہ وہ ایک چلتا پھرتا”انسانی ڈھانچہ“ بن جاتا ہے ۔ جو چلتا ہے، لیکن نہیں جانتا کہ وہ کیوں چل رہا ہے؟جو بولتا ہے لیکن نہیں جانتا ،کہ وہ کیوں بول رہا ہے!جو دیکھتا ہے ،لیکن نہیں جانتا کہ وہ کیوں دیکھ رہا ہے !جو لڑتا ہے لیکن نہیں جانتا کہ وہ کیوں لڑ رہا ہے ۔جو کھا تا ہے لیکن نہیں جانتا کہ وہ کیا کھا رہا ہے اور کیوں کھا رہا ہے۔اگر آپ انسانی زندگی سے دماغ کو نکال دیں تو انسان انسان نہیں رہے گا۔یہی وہ بات ہے جس کو ایک فرنچ فلاسفر ” رین ڈسکارتے“ (1596-1650) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔I think therefore I am} {میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں۔
میں ہوں اس لیے کہ میں سوچتا ہوں۔ یعنی اگر انسان نہ سوچے تو اس کا وجود ہی خطرے میں پڑجائے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سوچنے کا کام انسان کس چیز سے لیتا ہے؟ انسان ”دماغ “سے سوچتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ” میرے پاس دماغ ہے اس لئے میں ہوں“ (I have mind therefore i am)
اسی بات کو قرآن میں اس طرح سمجھا یا گیا ہے ” کیا سمجھ رکھنے والے ،اور نا سمجھ، دونوں برا بر ہو سکتے ہیں“۔
وہ سمجھ رکھنے والے لوگ کون ہیں؟بلا شبہ سمجھ وہی لوگ رکھتے ہیں جودماغ رکھتے ہیں ۔جو دماغ نہیں رکھتے وہ سمجھ بھی نہیں رکھتے ۔ سمجھ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے دماغ کو کام میں لائے ۔ وہ سوچے، سوچے، یہاں تک کہ باطل سے حق تک پہنچ جائے۔نہیں سے ہاں تک پہنچ جائے ،اندھیرے سے اجالے تک پہنچ جائے ۔منفی سے گزر کر مثبت کو پالے۔ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑ لے ۔اور یہ سب کام دماغ سے ہوگا۔ صرف دماغ سے!