PDA

View Full Version : پتہ کسی کو کب اپنا بتا کے چلتے ہیں وہ اب بھی نقشِ کفِ پا مِٹا کے چلتے ہیں



گلاب خان
01-04-2011, 10:12 PM
پتہ کسی کو کب اپنا بتا کے چلتے ہیں
وہ اب بھی نقشِ کفِ پا مِٹا کے چلتے ہیں

الجھتے رہتے تھے کانٹوں سے اک زمانے میں
گلوں سے آج وہ دامن بچا کے چلتے ہیں

ہم اہلِ دار کہ تم اہلِ دیر دیکھیں گے
چراغ سامنے لے کے ہوا کے چلتے ہیں

تمھارے چاہنے والے تمھارے دیوانے
کوئی بھی غم ہو ہنسی میں اُڑا کے چلتے ہیں

عجیب ہوتے ہیں اقبال حسن والے بھی
نظر جھکائے ادائیں دکھا کے چلتے ہیں

گلاب خان
01-04-2011, 10:17 PM
جواں دلوں کی محبت کا سلسلہ نہ رہا
گیا وہ روٹھ کے ایسا کہ رابطہ نہ رہا

مکاں سے میرے قدم لامکاں کی جانب تھے
میں وہ سفیر تھا جس کا کوئی پتا نہ رہا

بچھڑ کے اور بھی احساس قربتوں کا ہوا
ہوئے جدا بھی کچھ ایسے کہ فاصلہ نہ رہا

ہر ایک موڑ پہ گھیرا ہے منزلوں نے ہمیں
کسی طرف سے نکلنے کا راستہ نہ رہا

بس ایک تیرے تصور میں کھو گئیں آنکھیں
پھر اس کے بعد نگاہوں میں دوسرا نہ رہا

تیری تلاش نے انساں بنا دیا مجھ کو
بھلا ہوا کہ فرشتہ یا دیوتا نہ رہا

جہاں کے ظلم و ستم نے بنادیا پتھر
وہ دل جو آئینے جیسا تھا آئینہ نہ رہا

بلائیں کتنی بھی تھیں سب گزر گئیں ہم پر
ہمارے بعد زمانے میں حادثہ نہ رہا

مری وفا کا اثر ہے تمھاری محفل میں
وفا پرست ہیں سب کوئی بے وفا نہ رہا

سخن میں جب بھی نئی فکر لے کے ہم آئے
ہمارے جیسا کوئی ا شک پھر نیا نہ رہا

این اے ناصر
03-31-2012, 12:53 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ