PDA

View Full Version : مجھے کچھ اور چاہیے



گلاب خان
11-26-2010, 08:55 PM
وہ ایک بدوتھا۔جب اُس نے پیارے نبی ا کے با رے میں سنا کہ آپ دینِ حق کا پیغام لےکرآئے ہیں تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کی باتیں سنیں تو اپنے اسلام کا اعلان کیااور ساتھ میں آپ کی اطاعت کی بھی ہامی بھر لی۔اس کے بعد اس کا ہر قدم آپ کے نقشِ قدم پر ہی ہوتا تھا۔ یوں زندگی کے سفر میں آپ کے پیچھے پیچھے چلنے والا یہ شخص ایک دن آپ کے پاس آکر کہنے لگا ”آپ کے ساتھ میں بھی ہجرت کرنا چاہتا ہوں“ آپ نے اس کی خواہش پوری کردی اور اسے ہجرت کے لیے تیار کچھ دیگرافراد کے ساتھ روانہ کر دیا دن گذرتے گیے اور جب حق و باطل کی کشمکش‘ مڈ بھیڑ کی شکل اختیار کر گئی تو وہ بھی حق پرستی کی خاطر جان نچھاور کرنے والوں میں شامل ہوگیا ایک جنگ میں جس میں وہ بھی شریک تھا، آپ کے ہا تھ ڈھیر سارا مالِ غنیمت لگ گیا ۔ آپ نے اسے مجاہدین میں تقسیم کیا ،اُس کا حصہ بھی نکالا ، جب آپ کے آدمی اس کا حصہ اس تک پہنچانے گیے تو اس نے پوچھا” یہ کیا؟!“ جوا ب ملا ” تمہارا حصہ ہے ،اللہ کے رسول ا نے دیا ہے“ اُس نے تاخیر نہیں کی اور اس مال کو لےکر سیدھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھنے لگا ” اے اللہ کے پیغمبرا یہ آپ نے کیا بھیجا ہے؟“ آپ نے کہا ” میں نے بس مالِ غنیمت میں سے تیرا حصہ نکالا ہے“ اس نے حیران سی نظروں سے آپ کو دیکھا اور کہنے لگا ” اے ا للہ کے رسول ا میں نے آپ کے پیچھے چلنے کا فیصلہ اس کی خاطر نہیں کیا تھا بلکہ شروع ہی سے ایک ہی آرزو اپنے سینے میں لیے پھررہا ہوں کہ آپ کی پیروی کرتے کرتے ایک دن آئے گا ضرو ر جب دشمن کاتیر یہاں آلگے گا (اسنے انگلی اُٹھاکر گلے کی طرف اشارہ کیا) اور میں راہِ حق میں اپنی جان قربان کردوںگا اے خدا کے پیغمبر پھر میرے اور جنت کے بیچ کیا چیز حائل ہوسکتی ہے بس اُسی دن کی آرزو میں آپ کی بات مان کر میں چلا تھا جب اس نے اپنی بات ختم کی تو آپ نے فرمایا ”اگر تو خدا کے تئیں سچا ہے تو وہ تیری وفاداری کی لاج ضرور رکھے گا“ ایک مختصر وقفہ کے بعد جب پھر جنگ چھڑی تو وہ مارا گیا ساتھیوں نے لاش اُٹھا لائی تو دیکھا کہ تیر ٹھیک اُسی نشانے پر لگا تھا جہاں اس نے اشارہ کیا تھا جب اُسے آپ ا کے رو برو لایا گیا تو آپ نے پوچھا ” یہ وہی آدمی تو نہیں؟“ جواب ملا ”ہاں“ تو آپ نے فرمایا: خدا سے اس نے وفا کیا تو اس نے بھی اس کا بھرپور صلہ دیا“پھر آپ نے اپنے ہی لباسِ اطہر سے اس کو کفن دیا اور خود بڑھ کر نماز ِ جنازہ ادا کی اس نماز کی خاص بات یہ تھی کہ آ پ ا نے فرمایا” اے اللہ! یہ تیرا بندہ تیری راہ میں نکلا تو نکل ہی پڑا اور شہید ہوگیا اس بات پر میں خود گواہ ہوں “

تانیہ
12-15-2010, 09:33 PM
نائس...تھینکس