PDA

View Full Version : لانس نائیک محمد محفوظ شہید



علی عمران
01-07-2011, 05:36 PM
کھلا ہوا ہے میکدے کا باب ہر محاذ پر
شہادتوں کے جام پی تمیزِ بادہ خوار کر
وطن کی سر زمین سینچ اپنے خونِ سرخ سے
بہار چاہیے اگر بنائے لالہ زار کر
مجاہدوں کی صف میں آ اے صف شکن اے بُت شکن
دشمن کا ایک فوجی خاصا اچھا نشانہ باز تھا جو تاک تاک کر کھلے میدان میں پاک فوج کے جوانوں کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا رہا تھا۔ کتنے ہی جوانوں نے جب شہادت حاصل کر لی تو ایک پاکستانی فوجی سے اپنے جوانوں کی نفری میں واقع ہوتی ہوئی یہ کمی برداشت نہ ہوئی۔ اس نے قہر برساتی آنکھوں سے سامنے مورچے کو غور سے دیکھا اور ایک عزمِ صمیم کے ساتھ اس نے اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر قدم آگے بڑھائے تو دشمن فوجیوں نے اسے گولیوں کی باڑ پر رکھ لیا۔ گولیاں اس فوجی جوان کے جسم میں جا بجا پیوست ہو گئیں مگر اس کے بڑھتے ہوئے قدم نہ رکے بلکہ وہ مزید تیزی سے آگے بڑھا اور پھر ایک جست لگا کر دشمن کے گنر پر جا پڑا۔ عین اس وقت ایک گولی اس کا دل چیر کر نکل گئی مگر اس کے آہنی ہاتھ بھارتی گنر کی گردن دبوچ چکے تھے۔ پھر یہ ہاتھ اپنی گرفت کو سخت سے سخت تر کرتے چلے گئے اور جب ہاتھوں کی گرفت نرم پڑی تو دشمن کا گنر ہلاک ہو چکا تھا۔ اسی وقت حسبِ روایت مکار ہندو فوجیوں میں سے ایک نے پیچھے سے آ کر اس پر سنگین کا وار کیا اور اس کا بے جان جسم دشمن فوجی کے اوپر ڈھیر ہو گیا۔جذبہ شہادت سے سرشار یہ پاکستانی فوجی لانس نائیک محمد محفوظ شہید تھے جو معرکہ کنجری پل کے دوران بے پناہ شجاعت و دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
لانس نائیک محمد محفوظ شہید 25 اکتوبر 1948 کو پنڈ ملکاں میں پیدا ہوئے جس کا نام اب محمد محفوظ کے نام کی نسبت سے “بستی محفوظ“ کر دیا گیا ہے۔ پنڈ ملکاں جانے کے لئے لیاقت باغ راولپنڈی سے کہوٹہ جانا پڑتا ہے۔ کہوٹہ ضلع راولپنڈی کی تحصیل ہے اور تحصیل کا صدر مقام بھی۔ کہوٹہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ افواجِ پاکستان کے نامور جنرل ٹکا خان اسی مقام سے تعلق رکھتے ہیں۔ سواں کیمپ سے ذرا پہلے سڑک کے دائیں کنارے فوجی فاؤنڈیشن ہاسپٹل ہے یہیں سے ایک ذیلی سڑک کہوٹہ کی طرف جاتی ہے۔ راستے میں پولیس کا مرکزی ٹریننگ سنٹر سہالہ آتا ہے جس سے میجر جنرل خداداد کا تعلق ہے۔
لانس نائیک محمد محفوظ کے گاؤں ملکاں کی طرف جاتے ہوئے راستے میں دریائے سواں پڑتا ہے۔ تقریباََ آٹھ میل طویل یہ میدانی علاقہ بھمبر تراڑ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی علاقے میں پھروار کا عظیم قلعہ ہے جس کے آس پاس کے بے شمار گاؤں میں سے ایک پنڈ ملکاں بھی ہے۔
لانس نائیک محمد محفوظ شہید کے خاندان کے اکثر لوگ فوج میں تھے۔ ان کے دادا گلزار خاں فوج میں سپاہی تھے جن کو پہلی جنگِ عظیم میں اعلٰی فوجی خدمات پر کئی اعزازی میڈل دئیے گئے۔ تاہم ان کے والد ایک متوسط زمیندار تھے جن کو بزرگانِ دین اور اولیائے کرام سے بہت عقیدت تھی۔ وہ خود حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف کے مریدین میں سے تھے۔ ان کی والدہ محترمہ سرور جان صوم و صلوٰۃ کی پابند ایک سگھڑ گھریلو خاتون تھیں جن کی خوب سیرتی نے ان کو محمد محفوظ شہید جیسی عالی رتبہ اولاد کی ماں بنایا۔
محمد محفوظ شہید چار سال کی عمر میں مسجد میں دینی تعلیم کے لئے داخل کرائے گئے ابتدائی دینی تعلیم کے بعد مدرسہ میں داخلہ لیا جس کا نام بھمبر تراڑ سکول تھا اور یہ ان کے گھر سے دو سو میل کے فاصلے پر واقع تھا۔
میٹرک کا امتحان محمد محفوظ شہید نے 1961 میں پاس کیا۔ گھر والے چاہتے تھے کہ وہ کوئی ملازمت کر لیں لیکن ان کا شوق شہادت ان کو فوج میں لے گیا۔ 1962 میں انہوں نے آرمی جائن کی اور سپاہی کے طور پر ابتدائی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد ان کا تقرر 10 پنجاب رجمنٹ میں ہو گیا۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند محمد محفوظ شہید نے فوج میں رہ کر بھی احکاماتِ دین سے کبھی روگردانی نہ کی۔ نعتیہ کلام ان کو بہت سا یاد تھا جسے وہ اکثر خوش الحانی سے وردِ زبان کرتے رہتے۔
ابتداء ہی سے انہیں کھیلوں سے شغف رہا۔ کبڈی،کھدو،دوڑ،باکسنگ اور کھونڈی میں وہ ماہر تھے۔ جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ فنی مہارت کا یہ عالم تھا کہ کھڑی ہتھیلی سے اینٹ کے دو ٹکڑے کر دینا ان کا مشغلہ تھا۔ دوستوں کو شوق شوق میں باکسنگ سکھاتے تھے جس کے باعث اکثر لوگ انہیں “ محمد علی کلے“ کہہ کر پکارتے تھے۔ اپنے شوق کو انہوں نے فوج میں رہ کر ایسا رنگ دیا کہ کئی مقابلے جیت کر انعامات حاصل کئے اور ایک زمانے میں مڈل ویٹ باکسنگ چیمپئن بھی رہے۔
محمد محفوظ شہید قصہ یوسف زلیخا بڑے ذوق و شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ ترنم کے ساتھ جب وہ مولوی غلام رسول کے اشعار پڑھتے تو سننے والوں پر وجد طاری ہو جاتا۔ جسم کے سخت محمد محفوظ شہید دل کے اس قدر نرم تھے کہ دوستوں کی معمولی سی تکلیف بھی انہیں بے چین کر دیتی اور جب تک وہ اس تکلیف کو ختم نہ کر لیتے ان کو چین نہ آتا۔
سادہ اور تصنع سے پاک زندگی ان کا خاصہ تھی۔ ابتدائی عمر میں وہ اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں ہل چلایا کرتے تھے۔ گھر کے سارے کام بلا چون و چرا کرتے۔ یہی عادت دورانِ تربیت ان کے بہت کام آئی۔ سخت سے سخت مشقت اور ہر حکم پر “یس سر“ کی آواز ان کا طرہ امتیاز بھی تھی۔ یہ عادت ان کے افسروں کے دل میں ان کے لئے پیار اور عزت کے جذبات پیدا کرنے کا باعث بنی۔
محمد محفوظ شہید اپنی دس سالہ فوجی ملازمت کے دوران جب بھی چھٹی پر گھر آئے بغیر وردی کے آئے۔ ان کو شو شا کی عادت ہی نہ تھی۔ سولہ سال کی عمر میں فوجی سپاہی کے طور پر بھرتی ہونے والے محمد محفوظ مردان سے ٹریننگ کے ٹھیک پندرہ ہفتے بعد کوئٹہ میں ڈیوٹی پر چلے گئے۔ کوئٹہ میں انہوں نے ابھی بمشکل دس ماہ گزارے تھے کہ انہیں معرکہ رن کچھ اور راجستھان میں شرکت کا موقع مل گیا۔ یہ ایسا ولولہ انگیز معرکہ تھا کہ محمد محفوظ شہید کے کارنامے اس معرکے میں فوج بھر میں ضرب المثل بن گئے۔
رن کچھ کا حلقہ بھارتی فوجی حکام اور سیاسی رہنماؤں کی نظر میں جنگ شروع کرنے کے لئے اس لحاظ سے بہت موزوں تھا کہ یہ پہلے سے وجہ نزاع رکھتا تھا۔ اس علاقے میں پاک بھارت سرحد قیامِ پاکستان کے وقت ہی سے باعثِ اختلاف تھی۔ رن کچھ دراصل زمانہ قدیم سے ایسا محلِ وقوع رکھتا ہے کہ اس کا بیشتر حصہ سال بھر میں زیادہ تر پانی میں ڈوبا رہتا ہے۔ حکومت برطانیہ نے بھی رن کچھ کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا اور اور گورنر صوبہ سندھ اور ریاست کچھ بھوج کی سرحد رن کچھ کے عین وسط میں قرار پائی مگر چونکہ یہ آبی علاقہ تھا اس لئے اس میں برجیوں وغیرہ کے ذریعے سرحد کا تعین نہ کیا جا سکا۔
اس قانون پوزیشن کے علاوہ عملی طور پر اس پورے علاقے پر ہمیشہ حکومت سندھ کا تسلط رہا ہے۔ ہندوستان نے ہمیشہ اس معاملے پر ہٹ دھرمی اختیار کئے رکھی اور نتیجہ یہ کہ یہ علاقہ اختلافی حیثیت سے وجہ نزاع بنا رہا۔
رن کچھ کا حلقہ نظر میں رکھتے ہوئے بھارتی افواج نے یہ سوچا تھا کہ ذرا دیر کی معمولی جھڑپ کے بعد وہ حیدر آباد سندھ پہنچ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیں گی۔اور چونکہ سرحدوں پر بھارتی فوج کی اکثریت موجود ہو گی اس لئے پاکستان رن کچھ کے دفاع کے لئے فوج روانہ نہ کر سکے گا۔ اسی اثناء میں جب بھارتی فوج دریائے سندھ کے کنارے پہنچے گی تو پاکستان کو مجبوراً خاصی تعداد میں فوجی ڈویژن شمال سے جنوب کی طرف روانہ کرنا پڑیں گے۔ اس وقت جونہی لاہور اور سیالکوٹ کی سرحدیں خالی یا کمزور ہوں گی تو ہندوستانی فوجیں پیش قدمی شروع کر کے کشمیر کو لپیٹ میں لے لیں گی۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ ستمبر میں شروع ہونے والی جنگ نومبر میں پاکستان کے وجود کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد مشرقی پاکستان کو ہڑپ کرنا آسان تھا۔
منصوبہ بے حد جاندار مگر شیخ چلی کے خیالی پلاؤ پر مبنی تھا کیونکہ بھارتیوں کو تاریخ ہمیشہ بھول جاتی ہے۔ وہ سابقہ شکستیں اور مار بھلا دیتے ہیں اور نئے سرے سے پٹنے کے لئے پلاننگ شروع کر دیتے ہیں۔
رن کچھ میں جولائی کے مہینے سے ہی پانی جمع ہونا شروع ہو جات ہے جو فروری تک موجود رہتا ہے اس لئے اس علاقے کا مہماتی موسم صرف تین ماہ یعنی اپریل سے جون تک ہی ہے۔ اسی وجہ سے بھارتی افواج نے اس علاقے میں اپریل ہی سے پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ پلان یہ تھا کہ جولائی تک بھارتی افواج دلدلی علاقہ عبور کر کے پاکستان کے اندر اپنے ٹھکانے مستحکم کر لیں گی۔ پنجاب اور کشمیر میں یہ موسم ستمبر میں شروع ہوتا ہے تب تک وہ حیدر آباد کے اہم خطوں پر قبضہ کر لیں گے۔ اور ستمبر اور اکتوبر میں کشمیر اور پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد مشرقی پاکستان کا رُخ کرنا طے تھا۔۔۔ مگر اس سارے منصوبے میں پاکستان کی بہادر افواج کی جاں فروشی کا کہیں ذکر نہ تھا جس کے آگے بھارتی فوجیوں کو ہمیشہ بھاگنے ہی میں عافیت نظر آئی۔
رن کچھ اصل میں رنڑ کچھ یعنی میدانِ جنگ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم میں شاید یہ حربی علاقہ رہا ہو گا اور یہاں اکثر جنگیں لڑی جاتی رہی ہوں گی۔
بھارت کے اس وقت کے وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری اپنے گرو گھنٹالوں نندہ اور چاولہ کے ساتھ بھارتی فوج کا معائنہ کرنے کے لئے رن کچھ آئے۔ فوج کی ہمت بڑھائی اور واپس دہلی پہنچتے ہی اپنے بحری بیڑے کو رن کچھ کی طرف روانہ کر دیا۔ اس بحری بیڑے میں بھارت کا مشہور طیارہ بردار جہاز وکرانت بھی تھا۔
جب بھارت رن کچھ میں سرحدی پولیس بریگیڈ کے علاوہ دو آرمی بریگیڈ جمع کر چکا تو پاکستان نے بھی اپنے آٹھویں ڈویژن کو کراچی اور کوئٹہ سے روانگی کا حکم دے دیا۔ پہلے کراچی بریگیڈ بدین پہنچا اور بعد میں کوئٹہ بریگیڈ۔
5 اور 6 اپریل 1962 کی درمیانی رات کو بھارتی فوج خاموشی سے آگے بڑھ آئی اور پاکستانی فوجی چوکی سے ایک سو گز کے فاصلے پر مورچے کھودنا شروع کر دئیے۔ جب ان کو روکا گیا تو ان کے کمانڈنگ آفیسر نے جواب دیا کہ اگلی صبح دونوں اطراف کے نمائندوں کی ملاقات میں یہ معاملہ طے کیا جائے گا۔
دوسری صبح آئی مگر بھارتی نمائندے نہ آئے۔ اصل میں تو ان کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ انہوں نے آگے بڑھنا تھا بڑھ آئے۔ مورچے کھودنا تھا کھود لئے۔ اب مذاکرات کرنے کے لئے وہ کیوں آتے اور یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ اس سے پہلے وہ سردار چوکی پر بھی ایسی ہی حرکت کر چکے تھے۔ بعد میں معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا کہہ کر وہ اس سے منحرف بھی ہو چکے تھے۔ ان کی اس ہٹ دھرمی، دیدہ دلیری اور ڈھیٹ پن کا علاج اس کے سوا کوئی نہ تھا کہ پاکستانی کمانڈر ان کے خلاف فوجی کاروائی کرتا۔
آٹھویں ڈویژن کے کمانڈر جنرل ٹکا خان نے علاقے کا معائنہ کیا۔ اپنا پلان ترتیب دیا اور 8 اور 9 اپریل کی درمیانی رات کو سردار چوکی پر موجود بھارتی فوج پر حملہ کر دیا گیا جو درحقیقت فوجی چوکی نہ تھی بلکہ تین الگ الگ عسکری قلعے تھے جہاں بھارتی فوجوں کی پوری پلٹ مضبوط مورچوں میں موجود تھی۔ مشین گنوں کے لئے انہوں نے سیمنٹ کے مورچے تعمیر کر رکھے تھے جو تمام راستوں کو ترچھے فائر میں لا کر بیکار کر سکتے تھے۔ اس کے باوجود پاک فوج کا حملہ کامیاب رہا۔ سو سے زائد بھارتی فوجی ہلاک اور بائیس قید کر لئے گئے۔ بھاگنے والوں میں بھارتی فوج کا کمانڈر میجر کرنیل سنگھ بھی شامل تھا جو سب سے زیادہ بڑھکیں مارنے والوں میں تھا۔
بھارتی فوج کے فرار ہونے پر پاکستانی دستے لوٹ آئے تو تیسرے دن بھارتی دستے پھر واپس آ گئے۔ انہوں نے مورچوں کو از سر نو مضبوط اور تعمیر کیا اور دوبارہ پوزیشن لے کر جم گئے۔
لیفٹیننٹ نادر پرویز نے پنجاب رجمنٹ کی ایک پلاٹون کے ساتھ 21 اپریل کو بھارتی سرحدی فوج کی ایک کمپنی پر کامیاب حملہ کیا۔ یہ حملہ پوائنٹ 48 کے مقام پر کیا گیا جہاں تازہ تازہ بھارتی فوج وارد ہوئی تھی۔ بھارتی فوج خاصا جانی و مالی نقصان اٹھا کر پسپا ہو گئی۔ بے شمار جنگی اسلحہ اور بہت سی لاشیں چھوڑ کر اس نے ایسی دوڑ لگائی کہ پلٹ کر نہ دیکھا۔ اسلحہ اس قدر زیادہ مقدار میں تھا کہ اسے اٹھا کر پیچھے لانا ممکن نہ تھا اس لئے بارود کے علاوہ تمام سامان کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ اس معرکے میں لانس نائیک محمد محفوظ شہید بھی شریک تھے اور انہوں نے بھارتی فوجیوں کو چن چن کر ہلاک کیا تھا۔
اسی دوران پاکستانی فوج کا 16 انفنٹری بریگیڈ بھی بدین کے علاقے میں پہنچ گیا۔ کمانڈر انچیف جنرل موسٰی نے حکم جاری کیا تھا کہ اس بریگیڈ کو جتاری کے جنوبی علاقہ میں استعمال کیا جائے اور اگر اس طرف سے بھارتی فوج آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو اسے سختی سے روکا جائے ایک انچ آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔
محمد محفوظ شہید اس معرکے میں بھی ایک سپاہی کی حیثیت سے شریک تھے۔ بریگیڈ کمانڈر افتخار جنجوعہ اس حملے میں فرنٹ پر تھے۔ جونہی پاک فوج نے پیش قدمی کی دشمن نے ایک دم تمام اطراف سے فائر کھول دیا، توپیں، مشین گنیں، مارٹر، بزوکا رائفلز، 75 ایم ایم کی توپیں، غرضیکہ اس کا ہر ہتھیار آگ اگل رہا تھا۔ اندھا دھند فائرنگ جاری تھی مگر اس کی اکثریت اور قوت دونوں مل کر بھی پاک فوج کے قدم نہ روک سکے۔ اللہ اکبر کے نعرے سن کر بھارتی فوجیوں کے دل دہل گئے۔ ہتھیاڑ چھوڑ کر وہ پاک فوج کے جوانوں کی ایک ہی پیش قدمی سے گھبرا کر بھاگ نکلے۔ گولہ بارود، راشن، سپاہیوں کا ذاتی سامان اور جیپیں تک ساتھ نہ لے گئے۔ ایک ہندوستانی آفیسر اور درجنوں سپاہی اسیر کر لئے گئے۔ اس کے بعد ڈویژن کمانڈر نے فیصلہ کیا کہ بیار بیٹ کے علاقے پر 26 اپریل کو حملہ کیا جائے گا اور اس میں ٹینک بھی استعمال کئے جائیں گے۔
26 اپریل 1962 کے معرکہ رن کچھ میں پہلی بار ٹینکوں سے کام لیا گیا۔ اب دونوں اطراف سے ٹینکوں کا یہ پہلا استعمال تھا جو اس علاقے میں ہوا۔ ٹینکوں کا سکواڈرن سب سے آگے رکھا گیا۔ اس کے پیچھے فرنٹیئر فورس تھی جس کی دو کمپنیاں ساتھ لی گئی۔
اس مقابلے میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور وہ یہ کہ دشمن کی اندھا دھند گولہ باری کے دوران اس کا جو بھی گولہ گرا وہ خالی جگہ پر گرا۔اس کی گولہ باری محض بارود کا زیاں ثابت ہوئی۔ پاک فوج کو اس سے کوئی نقصان نہ پہنچا۔ اس کی طرف سے ٹینک شکن بزوکا رائفل کے 2 سو سے زائد فائر کیے گئے مگر ان میں سے ایک بھی کسی پاکستانی ٹینک کو نشانہ نہ بنا سکا۔ صرف گولیوں کا ایک برسٹ ایک جیپ کے ساتھ بندھے بیلچے کو لگا، باقی فائرنگ فضول ہی ثابت ہوئی۔
دوسرے دن 8 انفنٹری ڈویژن کو مزید پیش قدمی سے منع کر دیا گیا کیونکہ دوست ممالک نے صلح کے لئے مذاکراتی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ یہ وہی ڈویژن تھا جس نے بھارتیوں کو رن کچھ کے میدان سے مار بھگایا تھا بظاہر پاکستان مددگار مگر باطن میں ہندوستان کے طرف دار ایک ملک نے بیچ بچاؤ کراتے ہوئے جنگ بندی کرا دی تاکہ بھارت کو مزید مار نہ پڑے۔ جنگ بندی ہونے پر شاستری نے اپنی عیاری اور مکاری کا مظاہرہ یہ کہہ کر کیا کہ اب ہم اپنی پسند کا محاذ کھولیں گے۔ یعنی اب بھی اس کے دل میں جنگ کی ہوس باقی تھی جسے جیتنے کے لیے ایسے محاذ پر آ کر لڑنا چاہتا تھا جہاں اسے کامیابی کی مکمل امید ہوتی۔ ھالانکہ رن کچھ کا میدان بھی اس کا اپنا منتخب کردہ تھا پاکستانی فوج تو صرف دفاع کرتے ہوئے اسے رگید کر آگے تک لے گئی تھی۔
1962 سے 1965 تک بھارتی فوج کی نفری دو گنا کر لی گئی تاکہ ایک ہی حملے میں پاکستان پر قبضہ کر لیا جائے۔ اس مرتبہ بھی جنگ کسی متنازعہ علاقے سے ہی شروع کرنے کی پلاننگ کی گئی اور رن کچھ کے بجائے جنگ کی چھیڑ چھاڑ کشمیر کے محاذ سے کی گئی۔
6 ستمبر کے حملے کی رات کو شمال میں اکھنور سے لے کر جنوب میں راجستھان تک بھارتی فوج کے 11 سے زائد ڈویژن مغربی پاکستان کی سرحدوں پر ہتھیار سنبھالے تیار کھڑے تھے۔ لاہور پر قبضے اور یہاں کے جم خانہ کلب میں چائے پینے کا بھارتی خواب پچھلے 18 سال سے بھارتی افواج کی آنکھوں میں خمار پیدا کر رہا تھا۔ جونہی حملہ شروع ہوا آگ کی ایک لکیر سیالکوٹ سے راجستھان بارڈر تک پھیلتی چلی گئی۔ پاک فوج کے جیالے سر پر کفن باندھ کر وطن کی سالمیت کی حفاظت کے لئے میدان میں اتر آئے۔ راجستھان کے لق و دق صحرا اور دشوار گزار راستوں میں بھارتی فوج کو مار مار کر بھگا دینے کے کارنامے سر انجام دینے والی پاک فوج نے ثابت کر دیا کہ وہ ہر میدان میں دشمن کو نیست و نابود کر دینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے جو دشمن نے خود منتخب کیا ہو۔
راجستھان سیکٹر میں دشمن نے بھاری توپ خانہ اور بکتر بند دستوں کے ساتھ حملہ کیا تھا جسے برباد کر کے پاک فوج نے اپنی برتری کی مہر لگا دی۔
راجستھان میں سب سے بڑا حربی معرکہ سادھے والا میں ہوا جو پانچ گھنٹے کے اندر اندر اس انداز میں ختم ہو گیا کہ صحرا میں بھارتی فوجیوں کی لاشوں کے انبار لگے تھے۔ ان کا ذاتی اور جنگی سامان بکھرا پرا تھا اور آگ کے الاؤ، دھوئیں کے بادلوں سے مل کر دشمن کی بربادی کی داستان سنا رہے تھے جو فرار ہوتے ہوئے اپنی بکتر بند گاڑیاں بھی چھوڑ گیا تھا۔
مشرقی پاکستان پر بھارت کی پلاننگ کا انحصار بڑی طاقتوں کی خفیہ امداد اور رضامندی پر تھا جو اسے حاصل ہو چکی تھی لہذا 1971 میں اس نے دسمبر کا مہینہ اس حملے کے لئے منتخب کیا اور مشرقی پاکستان پر باؤلے کتے کی طرح ٹوٹ پڑا۔
نامساعد حالات اور اندرونی طور پر انتہا درجے کی مخالفت کے باوجود پاک فوج نے بھارتی افواج کو جیسور اور کومیلا کے محاذوں پر زبردست شکست سے دوچار کیا تاہم بھارت چونکہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت حملہ آور ہوا تھا اس لئے مجموعی طور پر اس کو حالات نے وہ نقصان نہ پہنچایا جس سے پاک فوج کو سابقہ پڑا۔ مشرقی پاکستان میں مختلف محاذوں پر ہزیمت اٹھانے کے بعد اب اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ مغربی پاکستان میں بھی ایک سے زائد مختلف النوع محاذ کھول دے تاکہ پاکستانی افواج کی نفری اور توجہ بے شمار سیکٹروں پر بٹ جائے اور وہ اپنی کثیر تعداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حالات پر من مرضی کا کنٹرول حاصل کر سکے۔
مغربی پاکستان کے ہر محاذ پر پاک افواج نے بھارتی حملہ آوروں کو شاندار سبق سکھایا اور اسے بتا دیا کہ یہ جیالے اپنے وطن کی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دے سکتے۔ جان دے دیں گے، وطن کا ایک انچ دشمن کے قبضے میں نہیں جانے دیں گے۔ ہر محاذ پر دھوتی پرشاد یوں بھاگ رہے تھے جیسے وہ بھول کر سوئے ہوئے شیروں کا جگا بیٹھے ہوں۔ واہگہ اور اٹاری سیکٹر میں تو اس کی حالت یہ تھی کہ مر جانے اور بھاگ نکلنے کے سوا اس کے پاس کوئی تیسرا راستہ ہی نہ تھا۔ مگر بھاگتے بھاگتے بھی اس کو جس بری طرح ہلاکت کے طوفان نے اٹھا اٹھا کر پٹخا، اس کو صدیوں تک یاد رہے گا۔ ان دونوں سیکٹروں میں پاک فوج کے بہادر دستوں نے بھارتی علاقے کو اندر تک اپنے فاتح قدموں تلے روندا۔ اس کی مرمت کی۔ بھاگتے ہوئے فوجیوں پر قہقہے برسائے اور ان کے مورچوں اور کمین گاہوں سے اہم دستاویزات قبضے میں لے کر ان کے مطابق اسے مزید مار کے حوالے کر دیا۔ بھارتی افواج کی کمر درحقیقت ان دونوں محاذوں پر اس طرح ٹوٹی کہ شاید آج تک وہ اس کا درد محسوس کر رہی ہوں گی۔
اٹاری سیکٹر میں موضع سانکے اور دیرا کے نواح میں ایک زبردست معرکہ برپا ہوا جو جنگ 1971 کے یادگار معرکوں میں سے ایک ہے۔ یہاں پاک فوج کے دستوں نے بھارتی فوجیوں کی وہ مرمت کی۔ اسے ایسا سبق سکھایا کہ وہ مرتے دم تک اس علاقے کا نام سن کر کوفزدہ ہوتے رہیں گے۔ اس مھاذ پر کئی ہزار بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے اسی محاذ پر فاتح پاک فوج کے 15 رجمنٹ (پنجاب) نے پل کنجری والا پر پاکستانی پرچم لہرا کر اپنی کامیابی کا اعلان کیا۔
جس روز پاک فوج نے اس مقام پر فتح حاصل کی تب سے اخیر جنگ بندی کے دن تک بھارتی فوج نے بار بار یہ علاقہ واپس لینے کی کوشش کی۔ بار بار حملے کئے۔ بار بار پیش قدمی کی مگر اس کی ہر کوشش ناکام اور ہر قدم پسپائی کا قدم ثابت ہوا۔ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ اپنی بوٹیاں نوچ کھاتا۔ خود کار ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی فضائیہ کو بھی اس مقام پر بے دریغ استعمال کیا مگر مجاہدین پاکستان تھے کہ اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے جمے کھڑے تھے۔ ان شمع وطن کے پروانوں میں لانس نائیک محمد محفوظ شہید بھی تھے جن کو ان کے لازوال کارنامے پر نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
1971 میں جنگ بندی کا اعلان 16 دسمبر کو ہوا۔ پاکستانی افواج نے یہ اعلان ہونے پر اپنی عسکری کاروائیوں اور پیش قدمی کو موقف کر دیا کہ سیز فائر کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے مگر عیار اور مکار بھارتی حکمران نے اس سیز فائر کا کسی اور ہی انداز میں فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی۔ ازل سے عہد شکن بھارتیوں نے رات کا اندھیرا پھیلتے ہی ایک بار پھر بھرپور حملے شروع کر دئیے تاکہ جن علاقوں پر پاک افواج قابض ہیں ان کو واپس لے سکے۔
صورتحال یہ تھی کہ پاکستانی افواج تو جنگ بندی کے بعد مطمئن ہو چکی تھیں۔ ان کے مورچوں میں خاموشی اور محاذ پُر سکون تھا مگر بھارتی درندوں نے تو بے اصولی اور عہد شکنی کی آڑ میں یہ حملے شروع کئے تھے لہٰذا وہ زبردست گولہ باری کرتے ہوئے آگے بڑھے اور پل کنجری والا پر قبضہ کر لیا۔
پاکستانی فوجی دستوں کی پوزیشن اس وقت بے حد نازک تھی۔ دشمن کا حملہ اس قدر شدید اور اچانک تھا کہ ان کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ اس حملے کی شدت سے اندیشہ یہ ہو گیا کہ کہیں وہ اپنے علاقے سے بڑھ کر پاکستانی علاقے میں داخل نہ ہو جائے۔ دوسری خطرناک اور غیر محفوظ صورتحال یہ پیدا ہو گئی کہ پاکستانی فوجی دستے اس وقت کھلے میدان میں تھے۔ دشمن نے مورچوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ کسی آڑ سے بھی محروم تھے جبکہ دشمن نے ان پر اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کا منہ کھول دیا تھا۔
کھلے میدان میں موجود پاکستانی دستوں کو گھیرے میں لے کر ختم کر دینے کی پلاننگ کے تحت بھارتی پلاٹون تیزی سے پیش قدمی کر رہی تھی۔ وہ کم از کم وقت میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دینا چاہتا تھا کہ اچانک اس پلاٹون پر ایک افتاد ٹوٹ پڑی۔ یوں لگا جیسے اچانک موت نے ان کے لئے اپنے جبڑے کھول دئیے ہوں۔ ایک دم ایک مشین گن کی فائرنگ کی مسلسل آواز ابھری اور چند لمحوں کے اندر ہی دشمن کی پلاٹون کا آخری سپاہی تک چیختا ہوا موت کی وادی مین اتر گیا۔ اب وہاں زندہ پلاٹون کی بجائے بھارتی فوجیوں کے بے حس و حرکت جسم پڑے تھے۔
یہ لازوال کارنامہ محمد محفوظ شہید نے سر انجام دیا تھا۔ انہوں نے بے حد دلیری کے ساتھ آگے بڑھ کر، دیوانہ وار بڑھے آتے دشمن کی پلاٹون کو موت کے گھاٹ اتار کر اس کی پیش قدمی کے آگے بند باندھ دیا تھا۔ اس کے سارے پلان خاک کی طرح ہوا میں اڑا دئیے تھے اور اس کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر رکھ دی تھیں۔
دشمن اس اچانک جوابی کاروائی پر بوکھلا کر رہ گیا اور پھر باؤلا ہو کر اس نے پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ان پاک فوجیوں پر دوسرا حملہ کر دیا جو محمد محفوظ کے ساتھ کھلے میدان میں اس کے سامنے شمشیر برہنہ بنے کھڑے مقابلہ کر رہے تھے۔
محمد محفوظ شہید اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر اپنی مشین گن سے دشمن کے فوجیوں کو بھون رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ کسی بھی وقت دشمن کی گولی کا نشانہ بن سکتے ہیں مگر یہ سوچنا بزدلی تھی اور بزدلی ان کے خون میں نام کو نہ تھی۔ اسی وقت دشمن کی ایک توپ کا گولہ ان کی مشین گن پر آ کر پھٹا۔ مشین گن تباہ ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی ان کی ایک ٹانگ اُڑ گئی۔ اس گولے کے پھٹنے سے ان کے قریب موجود ان کے ساتھی لانس نائیک محمد صادق نے شہادت پائی۔
محمد محفوظ شہید نے محمد صادق شہید کی طرف دیکھا۔ اپنی تباہ شدہ مشین گن سے ہٹے اور محمد صادق شہید کی مشین گن سنبھال لی۔ اب ان کے جوش کا عالم سہ آتشہ ہو گیا تھا۔ دشمن پر ان کی ہر گولی موت کا پیغام لے کر برس رہی تھی۔
دشمن کے توپچی نے شاید دوبارہ ان کو تاک لیا۔ وہ ان کی بے مثل بہادری اور نشانہ بازی سے تنگ آیا ہوا تھا۔ دوبارہ گولہ تاک کر فائر کیا جو سیدھا محمد محفوظ شہید کی مشین گن پر آ کر پھٹا۔ مشین گن ناکارہ اور محمد محفوظ شہید مزید زنخمی ہو گئے۔ اب ان کے لئے حرکت کرنا بھی دشوار ہو رہا تھا۔
اس وقت محمد محفوظ شہید نے اپنی دوربین نظروں سے دشمن کے مورچے میں موجود اس گنر کو تاک لیا جو دوبارہ ان کے لئے بربادی کا پیغام لے کر آیا تھا۔ زخمی ہونے کے باوجود وہ آگے بڑھے اور اس فیصلہ کُن عزم کے ساتھ گھسٹتے ہوئے آگے بڑھے کہ وہ اپنی فوج کے لئے مسلسل نقصان کا باعث بننے والے اس گنر کو موت کے گھاٹ اتار کر رہیں گے۔ دشمن نے جب انہیں اپنی جانب بڑھتے دیکھا تو اس کی فائرنگ میں شدت آ گئی، گولیوں نے ان کا سینہ چھلنی کر دیا مگر ان کے قدم نہ رکے زخمی جسم کو پھولوں کی طرح خود پر لئے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔
جس وقت جست لگا کر انہوں نے دشمن کے مورچے میں موجود اس ہندو گنر کو دبوچا اسی وقت گنر کی آخری گولی نے ان کا دل چیر کر رکھ دیا مگر ان کے فولادی ہاتھ گنر کی گردن پر آہنی شکنجہ کس چکے تھے۔ پھر یہ ہاتھ اس وقت نرم پڑے جب دشمن کی آنکھیں حلقوں سے باہر ابل پڑیں اور جسم کا ساتھ روح سے چھوٹ گیا۔ اسی وقت اپنی روایتی عیاری اور بزدلی کا ثبوت دیتے ہوئے دشمن کے ایک دوسرے فوجی نے محمد محفوظ شہید کے پیچھے سے آ کر سنگین ان کی کمر میں اتار دی مگر محمد محفوظ تو اس سے پہلے ہی اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کر چکے تھے۔ ان کا مشن پورا ہو چکا تھا۔ اپنے مشن کی تکمیل پر ان کے ہونٹوں پر جو ابدی اور لافانی مسکراہٹ ابھری وہ دفن کے وقت بھی قائم تھی اور زبانِ حال سے اپنے رب کے حضور حاضری یقین کا اظہار تھی۔
جنگ ختم ہو گئی۔ جنگ بندی کے بعد جب بھارتیوں نے محمد محفوظ شہید کی لاش پاکستانی فوجی حکام کے حوالے کی تو ان کے ایک سکھ کرنل نے ان الفاظ میں محمد محفوظ شہید کی بے مثال بہادری کا اعتراف کیا کہ:
“پاک فوج کا یہ جوان بلکل باکسروں کی طرح جنگ لڑ رہا تھا۔“
زندگی بھر کھیلوں میں تمغے جیتنے والے محمد محفوظ شہید کو ان کی جاں نثاری اور دلیری پر نشانِ حیدر کا اعزاز دیا گیا۔
آفیسرز رینک سے نچلے درجے کے فوجیوں میں محمد محفوظ شہید دوسرے پاکستانی فوجی ہیں جن کو پاک فوج کا سب سے بڑا عسکری اعزاز ملا۔ ان کے ایک کمانڈر نے ان کی شہادت پر تحسین و آفرین بھرے یہ الفاظ ادا کئے:
“ محمد محفوظ شہید کی شہادت ہمت و عظمت کی داستان ہے۔ یہ ہماری تاریخ کا سرمایہ ہے۔ وہ شہید ہیں۔ زندہ ہیں کیونکہ شہید کبھی مرا نہیں کرتے!“

ھارون رشید
01-07-2011, 07:33 PM
پا ک فوج کو سلام

تانیہ
01-08-2011, 09:58 PM
بہت خوب علی عمران جی ...آپکا یہ سلسلہ شیئرنگ کا بہت اچھا ہے ...تھینکس

انجینئرفانی
10-07-2012, 07:07 AM
پاک فوج کو سلام

pervaz khan
10-07-2012, 01:59 PM
خوبصورت شیئرنگ کے لیئے بہت شکریہ