PDA

View Full Version : افسانہ



گلاب
01-09-2011, 11:52 PM
اس نے اپنی پشت پر ایک چھوٹے سے ہاتھ کا دباﺅ محسوس کیا۔ اس دباﺅ میں گرمی بھی تھی اور ٹھنڈک بھی، کچھ حجاب بھی تھا اور ذرا سی بے تکلفی بھی۔ طالب نے پیچھے مڑ کر دیکھا، ایک چھوٹی سی لڑکی کندھے پر تولیہ ڈالے سر جھکائے کھڑی تھی۔
وہ ابھی کرشن نگر کی بڑی سڑک سے گلی کا موڑ مڑا ہی تھا کہ اس کی مڈبھیڑ محلے کے ننگ دھڑنگ بچوں کے ایک گروہ سے ہو گئی تھی جو ہاتھوں میں مٹی کے ڈھیلے اٹھائے ایک نالی کے دہانے پر چاند ماری کر رہے تھے۔ مئی کی چلچلاتی دھوپ میں ننگے سر پسینے میں نہائے ہوئے یہ بچے اس پلے کو اپنے ڈھیلوں کا نشانہ بنا رہے تھے جو ان کے خوف سے بھاگ کر اس غلیظ نالی میں آگیا تھا۔ طالب نے آگے بڑھ کر دیکھا۔ سیاہ کیچڑ میں لتے ہوئے پلے کی تھوتھنی سے سرخ سرخ خون بہہ رہا تھا۔ایک آنکھ کیچڑ کے لیپ نے بند کر دی تھی اور دوسری چسے ہوئے لیمن ڈراپ کی طرح چمک رہی تھی۔
طالب نے آگے بڑھ کر بچوں کو دھمکایا، ان کے ہاتھوں سے ڈھیلے چھینے اور ان کے پیچھے زور زور سے تالیاں بجا کر انہیں دور دور بھگا دیا۔ پھر وہ نالی کے پاس بیٹھ گیا۔ پلے نے باہر نکلنے کی تمام کوششیں بالکل ترک کر دیں اور نالی کے سوراخ میں عین نیچے دبک گیا۔ طالب نے اپنی آستینیں چڑھائیں، بازو پر بندھے ہوئے تعویذ کو اوپر بغل تک کھسکایا اور پھر منٹ کیمرہ فوٹوگرافر کی طرح پوری بانہیں سوراخ میں گھسیڑ دیں۔ پلے نے اس آہنی پنجے کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر پوری مدافعت کی، ٹانگیں اکڑا کر نالی کی دیواروں میں اڑا دیں، چوں چوں کا نالہ بلند کیا۔ منہ کھول کر کاٹنے کی کوشش بھی کی لیکن طالب نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور پلے کی مدافعتی کارروائی کے باوجود اسے نالی سے نکال کر باہر تپتی ہوئی زمین پر ڈال دیا۔ پلے نے کانی آنکھ سے پہلے تو اس کی طرف دیکھا، پھر پوستین کو جھٹکا اور آخر میں، سب اچھا کا کاشن پاکردم دبا کر بھاگ گیا۔
نالی کے کنارے بیٹھے بیٹھے طالب نے اپنی پشت پر ایک چھوٹے سے ہاتھ کا دباﺅ محسوس کیا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا، ایک چھوٹی سی لڑکی کندھے پر تولیہ ڈالے سر جھکائے کھڑی تھی۔ اس نے سر سے پیر تک لڑکی کا بغور جائزہ لیا، اس کے پاﺅں کے پاس سلور کا ایک لوٹا پانی سے لب لب بھرا رکھا تھا اور اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کی ایک بند صابن دانی تھی۔پھر طالب نے کہنی تک لتھڑی ہوئی اپنی بانہہ کو دیکھا جس پر چمٹے ہوئے کیچڑ سے بال صفا کی بو آرہی تھی۔ لڑکی نے لوٹا اٹھایا اور اس نے اپنا بازو نالی پر کر دیا۔ لڑکی نے ایک قدم آگے بڑھ کر صابن دانی اس کے پاﺅں کے پاس رکھ دی اور خود لوٹا اٹھا کر جھک گئی۔ جب کورے مٹکے کے ٹھنڈے پانی کی دھار اس کی بانہہ پر پڑی اور اس نے پلاسٹک کی ڈبیا سے سفید رنگ کا آدھا گھسا ہوا وہ صابن باہر نکالا جو ایکٹرسیں اپنے حسن کے نکھار کے لئے استعمال کرتی ہیں تو بال صفا کی بو اور تیز ہوگئی۔
دو مرتبہ صابن لگانے اور لوٹا بھر پانی بہانے کے بعد بھی جب طالب کی تسلی نہ ہوئی اور اس نے بچی کے کندھے سے تولیہ نہ اتارا تو سامنے کی کھڑکی سے آواز آئی۔ ”رانی! پانی اور لے جا۔“
طالب نے چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا۔ وہ سفید ململ کا کلیوں والا کرتہ پہنے کھڑی تھی اور اس کے سینے پر چاندی کے بٹنوں کی زنجیر لٹک رہی تھی۔ طالب کو اپنی طرف اس طرح دیکھتا پا کر وہ ایک دم پلٹی اور اس کے جوڑے سے موتیے کا ایک پھول ٹوٹ کر نیچے گر گیا۔
رانی پانی کا دوسرا لوٹا بھر کر لائی تو طالب نے پوچھا۔ ”یہ تمہاری کون ہیں؟“ رانی نے سر نہوڑا اور گردن گھما کر کہا۔ ”میری باجی ہیں۔“ طالب نے کہا۔ ”بہت اچھی ہیں تمہاری باجی، تمہیں مارتی تو نہیں؟“
”نہیں!“ رانی نے کھلکھلا کر کہا۔“ باجیاں بھی کوئی مارا کرتی ہیں۔“
طالب نے کہا۔ ”میری باجی تو....“ اور پھر وہ ایک دم خاموش ہو گیا۔ رانی نے اٹھلا کر پوچھا۔ ”کیوں آپ کی باجی آپ کو مارتی ہیں کیا؟“
طالب نے اپنے آپ سے کہا۔ ”ہاں بس ایک دفعہ مارا ہے اور عمر بھر کے لئے ہم سب کو مار کے رکھ دیا ہے۔“
رانی نے حیران ہو کر پوچھا۔ ”پھر بھی آپ اپنی باجی سے بولتے ہیں؟“ طالب اٹھ کھڑا ہوا اور تولیے سے ہاتھ پونچھتے ہوئے بولا۔ ”ہم تو اس سے بولتے ہیں۔ پر وہ ہی ہم سے بولنا پسند نہیں کرتی۔“ اور یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے رانی کا سر سہلاتے ہوئے پیار سے کہا۔ ”اپنی باجی سے کہنا شکریہ۔“ رانی نے اثبات میں سر ہلایااور لوٹا اور صابن اٹھا کر اپنے گھر کی سیڑھیاں چڑھ گئی۔
اسی گھر کی پہلو والی گلی میں اسی گھر کے پچھواڑے طالب کو جانا تھا۔ مضبوط اینگل آئرن کے فریم میں لہریا ٹین کی چادروں کو جکڑے پھاٹک اندر سے بند تھا۔ اس نے پھاٹک دھکیلنے کی کوشش کی لیکن چادریں دھوپ کی حدت سے انگارہ سی گرم تھیں اور ان پر ہاتھ نہ رکھا جاسکتا تھا۔ طالب نے پھاٹک کو انگلی سے بجایا اور پھر پھاٹک پر لگی ہوئی بانس کی قوسیں سیڑھی میں عشق پیچاں کی بیل کو دیکھنے لگا جس میں اکا دکا کاسنی پھول کھلے ہوئے تھے۔ اس نے ایک بار پھر پھاٹک کو بجایا اور برجی پر لٹکتی ہوئی نیم پلیٹ کو دھپا مار کر اس پر سے گرد جھاڑی۔ تختی ٹپٹپائی اور اس پر لکھے ہوئے محمد حنیف اے-ایل ایم کے حروف دو چند، سہ چند بلکہ دہ چند ہو کر کانپے اور پھر اپنی جگہ جا چمٹے۔
پھاٹک کھلا، دو فٹ چوڑے شگاف کے سامنے ایک سادھو کھڑا تھا۔
گیروے رنگ کی چادر گلے میں باندھے، کلائیوں میں موٹے منکوں کی مالا، پاﺅں میں کھڑاویں، کانوں میں لاکھ کے بالے، سادھو نے طالب کو اشیر باد دی اور پھر بڑے سادھارن طور پر کہا۔ ”کیا بات ہے بابا! کیسے آئے؟“
طالب دیر تک بھونچکا کھڑا رہا۔ وہ ایک مرتبہ پہلے بھی یہاں آیا تھا۔ لیکن یہاں کوئی سادھو نہیں رہتا تھا اس دن گو حنیف اسے اس پھاٹک پر ہی ملا تھا لیکن آثار بتاتے تھے کہ یہ گھر ہی تھا کوئی مٹھ نہیں تھا۔ جب سادھو نے طالب کو ا س طرح مورتی بنے دیکھا تو اس نے پھر بڑے پریم سے پوچھا۔ کہو بابا! کس سے ملنا ہے؟“
طالب نے گلا صاف کر کے کہا۔ ”جی مجھے حنیف صاحب سے ملنا ہے۔“
”تو اندر آﺅ!“ سادھو نے کوملتا کے ساتھ کہا۔ ”میاں دھوپ میں کھڑے کیوں حیران ہو رہے ہو۔“ طالب اندر داخل ہوا تو سادھو نے پٹ بھیڑ کے زنجیر ڈال دی اور کھڑاویں بجاتا ہوا کوٹھڑی کی طرف چل دیا۔
مکانوں کی پشتوں کے درمیان گھری ہوئی یہ جگہ کوئی چار مرلے سے زیادہ نہ ہوگی۔ تین مرلے کا صحن تھا اور ایک کونے میں ایک کوٹھڑی تھی، پھاٹک کے پاس پانی کا نل لگا تھا جس کی تلتلی کیاریوں کو پانی دے رہی تھی۔ صحن کے بیچوں بیچ کوئی دو فٹ چوڑی چوپڑ کی روشیں تھیں اور چاروں پلاٹوں میں پانی میں ڈوبی ہوئی گھاس کہیں کہیں سے سر نکال رہی تھی۔ ان پلاٹوں کے کناروں پر موتیے اور گلاب کے پودے تھے جو دھوپ سے سنولائے ہوئے تھے۔طالب دونوں روشوں کے کٹاﺅ پر کھڑا دیر تک اس ماحول کا جائزہ لیتا رہا۔ گرمیوں کی سہ پہر تھی لیکن گرمی کا وہی عالم تھا جو ایک ڈیڑھ بجے دن کے ہوتا ہے۔ اس نے دھول میں اٹے ہوئے گلاب اور موتیے کے پھولوں کو دیکھا اور پھر ایک نظر کوٹھڑی پر ڈالی۔ سادھو دروازے پر کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ جب طالب اس کی طرف بڑھا تو وہ مسکرایا اور اپنادایاں ہاتھ ہوا میں بلند کر کے الکھ نرنجن کا دھیما سا نعرہ مارکر اندر کوٹھڑی میں داخل ہو گیا۔
کوٹھڑی میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک کھجور کی چٹائی بچھی تھی اور اس پر حنیف، ایک اور نوجوان اور سادھو آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے۔ اندر اگربتیاں سلگ رہی تھیں، روشنی بہت کم تھی اور باہر کے مقابلے میں یہاں بڑی ٹھنڈک تھی۔ طالب کو دیکھ کر حنیف نے اللہ ہو کا نعرہ مارا اور اٹھ کر ناچنے لگا۔ طالب دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا تو سادھو نے کہا۔”بیٹھو، بیٹھو بابا، کھڑے کیوں ہو!“ طالب نے جوتیاں اتار دیں اور چٹائی پر دو زانوں بیٹھ گیا۔ تیسرا نوجوان دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کی گود میں لمبی تسبیح تھی جس میں کوئی دس ہزار دانے ہوں گے۔یہ تسبیح اس کی گود میں ہو کر چٹائی کے دوسرے سرے تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کا ایک کنارہ سادھو کی ران کو چھو رہا تھا۔ حنیف کے بدن پر چوڑے پھینٹوں والا ایک لمبا سا کرتہ تھا جو اس کی پنڈلیوں کو چھو رہا تھا۔ اس کے سر پر قلندروں والی ٹوپی تھی اور وہ چٹکیاں بجا بجا کر اور منہ سے ”چھواوچھی چھواوچھی ای“ کی آواز نکال کر گا رہا تھا۔
نمی دانم کہ آخر چوں دم دیدارمی رقصم
مگر نازم باں قسمت کہ پیش یارمی رقصم
جب وہ پیش یارمی رقصم کی تکرار کرتا تو دونوں ہتھیلیاں دیوار پر رکھ کر اپنا سر زور زور سے دیوار پر مارتا اور سارا کمرہ اس کی سرشوری سے گونجنے لگتا۔ سادھو آنکھیں موندے کھڑی پھاوڑی پر بازو جمائے گیان دھیان میں ڈوبا تھا۔ اس کا سر گھٹا ہوا تھا او رداڑھی مونچھ صفا چٹ تھی۔ پسینے کے قطرے اس کے چہرے پر عیاں تھے پر وہ اپنی لگن میں سنسار سے ناطہ توڑ کر بیٹھا تھا۔
حنیف سجدے میں گر کر چٹائی کو دونوں ہاتھوں سے نوبت کی طرح بجا رہا تھا اور سانپ کے پھن کی طرح آدھا دھڑ زمین سے اٹھا اٹھا کر فریاد کر رہا تھا۔
بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہ جانبازاں
بہ صد سامان رسوائی سر بازار می رقصم
اس شعر کا ورد کرتے کرتے وہ سجدے سے اٹھا اور کوٹھڑی میں پاگلوں کی طرح دوڑنے لگا۔ پھر اس نے اپنا گریبان چاک کر ڈالا اور اپنے چہرے کو طمانچوں سے لال کر دیا۔اچانک اس سیاہ فام نوجوان نے جو صرف ایک جانگھیا پہنے تھا تسبیح پر اپنا ہاتھ روک دیا اور آنکھیں کھول کر طالب کی طرف دیکھ کر بولا۔ ”بابو!“
خ خلق خدا دی علم پڑھ دی، اساں کیتا مطالعہ یار دا اے
جنہاں کھول کے عشق کتاب ڈٹھی ، صیغے صرف دے سب و سار دا اے
جنہاں یار دے ناں دا سبق پڑھیا ، اوتھے جا نہ صبر قرار دا اے
حیدر ملاں نوں فکر نماز دا اے تے اہناں عاشقاں طلب دیدار دا اے
الف آن بن ان بن ان بن تھیں اک سمجھ اساڈی ڑی رمز میاں
اور پھر تینوں آرام سے بیٹھ کر ”الف ان بن ان بن ان بن تھیں اک سمجھ اساڈڑی رمزمیاں“کا ورد میٹھے اور سریلے بولوں میں کرنے لگے۔ طالب اپنی جگہ پر گم سم حیران و پریشان بیٹھا تھا اس ورد کی ہوک سے سارا کمرہ وچتر دنیا کی طرح آہیں بھرنے لگا۔ جب یہ ورد تھما تو سادھو نے دایاں ہاتھ ہوا میں اٹھا کر حنیف سے کہا۔ ”بابا تیرے گھر بھگوان آئے ہیں۔“ حنیف دونوں ہاتھ جوڑ کر طالب کے سامنے بیٹھ گیا۔ طالب نے گھبرا کر کہا۔ ”آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کل اپنے دوست مسعود سٹینو سے مجھے ملائیں گے لیکن آپ اس کے دفتر پہنچے ہی نہیں۔“
حنیف نے سجدے میں گر کر کہا۔ ”مجھ سے بھول ہوئی سائیں۔ میں تیرا گنہگار ہوں۔ تیرا دین دار ہوں۔ مار چاہے چھوڑ، میں تیرا گنہگار ہوں۔“
طالب نے کھسیانے ہو کر کہا۔ ”نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں، آخر آدمی بھول بھی سکتا ہے۔“
”آدمی؟“ حنیف نے ہنس کر کہا۔ ”سائیں جی آدمی! آہاہاہا.... گیانی جی آدمی کیا ہوتا ہے؟“.... اور وہ سیاہ فام نوجوان جو تسبیح پڑھ رہا تھا، اسی طرح دیوار سے ٹیک لگائے بولا۔ ”آدمی بہت بڑی چیز ہے۔ ہم تو آدمی کے پیر کی دھول بھی نہیں۔“
”نہیں نہیں نہیں۔“ سادھو نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور اس کے گجرے کہنیوں تک آگرے۔
پھر حنیف نے سادھو کے پیر پکڑ کر کہا۔ ”باباجی میرا پیر دیکھا۔“
سادھونے اس کا کندھا تھپک کر کہا۔ ”دیکھا دیکھا، من پرسن ہوگیا، کلپنا مٹ گئی، ہرے ہرے ہرے۔“
حنیف سادھو کے پاﺅں اسی طرح پکڑے ہوئے بولا۔ ”سائیں تو میرا مادھو ہے، میرا مادھو لال ہے۔ میرا مادھو لال حسین ہے۔“
سادھو نے آنکھیں بند کر لیں تو حنیف نے اس کے پاﺅں پر سر رگڑ رگڑ کر کہنا شروع کیا۔
ساجن تیرے رو سڑے، موہے آدر کرے نہ کوئے
در دن کرن سہیلیاں، میں تر تر تاکوں توئے
پھر اس نے یک دم پلٹ کر کہا۔ ”یہ میرے مادھو لال حسین نے فرمایا ہے۔ میرے لال حسین نے، میرے لال بادشاہ نے۔ میں تر تر تاکوں توئے۔“
طالب کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا کہ وہ اس دنیا میں ہے یا کسی اور جگ میں پہنچ گیا ہے۔ یہ لاہور ہے یا بندرابن، کاشی ہے یا کرشن نگر۔ جس دن وہ پہلی مرتبہ حنیف سے ملا تھا تو حنیف اچھا خاصا اس کی طرح کا آدمی تھا۔اس کی جیب میں پلاس تھا، کندھے پر سی ٹی تار کا گچھا تھا اور اس نے نیلے رنگ کی پتلون پہن رکھی تھی۔ چلتے وقت اس نے اپنا تعارفی کارڈ بھی طالب کو دیا تھا جس پر محمد حنیف اے۔ایل۔ایم لکھا تھا اور تھوڑی دیر کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد طالب نے ڈرتے ڈرتے اس سے اے۔ایل۔ایم کا مطلب بھی پوچھا تھا جو شاید غلطی سے ایم۔ ایل۔ اے کی بجائے اے۔ایل۔ایم چھپ گیا تھا۔
اس وقت حنیف نے بڑے دوستانہ طریق پر اس کا کندھا تھپک کر کہا تھا۔ ”نہیں، اس کا مطلب اسسٹنٹ لائن مین ہے اور میں واپڈا میں ملازم ہوں۔“ اس کے کوئی ایک ہفتے بعد طالب نے حنیف کو بتی والے چوک پر کھمبے پر چڑھے فیوز لگاتے بھی دیکھا تھا۔پر اب تو اس کا نقشہ ہی کچھ اور تھا۔
طالب کو یوں حیرت میں ڈوبے دیکھ کر سادھو نے کہا۔ ”کیا بات ہے بابا؟ کیا چنتا ہے تیرے من کو؟“
طالب نے دل کڑا کر کے کہا۔ ”سادھو جی! مجھ پر اس آشرم کا بھید نہیں کھلا۔“
گیانی نے دیوار سے ٹیک توڑ کر کہا۔ ”جب تک من اور تن میں چھینا جھپٹی رہے گی یہ بھید ہی رہے گا۔ جب تک من کی کوک، فریاد نہ ہوگی یہ کواڑ بند ہی رہیں گے۔ با با فرماتے ہیں۔
کوک فریدا کوک توں جیوں ٹانڈا جوار
جب لگ ٹانڈا نہ گرے تب لگ کوک پکار
کوک پکار کا نام سن کر حنیف فریاد کرنے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسوﺅں کا چشمہ بہہ نکلا۔ اس نے روتے روتے طالب کا ہاتھ تھام کر کہا۔ ”سائیں میں کیا ہوں؟ کچھ بھی نہیں ہوں ناں! یہ سب مایا ہے ناں! یہ وجود فانی ہے ناں.... بول سائیں.... بول....تو آج اگر جلدی آجاتا تو تجھے اپنے پیر سے ملاتا.... کیوں گیانی جی؟“ گیانی نے سرپر ہاتھ رکھ کر کہا۔ ”بڑی تڑپ دے گیا ہے تیرا پیر.... تیرا کیا، ہم سب کا پیر.... ہائے ہائے نہ لاہور میں کوئی اسٹیشن ہوتا.... نہ گاڑی ہوتی.... نہ گاڑی ہوتی نہ رکتی.... نہ ہم پیر کی زیارت کر کے دل کو زخم لگاتے.... اک اونکار.... اک اونکار....“
پھر سادھو اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے ہاتھ باندھ کر کہا۔ ”میں مٹھ کو اشنان کرا دوں۔“ حنیف نے اس کے پیر پکڑ کر کہا۔ ”نہ سائیں تیرے چاکر موجود ہیں، تیرے گولے حاضر ہیں۔“ سادھو نے جھک کر اس سے اپنے پیر چھڑاتے ہوئے کہا۔ ”اوم شانتی شانتی“ اور کھڑاویں پہن کر باہر صحن میں نکل گیا۔
حنیف نے گیانی کے آگے ہاتھ باندھ کر کہا۔ ”گیانی جی! آج ان کو بڑی تکلیف ہوئی۔ اس دھوپ میں یہ ہمارے یہاں آئے، مجھ سے بھول ہوئی جو میں وقت پر وہاں نہ پہنچ سکا۔ یہ اس کا روپ ہے اور میری وجہ سے اس کو.... اس بڑی سرکار کو تکلیف ہوئی۔“ گیانی نے آنکھیں بند کر کے سر پیچھے ڈھلکا دیا اور کہا۔ ”پرائسچت پرائسچت توبہ استغفار۔ سوچ با با لوک تونے کیا کیا۔“
طالب نے کہا۔ ”نہیں جی مجھے تو کوئی ایسی تکلیف نہیں ہوئی، میں سارا دن اسی طرح تو مارا مارا پھرتا ہوں۔“
”ہائے ہائے ہائے۔“ گیانی نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا۔ ”ہمارا بابا لوک حضرت سینٹ فرانس بھی تو اسی طرح مارا مارا پھرتا تھا، ولیوں کا ولی.... بندوں کا بندہ.... با با لوک تو مارا مارا پھرتا ہے تو توُ بھی ولی ہے۔“
حنیف نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لئے اور بے خودی کے عالم میں بولا۔ ”میری ماں.... میری بی بی حضرت رابعہ بصری بھی تو اسی طرح ماری ماری پھرتی تھی۔ حضور نے فرمایا.... گیانی نے اک دم ٹوکا۔ ناں ناں ناں حضور کا نام یہاں نہ لینا۔ ہم دنیا کے کتے....لو بھی.... ”مایا کے بندے نہ بابا لوگ.... دل کی میل دور کر کے یہ نام لینا.... نہ با با لوک....“ حنیف نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور اس پر رقت طاری ہوگئی۔
باہر نل سے پانی کے تیز دھارے کی آواز آنے لگی۔
گیانی نے کہا۔ ”سادھو رات کا جاگا ہے با با لوگ۔“
حنیف نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر بٹھا لیا اور کہا۔ ”گیانی جی! چاکروں کے ہوتے ہوئے مالک کام نہیں کرتے۔“
”مالک“ گیانی نے اپنے آپ کو دیکھ کر کہا۔“ مالک....میں مالک.... مجھے طعنہ دیتے ہو بابا لوک، ٹھیک کہتے ہو.... ٹھیک کہتے ہو....“
اس نے پھر دیوار کے ساتھ ٹیک لگالی۔ آنسوﺅں کے دو موٹے موٹے قطرے اس کے رخساروں پر ڈھلکے اور پھر نیچے لڑھک گئے۔
اب باہر سے سادھو کی آواز آرہی تھی۔ وہ کھڑتالیں بجا رہا تھا اور میرا کابھجن مدھم سروں میں گا رہا تھا۔ پانی کا دھارا اور تیز ہو گیا اور باہر دھوپ کی روشنی منڈیروں پر جاپہنچی تھی۔ طالب نے ڈرتے ڈرتے گیانی کا زانو ہلایا۔ گیانی نے آنکھیں کھول دیں۔
طالب نے پوچھا۔ ”گیانی جی یہ سب کیا ہے؟ میں کیا ہوں.... تم کون ہو؟“
”یہ سب مایا ہے۔“ گیانی نے آرام سے کہا۔ ”تم اینٹ پتھر کی دنیا میں ہو.... ہم لو بھی ہیں، کرودھی ہیں، اہنکاری ہیں....“
طالب نے کہا۔ ”گیانی تم کہاں رہتے ہو؟ کس دیس سے آئے ہو؟ کیا کام کرتے ہو؟“
گیانی نے کہا۔ ”بابا لوک! ہمارا گھر نہیں گھاٹ نہیں.... کوئی دیس نہیں، بھیس نہیں.... ہم کونج ہیں بابا لوک.... ہر دم آگے....ہر دم آگے....“
طالب نے پھر جھکتے ہوئے پوچھا۔ ”یہ تم کام کیا کرتے ہو گیانی؟“
”ہم چپراسی ہیں بابا لوک۔اس ساتھ کی بستی میں نوکری کرتے ہیں.... صاحب کا پھاٹک کھولتے ہیں، بند کرتے ہیں.... پر سچا صاحب ہمیں منہ نہیں لگاتا.... میرے بابا سائیں فرماتے ہیں: فریدا چنت کھٹولا دان دکھ برہا وچھاون لیف ایہہ ہمارا جیوناتوں صاحب سچے دیکھ....“ طالب نے کہا۔ ”لیکن تم تو صوفی ہو.... سالک ہو.... بزرگ ہو۔“
گیانی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ ”ناں ناں ناں۔“ اس نے چیخ کر کہا۔”ہم لوبھی ہیں، کامی ہیں، اہنکاری ہیں.... تم اچھے ہو بابا لوک، ہم اپنے اپنے چور چھپائے پھرتے ہیں۔ تم ظاہر باطن ایک ہو۔“
طالب نے کہا۔ ”اور سادھو کا کیا نام ہے۔“
گیانی نے کان چھو کر کہا۔ ”سادھو سید زادہ ہے بابا لوک، ہم اس کا نام نہیں لے سکتے.... اس کا درجہ بہت بڑا ہے۔ جاﺅ جاﺅ بابا لوک باہر بگیا کی ہوا کھاﺅ.... من شانت کرو۔“
طالب نے اس کے قریب دو زانوں ہو کر کہا۔ ”گیانی! میں بھی اس آشرم میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔“ اس کا دل گیانی کے قدم چھونے کو چاہتا تھا لیکن اسے حوصلہ نہ ہوا۔
گیانی مسکرایا.... پھر ہنسا.... اور دیر تک ہنستا رہا.... باہر سادھو میرا کابھجن گا رہا تھا اور اب اس پر حنیف کی خوبصورت قرا¿ت غالب آنے لگی تھیں.... وہ خالص مصری لہجے میں ”سورة یٰسین“ کی قرا¿ت کر رہا تھا۔ طالب نے ڈرتے ڈرتے گیانی کے پیر چھوکر کہا۔ ”سائیں!“
گیانی نے اپنے پیر پیچھے کھینچ لئے اور کہا۔ ”مایا ہے، سب مایا بابا لوک.... تم ٹھیک ہو، صحیح راستے پر ہو۔“
طالب نے کہا۔ ”گیانی! میں جان دے دوں گا لیکن لیکن....“ اور پھر اس کی آواز بھرا گئی۔
گیانی نے انگلی اوپر اٹھا کر کہا۔ ”ایک!“
طالب نے دہرایا۔ ”ایک“
گیانی پھر بولا۔ ”ایک“
طالب نے کہا۔ ”ایک“
گیانی تڑپ کر کھڑا ہو گیااور ایک انگلی فضا میں کھڑی کرتے ہوئے بولا۔ ”ایک اونکار ست نام، کرتا پرکھ، نربھونردیر، اکال مورت، اجونی سے بھنگ گور پر ساو! آوسچ جگاد سچ، ہے بھی سچ، نانک، ہوسی بھی سچ۔“ اور پھر وہ اپنی انگلی کو فضا میں اسی طرح اٹھائے باہر آنگن میں نکل گیا۔
طالب کتنی دیر تک اس کوٹھڑی میں چٹائی پر بیٹھا اِرد گرِد دیواروں کو تکتا رہا۔
جب وہ باہر نکلا تو دھوپ جا چکی تھی۔ آنگن میں ٹھنڈک تھی اور گلاب اور موتیے کے دھلے دھلائے پھول مہک رہے تھے۔
سادھو اپنے گیروے رنگ کے ابرن میں، پانی ڈوبی گھاس میں بیٹھا خاموش جپ کر رہا تھا۔ حنیف نل کے پاس اوندے منہ لیٹا تھا اور اس کے تڑپنے سے بہت سا گارا اس کی پنڈلیوں، پاﺅں اور ہاتھوں سے چمٹا ہوا تھا۔ اس نے اپنا ماتھا بار بار زمین پر مارا تھا اور وہاں خون کا ایک بڑا سا دھبہ تھا۔ گیانی نل کے منہ پر پلاسٹک کی سبز ٹیوب چڑھائے، پودوں کا منہ دھلا رہا تھا اور گھروں کی عقبی دیواروں کو جو ان کی بگیا کی چار دیواری بناتی تھیں، پانی کے فوارے سے ٹھنڈی کر رہا تھا۔ طالب چوپڑ کی روش پر دو زانو بیٹھ گیا۔ اس کے کپڑوں پر دیواروں سے ٹکرانے والے چھینٹے آکر گرتے تھے، پر وہ خوش تھا۔ ایک طرح کی عجیب ٹھنڈک تھی جو اس کے دل و دماغ کو تازہ کر رہی تھی اس میں جسمانی آسودگی کم تھی، روحانی ٹھنڈک زیادہ تھی اسے کچھ یوں محسوس ہونے لگا کہ اس جلتی جھلستی دنیا میں بس ایک ہی نخلستان ہے کہ جہاں بیٹھ کر آدمی بڑے گہرے اور بڑے دیر پا دکھ سمیٹ سکتا ہے جن کی لذت کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔
سیلی سیلی زمین کی کچی ٹھنڈک اور پانی میں رچی ہوئی سرخ سرخ دیواروں سے پلٹ کر اس پر گرنے والے چھینٹے اسے اڑائے لئے جاتے تھے۔ اس زمین پر اوپر، پھاٹک کے اوپر، برجیوں کے اوپر، اس چھجے کے اوپر وہی لڑکی کھڑی تھی۔ اس کے جوڑے کا گجرا ایک طرف سے کھل گیا تھا اور اس کے بٹنوں کی زنجیر چاند کی ٹھنڈی کرن بن کر اس کے سینے سے چمٹی ہوئی تھی۔ طالب نے اسے دیکھا اور پھر دیکھتا چلا گیا۔ وہ تصوف کی غلام گردش میں ابوالخیر کی رباعی کی طرح منور کھڑی تھی۔
طالب نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ”یہ نروان ہے....“ پانی کے شور میں گیانی کو کچھ سنائی نہ دیا تو طالب نے چلا کر کہا۔ ”گیانی! یہ نروان ہے؟“ گیانی کی نگاہیں ادھر اٹھیں تو اس نے چیخ مار کر ٹیوپ چھوڑ دی اور“ مایا .... مایا.... موہ، موہ“ کی چیخیں مارتا اندر کوٹھڑی میں گھس گیا۔سادھو ہری جاپ کرتا اندر بھاگا اور حنیف بے خودی کے عالم میں لڑکھڑاتا ہوا طالب کے پاس سے گزر کر مٹھ کے اندر چلا گیا۔
طالب کتنی ہی دیر تک بیٹھا ادھر ادھر دیکھتا رہا اور پھر منور غلام گردش میں اندھیرا چھا گیا۔
اندر تینوں تپسوی توبہ استغفار اور پرائسچت میں مصروف تھے۔ ان کی آہوں اور کراہوں سے کوٹھڑی گونج رہی تھی۔ طالب اپنا سر زانوﺅں میں دبا کر ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ اب اس کا دل ملامت کر رہا تھا کہ اس نے بھی بھاگ کر مٹھ میں کیوں پناہ نہ لی۔ وہ ٹھنڈک اور وہ شبنمیں رسمساہٹ جو اس کے وجود کو نصیب ہوئی تھی اس سے کوسوں دور بھاگ چکی تھی اوروہ ایک مرتبہ پھر بھری دنیا میں اکیلا اور بے یارومددگار ہو گیا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر صوفیوں میں سے کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس وقت اپنے آپ سے بہت دور تھے۔
وہ پھر سر زانوﺅں میں دبا کر بیٹھ گیا اور اپنے کئے پر پچھتانے لگا۔ یوں بیٹھے بیٹھے کتنی ہی مدت بیت گئی اور پھر جیسے اس نے اپنی پشت پر ایک چھوٹے سے ہاتھ کا دباﺅ محسوس کیا۔ اس دباﺅ میں گرمی بھی تھی اور ٹھنڈک بھی۔ کچھ حجاب بھی تھا اور ذرا سی بے تکلفی بھی۔ اس نے سر اٹھا کر اور پیچھے مڑ کر دیکھا، رانی سر جھکائے کھڑی تھی۔
طالب کی سرخ سرخ آنکھوں کو دیکھ کر سہم سی گئی۔ پھر حوصلہ کر کے بولی.... ”باجی آئی ہیں۔“
”کون باجی؟“ طالب نے تڑپ کر پوچھا۔
”باجی“ اس نے وثوق سے کہا۔ ”میری باجی“
باہر چوپڑ کی روش پر، مٹھ کے پاس باجی سفید قمیص اور سفید دوپٹہ اوڑھے کھڑی تھی۔ بگیا میں اب موتیے کی خوشبو تیز ہوگئی تھی۔اس نے سر اوپر اٹھائے بغیر کہا۔ ”میں نے کئی مرتبہ یہاں آنے کی ہمت باندھی لیکن مجھے کبھی حوصلہ نہ ہوا۔ آج آپ کو یہاں دیکھ کر میں نے یہ جرا¿ت کر ہی لی۔میں ان سے ملنا چاہتی ہوں۔“
”کن سے۔“ طالب نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
”ان میں سے کسی سے بھی۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان سے بات کر کے مجھے سکون نصیب ہوگا۔ مجھے ذہنی آسودگی میسر آئے گی اور.... اور....“
”لیکن!“.... طالب نے بات کاٹ کر کہا۔ ”یہ لوگ آپ سے ہر گز نہیں ملیں گے۔“
”باجی نے التجا بھرے لہجے میں کہا۔ ”آپ ان سے درخواست تو کر کے دیکھیں.... شاید....شاید....“اور پھر اس نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔
طالب نے کہا۔ ”مجھے معلوم ہے نا، یہ آپ سے ہر گز بات نہ کریں گے۔“
باجی ہولے سے بولی۔ ”آپ کو دیکھ کر ایک ہلکی سی امید بندھی تھی۔ وہ بھی ٹوٹ گئی۔“ پھر اس نے جیسے اپنے آپ سے کہا۔ ”پتہ نہیں یہ سب حیرت کی بنا پر ہے یا نامانوس ماحول کی وجہ سے.... مجھے ان سے ملنے کی بڑی آرزو تھی.... اب بھی ہے اور پتہ نہیں کب تک رہے گی.... اور پھر پتہ نہیں آدمی خود کب تک رہتا ہے.... چل رانی چلیں....“ وہ مڑنے لگی تو اندر سے حنیف کی آواز آئی۔
”کیا بات ہے بابا.... کون ہے؟“
طالب نے کہا۔ ”رانی کی باجی آئی ہے.... وہ آپ لوگوں سے ملنا چاہتی ہے۔“
”ہری ہر.... ہری ہر.... “سادھو نے کہا۔ ”کیا بات ہے ماتا.... کیوں ملنا چاہتی ہو؟“ باجی خاموش رہی تو سادھو نے پکار کر کہا۔ ”چنتا ماتا بولو۔“
”بولو میری بہن.... میری ماں.... میری بیٹی، کیا بات ہے؟“ حنیف نے پوچھا۔
”کچھ نہیں۔“ باجی نے ہولے سے کہا۔ ”کچھ نہیں۔“
گیانی نے پکار کر کہا۔ ”ماتا تو مایا ہے.... تو قدم قدم پر چک پھیری دیتی ہے۔ ہم سادھو ہیں، درویش ہیں۔ ہم اس گورو کے چیلے ہیں جو اسیسی کی پہاڑیوں میں صلیب اٹھائے مارا مارا پھرتا تھا.... بول ماتا۔“
”بول ماتا“ سادھو نے کہا۔ ”ہم تیرے ہاتھ جوڑتے ہیں، ہمارے آشرم میں تیرا کیا کام۔“ باجی سر جھکائے خاموش کھڑی رہی!
”بول چتنا منی“ حنیف نے کہا ”بول چنتا ماتا۔ اگر تجھے پسند نہیں تو ہم یہ آشرم چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں گے.... تو ماتا ہے، تیری ہر آگیا کا پالن ہمارا دھرم ہے۔“
سادھو نے کہا۔ ”ہم یہ آشرم چھوڑ دیں....“ ،”نہیں.... نہیں“ باجی نے رو کر کہا۔ ”نہیں میں یہاں پھر نہیں آﺅں گی۔ اس آشرم میں پھر قدم نہیں رکھوں گی۔“ یہ کہتے ہوئے وہ رانی کی انگلی تھام کر پھاٹک سے باہر نکل گئی۔
طالب نے ڈرتے ڈرتے مٹھ میں قدم رکھا تینوں سادھوﺅں کو سکتے کے عالم میں پایا۔ وہ کوٹھڑی کی دہلیز سے لگ کر کھڑا ہو گیا۔ دور گرجے کا گھڑیال گونجنے لگا۔ گیانی نے آنکھیں کھول کر اپنے سینے پر صلیب کا نشان بنایا اور گھمبیر آواز میںکہنے لگا۔
“Are maria piena di grazia il signor con te. Tu sei benedetta fra le donne ebenedetto eil frutto del ventro tuo Gesu.”
اور اس شام طالب کو حنیف کے دوست مسعود سٹینو کے لئے حنیف سے جو تعارفی خط لینا تھا وہ اسے لئے بغیر آشرم کا دروازہ آہستہ سے کھول کر اور دھیرے سے بند کر کے گھر چلا آیا۔
کوئی تین ماہ بعد شیخوپورہ سے واپسی پر جب طالب کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ مسعود سٹینو کی امداد اس کا نصف سے زائد کام سرانجام دے دے گی تو وہ ایک مرتبہ پھر حنیف کے دفتر گیا۔ لیکن حنیف سے اس کی ملاقات نہ ہو سکی۔ آشرم جانے سے وہ کتراتا تھا، اس لئے اس نے ملاقات اگلے دن پر ملتوی کر دی۔ اگلے دن دفتر سے پتہ کر کے وہ سیدھا اس جگہ پہنچ گیا جہا ںنئے سب اسٹیشن پر حنیف کی ڈیوٹی لگی تھی۔ لائن مین نےطالب کو سر سے پاﺅں تک دیکھا اور پھر پوچھا۔ ”جناب کہا ںسے تشریف لائے ہیں؟“
”یہیں سے۔“ طالب نے کہا ”لاہور سے۔“
لائن مین نے ذرا سے توقف کے بعد کہا۔ ”حنیف گھر چلا گیا، چھٹی لے کر، ا س کی طبیعت خراب تھی۔“
”طبیعت خراب تھی“ طالب نے پریشان ہو کر پوچھا۔
”جی ہاں بس طبیعت ہی خراب سمجھو.... بادشاہ آدمی ہے۔“ لائن مین نے مسکرا کر کہا۔
طالب کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ سیدھا آشرم جائے اور حنیف سے مسعود سٹینو کے نام کی چھٹی حاصل کر لے۔
ابھی کرشن نگر کی بڑی سڑک سے گلی کا موڑ مڑا ہی تھا کہ اس کی مڈبھیڑ رانی سے ہوگئی۔ اس نے آگے بڑھ کر شرارت سے رانی کا سر سہلایا اور کہا۔ ”بھوتنی اتنی دوپہر میں کہا ںجا رہی ہو؟“
”دہی لینے رانی نے سر جھکا کر جواب دیا۔ طالب نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا۔ ”باجی کا کیا حال ہے؟“
”وہ تو مر گئیں“ رانی نے اپنی ٹھوڑی اپنے سینے میں پیوست کر لی۔
طالب کے سامنے اس تپتی دوپہر میں بجلی کا ایک کوندا تڑپا اور اسے ساکت و جامد چھوڑ گیا۔ کتنی دیر تک رانی ہاتھ میں سلور کا کٹورہ لئے کھڑی رہی۔ طالب نے اس کے سر پر سے ہاتھ اٹھا کر پوچھا۔ ”کیسے؟“
”ایک دن“رانی نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا۔ ”ایک دن سکول سے پڑھا کر آئیں۔ گھڑے سے ٹھنڈا پانی پیا اور بستر پر لیٹتے ہی ایک چیخ ماری.... پھر وہ مر گئیں.... ایک منٹ کے اندر اندر۔“
طالب نے کہا۔ ”تمہارے ابا نہیں تھے گھر پر؟“
”جی نہیں!“ رانی نے سر ہلا کر کہا۔ ”میرے ابا تو شہید ہو چکے ہیں جی....“
”اور دوسری باجی وہ جو....“ طالب نے بات پلٹنا چاہی۔
”جی میری اور تو کوئی باجی نہیں۔“ رانی نے جواب دیا۔ ”بس میں اور امی ہیں۔ اکیلی۔“
طالب اس لڑکی کو جھلستی دوپہر میں اس طرح سلور کا کٹورہ ہاتھ میں تھامے چھوڑ کر کچھ کہے سنے بغیر آشرم کے پھاٹک پر پہنچ گیا۔
آشرم کا پھاٹک کھلا تھا۔ عشق پیچاں کی بیل میں کاسنی پھول لگے تھے۔ چوپڑ کی روشوں کے گرد گھاس کے قطعوں میں گھاس ڈباﺅ پانی کھڑا تھااور موتیے اور گلاب کے پھول دھوپ کی حدت سے سنولائے ہوئے تھے۔
طالب مٹھ کے دروازے پر پہنچا۔ اندر سادھو، گیانی اور حنیف تپائی بیچ میں رکھے فلاش کھیل رہے تھے اور ان کے درمیان نئے نئے سکوں اور روپئے روپئے کے نوٹوں کا ایک ڈھیر پڑا تھا۔
”آﺅ آﺅ“ سادھو نے خالص فلمی لہجے میں کہا۔ ”آجاﺅ!“
”ہوجائے ایک بازی کٹ تھروٹ“ گیانی چلایا۔
حنیف طالب کی پذیرائی کے لئے آگے بڑھا۔ لیکن طالب دہلیز کے ساتھ ٹیک لگا کر پتھر کی مورتی بن گیا۔ اس نے پہلے سب کو ایک ایک کر کے دیکھا۔ پھر چھت کی طرف نگاہیں دوڑائیں پھر گردن گھما کر باہر کی طرف دیکھا.... مکان بھی وہی تھا۔ مکین بھی وہی تھے.... جغرافیہ بھی وہی تھا.... لیکن تماشا دیکھنے والی آنکھ باقی نہ رہی تھی!
[/color]

این اے ناصر
05-05-2012, 12:57 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔