PDA

View Full Version : تازگی جو دل کو دے گلاب کہا تھا



گلاب خان
01-12-2011, 10:14 PM
تازگی جو دل کو دے گلاب کہا تھا
دوستوں کے چہروں کو کتاب کہا تھا

تم نے تو کہہ دیا کہ ستم پہ ہے ستم
ہم نے تو دوستوں کو آداب کہا تھا

تھا اِن سے مدتوں کے بعد رابطہ ہوا
زندگی کا ہم نے تو اِک باب کہا تھا

دوست دوستوں سے رہیں ربط میں ہمیشہ
ادھورا اپنا ہم نے تو اِک خواب کہا تھا

گمان سا ہوا تھا کسی کے روٹھ جانے کا
دل کے واہموں کا اِک سراب کہا تھا

منزلوں کے راستے میں غم سے ہوئے چُور
اِک چھایا اپنی سوچ پہ عذاب کہا تھا

ہمیں بےشک رکھنا ہے خود کو سنبھال کے
کبھی ناصر نے زمانے کو خراب کہا تھا

بےباک
01-14-2011, 12:12 PM
تازگی جو دل کو دے گلاب کہا تھا
دوستوں کے چہروں کو کتاب کہا تھا

تم نے تو کہہ دیا کہ ستم پہ ہے ستم
ہم نے تو دوستوں کو آداب کہا تھا


....................
بہت ہی خوب جناب ، زبردست ، ماشاءاللہ ،...... گلاب خان آپ چھا گئے ہیں ،:heart::heart::heart::heart::heart::heart::heart ::heart:

تانیہ
01-14-2011, 09:07 PM
واہ....

این اے ناصر
03-31-2012, 01:18 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ