PDA

View Full Version : ہمفروں اور لارنس آف عریبیائوں کو پہچانیں



بےباک
01-13-2011, 11:24 AM
ہمفروں اور لارنس آف عریبیائوں کو پہچانیں


سلطنتِ عثمانیہ یا خلافتِ عثمانیہ 1229ء کا سورج 1299ء میں طلوع ہو کر 1922ء کو غروب ہو گیا۔ اپنے عروج کے زمانے 16 ویں اور 17 ویں صدی میں تین براعظموں تک پھیلی ہوئی تھی۔ جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیر قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ سلطنت عثمانیہ کو اپنے دور میں سپر پاور کی حیثیت حاصل تھی۔ پہلی جنگ عظیم میں عثمانیوں کے شکست کے دو اہم اسباب ایڈمنڈ ایلنبائی کی زیر کمان برطانوی افواج کی اہم اہداف پر حملے اور عرب بغاوت تھے۔ ان میں عرب بغاوت سلطنت عثمانیہ کی شکست کا سب سے بڑا سبب سمجھی جاتی ہے۔ عرب بغاوت کی ان مہمات کا آغاز شریف مکہ حسین کی جانب سے برطانیہ کی مدد سے جون 1916ء میں جنگ مکہ سے اور اس کا اختتام دمشق میں عثمانیوں کے اسلحہ پھینک دینے کے ساتھ ہوتا ہے. مدینہ کے عثمانی کماندار فخری پاشا نے محاصرہ مدینہ میں ڈھائی سال سے زیادہ عرصے تک زبردست مزاحمت کی۔ 1922ء جنگ عظیم کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ میں تقسیم کا عمل قسطنطنیہ پر قبضہ کے 13 دن بعد 30 اکتوبر 1918ء کو معاہدہ مدروس کے ذریعے شروع ہوا۔ اور بعد ازاں معاہدہ سیورے کے ذریعے مشرق وسطٰی میں عثمانی مقبوضات کو برطانیہ اور فرانس کے حوالے کر دیا گیا جبکہ بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں کو اٹلی، ترک ایجیئن ساحلوں کو یونان، اور آبنائے باسفورس اور بحیرہ مرمرہ کو بین الاقوامی علاقے کے طور پر اتحادی قوتوں کے حوالے کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقی اناطولیہ میں جمہوریہ آرمینیا کو توسیع دیتے ہوئے ولسونین آرمینیا کی تشکیل دی گئی جو آرمینیائی باشندوں کا قدیم وطن تھا تاہم بعد ازاں ان علاقوں میں ترک اور کرد بھی بس گئے۔ برطانیہ نے مشرق وسطٰی کی تقسیم کے لیے انتہائی چالاکی و عیاری کے ساتھ فرانس کے ساتھ
سائیکوس-پیکوٹ نامی خفیہ معاہدہ کیا یکم نومبر 1922ء کو سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا آخری سلطان محمد ششم وحید الدین 17 نومبر 1922ء کو ملک چھوڑ گئے۔ چند ماہ بعد 3 مارچ 1924ء کو خلافت کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا اور سلطان اور ان کے اہل خانہ کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر جلاوطن کر دیا گیا۔ 50 سال بعد 1974ء میں ترک قومی مجلس اعلٰی نے سابق شاہی خاندان کو ترک شہریت عطا کرتے ہوئے وطن واپسی کی اجازت دے دی۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے نتیجے میں جو نئے ممالک قائم ہوئے ان کی تعداد اِس وقت (بشمول متنازع شمالی ترک جمہوریہ قبرص) 40 بنتی ہے۔
ہمفرے ایک ایسا برطانوی جاسوس تھا جس نے لارنس آف عریبیا سے بھی پہلے خلافت عثمانیہ کو توڑنے کی راہ ہموار کی اور اہم کردار ادا کیا تھا۔
۔ہمفرے نے ایک مسلمان کا روپ دھارا، اپنی جاسوسیوں کی ابتداء ترکی سے کی جس کے بعد وہ عربستان (موجودہ سعودی عرب) چلا گیا جہاں اس نے اسلام میں رخنے پیدا کرنے اور ترکی خلافت کے خلاف عربوں کو ہموار کرنے اور بغاوت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ہیمفرے نے اپنی یادداشتیں قلم بند کیں ۔پہلے پہل یہ یادداشتیں قسط وار جرمنی کے مشہور اخبار شپیگل (Spiegel)،بعد میں یہ فرانسیسی اخبار لو موند (Le Monde) میں شائع ہوئیں جہاں سے لبنان کے ایک مترجم نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا۔ کافی عرصہ بعد اس کا انگریزی ترجمہ بعنوان ایک برطانوی جاسوس کے اعترافات اور برطانیہ کی اسلام دشمنی (Confessions of a British spy and British enmity against Islam) ہزمت بکس (Hizmet Books) نے برطانیہ سے شائع کیا۔
ہیمفرے برطانیہ کی وزارتِ نوآبادیات (Ministry of Colonies ) کی طرف سے خلافت عثمانیہ کے زیرِ نگین علاقوں میں آیا۔ اس کا کام دو برطانوی مقاصد کو حاصل کرنا تھا۔ اول یہ کہ موجودہ نوآبادیات میں برطانوی قبضہ کو مستحکم کرنا اور دوم یہ کہ نئی نوآبادیات بنانا خصوصاً اسلامی ریاستوں پر قابض ہونا۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہمفرے نے بظاہر اسلام قبول کیا اور ترکی میں رہائش رکھی۔ وہاں اس نے ترکی میں رہائش پذیر عربوں میں ترکوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کیا۔ یہ دور اٹھارویں صدی کا ابتدائی زمانہ ہے۔ خود ہمفرے کے الفاظ میں وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اسلامی دنیا میں اس جیسے 5000 برطانوی جاسوس بھیجے گئے تھے جنہیں عربی و ترکی زبانوں کی تعلیم بھی دی گئی تھی۔ اولاً ان افراد کو 1710ء میں بھیجا گیا تھا۔ 1720ء اور 1730ء کی دہائی میں ہمفرے نے اپنا کام جاری رکھا۔ اس کے اپنے الفاظ کے مطابق اس نے ایک انقلابی مسلمان کے طور پر ابنِ محمد کے ساتھ تعلقات بڑھائے اور اسے شیشے میں اتارا۔ ہمفرے لکھتا ہے کہ اس نے ابن محمد کے ساتھ مل کر قرآن کی ایک تفسیر بھی لکھی۔ اس نے عرب سرداروں اور دیگر اہم افراد کے ساتھ بھی تعلقات بڑھائے۔ بعض وقتوں میں اس نے دو لاکھ برطانوی پونڈ فی مہینہ تک عربوں میں بانٹے۔ یہ وہ رقم تھی جو برطانیہ انہیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دیتا تھا۔ ہمفرے نے 11 تربیت یافتہ برطانوی افراد کو جو صحرائی جنگ کے ماہر تھے، غلاموں کے روپ میں عربوں کو پیش کیا تاکہ وہ ترکوں کے خلاف کام آ سکیں۔
آج پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اسلامی ممالک کی امیدوں آرزوؤں اور خواہشات کا مرکز پاکستان ہے۔ ہر اسلامی ملک پاکستان کو اپنی ایٹمی قوت سمجھتا ہے۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم OIC کسی بھی وقت فعال ہو سکتی ہے۔ مسلمان متحد ہو سکتے ہیں۔ اسلامی ممالک کا اتحاد سلطنتِ عثمانیہ کی طرز پر نہ بھی ہو یورپی یونین کی طرز پر ہو سکتا ہے۔ ایسا ہو جائے تو اسلامی ممالک مضبوط‘ ایٹمی اور معاشی بلاک کی صورت میں دنیا پر چھا جائیں گے یہی مغرب کو سب سے بڑا خدشہ اور خطرہ ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے پیچھے یہ لوگ اسی لئے پڑے ہوئے ہیں یہی مسلمانوں کو متحد نہیں ہونے دیتے۔ عراق اور کویت کو لڑا دیتے ہیں‘ ایران اور عراق میں پنجہ آزمائی کرا دیتے ہیں۔ افغانستان کو پاکستان کے سامنے لاکھڑا کرتے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر کے مسائل جان بوجھ کر کھڑے کر کے ان کے حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے خاتمے کیلئے نہ جانے کتنے ہمفرے اور لارنس آف عریبیہ ارض پاک میں گھس آئے ہیں۔ پاکستان کو خودانحصاری کی منزل سے دور رکھنے کیلئے عالمی مالیاتی ادارے دھڑا دھڑ قرض دے رہے ہیں امریکہ کیری لوگر بل کی صورت میں خیرات دے رہا ہے۔ ہم اپنے وسائل کرائے کے فضول بجلی گھروں پر خرچ رہے ہیں۔ پاکستان واقعتاً اسلام کا قلعہ اور اسلامی ممالک کی آرزوؤں کا مرکز بن سکتا ہے اگر ہم لارنس آف عریبیاؤں اور ہمفروں کو پہچان لیں۔

(بشکریہ نواءےوقت. )

علی عمران
01-13-2011, 06:19 PM
واہ واہ بہت خوب بے باک جی................اچھی تحریر شیئر کرنے کا شکریہ....:heart:

تانیہ
01-13-2011, 10:36 PM
بہت خوب...تھینکس فار شیئرنگ

بےباک
01-25-2011, 02:53 PM
شکریہ آپ سب کا ،
واقعی آج یہ ملک لٹیروں کے چنگل میں اس طرح آ گیا ھے جس طرح ایک چڑیا زاغوں کے نرغے میں آ جاتی ہے

این اے ناصر
03-13-2011, 02:59 PM
زبردست تاریخی ارٹیکل ہے.

نگار
10-20-2012, 01:07 AM
حویلی کا راز

بسم اللہ الرحمن الرحیم


مسلمانوں کو بہت سے مسائل کے ساتھ جس ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ ہے باہمی اتحاد کی کمی،ایک خدا،ایک رسول ﷺ ،ایک کتاب،ایک امت لیکن پھر بھی امت اتنی پارہ پارہ کیوں ہے ۔ اس میں ہماری اپنی کوتاہیوں کے ساتھ اسلام کے دشمنوں کی بھی محنت شامل ہے زیرِ نظر مضمون ایک ایسی ہی حقیقت ہے کہ کیوں ابھی تک ہم ایک چاند پر بھی متفق نہیں ہو پارہے۔یہ مضمون جولائی 2010 ءاُردو ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا۔

”نواب راحت خان سعید خان چھتاری 1940 ءکی دہائی میں ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کے گورنر رہے۔انگریز حکومت نے انہیں یہ اہم عہدہ اس لئے عطا کیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست سے لاتعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔نواب چھتاری اپنی یاداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ ایک بار انہیں سرکاری ڈیوٹی پر لندن بلایا گیا ۔ان کے ایک پکے انگریز دوست نے جو ہندوستان میں کلکٹر رہ چکاتھا ،نواب صاحب سے کہا ”آئیے ! آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کراوں جہاں میرے خیال میں آج تک کوئی ہندوستانی نہیں گیا۔“نواب صاحب خوش ہوگئے ۔انگریز کلکٹر نے پھر نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا کہ وہ جگہ دیکھنے کیلئے حکومت سے تحریری اجازت لینی ضروری تھی۔دو روز بعدکلکٹر اجازت نامہ ساتھ لے آیا اور کہا ”ہم کل صبح چلیں گے“ لیکن میری موٹر میں‘موٹر وہاں لے جانے کی اجازت نہیں۔

اگلی صبح نواب صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئے ۔شہر سے باہر نکل کر بائیں طرف جنگل شروع ہوگیا ۔جنگل میں ایک پتلی سی سڑک موجودتھی۔جوں جوں چلتے گئے جنگل گھنا ہوتا گیا ۔سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک تھا نہ کوئی پیدل مسافر نواب صاحب حیران بیٹھے اِدھراُدھر دیکھ رہے تھے موٹرچلے چلتے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا۔تھوڑی دیربعد ایک بہت بڑا دروازہ نظر آیا ۔پھر دور سامنے ایک نہایت وسیع وعریض عمارت دکھائی دی،اس کے چاروں طرف کانٹے دور جھاڑیاں اور درختوں کی ایسی دیوار تھی جسے عبور کرنا ناممکن تھا،عمارت کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا۔
اس عمارت کے باہر فوجیوں نے پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامہ غور سے دیکھا اور حکم دیا کہ اپنی موٹر وہیں چھوڑ دیں اور آگے جو فوجی موٹر کھڑی ہے اس میں سوار ہو جائیں،نواب صاحب اور انگریز کلکٹر پہرے داروں کی موٹر میں بیٹھ گئے اب پھر اس پتلی سڑک پر سفر شروع ہوا،وہی گھنا جنگل اور دونوں طرف جنگلی درختوں کی دیواریں۔نواب صاحب گھبرانے لگے تو انگریز نے کہا
”بس منزل آنے والی ہے۔“
آخر دورایک اور سرخ پتھر کی بڑی عمارت نظر آئی تو فوجی ڈرائیور نے موٹر روک دی اور کہا ”یہاں سے آگے آپ صرف پیدل جا سکتے ہیں “راستے میں کلکٹر نے نواب صاحب سے کہا
”یاد رکھیں ‘کہ آپ یہاں صرف دیکھنے آئے ہیں بولنے یا سوال کرنے کی بالکل اجازت نہیں ۔“
عمارت کے شروع میں دالان تھا اس کے پیچھے متعدد کمرے تھے دالان میں داخل ہوئے تو ایک باریش نوجوان عربی کپڑے پہنے سر پر عربی رومال لپیٹے ایک کمرے سے نکلا دوسرے کمرے سے ایسے ہی دو نوجوان نکلے ۔پہلے نے عربی لہجے میں ”السلام علیکم“ کہا۔دوسرے نے ”وعلیکم السلام !کیا حال ہے ؟“نواب صاحب یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔کچھ پوچھنا چاہتے تھے لیکن انگریز نے فوراً اشارے سے منع کردیا۔چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے دیکھا کہ اندر مسجد جیسا فرش بچھاہے عربی لباس میں ملبوس متعدد طلبہ فرش پر بیٹھے ہیں ان کے سامنے استاد بالکل اسی طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں
جیسے اسلامی مدرسوں میں پڑھاتے ہیں۔طلباءعربی اور کبھی انگریزی میں استاد سے سوال بھی کرتے ۔نواب صاحب نے دیکھا کہ کسی کمرے میں قرآن کا درس ہورہا ہے ،کسی جگہ بخاری کا درس دیا جارہا ہے اور کہیں مسلم شریف کا ۔ایک کمرے میں مسلمانوں اور مسیحوں کے درمیان مناظرہ ہورہا تھا ایک اور کمرے میں فقہی مسائل پر بات ہورہی تھی ۔سب سے بڑے کمرے میں قرآن مجید کا ترجمہ مختلف زبانوں میں سکھایا جارہا تھا۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ ہر جگہ باریک مسئلے مسائل پر زور ہے ۔مثلاً وضو،روزے،نماز اور سجدہ سہو کے مسائل ،وراثت اور رضاعت کے جھگڑے ،لباس اور ڈاڑھی کی وضع قطع،چاند کانظر آنا،غسل خانے کے آداب ،حج کے مناسک،بکرا ،دنبہ کیساہو،چھری کیسی ہو ،دنبہ حلال ہے یا حرام،حج بدل اور قضاءنمازوں کی بحث،عید کا دن کیسے طے کیاجائے اورحج کا کیسے؟پتلون پہنناجائزہے یا ناجائز ؟عورت کی پاکی کے جھگڑے ،امام کے پیچھے سورة الفاتحہ پڑھی جائے یا نہیں ؟تراویح آٹھ ہیں یا بیس؟وغیرہ
ایک استاد نے سوال کیا،پہلے عربی پھر انگریزی اور آخر میں نہایت شستہ اردو میں!”جماعت اب یہ بتائے کہ جادو ،نظربد،تعویذ ،گنڈہ آسیب کا سایہ برحق ہے یا نہیں ؟“پینتیس چالیس کی جماعت بہ یک آواز پہلے انگریزی میں بولیTRUE,TRUE پھر عربی میں یہی جواب دیا اور اردو میں!

ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر سوال کیا
”الاستاد ،قرآن تو کہتا ہے ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے۔“استاد بولے ”قرآن کی بات مت کرو،روایات اور ورد میں مسلمان کا ایمان پکا کرو۔ستاروں ،ہاتھ کی لکیروں ،مقدراور نصیب میں انہیں اُلجھاو۔“
یہ سب دیکھ کر وہ واپس ہوئے تو نواب چھتاری نے انگریز کلکٹر سے پوچھا
”اتنے عظیم دینی مدرسے کو آپ نے کیوں چھپارکھا ہے؟
انگریز نے کہا
”ارے بھئی ،ان سب میں کوئی مسلمان نہیں یہ سب عیسائی ہیں تعلیم مکمل ہونے پرانہیں مسلمان ملکوںخصوصاًمشرق وسطی،ترکی،ایران اور ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے۔وہاں پہنچ کر یہ کسی بڑی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں ۔پھر نمازیوں سے کہتے ہیں کہ وہ یورپی مسلمان ہیں ۔انہوں نے مصر کی جامعہ الازہر میں تعلیم پائی ہے اور وہ مکمل عالم ہیں ،یورپ میں اتنے اسلامی ادارے موجود نہیں کہ وہ تعلیم دے سکیں،وہ سردست تنخواہ نہیں چاہتے ،صرف کھانا،سر چھپانے کی جگہ درکار ہے۔وہ موذن،پیش امام ،بچوں کیلئے قرآن پڑھانے کے طورپراپنی خدمات پیش کرتے ہیں ،تعلیمی ادارہ ہو تو اس میں استاد مقررہوجاتے ہیں۔جمعہ کے خطبے تک دیتے ہیں۔“
نواب صاحب کے انگریز مہمان نے انہیں یہ بتا کر حیران کردیا کہ عظیم مدرسے کے بنیادی اہداف یہ ہیں:

(۱) مسلمانوں کو وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھاکر قرآن سے دور رکھا جائے۔

(۲) حضوراکرم ﷺ کا درجہ جس طرح بھی ہوسکے ،گھٹایا جائے۔اس انگریز نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 1920ء میں توہینِ رسالت کی کتاب لکھوانے میں یہی ادارہ شامل تھا۔اس طرح کئی برس پہلے مرزاغلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی بناکر کھڑا کرنے والایہی ادارہ تھا اسکی کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت سے تیار ہوکر جاتی تھی خبر ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب لکھوانے میں بھی اسی ادارے کا ہاتھ ہے۔

اب جنگل کی حویلی کے ایک مکین سے ملاقات کیجئے۔یہ واقعہ میرے دوست ،حسین امیر فرہاد کے ساتھ کویت میں پیش آیا ۔واقعہ انہی کی زبانی سنئیے : یہ 1979ءکا واقعہ ہے ان دنوں میں کویت کی ایک کمپنی میں مندوب تعلقات العامہ (افسر تعلقات عامہ) تھا۔ ہماری کمپنی کے ڈائریکٹر نے سری لنکا سے گھر کے کام کاج کیلئے ایک خادمہ منگوائی۔دوسرے دن مجھ سے کہا”اس خادمہ کو واپس بھیج دو ۔وہ ہمارے کسی کام کی نہیں کیونکہ عربی جانتی ہے نہ انگریزی ۔“میں اسکی دستاویزات لے کر متعلقہ جگہ پہنچاتو پتہ چلا کہ فی الحال سری لنکن سفارت موجود نہیں البتہ برطانوی باشندوں کے معاملات دیکھتے ہیں۔

برٹش کونسل میں استقبالیہ کلرک نے میرا کارڈ دیکھا تو مسٹر ولسن سے ملایا۔وہ بڑے تپاک سے ملے اور بٹھایا ۔جب اس نے اندازہ لگایا کہ میں بھارتی یا پاکستانی ہوں ،تو اردو میں کہا ”میں کیا خدمت کرسکتا ہوں؟“میں نے سری لنکن خادمہ کے متعلق بتایا ،تو اس نے کہا ”کوئی مسئلہ نہیں ،اسے ہم رکھ لیں گے ۔آپ کا جو خرچ آیا ،وہ ہم ادا کریں گے ،یہ بتاوکہاں کے رہنے والے ہو؟“میں نے کہا ”پاکستان۔“ وہ بولا“وہ تو بہت بڑا ملک ہے۔“میں نے کہا ”پشاور کا رہنے والا ہوں پشتو میں پوچھا ”کون سی جگہ؟“ میں نے بتایا ”نوشہرہ ۔“جب میں نے گاوں کا نام بتایا تو اسکی آنکھوں میں عجیب چمک پیدا ہوگئی ۔پھر وہ مختلف لوگوں کا پوچھنے لگا۔میں نے بتایا کہ کون مرگیا ہے اور کون زندہ ہے۔میں نے سوچا،ہوسکتا ہے یہ نوشہرہ چھاونی میں ملازمت کرتا رہاہو،لیکن اس کی عمر زیادہ نہیں تھی۔لیکن اس نے کچھ اور کہانی سنائی ۔پہلے اس نے کافی منگوائی پھر انٹر کام پر کلرک سے کہا کہ اس کے پاس کسی کو مت بھیجنا۔وہ اتنا خوش تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔کافی کے دوران اس نے بتایا ”میں آپ کے گاوں ،محلہ عیسیٰ خیل میں چار سال تک پیش امام رہا ہوں۔ میں نے پوچھا ”کیا آپ مسلمان ہیں؟“ وہ بولا میں نے چار سال تک آپ کے گاوں کا نمک کھایا ہے۔ ۔آپ کے گاوں والوں نے مجھے بڑی عزت دی۔میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔میں عیسائی یوں یعنی اہل کتاب۔“
اس کے بعد میرا اس کے ہاں آناجانا رہا ۔وہ مجھے اپنا ہم وطن سمجھتا رہااور تقریباً میرا ہم عمر تھا ۔تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارے ہاں پاکستان بننے کے بعد رہاتھا۔ایک میں پوچھا”آپ پٹھانوں کاکھانا کیسے کھاتے رہے؟“وہ کہنے لگا ”آپ لوگوں کا کھانا اتنا مزیدار ہوتا ہے کہ میں یہاں آج بھی گھر جاتے ہوئے ایرانی تندور سے روٹی لے کر موٹر میں روکھی کھاتا ہوں۔“

جب میں کویت سے پاکستان آرہا تھا تو میں نے اس سے وہی سوال پوچھا جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہا تھا۔میں نے دریافت کیا ”اب تو بتا دو کہ تم عیسائی ہوکر پٹھانوں کے گاوں میں روکھی سوکھی کھاتے اور پیش امام کی خدمات انجام دیتے رہے ۔۔۔۔ آخر کیوں ؟“
وہ کافی دیر سر جھکائے سوچتا رہا پھر سر اُٹھا کر میری آنکھوں میں جھانکا اور کہا ”ہمیں اپنے ملک کے مفادات کی خاطر بعض اوقات بہت کچھ کرنا پڑتا ہے ۔ہمارے ہاں لندن کے مضافات میں ایک مرکز ہے جہاں شکل وشباہت دیکھ کرانگریزوں کو بیرونی مذاہب اور زبان کی تعلیم دی جاتی ہے۔وہاں سے فارغ التحصیل ہوکر پھر ہمیں مختلف علاقوں میں بھیجا جاتا ہے ۔“
گاوں آکر میں نے عیسیٰ خیل کے بزرگوں کو یہ واقعہ سنایا تو ایک بوڑھے طالب گل نے کہا ”مجھے شک پڑا تھا،مگر سب کہہ رہے تھے کہ یہ چترالی ہے۔“ وہاں اکثر چترالی مولوی امام ہیں ۔وہ بھی گورے ہیں بالکل انگریزوں کی طرح۔پھر طالب گل نے کہا”چلو بھائی ۔ “اب چار سال کی نمازیں لوٹائیں جو ہم نے انگریز کے پیچھے پڑھیں۔۔۔۔خانہ خراب ہو اس کا۔“
جب میں جنگل کی حویلی کے متعلق پڑھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ مسٹر ویلن ضرور جنگل کی حویلی کا پروردہ تھا۔

یہود وہنود کی سازشیں بدستور جاری ہیں۔یہ مضمون اس نیت کے ساتھ بھیجا جارہا ہے تاکہ سادہ لوح مسلمان باخبر رہیں کہ دشمن انہیں کمزور کرنے کیلئے کیسی کیسی چالیں چلتا ہے اور خود بھی اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔

بےباک
10-20-2012, 02:00 AM
بہت بہت شکریہ جناب محترم نگار صاحب ،
آپ نے ایک بے حد اہم مضمون شئیر کیا ، اس پر آپ یقینا شاباش کے مستحق ہیں ، حقیقا ہم ان جیسے جاسوسوں کے نرغے میں ہیں اور ہم کچھ نہین سمجھ سکتے ،
اور اپنی سطحی سوچ کی وجہ سے آپس میں الجھتے رھتے ہیں ،
لیں آپ کو میں بھی ایک کتاب کےبارے بتاتا ھوں ،۔اس کتاب کا نام ھے ۔۔۔۔
ہمفرے کے اعترافات ۔ ایک برطانوی جاسوس کی کتاب

اس کتاب کو میں نے متحدث لایبریری فورم سے لیا ہے ، ذرا پڑھیں ڈاؤن لوڈ کر لیں اور پی ڈی ایف فائل کو ایکروبیٹ ریڈر سے کھولیں ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمفرے ایک برطانوی جاسوس تھا ۔ بقول ہمفرے، اس کو اسلامی ممالک میں جاسوسی اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ چناچہ اس نے اپنے آپ کو سادہ مسلمان پیش کرکے عربی زبان اور اسلام کی تعلیم حاصل کی ۔اس نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو پیدا کرنے کے لیے ایک شخص جناب شیخ عبدالوہاب رحمتہ اللہ علیہ کا انتخاب کیا ۔
قارئین کرام! اس کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہودی اور عیسائی لابی کس طرح مسلمانوں کے درمیان اور خاص طور پر شعیہ سنی اور وہابی کے درمیان اختلافات کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے اور انہی اختلافات کو بڑھانے کے لیے اور خاص طورپر وہابیوں کے خلاف سنی اور شیعہ لوگوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بونے کے لیے اس کتاب کو لکھا گیا ہے ۔ اس کتاب کی کہانی اس ڈھنگ سے تیار کی گئی ہے کہ شیعہ سنی اس کو حق سمجھ لیں اور اس کو بطور ہتھیار وہابیوں اور سعودی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے استعمال کریں۔ اور بدقسمتی سے دشمن اپنی اس کوشش میں کامیاب ہے۔ شیعہ اورسنی مسلمان اس کتاب کو اسی طرح حرف بہ حرف سچا مانتے ہوئے وہابیوں کے خلاف استعمال کررہے ہیں ۔ ان کے مختلف فورموں پر اس کتاب کو پیش کیا جارہا ہے ۔ بلکہ ڈاکٹر صفدرمحمود جنگ اخبار میں اس پر دوکالم بھی تحریر فرما چکے ہیں۔
اس کتاب میں شیعہ مکتب فکر کی بہت تعریف کی گئی ہے جبکہ شیخ عبدالوہاب کی انتہا ء درجے کی تذلیل کی گئی ہےاور ان کواس وقت کی برطانوی حکومت کا پٹھو قراردیا گیا ہے ۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ!
• کیا یہودی اور عیسائی لابی کا مقصد اور مشن مکمل ہو چکا ہے کہ اب وہ ان رازوں سے پردہ اٹھانے کو عیب نہیں سمجھتے ۔
• کیا وہ اس قدر بیوقوف ہیں کہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اس کتاب کے پڑھنے سے مسلمانوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت بڑھے گی۔
• کیا وہ اس قدر جاہل ہیں کہ اتنی معمولی سی بات بھی نہ سمجھتے ہوں کہ اس کتاب کو پڑھ کر اب کوئی مسلمان ان پر اعتبار نہ کرے گا۔
قارئین کرام ! ان تمام سوالوں کا جواب بہت آسان ہے کہ یقیناً وہ جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہوگا مگر اس کتاب سے جو مقصد وہ حاصل کرنا چاہ رہے تھے وہ مندرجہ بالا خدشات کے سامنے کچھ معنی نہ رکھتا تھا اور وہ تھا وہابیوں کے خلاف شیعہ اور سنی کو کھڑا کیا جائے ۔ چناچہ اس کتاب کو بامعنی بنانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے تمام منصوبے اور سرگرمیوں کو بھی بڑھا چڑھا کر اس میں بیان کریں تاکہ ایک سادہ مسلمان ،کتاب کے آخر میں بیان کی گئی کہانی کو سچ جان کر آپس میں تفرقے کو مزید بڑھا لیں۔ میرا ان سنی اور شیعہ بھائیوں سے ایک سوال ہے جو اس کتاب کو بڑھ چڑھ کر پیش کررہے ہیں کہ اگر اس کتاب میں شیخ عبدالوہاب کےکردار کی جگہ آپ کا کوئی عالم ہوتا تو کیا پھر بھی آپ اس پر اسی طرح ایمان رکھتے ؟
میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اس کتاب کرضرورپڑھیں مگر اس سوچ کے ساتھ کہ یہ کتاب اس جاسوس یا ادارے نے لکھی ہے کہ جو مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو بڑھانے کے لیے نہ صرف سر گرم تھے بلکہ اس وقت بھی ہیں ۔اور یہ کتاب بھی ان کے انہی منصوبوں کا ایک حصہ ہے۔اللہ تعالی ہمیں دشمنوں کے منصوبوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے نادان مسلمان بھائیوں کو بھی سوچنے سمجھنے اور اغیار کی چالوں میں نہ آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

کتاب کا لنک یہ ہے ،،،
http://www.mediafire.com/view/?immh14q1i1kcta6
ہمفرے کے اعترافات

pervaz khan
10-20-2012, 02:38 PM
جزاک اللہ