PDA

View Full Version : مورق عجلی رحمتہ اللہ علیہ



عبادت
01-14-2011, 04:28 PM
پاکیزہ زندگی

مورق عجلی رحمتہ اللہ علیہ
سلف صالحین میں بصرہ کے ایک بزرگ مورق عجلی رحمتہ اللہ علیہ گزارے ہیں جن کی کنیت ابو المعتمر تھی .انب سعد کہتے ہیں کہ ثقہ( با اعتماد قابل بھروسہ) اور عبادت گزار تھے تابعین میں شمار ہوتا ہے اور ان سے روایت بھی لی ہیں اگرچہ بعض ایسے صحابہ کرام سے بھی احادیث نقل کی ہیں جن سے ان کی ملاقات ثابت نہیں.
بہت کم گو تھے . بے ضرورت بات کرنا اور بے مقصد گفتگو پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ اس حقیقت سے واقف تھے کہ بہت سے گناہوں کا تعلق زبان سے ہوتا ہے کوئی زبان پر قابو پالے تو نہایت آسانی سے بے شمار گناہوں سے وہ بچ سکتا ہے . چنانچہ احادیث میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حقیقت بیاں ہوئی کہ جو شخص خاموشی اختیار کرلے وہ کامیاب ہو گیا اسی طرح بہت سےلوگ جہنم میں منہ کے بل زبان کی وجہ سے ڈالے جایں گے اپنے اپ کو قابو میں رکھنا اور خاموشی اختیار کرنا کچھ آسان نہیں مورق عجلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے دس سال میں خاموش رہنا سیکھا ہے اور میں نے غصے میں کبھی ایسی بات نہیں کہی جس پر غصہ ختم ہونے کے بعد مجھے ندامت و شرمندگی ہوئی ہو کہ میں نے غصے میں ایسی بات کیوں کہدی . اسی طرح انہی سے منقول ہے کہ بیس سال سے اللہ تعالی سے ایک ضرورت کی چیز مانگ رہا ہوں اور وہ ابھی بھی مجھے ( مکمل طور پر) نہیں ملی اور نہ میں ابھی اس سے مایوس ہوا ہوں ( یعنی مسلسل طلب اور کوشش میں لگا ہوا ہوں ) لوگوں نے دریافت کیا وہ کونسی چیز ہے ؟
فرمایا کہ میں کوئی بے مقصد اور بے فائدہ بات نہ کہوں ؛
دنیا میں مومن کی زندگی کیسی ہونی چاہیےاور اس کی کیا مثال دی جا سکتی ہے
جس سے بات سمجھ میں آجاے؟ فتادہ تابعی کہتے ہیں کہ میں نے مورق عجلی رحمتہ اللہ علیہ کو یہ کہتے سنا میں نے دنیا میں مومن کی مثال اس کے سوا کچھ نہ پائی کہ ایک شخص سمند میں ( کشتی یا جہاز کے ٹوٹ جانے کے سبب ) ایک تختہ پر سوار ہو اور نجات کی امید میں (یعنی کامیابی سے ساحل تک پہنچنے کی آرزو لیے
ہوے) یہ کہے جا رہا ہو یا رب !یارب!( اے میرے پروردگار!پروردگارمجھے بچا لے) ایک شخص نے اکر مورق عجلی رحمتہ اللہ علیہ سے اپنے بارے یہ شکایت کی کہ میرا دل بڑھا سخت ہے میں نہ نماز پڑھ سکتا ہوں اور نہ روزہ رکھ سکتا ہوں ( یعنی نوفل کا اہتمام نہیں کر پاتا عبادت کی طرف طبعیت مائل نہیں ہوتی) مورق عجلی رحمتہ اللہ علیہ نے اس سے کہا اگر تم خیر کے بارے میں کمزور ہو تو شر کے سلسلے میں بھی کمزور رہو میں تو اپنے سونے پر ( نیند پر) بھی خوش ہوتا ہوں یعنی خیر و بھلائی کے کام زیادہ نہیں کر سکتے تو کم از کم شر اور برائی سے دور رہو اگر سوتےرہو تو بھی اچھا ہےکہ اس میں ا تنی دیر تو برائی کے کاموں سے دور رہو گے .
ضرورت مند وں پر مال خرچ کرنے میں بھی بے مثال تھے تاجر آدمی تھے لیکن کبھی زکاہ کے بقدر مال جمع نہیں کیا کوئی مال آتا تو اگلے جمع تک ختم ہو جاتا کسی کو صدقہ کے طور پر کچھ دینا پسند نہیں کرتے تھے . بلکہ اکثر یوں کہہ کر رقم دیتے کہ یہ میرے پیسے اپنے پاس رکھو پھر دوسری ملاقات میں کہتے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں جہاں ضرورت ہو خرچ کر لیناوہ شخص اگر کہتا کہ مجھے ضرورت نہیں تو کہتے اللہ کی قسم ! مجھے نہیں چاہیے جو مرضی ہو کرو کبھی درھم دینار کی تھیلی کسی کو دیتے وقت ہی یوں کہتے کہ اس کو اگر ضرورت ہو تو خرچ کر لو پھر اس سے ملتے ہی نہیں .[/align]

تانیہ
01-30-2011, 09:51 PM
تھینکس فار شیئرنگ....

این اے ناصر
03-13-2011, 02:44 PM
ماشاء اللہ

سرحدی
03-14-2011, 11:58 AM
ماشاء اللہ بہت خوب، بہت اچھا اور سبق آموز مضمون ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے نیک بندوں کی صف میں شامل فرمائے اور محض اپنے فضل سے ہمیں وہ سب کچھ عطا فرمائےجو وہ اپنے انعام یافتہ بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ آمین

وی جے
03-17-2011, 01:26 PM
بہت خوب عبادت:clap: