PDA

View Full Version : اک ذرا احتیاط !...نقش خیال…عرفان صدیقی



گلاب خان
01-14-2011, 09:40 PM
سبب کچھ بھی ہو، محرکات کیسے ہی ہوں، جب ایک سوسائٹی انگاروں پہ لوٹنے لگے، لوگوں کی رگوں میں دوڑتا لہو، لادے کی شکل اختیار کرلے، دماغ دہکتے کوئلوں کی انگیٹھیاں بن جائیں اور دلوں میں نفرتوں کے خارستان اگ آئیں تو فہم و ادراک رکھنے والے ہر طبقے کو پورے اخلاص کے ساتھ، اپنے روایتی کردار سے ہٹ کر غور کرنا چاہیے کہ وہ اس آگ کو ٹھنڈا کرنے میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے، یہ کردار بھڑکتے الاؤ پر چونج بھر پانی ڈالنے والے پرندے جتنا ہو تو بھی لائق صد تحسین ہے۔ جس طرح کسی مرض کی نشاندہی ہوجانے کے بعد مریض کو اپنے معمولات سے دستکش ہونا پڑتا ہے اور اس کے آس پاس رہنے والوں پر بھی کچھ احتیاطیں لازم ہوجاتی ہیں، اسی طرح معاشرہ توازن کھو بیٹھے اور یکایک اس کے خون کا دباؤ خطرناک حدوں کو چھونے لگے تو قوم و ملک کے خیر خواہوں پر بھی لازم آتا ہے کہ وہ اپنے اقوال اور اپنے افعال میں محبت، امن اور آسودگی کی خوشبو بھردیں اور بارود پاشی سے گریز کریں۔
ناموس رسالت ہمارے ہاں متنازع موضوع ہے ہی نہیں۔ جو مٹھی بھر، یا شاید اس سے بھی کم، لبرل اور فاشسٹ عناصر، پاکستانی قوم کے جذبہ و احساس کو خاطر میں لائے بغیر این جی او اسٹائل میں ایک خاص ایجنڈا لیے پھرتے ہیں، ان میں بھی کسی کی یہ مجال نہیں کہ وہ قرآن یا نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کرے۔ پاکستان میں ایسا کوئی لعین پیدا ہی نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے۔ ”باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار“ والا سبق بھی سب کو یاد ہے۔ سو بنیادی طور پر ناموس رسالت پر ایمان و یقین ایسا مسئلہ ہی نہیں جس پر تنازعہ کھڑا کیا جائے یا تلواریں سونت لی جائیں۔ معاملے کی نزاکت اور حساسیت کو نظرانداز کر کے غیر محتاط رویہ اختیار کرنے اور ناموس رسالت کے قانون میں ترامیم چاہنے والے بھی اپنی بات حضورﷺ کی محبت سے شروع اور حضورﷺ کی محبت پر ختم کرتے ہیں۔ کم از کم مجھے اٹھارہ کروڑ افراد کی اس بستی میں غیر مسلموں سمیت کسی ایک بھی ایسے شخص کا علم نہیں جو کھلے بندوں (نعوذ باللہ) حضورﷺ کی شان میں گستاخی یا توہین رسالت کا مرتکب ہورہا ہو۔ کچھ کو اعتراض ہے اس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ کچھ اسلامی ضابطوں سے اپنے فطری بغض کے تحت ایسا کررہے ہیں۔ کچھ کے سروں پر روشن خیالی کا بھوت سوار ہے اور کچھ باہر سے آتی امداد کے عوض حق نمک ادا کرنے پہ مجبور ہیں۔
ناموس رسالت پر کامل اور غیر متزلزل ایمان رکھنے اور آپﷺ کی تقدیس کے لیے اپنی جان کی قربانی تک دینے والوں میں سے بھی لاتعداد ہیں جو مقدمے کے اندراج اور کارروائی کے حوالے سے خصوصی تحفظات چاہتے ہیں تاکہ کوئی شخص حضورﷺ کے ناموس کو اپنے کسی شخصی مفاد یا خواہش بیمار کی تسکین کا ذریعہ نہ بنالے۔ میں ناموس رسالت کے قانون کو برقرار رکھنے کے حق میں ہوں۔ میں لکھ چکا ہوں کہ جہاں ناموس فوج، ناموس پرچم، ناموس وفاق، ناموس عدلیہ، ناموس صدر اور ناموس گورنر جیسے قوانین موجود ہوں اور ان قوانین کے تحت بے گناہوں کو سزائیں بھی مل رہی ہوں وہاں صرف ناموس رسالت کے قانون کو کیوں نشانہ بنایا جائے؟ سو یہ قانون پوری قوت کے ساتھ موجود اور نافذ العمل رہنا چاہیے البتہ ایسا اہتمام ضرور ہونا چاہیے کہ لوگ چھوٹی موٹی رنجشوں اور ذاتی دشمنیوں کے لیے اس قانون کا غلط استعمال نہ کرسکیں۔ فوج، پرچم، وفاق یا کسی اور کے نام پر کسی بے گناہ کو سزا مل جانا دوسری بات ہے لیکن نبی رحمت کے نام پر کسی معصوم کو ہتھکڑی بھی لگ جائے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپﷺ پر کیا گزرتی ہوگی۔ سو اس ضمن میں زبردست احتیاط کی ضرورت ہے۔ حکومت اور علماء کومل بیٹھ کر ایسا اہتمام کرنا چاہیے کہ ناموس رسالتﷺ کا عظیم قانون کچہریوں کی مخلوق اور مقدمہ باز ذہنوں کا کھلونا بن کے نہ رہ جائے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجھے اخبارات میں دو خبریں نظر آئیں جو کم از کم میرے لیے فکر کا بڑا سامان چھوڑ گئیں۔ پہلی خبر یہ تھی کہ کسی دوا ساز کمپنی کا نمائندہ ایک ڈاکٹر صاحب کے کلینک پہنچا۔ اس نے ڈاکٹر صاحب سے ملنا چاہا۔ دو تین بار کی کوشش کے باوجود اسے باریابی کی اجازت نہ ملی۔ آخر وہ خود اندر گھس گیا اور اپنا تعارفی کارڈ ڈاکٹر کو دکھایا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں مصروف ہوں اور اس وقت آپ کو نہیں مل سکتا۔ تو تکرار بڑھی۔ ڈاکٹر نے کارڈ پرے پھینکتے ہوئے نمائندے کو باہر نکل جانے کے لیے کہا۔ اگلے دن ڈاکٹر پر توہین رسالت کا مقدمہ بن گیا۔ جواز یہ بنا کہ دوا ساز کمپنی کے نمائندے کا جو کارڈ ڈاکٹر نے بن دیکھے پرے پھینک دیا، اس پر محمد بھی لگایا تھا جو نمائندے کے نام کا حصہ تھا۔ دوسری خبر ابھی گزشتہ روز ہی شائع ہوئی ہے۔ مظفر گڑھ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے توہین رسالت کے جرم میں پینتالیس سالہ امام سید محمد شفیع اور اس کے بیس سالہ بیٹے محمد اسلم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ دونوں پہ الزام تھا کہ انہوں نے اپنی دکان کے باہر لگا ایک پوسٹر پھاڑ پھینکا تھا جس پر میلادالنبی کی کسی تقریب کا اعلان درج تھا۔
عین ممکن ہے کہ یہ تفصیلات نامکمل ہوں لیکن پھر بھی یہ شدید ضرورت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس مقدس قانون کے ناروا استعمال کے سامنے بند باندھا جائے۔ یہ خود ناموس رسالتﷺ کا تقاضا بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مقدمہ بازی کا رجحان بڑا قوی ہے۔ اپنے مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں الجھانا لوگوں کی بڑی تعداد کا دل پسند مشغلہ ہے۔ ہمیں شعوری کاوش کرنی چاہیے کم از کم ہمارے نبی کریمﷺ کے ناموس کا معاملہ ایسے مشغلہ بازوں کی بھینٹ نہ چڑھے۔
اور ایک التماس مجھے علمائے کرام سے بھی کرنی ہے۔ میرے دل میں ان کا بے حد احترام ہے۔ اور میں ان کے احترام کے تمام تر تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عرض گزار ہوں کہ وہ بھی معاملے کی نزاکت اور حساسیت کو سمجھیں۔ ایسا ماحول نہ بنائیں کہ ناموس رسالت کا غیر متنازعہ معاملہ تفریق و تقسیم کی بڑی خلیج بن جائے۔ اپنے بعض قلم کار دوستوں سمیت میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو دل و جان سے ناموس رسالتﷺ کو جز و ایمان خیال کرتے اور اس قانون کے بھی حامی ہیں لیکن وہ ناموس رسالت کے نام پر اٹھائی جانے والی تحریک کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ماحول پہلے ہی آتشیں ہے۔ طرح طرح کے بحرانوں نے لوگوں کے دل و دماغ میں بارود بھر رکھا ہے۔ نہ بجلی، نہ گیس، نہ روزگار، نہ مزدوری اور بھیانک عفریت کی طرح چنگھاڑتی مہنگائی اور بدعنوان حکومت سے تنگ آئے ہوئے لوگ۔ چار سو کھولتا اشتعال اور مگر مچھ جیسے خونی جبڑے کھولے عدم برداشت دیکھتے ہی دیکھتے خوف کی سرخ آندھی نے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بولنے لگو تو لفظ ہونٹوں سے پھسل پھسل جاتے ہیں، لکھنے بیٹھو تو قلم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ دماغ اور دل کو زبان دینا مشکل ہورہا ہے۔ بڑی بڑی ریلیاں اور شعلہ بار تقریریں درجہ حرارت کو مزید بڑھائیں گی۔ انگاروں کو ہوا دیں گی۔ اب ان کی ضرورت نہیں رہی حکومت واضح اور دو ٹوک اعلان کرچکی ہے۔ معاشرے کی اکھڑی ہوئی سانسیں معمول پر لانے اور دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کا توازن بحال کرنے کے لیے علمائے کرام امت احمد مرسل سے دلنوازی و دلداری کا مظاہرہ کریں۔ آگ بے قابو ہو گئی تو جانے کیا کیا کچھ خاکستر ہوجائے۔