PDA

View Full Version : مسلمان کا خمیر...صبح بخیر



گلاب خان
01-14-2011, 09:42 PM
یہی کوئی پانچ برس قبل کی بات ہے کہ سویڈن کے ایک کارٹونسٹ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گستاخانہ خاکہ بنایا۔ یہ کارٹون نہیں تھا گستاخی، توہین اور تمسخر کی آخری حد تک جس کا کوئی مہذب انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ کارٹون سویڈن کے ایک بڑے اخبار اور پھر سویڈن کے دوسرے اخبارات اور پھر یورپ کے کئی ممالک کے اخبارات میں چھپا جس سے سارے عالم اسلام میں احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی۔ چنانچہ سعودی عرب نے احتجاج کے طور پر سویڈن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا، بیروت کے مسلمانوں نے غصے میں آ کر سویڈن کے قونصلیٹ کی عمارت کو آگ لگا دی، اسلام آباد میں سویڈن کا سفارت خانہ بند کر دیا گیا اور تقریباً تمام اسلامی ممالک میں سڑکیں، گلیاں اور بازار احتجاج کے پاؤں تلے کانپنے لگے۔ سویڈن اور دوسرے گستاخ ممالک کی اشیاء کا بائیکاٹ کیا گیا جس سے سویڈن کو بے پناہ معاشی نقصان ہوا لیکن اس کے باوجود سویڈش حکومت اور دوسرے کئی یورپی ممالک کے وزراء بضد رہے کہ یہ آزادیٴ اظہار کا حق ہے اور اسے پابند نہیں کیاجا سکتا۔ ہمارے سیکولر حضرات جو ہمہ وقت یورپی ممالک کے معاشروں کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں اور ان معاشروں کی رواداری، تحمل، احترام انسانیت ، دوسروں کے حقوق کا احترام اور قانون کی حکمرانی کے دلربا نغمے گاتے رہتے ہیں ہمارے اس سوال کا جواب نہ دے سکے کہ کیا یہی رواداری، احترام انسانیت اور دوسروں کے جذبات کا احترام ہے کہ مسلمانوں کی سب سے زیادہ قابل احترام ہستی کے گستاخانے خاکے بنائے جائیں اور دوسرے مذاہب کے پیروؤں کے جذبات کو کچلا جائے؟ کیا آزادیٴ اظہار کا مطلب نفرت پھیلانا، پیغمبروں کی توہین کرنا، احتجاج اور ردعمل کی آگ بھڑکانا ہے؟ کیا ان تعلیم یافتہ معاشروں کے پڑھے لکھے حضرات یہ نہیں جانتے کہ مسلمان ان کے ممالک میں بھی رہتے ہیں اور ان کی بڑی تعداد وہاں کی شہری ہے اس لئے ان کے مذہبی جذبات کا احترام نہ صرف ان پر لازم ہے بلکہ قانون، رواداری اور تہذیب کا تقاضا بھی ہے۔ کیا وہ نہیں سمجھتے کہ مذہبی منافرت پھیلا کر وہ اپنے معاشرے کو تقسیم کر رہے ہیں؟ اگر یہ بات صرف ایک کارٹونسٹ تک محدود رہتی تو ہم سمجھتے کہ یہ ایک جنونی کا کارنامہ ہے لیکن مسلمانوں کے احتجاج کا منہ چڑانے کے لئے جس طرح سویڈن، ناروے اور اٹلی کے اخبارات نے اس گستاخانہ خاکے کو چھاپا، ضد کا رویہ اپنایا اور اسلام اور مسلمانوں کو حقارت کا نشانہ بنایا اس سے ان اقوام کی تہذیب، رواداری اور حسن اخلاق کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ البتہ یہ درست ہے کہ ان معاشروں کی معاشی خوشحالی، صنعتی ترقی، تعلیمی اور سائنسی اڑان، انصاف اور قانون کی پاسداری اور نظم و ضبط نے ان کی ان باطنی بیماریوں کو ڈھانپ رکھا ہے جن سے صرف اُسی وقت پردہ اٹھتا ہے جب کوئی بڑا واقعہ ظہور پذیر ہوتا ہے۔
ہمارے سیکولر روشن خیالی کے دعویدار دانشور اور اپنے معاشرے کی خامیوں پر ہر وقت ماتم کناں مبلغ ٹھیک کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں برداشت، تحمل اور رواداری کم ہو رہی ہے اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی زور پکڑ رہی ہے۔ یہ صورت حال ہر سوچنے والے ذہن اور دیکھنے والی آنکھ کے لئے افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ یہ فضا پیدا کرنے اور ان رجحانات کو فروغ دینے میں غربت، جہالت، معاشرتی تقسیم اور مذہبی اداروں نے کردار سرانجام دیا ہے لیکن درحقیقت یہ انتہا پسندی داخلی اور عالمی سیاست کا شاخسانہ ہے اور مذہبی تقسیم کو بڑھانے میں کئی مسلمان ممالک نے بھی حصہ ڈالا ہے جو اپنے اپنے مسلک کی سرپرستی کرتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہر مسلمان چاہے اس کا تعلق کسی بھی مسلک سے ہو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اسلام رواداری، تحمل، خوش اخلاقی ، عفو و درگزر، فراخدلی اور امن و محبت کا دین اور مذہب ہے۔ اسلام نہ صرف جھوٹ، دھوکہ دہی، قتل و غارت، کم تول، بے انصافی اور قانون کو ہاتھ میں لے کر افراتفری پھیلانے سے منع کرتا ہے بلکہ دوسروں کے مذہبی جذبات کے احترام اور حقوق کی ادائیگی پر بھی زور دیتا ہے لیکن یہ سب کچھ جاننے کے باوجود ہم اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتے ہیں اسی لئے میں عرض کرتا ہوں کہ اب یہ علماء کرام کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنا رول سر انجام دیں اور ان ”مولویوں“ کو بھی سختی سے منع کریں جو اپنی سوچ کے سبب مذہبی منافرت پھیلاتے، جذبات کی آگ بھڑکاتے اور لوگوں کو آپس میں لڑاتے ہیں۔ وہ دن رات سیرت النبی کا ذکر کرتے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو اسوئہ حسنہ قرار دیتے ہیں لیکن خود اسوئہ حسنہ پر عمل نہیں کرتے۔ خدا کے لئے معاشرے میں تحمل، برداشت، رواداری اور یگانگت پیدا کرنے کے لئے اسلام کے روشن بنیادی اصولوں، سچی تعلیمات اور اسوئہ حسنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پرچار کریں اور لوگوں کو فروعی مسائل میں نہ الجھائیں۔
چلئے یہ تو مان لیا کہ ہمارے معاشرے میں برداشت تنزل پذیر ہے لیکن جو لوگ اس برداشت کا ذکر ناموس رسالت اور عشق رسول کے حوالے سے کرتے ہیں وہ سیکولر روشن خیال دانشور اس حقیقت کا ادراک نہیں رکھتے کہ عشق رسول اور ناموس رسالت مسلمان کے خمیر، گھٹی اور باطن میں موجود ہوتی ہے اور اس کے بغیر مسلمان کی مسلمانی مکمل نہیں ہوتی۔ اس کا محض زبان سے اظہار اور بات ہے اور اس کا صحیح معنوں میں ادراک اور روح میں سمو لینا بالکل دوسری بات ہے۔ جب سویڈن کے کارٹونسٹ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گستاخانہ خاکہ بنایا تو جو شخص کلہاڑا لے کر اسے واصل جہنم کرنے کے لئے اس کے گھر میں گھسا وہ صومالیہ کا مسلمان تھا اور جن عاشقان رسول نے اسے ٹھکانے لگانے یا متعلقہ اخبار پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک عراقی تھا، ایک لبنانی، ایک الجیرین اور ایک سویڈن کے سیکولر معاشرے کی پیداوار شہری تھا جس کے آباؤ اجداد کا تعلق تیونس سے تھا۔ عراقی بیچارا تو اپنے ملک سے جان بچانے سویڈن پہنچا تھا جہاں اس نے ”پناہ“ کے لئے درخواست دے رکھی تھی لیکن اس نے حرمت رسول کے لئے سب کچھ داؤ پہ لگا دیا۔ ادھر آئر لینڈ میں سات مسلمان گرفتار کر لئے گئے جو گستاخ رسول کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ان حضرات کا تعلق پاکستان کے انتہا پسند، جاہل اور جذباتی معاشرے سے نہیں تھا بلکہ وہ سب روشن خیال، تعلیم یافتہ اور سیکولر ملکوں کے شہری تھے، پاکستان میں تو برداشت کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے لیکن ہمارے دانشوروں کی نظر میں مغربی ممالک تو برداشت کا نمونہ ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جس مسلمان کے باطن میں بھی حب رسول کی روشنی ہو گی، جو مسلمانی کا تقاضا ہے، وہ چاہے پاکستان سے ہو یا کسی آزاد خیال ، لا دین، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ملک سے ہو وہ کبھی بھی گستاخ رسول کو برداشت نہیں کرے گا کیونکہ ناموس رسالت سچے مسلمانوں کے ایمان کااہم حصہ ہے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

گلاب خان
01-14-2011, 09:54 PM
نہ پوچھو کیفیت اہلِ وطن کی
زبانیں گنگ اور آنکھیں ہیں نمناک
دکھائی دے رہی ہے صورتِ حال
بہت صبر آزما، بے حد المناک

بےباک
01-18-2011, 09:29 AM
بہت ہی خوب ،
شکریہ جناب
ایسی تحاریر آپ سامنے لاتے رہیے ،
:heart::heart::heart::heart::heart: