PDA

View Full Version : مسئلہ توہین رسالت... کس سے منصفی چاہیں



گلاب خان
01-14-2011, 09:47 PM
گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو پاکستان میں موجود ایک مغرب زدہ سیکولر طبقہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے تاکہ قانون ناموس رسالت کو ختم کیا جاسکے۔ ایک انگریزی اخبارنے تو اس قانون کو ہی سلمان تاثیر کے قتل کا ذمّہ دار ٹھہرا دیا۔ موم بتیاں جلا کر مقتول کو خراج تحسین پیش کرنے والے روشن خیالی کے عَلم بردار قانون ناموس رسالت کو انسانوں کا بنایا ہوا قانون کہہ کرجھٹلانے کی کوشش میں ہیں جیسا کہ وہ دوسرے اسلامی قوانین اوردینی شعائر پر مکمل عمل پیرا ہوں۔ قارئین کی رہنمائی کے لیے اس قانون کی شرعی حیثیت کے متعلق محترم علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا:
" توہین رسالت کی سزا پاکستان کے قانون کے مطابق قتل ہے۔کیا یہ سزا قرآن و سنّت سے ثابت ہے؟ اس حوالے سے ایک نئی بحث اس وقت سامنے آئی جب آسیہ نامی عورت کو ڈسٹرکٹ کورٹ ننکانہ نے توہین رسالت کے جرم میں مجرم قرار دیا۔ اس واقعہ کے کافی عرصے کے بعد پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر ڈسٹرکٹ جیل ننکانہ میں گئے جہاں انہوں نے آسیہ سے ملاقات کی اور ملاقات کے بعد عدالتی فیصلے کو غلط قرار دیا اور قانون توہین رسالت کو کالا قانون قرار دیا۔انہوں نے آسیہ کی معافی کی اپیل کو صدر پاکستان تک پہنچانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔بعض علماء نے رسول ﷺکو رحمة اللعالمین قرار دے کر عام معافی کے فلسفے کو پروموٹ کرنے کی کوشش بھی کی اور دانستہ یا نادانستہ گورنر کی رائے کو بھی تقویت دینے کی کوشش کی۔
رسول ﷺکی عزّت و ناموس مسلمانوں کیلئے دنیا کے تمام رشتوں اور مال و متاع سے زیادہ اہم ہونی چاہئے اور قرآن مجید نے رسولﷺ کی مخالفت کرنے والے شخص کی بہت شدید انداز میں مذمّت کی ہے۔سورة مجادلہ کی آیت نمبر20 میں اللہ نے فرمایا ہے۔ترجمہ”یقیناً جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی ذلیل ترین لوگ ہیں“۔
اسی طرح اللہ نے سورة کوثر کی آخری آیت میں ارشاد فرمایا ہے۔ترجمہ”یقیناً تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے“۔
جہاں تک تعلق ہے توہین رسالت کی سزا کا تو میں سب سے پہلے اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ اجتہادی نوعیت کا نہیں بلکہ قرآن و سنّت کی نصوص سے ثابت یا واضح ہے۔قرآن کی متعدد آیات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضورﷺکے گستاخ کی سزاقتل ہے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے میں سورة فرقان کی ان تین آیات کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ آیات27 تا29 میں ارشاد فرماتے ہیں۔ترجمہ”جس دن ظالم اپنے ہاتھ کو کاٹے گا اور کہے گا،اے کاش میں نے رسولﷺکے ساتھ راستہ پکڑ لیاہوتا۔ ہے ہائے میری شامت،کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔البتہ اس نے مجھے نصیحت سے بہکایا،اس کے بعد جبکہ وہ میرے پاس پہنچ گئی اور شیطان انسان کو (عین وقت پر) تنہا چھوڑ جانے والا ہے“۔
تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ،تفسیر جلالین،تفسیر ابن کثیر کے مطابق یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب ابی بن خلف کے اکسانے پر عقبہ بن ابی معیط نے رسول ﷺ کی شان میں کستاخی کی تھی اور نبیﷺنے اس کو تنبیہ کی کہ اگر تو مکہ کے باہر مجھے ملا تو میں تجھے قتل کروں گا۔رسولﷺ نے بدر کی جنگ کے موقع پر اس کو گرفتاری کی حالت میں قتل کیا تھا۔اسی طرح اللہ نے قرآن مجید میں اپنے اور اپنے رسولﷺ سے جنگ کرنے والوں اور زمین پر فساد پھیلانے والوں کی سزا سورة مائدہ کی آیت نمبر33 میں بتلائی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔ترجمہ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین پر فساد پھیلاتے ہیں ان کی سزا صرف یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو ملک سے باہر نکال دیا جائے، یہی ان کے لئے دنیا کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔"
اس آیت مبارکہ میں فسادی کی سزا واضح طور پر قتل بتلائی گئی ہے۔عرف عام میں فسادی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو خاندانوں اور برادریوں کے مابین الٹی سیدھی باتیں پھیلا کر اشتعال پیدا کرتا ہے جس سے نفرتیں اور کدورتیں پیدا ہوتی ہیں اور بات دشمنی تک جا پہنچتی ہے۔اس شخص سے بڑھ کر فسادی کون ہو سکتا ہے جو رسولﷺکے بارے الٹی سیدھی باتیں کر کے مسلمانوں کو طیش دلاتا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض نام نہاد دانش ور زنا،ڈکیتی اور قتل کرنے والے کو فساد فی الارض کا مرتکب قرار دیتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے اور ان کے عقیدے کی بنیاد پر حملہ کرنے والے کو فسادی ماننے کے لئے تیار نہیں۔یقیناً توہین رسالت کا جرم ہر اعتبار سے قتل اور ڈکیتی سے زیادہ سنگین ہے۔
اسی طرح سورة توبہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے دین میں طعن کرنے والے شخص کے بارے میں کہا ہے کہ ایسا شخص اپنے عہد کو توڑنے کا مرتکب ہوتا ہے، یعنی مسلم ریاست کا غیر مسلم ریاست یا اپنی ریاست میں رہنے والی اقلیتوں سے جو امن کا معاہدہ ہوتا ہے، وہ دین میں طعن کرنے کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے اور دین میں طعنہ دینے کی کوئی قسم بھی توہین رسالت سے بڑی نہیں ہو سکتی اور ایسا طعن کرنے والے کی سزا بھی اللہ نے قتل ہی تجویز کی ہے۔
اللہ تعالیٰ سورة توبہ کی آیت نمبر12 میں ارشاد فرماتے ہیں۔ترجمہ”اور اگر اپنے عہد کے بعد وہ اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں عیب لگائیں تو کفر کے عَلم برداروں کو قتل کرو۔یقیناً ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں شاید کہ وہ باز آجائیں“۔ یہ اور واضح دلیل ہے کہ دین میں طعن کرنے والا بندہ قتل کی سزا کا مستحق ہوتا ہے اور اگر وہ قسمیں بھی اٹھائے تو اس کی قسم کو نہیں مانا جا سکتا۔
یہ تو قرآن مجید کے بعض مقامات ہیں جن سے رسولﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا ثابت ہوتی ہے۔جہاں تک تعلق ہے رسولﷺ کے اپنے عمل یا اپنے دور کا تو بہت سے مصدقہ واقعات سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کی سزا موت ہے۔ بخاری شریف میں اس سلسلے میں دو احادیث وارد ہوئی ہیں۔
پہلی حدیث میں کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر ہے۔کعب بن اشرف رسولﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا۔محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے حکم اور آپ کی رضامندی کے ساتھ اس کو قتل کر دیا،جب محمد بن مسلمہ یہ کام کرکے پلٹے تو رسولﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ”وہ چہرے کامیاب ہوئے جنہوں نے یہ کام کیا اور جواب میں جناب محمد بن مسلمہ نے عرض کیا اور آپ کا چہرہ بھی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم(کامیاب ہوا)“۔
دوسری حدیث میں ابو رافع یہودی کا ذکر ہے۔ یہ بدگو یہودی حضورﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتا تھا۔رسولﷺ نے اس کی سرکوبی پر عبداللہ ابن عتیق کو مامور کیا تھا۔عبداللہ ابن عتیق اس کو قتل کرنے کے لئے اس قلعہ میں داخل ہوئے، جہاں وہ مقیم تھا۔اس قلعہ میں وہ اپنی دانست میں مکمل طور پر محفوظ تھا لیکن شمع رسالت کے پروانے نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے جہنّم واصل کیا۔واپس آتے ہوئے تیزرفتاری میں اندازے کی غلطی کی وجہ سے آپ سیڑھی سے نیچے گرے اور آپ کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔رسول ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو نبیﷺ نے آپ کی ہڈی پر ہاتھ پھیرا تو وہ اس طرح ہو گئی جیسے کبھی ٹوٹی ہی نہیں تھی۔
سنن ابوداؤد اور نسائی شریف میں ایک نابینا صحابی کا واقعہ موجود ہے جنہوں نے اپنے دو بیٹوں کی ماں اور خدمت گزار لونڈی کو صرف توہین رسالت کے جرم کی پاداش میں قتل کر دیا تھا۔نابینا صحابی اس کو تنبیہ کرتے رہے جب وہ باز نہ آئی تو انہوں نے گھریلو سطح پر کی جانے والی گستاخی کو بھی برداشت نہ کیا اور اس کا پیٹ چاک کر دیا۔معاملہ جب نبیﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپﷺ نے کہا گواہ رہو اس خون کا کوئی تاوان اور بدلہ نہیں ہے۔
اسی طرح ایک اور ملعونہ اسماء بنت مروان کو عمیر ابن عدی نے توہین رسالت کے جرم میں قتل کیا تھا۔
فتح مکہ کے روز جبکہ رسولﷺ عفو ودرگزر کے مقام بلند پر فائز تھے اور ہر کسی کو معاف کر رہے تھے، آپﷺ نے توہین آمیز شاعری لکھنے کی پاداش میں عبداللہ بن خطل اور اس کی غلیظ شاعری کو پڑھنے والی اس کی لونڈیوں کے قتل کا حکم جاری کیا۔عبداللہ بن خطل کو اس حالت میں قتل کیا گیا کہ وہ حرم شریف میں پناہ گزین تھا۔
یہیں ایک اور سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا توبہ سے توہین کا جرم معاف ہو سکتا ہے؟یقیناً سچی توبہ انسان کے اُخروی فائدہ کا سبب بن سکتی ہے لیکن دیگر جرائم کی طرح جب معاملہ عدالتی یا عوامی سطح پر آجائے گا تو دنیا میں اس کو اس جرم کی سزا سہنا ہی پڑے گی، جس طرح سچی یا جھوٹی توبہ سے زنا،قذف،چوری،شراب اور قتل کی سزا معاف نہیں ہو سکتی تو ان سے کہیں زیادہ سنگین جرم کی سزا فقط توبہ سے کس طرح معاف ہو سکتی ہے؟"

بےباک
02-29-2012, 11:58 PM
خوب گلاب خان ۔بہت تفصیل سے بیان فرمایا۔