PDA

View Full Version : انسان کا امتحان... چوراہا



گلاب خان
01-14-2011, 09:52 PM
انسان اس لئے ”اشرف المخلوقات“ ہر گز نہیں کہ ہر انسان باقی مخلوقات سے اشرف ہے بلکہ انسان اس لئے اشرف مخلوق ہے کہ جانداروں کی یہ وہ واحد قسم ہے جس میں کبھی کبھی کوئی اشرف و اعلیٰ بھی پیدا ہو جاتا ہے جو اپنی ذات سے بہت ہی بلند و بالا ہو کر سوچتا اور عمل کرتا ہے … باقی انسانوں کی بہتری ، بھلائی، عزت، راحت، آسودگی، آسائش، آسانی کے لئے اپنا تن، من ، دھن سب کچھ قربان کر دیتا ہے… ایسا انسان ہی اشرف المخلوقات میں سے ہوتا ہے اور ایسے انسانوں کی وجہ سے ہی انسان باقی ہر حیوان سے برتر ہے۔ شیروں، وہیل مچھلیوں، ڈولفنز، بندروں اور دیگر ذہین ترین مخلوقات میں سے کوئی ایک مخلوق بھی ایسی نہیں جو اپنے ہم جنسوں، بھائی بندوں کے لئے اپنا آپ قربان کر دے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ کہ انسانوں نے بڑے سکیل پر وسیع تر تناظر میں ابھی ثابت کرنا ہے کہ وہ واقعی اشرف مخلوق ہیں ورنہ سچ تو یہ ہے کہ انسانوں کی لاکھوں سالہ تاریخ میں سے صرف چند سو عظیم انسانوں کے نام نکالیں دیں یا یوں کہہ لیجئے کہ چند ہزار بڑے لوگوں کے نام نکال دیئے جائیں تو بنی نوع انسان کی تمام تر تاریخ ہی صفر ہے۔ لالچ، ہوس،نفرت، خود غرضی ، غلبہ کی خواہش، کمینگی ، اپنا آپ مسلط کرنے کی تمنا، تعصب، مختلف اقسام کا استحصال، منافقت اور حسد کے علاوہ عام انسانوں، قبیلوں او رقوموں کے پلے ہی کیا ہے؟ انسان انسان ہونے کے ابتدائی مراحل تو طے کر چکا ہے لیکن ابھی اسے طویل سفر طے کرنا ہے یعنی بنیادی طور پر وہی بات کہ
بسکہ مشکل ہے ہر اک کام کا آساں ہوں
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
اقوام عالم کا آپس میں تعلق تو دور کی بات کہ بہت سی نام نہاد قومیں تو آپس میں ہی اپنے معاملات و تنازعات طے نہیں کر پا رہیں اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے میں مصروف ہی نہیں بلکہ اس پر فخر بھی کر رہی ہیں۔ جہاں ایک مذہب، ایک ملک، ایک معاشرے، ایک جیسے مسائل کے سامنے کے باوجود ”خود ہی جج اور خود ہی جلاد“ جیسے رویوں کا رواج ہو وہاں یہ امید کرنا یا یہ توقع رکھنا کہ اقوام عالم ایک دوسرے کے ساتھ فیئر ڈیل کریں گی، ایک دوسرے کے ساتھ بدمعاشی نہیں کریں گی، طاقتور قومیں کمزور قوموں کے خلاف اپنی طاقت کو Misuse یا Abuse نہیں کریں گی احمقوں کی جنت میں دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اگر کمزور، غریب، غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ قومیں آپس میں خود ایک دوسرے کے خلاف بھی طاقت، اسلحہ، تشدد، جارحیت کو جائز سمجھیں گی تو پھر ان سے طاقتور، دولت مند، ترقی یافتہ اور کامیاب قومیں ان کے خلاف بھی طاقت، اسلحہ، تشدد اور جارحیت کو جائز کیوں نہ سمجھیں؟ جن ملکوں، معاشروں اور قوموں کے اپنے اندر انصاف، اصول، قانون، ضابطے اور دلیل کے لئے کوئی جگہ، مقام، گنجائش اور امکان باقی نہ رہے تو ان سے طاقتور اقوام بھی اگر ان کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے انصاف، اصول، قانون، ضابطے اور دلیل کو بالائے طاق رکھ دیں تو یہ سو فیصد جائز اور وہ سو فیصد حق بجانب ہوں گے۔ اگر کوئی قوم اپنے اندر ظلم (چاہے اسے کوئی بھی نام دیا جائے) روا رکھے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس قوم کو ”بیرونی مظالم“ سے نہیں بچا سکتی سو اس نام نہاد اشرف المخلوقات یعنی حضرت انسان کے لئے اصل چیلنج اور اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ مائیکرو لیول سے میکرو لیول تک لوکل لیول سے گلوبل لیول تک نیشنل لیول سے انٹرنیشنل لیول تک ”قانون کی حکمرانی“ اور ”دلیل“ کو یقینی بنائے اور یہ اس وقت تک ناممکن ہو گا جب تک مختلف انسانی معاشروں میں ”میں ہی جج میں ہی جلاد“ والا بیمار اور غیر انسانی رویہ گلیمرائز کیا جاتا رہے گا۔
کمزور ملکو ں کے حکمران طاقتور ملکوں کے حکمرانوں کے تلوے چاٹنے پر اس لئے مجبور ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود اپنے عوام کو اپنے تلوے چاٹنے پر مجبور کرتے ہیں سو بالکل اسی طرح جو معاشرے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ منصفانہ سلوک نہیں کرتے انہیں غیر معاشروں کے غیرمنصفانہ اور ظالمانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گہرائی اور گیرائی میں جا کر دیکھیں تو صاف صاف دکھائی دے گا کہ صرف وہی قومیں دوسری قوموں کے سامنے ذلیل و رسوا دکھائی دیں گی جو اپنے لوگوں کو ذلیل و رسوا رکھتی ہیں۔ جو اپنوں کے ساتھ ناانصافی اور بدمعاشی کرے گا وہ غیروں کی ناانصافی اور بدمعاشی کو بھگتنے پر مجبور ہو گا۔
تاریخ کو ایک سائنس سمجھ کر پڑھنے والے جانتے ہیں کہ انسانی معاشروں اور انسان کا اصل امتحان کیا ہے؟
ایک دوسرے کے ساتھ دھونس دھاندلی باہر سے دھونس دھاندلی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
ایک دوسرے کے ساتھ ظلم بیرونی ظلم کی راہ ہموار کرنے کے برابر ہے۔
آپس میں ”رول آف لاء“ اور ”دلیل“ ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ذلیل ہونے کے رستے پر رواں دواں ہو گئے اور تمہارے لئے بھی ”رول آف لاء“ ختم اور ”رول آف اسلحہ“ شروع ہو چکا۔
رواداری و دلداری ختم تو تاتاری آمد شروع!







ساجد تاج
12-16-2012, 10:31 PM
مفید شیئرنگ کے لیے شکریہ بھائی

سقراط
12-17-2012, 12:50 AM
تحریر
اگر یہ حسن نثار صحافی کی ہے تو میں اسکی تعریف نہین کروں گا
یہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے

pervaz khan
12-17-2012, 01:59 PM
اچھی شئیرنگ کا شکریہ