PDA

View Full Version : جنت کے وارث



گلاب خان
11-26-2010, 09:21 PM
ترجمہ : جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرتے ہیں ، جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں، یہی وارث ہیں جو فردوس کے وارث ہوں گے ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ( المومنون۸۔۱۱ )
تشریح : سورة المومنون کی ابتدائی دس آیات میںجنت کے وارث ہونے والوں کے آٹھ صفات بیان کےے گےے ہیں(1) نمازوں میں خشوع وخضوع (2) لغویات سے پرہیز (3) زکاة کی ادائیگی (4) شرمگاہو ں کی حفاظت (5) امانتوں کا پاس ولحاظ (6) ایفاے عہد (7) نمازوں کی نگہبانی ۔
پھربتایاگیاکہ ان مذکورہ صفات کے حامل مومن ہی فلاح یاب ہوں گے جو بہشت کی پرکیف نعمتوں کے حقدار بنیں گے ۔ جنت بھی جنت الفردوس ‘ جو جنت کا اعلی حصہ ہے جہاں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں ۔
زیرنظر آیات میں ادائیگی امانت ،ایفائے عہد اور نمازوں کی محافظت جسیے تین اہم صفات کا ذکر کیا گیا ہے ۔امانت کی ادائیگی اور وعدے کا لحاظ رکھنا مومنوں کی خاص علامت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو امانت دار نہیں اس کے دین کا کوئی اعتبار نہیں اور جو وعدہ کر کے پورا نہیں کرتا اس کا ایمان قابل قبول نہیں۔ مومن کی یہ خوبی ہے کہ جب اس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتا خواہ اس میں اس کا کتنا بھی نقصان ہو جائے۔ امانت صرف رقم یا کوئی چیز ہی نہیں ہوتی بلکہ بات اور مجلس بھی امانت ہوتی ہے۔ لہٰذا اللہ کا قرب اور کامیابی حاصل کرنے کے لئے امانت اور وعدے کا لحاظ کیاجاے۔ امانت میں خیانت اور وعدہ پورا نہ کرنا منافق کی علامت ہے۔
مومن جس سے جو بھی وعدہ کرتا ہے اسے پورا کرتا ہے اس لئے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ وعدے پورے کرو۔ امانت اور وعدے کی پاسداری کے ساتھ ساتھ مومن اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ نماز کی حفاظت کا مفہوم یہ ہے کہ پانچوں نمازیں مقررہ اوقات پر سنت نبوی کے مطابق ادا کرنا ، جو اپنی نمازوں کی حفاظت نہیں کرتے۔ ان کے لئے اللہ نے جہنم کی ویل وادی میں داخلے کی خبر دی ہے یا انہیں ہلاکت سے ڈرایا ہے۔ امانت میں خیانت نہ کرنے والے اور اپنے کئے ہوئے وعدے کا پاس کرنے والے جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ان کے لئے جنت میں داخلے کی بشارت کے ساتھ ساتھ یہ خوشخبری بھی دی جا رہی ہے کہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جن کا تصور بھی ذہن میں نہیں آیا۔ اس مقام پر ہمیشہ رہنا بڑی ہی سعادت کی بات ہے۔
لیکن افسوس کہ آج یہ صفات مسلمانوں کی اکثریت سے عنقا نظر آتی ہیں ، کہاں کئی امانت کی ادائیگی ؟ کہاں گیا ایفاے عہد؟اور کہاں گئی نمازوں کی محافظت ؟ کسی سے امانت لے لی اور ٹال مٹول کرتے رہے ،کسی سے معاملہ کرلیا اور نظرانداز کرتے رہے ، وعدہ کرلیا اور وعدہ خلافی میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی ۔ ہم تو مسلمان ہیں نا ....ہماری ایک پہچان ہونی چاہےے ، ہمیں دوسروں کے لےے نمونہ بننا چاہےے ، آج غیرمسلم ہمیں معاملات میں کوتا ہ سمجھ کر ہی اسلام سے متعلق شک میں مبتلا ہیں ، اسلام مکمل نظام حیات ہے ، اِسے پوری طرح زندگی میں اُتارنے کی ضرورت ہے ،

تانیہ
11-28-2010, 12:40 PM
جزاک اللہ

کا کا سپاہی
12-26-2010, 04:09 PM
اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ،آمین اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے