PDA

View Full Version : میں کربلا میں کھڑا ہوں



علی عمران
01-19-2011, 12:31 PM
میں کربلا میں کھڑا ہوں
لباسِ سوگ میں ہوں
ہے اربعین، حسین اور حسینی لشکر کا
کروڑوں لوگ ہیں
سارے لباسِ سوگ میں ہیں
ہر ایک نسل، ہر ایک رنگ، ہر زبان کے لوگ
نگاہیں روضہءِ شبیر کے طواف میں ہیں
لبوں پہ ہائے حسینا غریب ہائے حسین
خیال آتا ہے
اکسٹھ عیسوی ہجری کا
اور اس محرم کا
یہی مقام تھا
یہی مقام تھا ایک بندہءِ خدا جس کا
حسین نام تھا
حسین نام تھا جس کا
راہِ خدا میں ہتھیلی پہ سر اٹھائے ہوئے
ہر ایک دور کے انساں کی آبرو کے لئے
وہ اپنے دل پہ بہتر(72) کے زخم اٹھاتا رہا
وہ اپنے جسم پہ زخموں پہ زخم کھاتا رہا
قدم بڑھاتا رہا، قدم بڑھاتا رہا
بس ایک عزم تھا، انسان سرخ رو ہو جائے
بس ایک دھن تھی کہ انسانیت نہ مر جائے
انسانیت پہ ہے احساں حسین کا
احسان ہی تو ہے احسان کا صلہ
ہر دل میں یا حسین ہر دل میں کربلا
بیدار کر دیا جو زمانہ حسین نے
بے ساختہ تمام زمانہ یہ کہہ اٹھا
کہ
ہمارے ہیں یا حسین
انسانیت کی شان بڑھائی حسین نے
انسانیت بشر کو سکھائی حسین نے
انسانیت کی پیاس بجھائی حسین نے
انسان جب حسین کے پیکرمیں ڈھل گیا
انسانیت پکاری، و تُعزُمن تشا
کہ
ہمارے ہیں یا حسین
دنیا کے ہر ادب میں ہے حصہ حسین کا
دنیا کی ہر زباں پہ ہے قبضہ حسین کا
انساں سمجھ رہا ہے یہ رتبہ حسین کا
تاریخ کو حسین نے حیران کر دیا
سارے جہاں کے اہلِ قلم نے یہ لکھ دیا
کہ
ہمارے ہیں یا حسین
سورے میں معاوتیں کے اللہ نے سنایا
تخلیقِ کُل میں انساں اشرف تجھے بنایا
انساں کا درد دل میں انسان کے اتارا
انسانیت کا مکتب گھر پنجتن کا رکھا
اس گھر میں پنجتن کے اک شہر کو بسایا
پھر اپنا خون دے کے اس شہر کو سنوارا
یہ شہر نینوا ہے یہ شہر ماریہ ہے یہ شہر کربلا ہے
دل ہے تو کربلا، دل ہے تو یا حسین
انسانیت سمجھنے چلو کربلا چلو
ہاں تھام لو حسین کے دامن کو تھام لو
حُر، جَون اور حبیب کی صف میں کھڑے رہو
دل ہے تو اب حسین کی آواز کو سنو
فرماتے تھے حسین، وہ انسان نہیں ہے
لُوٹے جو دل کا چین، وہ انسان نہیں ہے
روئیں نہ جس کے نین، وہ انسان نہیں ہے
ہنس دے جو سُن کے بین، وہ انسان نہیں ہے
انسانیت بچائے وہ انسان ہے انسان
انساں کا دکھ اٹھائے وہ انسان ہے انسان
درسِ وفا سکھائے وہ انسان ہے انسان
جو سب پہ رحم کھائے، علم و عمل بڑھائے
انسانیت بچائے وہ انسان ہے انسان
انسان کو حسین نے انساں بنا دیا
انسانیت کے لب پہ مسلسل تھی یہ صدا
کہ
ہمارے ہیں یا حسین
دو طرح کے ہوا کرتے ہیں جہاں میں انساں
ہیں جدا راستے دونوں کے بقولِ قرآں
آدمی ایک یزیدِ ازلی میں اُبھرا
ایک انسان حسین ابنِ علی میں اُبھرا
اُس طرف خام خیالی، نیا اسلام بنے
اِس طرف عزمِ جلالی کہ شریعت نہ مٹے
اُس طرف سلطنت و دولت و طاقت کا غرور
اس طرف چھوٹا سا گھر فاقوں میں ہے منبعِ نور
ایک طاقت کے تکبر میں جو اِترا کے چلا
دوسرا نانا کے مرقد سے دعا پا کے چلا
ایک نو لاکھ کے لشکر کو لئے ساتھ چلا
دوسرا گود میں اصغر کو لئے ساتھ چلا
اُس طرف نیزے تھے، تلواریں تھیں اور بھالے تھے
اِس طرف شوقِ شہادت لئے دل والے تھے
اُس طرف جشن مناتے تھے زمانے والے
اِس طرف بے کس و بے آس مدینے والے
اک طرف تشناں دہاں
سب کے سب خشک زباں
اُن کا مقتل تھا جہاں
ریت ساری تھی تپاں
دور تھی نہرِ رواں
الحفیظ و الاماں، الحفیظ و الاماں
کیا دل تھا دل حسین علیہ اسلام کا
جس میں کوئی خیال نہ تھا انتقام کا
دل تھا تو دل پہ کارِ رسالت اٹھا لیا
دل تھا تو دل پہ نورِ شہادت اٹھا لیا
دل تھا تو دل پہ بارِ قیامت اٹھا لیا
دل تھا خدا کے عشق میں سب گھر لُٹا دیا
دل تھا تو دل پہ داغِ بہتر(72) اٹھا لیا
دل تھا، سنبھل کے لاشہءِ اکبر اٹھا لیا
حد ہے جنازہءِ علی اصغر اٹھا لیا
کربلا کیا تھی لعینوں کی شقاوت کیا تھی
سوچ انسان کہ سادات کی غربت کیا تھی
عید گزری ہے ابھی یعنی کہ عیدِ قرباں
آپ نے پورا کیا ہو گا یہ رُکنِ ایماں
چند شرطیں ہیں ذبیحہ کہ برائے انساں
شرطِ اول ہے کہ کمسن نہ ہو بیمار نہ ہو
اور بھوکا نہ ہو پانی کا طلب گار نہ ہو
روبرو سامنے حیوان کے حیوان نہ ہو
وقتِ ذبح وہ گھڑی بھر کو پریشان نہ ہو
شرط یہ بھی ہے چھری بھی نہ دکھاؤ اُس کو
ذبح سے پہلے قضا سے نہ ڈراؤ اس کو
ہو چھری تیز مگر ہاتھ ہو نرمی سے رواں
ایک ہی وار میں ہو جائے ذبیحہ قرباں
الحفیظ و الاماں، الحفیظ و الاماں
اب جگر تھام کے اے مومنوں یہ حال سنو
لو ذرا مقتلِ شبیر کا احوال سنو
ہائے حیواں کی دمِ ذبح شرائط اتنی
اور جس گھر سے یہ منصوب ہوئی قربانی
اُس کی اولاد کی مقتل میں یہ توقیر ہوئی
کوئی بھی شرط ذبیحے کی نبھائی نہ گئی
الحفیظ و الاماں، الحفیظ و الاماں
شرطِ اول تھی کہ کم سن نہ ہو دندان بھی ہوں
دودھ پیتا نہ ہو، مر جانے کے امکان نہ ہوں
تم کو اب مادرِ اصغر کی قسم اہلِ عزا
قتل اصغر جو ہوئے سوچئے وہ کیا سِن تھا؟
تیسرا فاقہ تھا چھ ماہ کا سِن واویلا
ایک بھی دانت نہ نکلا تھا علی اصغر کا
ایک بالشت کا کُرتا تھا علی اصغر کا
دودھ پینا بھی نہ چھُوٹا تھا علی اصغر کا
پہلا کمسن ہے کہ جو ذبح نہیں نحر ہوا
تیرِ سہہ پہلو سے معصوم کو بھی مار دیا
الحفیظ و الاماں، الحفیظ و الاماں
شرطِ دوئم تھی کہ حیواں نہ ہو بھوکا پیاسا
اور ہفتوں سے تھے سادات بِنا آب و غذا
حلق تر کرتے ہیں قصاب بھی قربانی کا
اور بہتر(72) کو دمِ ذبح بھی پانی نہ ملا
جلتی ریتی پہ کہیں اکبر و عباس گرے
اور کہیں عون و محمد کہیں قاسم تھے پڑے
ذبح حیواں کا نہیں حکم ہے حیواں کے حضور
یاں نہ شبیر سے زینب نہ سکینہ تھی دور
شاہ اُن کو وہ سوئے شاہِ اُمم دیکھتے تھے
ذبح ہوتے تھے حسین اہلِ حرم دیکھتے تھے
منع دکھلانا چھری کا ہے پئے قربانی
یاں تھا نو لاکھ کے نرغے میں علی کا جانی
ایک جاں لاکھ خریدار عیاذً باللہ
ہر طرف ظالم و خونخوار عیاذً باللہ
اپنے رتبے کا کسی کو نہ شناسا دیکھا
دیکھا پیاسے نے جسے خوں کا پیاسا دیکھا
آخری شرط چھری تیز ہو نرمی سے رواں
تاکہ تڑپے نہ اذیت سے ذرا بھی حیواں
آخری سجدہ اُدھر کرنے لگے شاہِ ہُدا
کُند کرتا ہوا خنجر کو ادھر شمر چلا
تیراں(13) ضربوں سے سرِ سیدِ والا کاٹا
اور مظلوم ہر اک ضرب پہ دیتا تھا صدا
ضرب پہ ضرب لگی کہتے تھے اماں، اماں
ضربِ آخر پہ کہا، ہو میرے عباس کہاں

تانیہ
01-19-2011, 10:39 PM
زبردست....نائس...

بےباک
01-21-2011, 07:27 AM
دنیا کے ہر ادب میں ہے حصہ حسین کا
دنیا کی ہر زباں پہ ہے قبضہ حسین کا
انساں سمجھ رہا ہے یہ رتبہ حسین کا
تاریخ کو حسین نے حیران کر دیا
سارے جہاں کے اہلِ قلم نے یہ لکھ دیا
کہ
ہمارے ہیں یا حسین

ماشاءاللہ ،بہت ہی اچھی نظم بارگاہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں پیش کی ،
سچ بات ہے جنت کے نوجوانوں کےسردار حسین رضی اللہ عنہ اور امام حسن رضی اللہ علیہ ہیں ، اور وہ مدح کے لائق ہیں
شکریہ جناب علی عمران صاحب