PDA

View Full Version : خود اعتمادی کو کیسے بحال کریں ؟



گلاب خان
11-26-2010, 09:27 PM
http://img220.imageshack.us/img220/3310/e14985pv.gif
خود اعتمادی سے نہ صرف آپ کی زندگی سنورتی ہے بلکہ آپ کی شخصیت کو بھی دوگنی طاقت ملتی ہے ۔ آپ جس قدر بھی ڈگریاں رکھتے ہوں اور صلاحیت وقابلیت کے مالک ہوں، اگر آپ میں خود اعتمادی کا فقدان ہے تو سمجھ لیجيے کہ یہ ساری ڈگریاں اور قابلیتیں بے کار ہیں ۔
کچھ لوگوں میں خوداعتمادی کی کمی بچپن ہی سے ہوتی ہے تو کچھ میں وقت کے بدلتے حالات اور زندگی کے تلخ تجربوں کی وجہ سے خود اعتمادی میں کمی آجاتی ہے ۔
عموماً لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر آپ کے پاس پیسہ ، جگاڑ اور اچھی شکل وصورت ہے تو آپ بآسانی منزل طے کرسکتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہے کیونکہ ان سب سے اوپر بھی ایک چیز ہے جن کے آگے یہ چیزیں پھیکی پڑجاتی ہیں اور وہ ہے خوداعتمادی ۔
اگر آپ میں خوداعتمادی ہے تو آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ اپنے اندر خوداعتمادی کیسے پیدا کریں ؟ آئےے اس سلسلے میں چند معاون وسائل کی جانکاری جاصل کرتے ہیں
مثبت سوچ اور پرُامن نظریہ
مثبت سوچ اور پرامن نظریہ خوداعتمادی کے بحال کے ليے نہایت ناگزیر ہے ، اوراس کا حصول آس پاس کے خوشگوار ماحول اور باہمت شخصیات کی صحبت سے بہت حد تک ممکن ہے صحبت کا انسان کی زندگی پر کافی اثر پڑتا ہے اگر آپ کے آس پاس اچھے ، محنتی اور خود پر یقین رکھنے والے لوگ ہوں گے توآپ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں گے اور خود کو ان جیسا بنانے کی کوشش بھی کریں گے، اس لےے ہمیشہ بردبار اور تجربہ کار لوگوں سے رابطہ میں رہنا چاہيے ، ان کی باتیں بغور سننا چاہےے اور انکے خیالات کو اپنے اندر اُتارنے کی کوشش کرنی چاہيے ۔ اور تعلقات ہمیشہ اچھے لوگوں سے رکھنے چاہيے،بُرے اور بدکردار لوگوں سے بال بال پرہیز کرنا چاہيے۔
شخصیت کو نکھارنے والی کتابیں پڑھیں اور ان سے ماخوذ معلومات کو خاص دفترمیںنوٹ کریں ،اور سبق آموز جملے لکھ کر ایسی جگہ چسپاں کردیں جہاں آپ کی بار بار نظر جاتی ہو۔
خودمیں اعتماد بحال کرنے کے ليے ضروری ہے کہ ہم مثبت سوچ رکھتے ہوں ، حالات جس قدر بھی سنگین ہوجائیں ہمیں گھبرانا نہیں چاہےے ،ایک امید اور بھروسہ رکھنا چاہےے۔ اور اس بات کا بھی یقین رکھنا چاہےے کہ آج نہیں تو کل سب کچھ ٹھیک ہوجاے گا ۔ ایسا نہ سوچنے کی صورت میں ہم پر ہمیشہ ڈر سوار رہے گا ،ہم آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرپائیں گے جس سے ہمارا حوصلہ گھنے گا ،یقین کمزور ہوگااور ہماری خوداعتمادی میں کمی آے گی ۔
پُرکشش گفتگو
گفتگو کا ہماری شخصیت پر بڑا اثر پڑتا ہے ، کسی کو متاثر کرنے کے لےے ہماری باتیں بہت معنی رکھتی ہیں ، عمدہ انداز بیاں سے نہ صرف ہم لوگوں کا دل جیتتے ہیں بلکہ اپنے اندر ایک پختہ یقین بھی پیداکرتے ہیں ۔
بہترین انداز بیان سے محروم ہونے کے باعث ہم دوسروں کے سامنے اپنے خیالات پیش کرتے ہوے جھجھک محسوس کرتے ہیں
نتجہ کے طور پر ہمارے اندر سے خوداعتمادی کا معیار گرنے لگتا ہے ۔ اور اس سے نجات پانے کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ بولنا چاہتے ہوں تو موضوع سے متعلق پہلے پوری معلومات جمع کرلیں اور اسے ازبر کرنے کے بعد عمدہ انداز بیاں اور بہترین اسلوب میں بات رکھنے کا مشق کریں ۔
کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا
جی ہاں!کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا تاہم ہرانسان کے اندر خفتہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جنہیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، اگر انسان اپنے اندر موجود اس ہنر کو ڈھونڈلے تو وہ زندگی میں بے پناہ لطف ومسرت سے مالامال ہوسکتا ہے ۔ اور اپنی اسی خوبی کی بدولت لوگوں کے دلوں میں ہی نہیں بلکہ معاشرے میں بھی اپنی علیحدہ پہچان بنا سکتا ہے ۔ اس لےے اپنے اندر چھپی ہوئی خصوصیات کو تلاش کریں ، یہ آپ کے ليے قدرت کا انمول تحفہ ہے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی خامیوں اور غلطیوں میں سدھار بھی ضرور کریں۔ اگر اس نکتے کو ذہن نشیں رکھا تو آپ کے اندر یقین کی صفت پیدا ہوگی اور یہی یقین کامل آپ کی خوداعتمادی کوبحال کرنے میں کارگر ثابت ہوگا۔
وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا
یاد کریں ان دنوں کو جب آپ بہت خوش اور مطمئن تھے ، سوچین کہ ان دنوں آپ کی مسرت وشادمانی کے کیا محرکات تھے؟ وہ کونسی خوبی تھی آپ میں اس وقت ....؟ اور کس بنیاد پر حاصل کی تھیں وہ خوشیاں ....؟ خود میں وہی طاقت ، وہی جذبہ ، وہی یقین پھر سے پیدا کریں ....اور یہ بھی سوچیں کہ اگر اچھے دن ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہتے تو بُرے دن بھی نہیں رہیں گے ، البتہ ماضی میں جو کامیابیاں آپ کو ملی ہیںاُن پر ایک نظر ضرور ڈالیں۔ وقتاً فوقتاً ان انعامات اور اعزازات کو بھی دیکھیں جوکہ ماضی میں آپ کو ملے تھے۔
اس طرح آپ اپنی مثبت سوچ سے اپنی کھوئی ہوئی توانائی دوبارہ حاصل کرکے خود میں پھر وہی طاقت ،وہی جذبہ،اور پھر وہی خوداعتمادی دوبارہ پیدا کرسکتے ہیں ۔
اپنی منزل خود طے کریں
زندگی میں کچھ بننے کے لےے اپنی منزل خود طے کریں ، اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لےے خود کو ضرورت سے زیادہ نہ الجھائیں ‘مباداکہ آپ کا سماجی ونجی زندگی سے رابطہ ہی ٹوٹ جائے ۔ افکار وخیالات کو اپنے اندر قید نہ ہونے دیں ،بلکہ اُن کا استعمال کریں، زندگی کو زیادہ سنجیدگی سے بھی نہ لیں، اور نہ ہی خود کو زیادہ قاعدہ قانون اور اصولوں میں باندھیں ، خود کو آزاد رکھیں ، زندگی سے لطف اندوز ہوں اور یاد رکھیں کہ آپ کی زندگی کا ایک ہدف ہے جسے آپ کو حاصل کرنا ہے ۔ اس طرح آپ خود سے مطمئن ہوکر خود میں اعتماد بحال کرسکیں گے ۔
اپنے کام کو مکمل کیں
اپنے کام کو بحسن وخوبی پایہ تکمیل تک پہنچائیں ، کیونکہ کام کو عمدگی سے انجام دینے پر ہمارے اندر پختہ یقین پیدا ہوتا ہے ۔ جبکہ آدھے ادھورے کام سے ہمارے اندر مایوسی پیدا ہوتی ہے ۔ کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اُسے اچھی طرح سمجھ لیں اپنی صلاحیتوں کو بخوبی تول لیں پھرکسی کام میں ہاتھ ڈالیں۔
ایک ہی طریقہ کا کام نہ صرف ہمیں بوریت دیتا ہے بلکہ ہماری قابلیت وصلاحیت کو بھی محدود کرکے رکھ دیتاہے، جس سے ہماری خوداعتمادی کم ہونے لگتی ہے ۔ لہذا کام میں ہمیشہ جدت لانے کی کوشش کریں،اس سے آپ کے اندر جوش وولولہ پیدا ہوگا، نئی نئی ترکیبیں سمجھ میں آئیں گی، اور آپکی خفتہ صلاحیتیں اجاگر ہوںگی۔
خودکو کمتر نہ سمجھیں
بالعموم لوگ خود کو کمتر سمجھتے ہیں ، اور دوسروں سے مرعوب رہتے ہیں ،دوسروں کی عزت کرناغلط نہیں ہے تاہم خود کو نظرانداز کرنا اور خودکو احساس کمتری کا شکار بنالینا بہت غلط ہے ۔
اس ليے اپنی اہمیت کو سمجھیں ،اپنی زندگی، احساسات ،اور اپنی ضرورتوں کا بھی خیال رکھیں۔
ساری خوبیاں ایک انسان میں نہیں ہوسکتیں ،انسان جس قدر بھی کوشش کرلے ‘ نہ تو وہ سارے کام کرسکتا ہے اور نہ ہی ہر فن مولا ہوسکتا ہے ۔لہذا جس فن میں دلچسپی ہو اسمیں خوب سے خوب مہارت پیدا کرنے کی کوشش کریں یہی آپ کے اندر خوداعتمادی پیدا کرنے میں کلیدی رول ادا کرے گا
چھوڑيے آس کا دامن نہ جہاں میں ہرگز
وقت بدلے گا ذرا صبر بنائے رکھيے

تانیہ
12-15-2010, 09:50 PM
نائس،،،،واہ

فیاض انصاری
03-05-2012, 06:56 PM
بہت عمدہ شئیرنگ شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔