PDA

View Full Version : شاعری



گلاب خان
01-26-2011, 07:20 PM
اے دل ناداں ، اتنا یاد نہیں کرتے
یوں وقت بے وقت فریاد نہیں کرتے

مانگی تھی ھم نے تھوڑی سی جگہ دل میں
اور جواب یوں آیا کہ اصرار نہیں کرتے

یہ مہنگی شے ھے ، ودیعت خدا کی ھے
اسے ھر ایر ے غیر ے پر نثار نہیں کرتے

مر کر بھی کچھ لوگ زندہ ہیں جہاں میں
ہم جی رہے ہیں تو کوئی کمال نہی کرتے

دیتا ھے خدا رزق پرندے کو گھونسلوں میں
یہ دولت یہ خزانے خوشحال نہیں کرتے

دمکتے چہر ے بھی ھیں وجہ رعنائی
صرف کھلتے گلاب بہار نہیں کرتے

تشنگی اب بھی باقی تھی کہ درباں نے اٹھا دیا
کہ یوں سیراب ہونے کی مجال نہیں کرتے

مر کر ہی ہم نے یہ جانا ہے اکرام
کسی سے اتنا ٹوٹ کر کبھی پیار نہیں کرتے

این اے ناصر
03-31-2012, 12:59 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ