PDA

View Full Version : شاعری



گلاب خان
01-30-2011, 12:27 AM
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے
ہزار غنچہ و گُل ہیں صبا کے رستے میں

خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملےہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں

کہیں سلاسلِ تسبیح کہیں زناّر
بچھے ہیں دام بہت مُدعا کے رستے میں

ابھی وہ منزلِ فکر و نظر کہاں آئی
ہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں

ہیں آج بھی وہی دار و رسن وہی زنداں
ہر اِک نگاہِ رموز آشنا کے رستے میں

یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصار
نہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستےمیں

مٹا سکے نہ کوئی سیلِ انقلاب جنھیں
وہ نقش چھوڑے ہیں ہم نے وفا کے رستے میں

زمانہ ایک سا جالب صدا نہیں رہتا
چلیں گے ہم بھی کبھی سر اُٹھا کے رستے میں
__________________

گلاب خان
01-30-2011, 12:37 AM
[color=#4B0082]آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا
اپنے اجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا

جب کبھی گردش تقدیر نے گھیرا ہے ہمیں
گیسوئے یار کی الجھن کو بہت یاد کیا

شمع کی جوت پہ جلتے ہوئے پروانوں نے
اک ترے شعلہ دامن کو بہت یاد کیا

جس کے ماتھے پہ نئی صبح کا جھومر ہوگا
ہم نے اس وقت کی دلہن کو بہت یاد کیا

آج ٹوٹے ہوئے سپنوں کی بہت یاد آئی
آج بیتے ہوئے ساون کو بہت یاد کیا

ہم سرطور بھی مایوس تجلی ہی رہے
اس در یار کی چلمن کو بہت یاد کیا

مطمئن ہو ہی گئے دام و قفس میں ساغر
ہم اسیروں نے نشیمن کو بہت یاد کیا

گلاب خان
01-30-2011, 12:40 AM
[color=#C71585]موج در موج کناروں کو سزا ملتی ہے
کوی ڈوبے تو سہاروں کو سزا ملتی ہے

میکدے سے جو نکلتا ہے کوی بے نشہ
چشم ساقی کے اشاروں کو سزا ملتی ہے

آپ کی زلف پریشان کا تصور توبہ
نگہت و نور کے دھاروں کو سزا ملتی ہے

جب وہ دانتوں میں دباتے ہیں گلابی آنچل
کتنے پر کیف نظاروں کو سزا ملتی ہے

میرے پیمانے میں ڈھل جاتا ہے پھولوں کو ثبات
میرے ساغرؔ میں بہاروں کو سزا ملتی ہے

این اے ناصر
03-31-2012, 12:58 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ