PDA

View Full Version : شیخ عبدالرحمن السدیس کا یاد گار خطبہ محافل و مجالس میلاد



شاہ زاد
02-07-2011, 12:56 PM
محافل و مجالس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

امام الحرم المکی الشیخ عبدالرحمن السیدیس
ترجمہ: شاہ زاد


پہلا خطبہ:
ہر قسم کی تعریف کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ہمارے لیے دین کو مکمل کردیا اور اب کسی کو یہ حق نہیں کہ اس میں ایسی چیزوں کا اضافہ کرے جو پہلے اس میں نہ تھیں۔ میں اس کی تعریف بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر بجا لاتا ہوں، اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور اسی سے معافی مانگتا ہوں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی نے شریعت بنائی اور اس کو آسان کردیا، اسی نے حکومت اور انتظامات سنبھالے، نا مناسب باتوں سے روکا اور اچھی باتوں کا حکم دیا، ہمیں بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں ، دوسرے انسانوں کی طرح وہ بھی انسان تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے بھیجا کہ ان کی بات مانی جائے اور اس پر عمل کیا جائے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لےے نہیں بھیجا کہ ان کی سنت کی مخالفت کی جائے اور اس میں نئی نئی چیزیں ایجاد کی جائیں۔ لہٰذا کسی شخص کا ایمان اس وقت تک پختہ نہیں ہوسکتا جب تک وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکامات کو نہ مانے ، ان کی تمام باتوں کو سچا نہ سمجھے اور جتنی نامناسب باتوں ، بدعات اور گناہوں سے انہوں نے روکا اور ڈرایا ہے ان سے پرہیز نہ کرے۔
بے حد و حساب درود و سلام نازل فرمائے اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کی اولاد پر اور ان کے ساتھیوں پر جنہوں نے ان کی سنتوں پر پختگی سے عمل کیا اور ان کے طور طریقوں پر جمے رہے، جب تک آنکھ میں دیکھنے کی سکت اور کان میں سننے کی طاقت رہے۔
أما بعد! اللہ سے ڈرتے رہیں اور اس کو نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے رہیں، وہی تو ہے جس نے تم ہی لوگوں میں سے ایک شخص کو تمہارا رسول بنانے کے لیے منتخب فرمایا جو تمہیں اس کی آیات پڑھ پڑھ کر سنائے ، تمہیں پاک باز بنائے اور تمہیں دین و دانش سکھائے، لہٰذا اتباع سنت کرتے ہوئے اس نعمت کی قدردانی کا اظہار کرتے رہےں، شریعت اسلامیہ اور سنت کے روشن راستوں پر گامزن رہیں اور اپنی خواہشات پوری کرنے والوں اور ان کے راستوں سے پرہیز کریں۔
دنیا بھر کے مسلمان بھائیو! اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور سنت پر عمل در آمد کا حکم دیا ہے ، بہت سی احادیث بھی اس کی شاہد ہیں، مثلاً:
(رسول تمہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرواور جس کام سے منع کریں اس سے باز آجاؤ) [الحشر:٧]
اور فرمایا:
(آپ کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو پھر میری بات مانو، اللہ تم سے محبت (بھی) کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف (بھی ) کرے گا) [آل عمران:٣١]
اپنی حکم عدولی سے ڈراتے ہوئے فرمایا:
(جو لوگ اس کی بات نہیں مانتے انہیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ انہیں کسی مصیبت میں مبتلا کیا جائے یا درد ناک عذاب میں پھنسا دیا جائے گا)[النور:٦٣]
اس سلسلے میں متعدد احادیث بھی وارد ہوئیں ہیں، چناں چہ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''تم میں سے جو بھی زندہ رہے گا وہ آئندہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، (اس صورت میں ) میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت پر قائم رہنا، بلکہ نہایت مضبوطی سے دانتوں میں دبا لینا (اور اس کے ساتھ ساتھ) نئی ایجاد ہونے والی باتوں سے بچتے رہنا، کیوں کہ ہر نئی ایجاد شدہ چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔'' (مسند احمد، ابوداود، ترمذی، ابن حبان)
ان نصوص سے ہر مسلمان پر واضح ہوگیاہوگاکہ مسلمان کا کام دین کا اتباع کرنا ہے ، نئی نئی باتیں ایجاد کرنا نہیں، خصوصاً جب وہ باتیں ہوں بھی دین و شریعت کے اصول و ضوابط کے خلاف۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجادکی جو پہلے اس میں نہ تھی تو وہ (ایجاد) مردود ہے ۔'' (متفق علیہ)
صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ اور زیادہ واضح ہیں، فرمایا:'' اگر کسی نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے دین میں شامل نہیں تو وہ وہ عمل مردود ہے۔''(مسلم) یعنی وہ عمل ناقابل قبول ہے ۔
سلف صالحین ہر دور میں امتِ مسلمہ کے سامنے ہر شعبے میں ایسی عمدہ مثالیں پیش کرتے رہے ہیں جو ابدی نجات کے روشن راستوں کی طرف راہ نما ہیں، چناں چہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:'' (سنت کا) اتباع کرتے رہو، (دین میں خود سے) ایجادات نہ کرو، تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہوجائے گا۔'' (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ:١/٨٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (صورت حال یہ ہوتی جارہی ہے کہ) ہر سال لوگ ایک نئی چیز ایجاد کرلیتے ہیں اور ایک سنت کو بھول جاتے ہیں ، (پھر یہ حال ہوجائے گا کہ) بدعات ہی باقی رہیں گی اور سنتیں سب کی سب بھلا دی جائیں گے۔'' (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ: ١/٩٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:'' ہر نئی ایجاد گمراہی ہے ، خواہ لوگ اسے کتنا ہی اچھا سمجھیں۔''(شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ: ١/٩٢)
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:'' جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد ان کے خلفائے راشدین نے جو عمدہ عمدہ طریقے دین میں قائم کیے ہیں، ان پر عمل کرنے والا ہدایت پر ہوگا اور اس کی ہر معاملے میں مدد کی جائے اور اور اگر کوئی اس راستے سے ہٹا اور غیر مسلموں کے راستے پر چلنے لگا، تو اللہ تعالیٰ اسے اسی راستے پر ڈال دیں گے اور سیدھا جہنم میں جا پہنچے گا اور جہنم تو بہت ہی بری جگہ ہے ۔'' (الشریعہ للآجری:١/٤٠٨)
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:'' اس امت میں بعد میں آنے والے لوگ بھی ان ہی طریقوں پر چل کر کامیاب ہوسکتے ہیں جن پر ان کے اسلاف چلے تھے۔''(منہاج السنۃ لابن تیمیہ:٢/٤٤٤)
بعض بزرگوں سے منقول ہے :'' امت کی ہدایت کے سب راستے بند ہیں علاوہ اس راستے کے جس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانہائے پا ثبت ہیں۔'' (الفقیہ والمتفقہ للخطیب:١/٣٨٩)
اے میرے بھائیو! آج جب کہ ہمارا دین بے یار و مدد گا ہوچکا ہے ، دشمن اس پر نگاہیں جمائے بیٹھا ہے ، صرف یہی نہیں کہ ہم غافل ہوگئے ہیں، بلکہ ہمارا ایمان بھی حد درجہ کمزور ہوچکا ہے ، ہم اپنے اصل مقصد کو چھور کر فضولیات میں مشغول ہوگئے ہیں ، برائیوں کے راہ نما اور دین میں در اندازی کرنے والے ہر طرف پھیل گئے ہیں، حالات بدلنے لگے ہیں، نیکی کو برا اور برائی کو نیکی سمجھا جانے لگا ہے ، لوگ سنتوں کو بدعات اور بدعات کو سنتیں سمجھنے لگے ہیں، بدعات اور من گھڑت باتیں لوگوں میں پھیلتے پھیلتے خون کی طرح ان کے دل و دماغ میں سرایت کرنے لگی ہیں، ولا حول ولا قوۃ إلا باللہ! اللہ کی پناہ۔
اے مسلمانو! ایسی ہی من گھڑت باتوں میں سے ایک بات جو لوگوں میں پھیلتی چلی جا رہی ہے، بلکہ بہت سے اسلامی ممالک کے رہنے والوں میں اپنے قدم جما چکی ہے اور ایسی نیکی کا درجہ حاصل کرچکی ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ، ان محافل و اجتماعات کا انعقاد ہے جو ماہ ربیع الاوّل میں جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے ذکر کے لیے منعقد کی جاتی ہیں، بلکہ اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ بعض لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت کی نیت سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کے لیے اس ماہ کو مخصوص کر لیا ہے ، حالاں کہ اس عمل کی کوئی دلیل نہیں ، بلکہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(یہ ان کی خواہشات ہیں، ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی مضبوط دلیل پیش کرو) [البقرۃ:١١١]
اسی طرح اس مہینے کی کسی رات کو یا دن کو میلاد وغیرہ کے جلسے جلوسوں اور اجتماعات کے لیے مخصوص کرنا بھی جائز نہیں، اس سلسلے میں متعدد دلائل بھی وارد ہوئے ہیں مثلا:
پہلی دلیل:
یہ عمل میلاد وغیرہ بالکل من گھڑت ہے، کیوں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین، حضرات صحابہ کرام اور تابعین میں سے کسی نے بھی یہ کام نہیں کیا، گویا یوں کہہ لیجیے کہ قرون ثلٰثہ مشہود لھا بالخیر اس عمل سے خالی ہیں، حالانکہ وہ لوگ نہ صر ف یہ کہ سنت کو زیادہ جانتے تھے، بلکہ بعد میں آنے والے لوگوں کی نسبت محبت اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی زیادہ کامل تھے، لہٰذا یہ میلاد کے محافل و اجتماعات وغیرہ اگر واقعتا دین کا حصہ ہوتے تو یقینا یہ حضرات بھی اس پر عمل پیرا ہوتے ۔
دوسری دلیل:
دلائل شرعیہ یعنی کتاب وسنت اوار اجماع و قیاس جو دینی احکامات کی اساس اور ہر قسم کی بے راہ روی سے محفوظ رہنے کے لیے بہترین راہ نما ہیں ، اس عمل کی کسی بھی طرح تائید کرنے سے قاصر ہیں۔
تیسری دلیل:
غور فرمائیے! کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو ہمارے لیے مکمل کردیا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت وضاحت سے کھول کھول کر ہر بات کو بیان کردیا ہے ۔ اب اس قسم کی من گھڑت چیزوں کو دین کا حصہ سمجھنے سے کیا یہ خیال ذہن میں پختہ نہیں ہوگا کہ معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ نے دین کو ادھورا چھوڑ دیا، یا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام امت تک پہنچانے میں کوئی کمی کردی؟ پھر ان لوگوں کے اس عمل کی کیا حیثیت رہ جائے گی جو ان محافل و اجتماعات کو اللہ سے قربت کا ذریعہ سمجھتے ہیں حالانکہ اس سے دین میں کمی کا شائبہ ہوتا ہے !

چوتھی دلیل:
اس قسم کی محافل و مجالس کا انعقاد نہ صرف گمراہی بلکہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ مشابہت بھی ہے، کیوں کہ وہ بھی کرسمس وغیرہ کے موقع پر اپنے انبیاء کی سالگرہ اور عیدیں ہی مناتے ہیں ، حالانکہ مسلمانوں کو ہر حال میں غیر مسلموں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے ۔
پانچویں دلیل:
عبادات ہمیشہ توقیفی ہوا کرتی ہیں یعنی ان کی بنیاد شریعت اسلامیہ کے مضبوط و محکم دلائل پر ہوتی ہے، کسی امتی کو اجازت نہیں کہ وہ اپنے پاس سے نت نئی عبادات ایجاد کرتا رہے ، عبادت تو صرف وہ معتبر ہوگی جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت قرار دیا ہو۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
( کیا ان کے لیے ایسے شریک بھی ہیں جو دین میں نئی نئی باتیں بناتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے بالکل حکم نہیں دیا) [الشوری:٢١]
چھٹی دلیل:
قواعد دین اور مقاصدشریعت اس قسم کی محافل و مجالس کی اجازت نہیں دیتے، چناں چہ یہ عمومی قاعدہ ہے کہ متنازعہ مسائل کو کتاب و سنت (یعنی ادلہ اربعہ) کی طرف پھیرا جائے گا، لہٰذا جب میلاد کی محافل و مجالس کو ہم شریعت کے مضبوط قواعد و ضوابط پر پرکھتے ہیں تو ان کی اجازت معلوم نہیں ہوتی ۔ اور اگر ''سد ذرائع'' اور ''ازالہ ضرر'' کے قواعد بھی اس کے ساتھ ملا لیں تو نہایت وضاحت کے ساتھ ان محافل و مجالس کا ناجائز ہونا معلوم ہوجاتا ہے ۔ مثلاً: ان دنوں اور ان محافل و مجالس میں کھلے عام شرک کیا جاتا ہے ، اللہ کو چھوڑ کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعائیں اور حاجات مانگی جاتی ہیں، شرکیہ اور گستاخانہ الفاظ و کلمات پر مشتمل قصیدے پڑھے جاتے ہیں، مرد و زن کا بے جا میل جول ، مال کا ضیاع ، شور شرابہ اور دیگر بہت سے مفاسد و گناہ بھی خوب ہوتے ہیں۔ حالانکہ اگر غور کیا جائے تو اس ماہ میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہی نہیں وفات بھی ہوئی ہے ، پھر کیوں کر اس مہینے کو غم کے بجائے خوشی منانے کے لیے مخصوص کر لیا گیا ہے۔
اسی طرح اس ماہ میں کسی رات کو محافل و مجالس کے لیے مخصوص کرلینا سراسر بدعت اور ہوس پرستی ہے ، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت میں حضرات مؤرخین کے مختلف اقوال ہیں اور کسی ایک دن کو مقرر کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اور دلیل موجود نہیں، البتہ اس کے بر خلاف علماء کرام اور ائمہ عظام کی متعدد تحریرات و اقوال ان محافل و مجالس کی تردید میں موجود ہیں۔
شیخ ابن تیمیہ فرماتے ہیں: شریعت کے مقرر کردہ مواقع کے علاوہ کسی موقع کو مقرر کرنا، مثلاً: ربیع الاوّل کی بعض راتوں کو ولادت مبارکہ کے لیے مخصوص کرلینا، یہ سب بدعات ہیں، سلف صالحین میں سے کسی نے ان کو پسند کیا ہے اور نہ خود کبھی ان کا انعقاد کیا ہے ۔ (مجموع الفتاویٰ:٢٥/ ٢٩٨)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں: یہ (عید میلاد وغیرہ) کبھی بھی سلف صالحین کے ہاں رائج نہیں رہیں، حالان کہ اس کا مقتضی بلا کسی رکاوٹ کے اس وقت بھی موجود تھا ، لہٰذا اگر یہ کام خیر محض ہوتا ، یا کم از کم صرف راجح ہی ہوتا تو سلف صالحین ضرور اس کو کر گزرتے، کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم سے زیادہ محبت کرتے تھے، وہ ہم سے زیادہ نیکی کے حریص تھے۔ (اقتضاء الصراط المستقیم:٣٣٣)
ایک اور جگہ فرمایا: میلاد وغیرہ کی محافل و مجالس میں گانا بجانا کرنا اور اس کو عبادت سمجھنا، اس میں اہل علم و ایمان میں سے کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ گناہ ہیں جن کے ارتکاب سے منع کیا گیا ہے ، اسے کوئی جاہل یا زندیق ہی اچھا سمجھ سکتا ہے۔ (رسائل فی حکم الاحتفال بالمولد:١/٣٤)
طوالت کے خوف سے میں نے اس سلسلے میں وارد سلف صالحین کے اقوال و تحریرات کی بیان نہیں کیا جن سے ان محافل و مجالس کی ممانعت معلوم ہوتی ہے ۔
میرے بھائیو! مختصراً یہ بھی سن لیجیے کہ جو لوگ ان محافل و مجالس کا انعقاد یا اس کا اہتمام کرتے ہیں ، یہ تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں:
[١]۔۔۔۔۔۔ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جو دوسروں کی دیکھا دیکھی یہ کام کرتے ہیں، گویا زبانِ حال سے وہ یوں کہہ رہے ہوتے ہیں: اجی ہمارے ہاں تو شروع سے یہی ہوتا آیا ہے ، اس لیے ہم بھی یوں ہی کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سراسر گمراہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے گمراہوں کی نشانی کے طور پر ان کی یہ بات بھی نقل کی ہے ، فرمایا:
(ہم نے اپنے بڑوں کو اسی راستے پر پایا اور ہم بھی ان ہی کے راستے پر چلتے چلے جائیں گے)[الزخرف:٢٣]
[٢]۔۔۔۔۔۔دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کہیں سے کچھ مال پانی مل جائے تو مزہ ہی آجائے ، یہ لوگ ایسے مواقع پر اپنا پیٹ بھرتے ، فضولیات میں وقت گزارتے اور گناہ کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔
[٣]۔۔۔۔۔۔ تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو راہ نماؤں اور لیڈروں کی سی حیثیت رکھتے ہیں، اسلام کی حقیقی صورت کو چھپا کر لوگوں کو بہکاتے اور ان کو بدعات و خرافات میں لگائے رکھنے کا کام کرتے ہیں۔
لہٰذا اے مسلمانو! اللہ سے ڈرتے رہو! آخر کب تک اس قسم کے فضول اور گمراہ کن کاموں میں مشغول رہو گے؟ آخر کب تک دین میں تبدیلیاں ہوتی رہیں گی اور آئے دن نت نئی چیزیں ایجاد ہوتی رہیں گی؟توحید کا دعویٰ کرنے والوں کو غیرت کب آئے گی؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر کب عمل پیرا ہوں گے؟ إنا للہ و إنا إلیہ راجعون۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے :'' اسلام کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ کوئی اسلام سے واقف نہ تھا اور عن قریب دوبارہ اس کا یہی حال ہوجائے گا، لہٰذا خوشی کا موقع ہوگا ان لوگوں کے لیے جو اس ناواقفیت کی حالت میں بھی اسلام سے چمٹے رہیں گے۔'' (مسلم:١٤٥، ابویعلیٰ:٦١٩)
اللہ ہی مدد گار ہے، اسی سے شکایت کی جاسکتی ہے ، نیکی کرنے اور گناہوں سے محفوظ رہنے کی طاقت بھی اسی بلند و بالا اور عظمت والے رب سے ملتی ہے ۔
اے اللہ! مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمادیجیے، ہمیں اپنے حبیب کی سنتوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمادیجیے، ہمیں گناہوں اور دین میں نت نئی باتیں شامل کرنے سے بچا لیجیے! اے تما م جہانوں کے رب!
میں نے یہ گزارشات آپ لوگوں کے سامنے پیش کردیں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے، آپ کے اور تمام مسلمانوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں ، آپ بھی معافی مانگیے، کیوں کہ وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے ۔


دوسرا خطبہ

ہر طرح کی تعریف کا مستحق اللہ ہی ہے جس نے ہمیں اتباع کا حکم دیا اور بدعات سے منع فرمایا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ درود و سلام نازل فرمائے اللہ تعالیٰ اُن پر ، اُن کی اولاد پر اور اُن کے ساتھیوں پر اور ہر اس شخص پر جو مضبوطی سے ان کی سنتوں پر قائم رہے ۔
اے مسلمانو! اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ بات پیش نظر رکھو کہ حق اور سچائی شرعی دلائل سے معلوم ہوتی ہے لوگوں کے اعمال سے نہیں، لہٰذا اہل بدعت اور محافل و مجالس کرنے والوں کی کثرت سے گمراہی میں مبتلا نہ ہوجانا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :
( دنیا میں موجود اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر ااپ ان کی بات مانتے رہے تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے ہٹا دیں گے) [الانعام:١١٦]
شیطان نے ان اہل بدعت کو ایسے ایسے شبہات سکھا دیئے ہیں جن سے یہ عوام الناس اور کم علم لوگوں کو گمراہ کرتے رہتے ہیں، حالاں کہ حقیقت میں یہ شبہات وہم سے زیادہ کچھ نہیں اور دین و شریعت کے مخالف ہونے کی وجہ سے مکڑی کے جالے کی طرح کمزور بھی ہےں۔
چناں چہ اہل بدعت کی طر ف سے ایک شبہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ان کا یہ عمل جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ولادت مبارکہ پر اظہار فرحت و مسرت سے عبارت ہے ، لہٰذا جو لوگ ان محافل و مجالس میں شرکت نہیں کرتے ان کا محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ جھوٹا ہے :
[محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں آتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں.....مترجم ]
یہ دلیل بالکل بے سروپا اور من گھڑت ہے ، کیوں کہ حبِّ رسول اللہ صلی اللہ کا معیار تو شریعت پر ثابت قدمی اور سنتوں پر عمل پیرا ہونا ہے ، ناکہ اہل بدعت کی محافل و مجالس ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آپ کہہ دیجیے!اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو پھر میری بات مانو، اللہ تعالیٰ تم سے مھبت بھی کرنے لگیں گے اور تمہارے گناہوں کی بھی معاف کردیں گے)[آل عمران:٣١]
ایک شبہ وہ یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ ان محافل و مجالس کا انعقاد ''بدعت حسنہ'' میں سے ہے۔ حالاں کہ یہ بالکل غلط بات ہے ، کیوں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ '' ہر بدعت گمراہی ہے ۔'' (صحیح مسلم، حدیث:٨٦٧، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما)
کتاب و سنت کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں، پھر کہاں سے انہوں نے ''بدعت حسنہ'' ڈھونڈ نکالی ہے ۔
ایک شبہ ان حضرات کی طر ف سے یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ میلاد کی یہ محافل و مجالس اب کسی کی آنکھ سے اوجھل نہیں، بلکہ معاشرے میں رائج ہوچکی ہیں اور کوئی ان سے منع بھی نہیں کرتا، تو اس کا جواب (جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا) یہ ہے کہ لوگوں کی عادتیں اور رسم و رواج اگر دین کے خلاف ہیں تو وہ حجت نہیں، بلکہ حجت تو ادلہئ اربعہ ہیں اور وہ ان محافل و مجالس کی دلیل سے خالی ہیں۔
عجیب و غریب بات یہ ہے کہ شیطان نے اس عمل کو لوگوں کے دلوں میں اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے کہ وہ ان محافل و مجالس میں ہر ممکن کوش کر کے خوشی خوشی حاضر ہوتے ہیں ، نہ کرنے والوںسے نفرت کا اظہار کرتے ، اس کی حفاظت کرتے اور بسا اوقات تو مخالفوں پر حملہ آور بھی ہوجاتے ہیں ، ان محافل و مجالس میں ایسی پابندی سے شرکت کرتے ہیں کہ ان کی خاطر شرعی احکامات کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں اور ذرّہ برابر پروا نہیں کرتے، حالاں کہ یہ سرا سر جہالت اور بے دینی کی باتیں ہیں۔
ایک خطرناک بات یہ بھی ہے کہ ان میں سے بعض لوگ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ ان کی ان محافل و مجالس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس تشریف لاتے ہیں ، اس لیے یہ بدعتی ایک مخصوص موقع پر صلاۃ و سلام پڑھتے ہوئے اور مرحبا مرحبا کہتے ہوئے کھڑے ہوجاتے ہیں ، حالاں کہ یہ نہایت احمقانہ حرکت اور جہالت کا بدترین نمونہ ہے ۔
اے دنیا بھر کے مسلمانو!ان واضح دلائل اور صاف جوابات سے ہمارے سامنے ان بدعات کا من گھڑت اور بے حقیقت ہونا واضح ہوگیا ہے ، ذرا سی عقل و دانش رکھنے والے اور انصاف پسند آدمی کے سامنے یہ بات کھل کر آجائے گی کہ میلاد کی یہ محافل و مجالس نہ صرف سراپا خطا ، بلکہ دین میں اضافہ ہیں۔
لہٰذا اب ہم اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے اور مسلمانوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لیے اس مقدس مقام (مسجد حرام مکۃ المکرمہ) سے تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ :
۔۔۔۔۔۔اپنی ذات کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہیں اور اس قسم کے گناہوں کے کاموں کو چھوڑ دیں، ہماری درد مندانہ اور مشفقانہ اپیل پر غور کریں اور اللہ کے عذاب سے ڈریں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ میدا نِ حشر میں انہیں اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیروکاروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھانا پرے۔
۔۔۔۔۔۔ہم اس مقدس مقام سے صد ابلند کرتے ہیں جہاں سے حق کا کلمہ جاری ہوا اور پوری دنیا میں پھیل گیا ، تعصب کو نظر انداز کرتے ہوئے، پورے ہوش و حواس سے کام لیتے ہوئے حقیقت کی تلاش میں شریعت اسلامیہ کی روشن شاہ راہ پر چلتے ہوئے اس بدعت کو چھوڑنے کی دعوت دیتے ہیں، کیوں کہ یہ بدعت اہل بدعت کو اللہ سے دور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے والے راستوں پر رکاوٹ بننے کے علاوہ اور کچھ نہ کرے گی، لہٰذا جب تک یہ محافل و مجالس اور دیگر بدعات اسلام کے صاف ستھرے چہرے کو بدنما بناتی رہیں گی یہ دعوت جاری رہے گی، کیوں کہ یہ دعوت کسی بھی قسم کے تعصب اور خواہش پرستی سے بالکل صاف اور خالی ہے ۔ یہ حق کی دعوت ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :
(آپ کہہ دیجیے! لے آؤ اپنی پکی اور مضبوط دلیلیں، اگر تم سچے ہو)[البقرۃ:١١١]
اور فرمایا:
(اگر یہ آپ کی دعوت قبول نہ کریں تو آپ سمجھ جائیے گا کہ یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف سے ملنے والی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے، یقینا اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت سے نہیں نوازتے) [القصص:٥٠]
اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے سب مسلمانوں کے لیے یہ مستحب قرار دیا ہے کہ اپنے حبیب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے رہیں ، جیسے کہ ارشاد ہے :
( اللہ اور اس کے فرشتے نبی ریم پر درود بھیجتے ہیں ، اے ایمان قبول کرلینے والو تم بھی اس نبی پر درود و سلام بھیجنے کا حق ادا کرو)[الاحزاب:٥٦]۔

سرحدی
02-07-2011, 01:03 PM
جزاک اللہ خیراً
بہت اچھا مضمون ہے اور وقتِ حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے۔
مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کی حیثیت مسلمہ ہے اور وہاں سے بلند ہونے والی صدا ہمارے لیے بہت ہی اہم ہے ۔ نیز مضمون سے واضح ہے کہ سرکارِ دو عالم سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہوکر ہماری فلاح اور کامیابی یقینی ہے۔ دین اسلام ایک بہترین ضابطہ حیات پیش کرتا ہےجس میں زندگی کے ہر گوشے اور ہر پہلو کے متعلق احکامات موجود ہیں۔ ان پر عمل پیرا ہوکر ہم یقینا اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں میں شامل ہوسکتے ہیں جب سنت نبوی پر عمل کرنے سے ہمیں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نصیب ہوسکتی ہے۔ جزاک اللہ اچھی شیئرنگ ہے۔۔۔

گلاب خان
02-07-2011, 08:33 PM
بھت خوب ماشااللہ سچ بات بھت پیارے انداز میں سمجھای اللہ ہم سب کو ہر بدعت اور رسم سے محفوظ کرے اللہ ہمے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنے والا بناے نہ کے دوسروں کے پیچھے چلنے والا بناے بے شک وہی کامیاب ہو گا جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کی اور ان کے سنتوں پر عمل کیا کبھی وہ کامیاب نھی ہو گا جوسنی سنای باتو پر چلے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا پس پشت ڈال دے اور عاشق رسول کہلاے ،اپنے آپ کو عاشق کھلانے سے عاشق نھی بن جاتا عشق کے لیے سب کچھ قربان کرنا ہی اسل عشق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ہو . اگر اس میں منافقت ہو تو کیسے عاشق بنے گا میں تو ایک ہی بات دوستوں سے کر تا ہوں بھئی دین بھت آسان ہے اگر اس کو سمجھو نھی تو بھت مشکل ہے سمجھنا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرے اگر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کیا تو کرو نھی کیا تو نہ کرو جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ ہے فرمایا میں نے تم تک دین مکمل پہنچا دیا اب جس نے ایک انچ اضافہ کیا وہ بھی خسارے میں ہے جس نے کمی کی وہ بھی خسارے میں ہے تو بات سمجھو تو بھت آسانی سے سمجھ آجاتی ہے نہ سمجھو تو نھی سمجھ آے گی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی مشرکین یے کہتے تھے یے ہمارے اباو اجداد کا دین ہے ہم اس پر چلے گے اور ہم مانتے بھی ہیں آپ آخری رسول ہیں لیکن ضد ھٹ دھرمی کی وجہ سے نھی مانتے تو ضد کا تو کوی علاج نھی. شیطان کو بھی پتا تھا میں یہ سب غلط کر رھا ہوں اور اس کی مجھے سزا ملے گی پر تکبر نے برباد کر دیا دوستو دین کو سمجھو دین بھت آسان ہے سب سے آسان طریقہ سب کو چھوڑ کر صحابہ کی زندگی کو اپنا لو صحابہ نے حضور کی پیروی کی ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا ہے اپنے راستے خود مت بناو راستا بنا بنایا ہے اس پر چلو تو کامیابی ہے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اپنا لو یہ ہی اصل راستہ ہے باقی سب دھوکا فراڈ ہے ضد کو چھوڑ کر اصل کو پہچانو اللہ کامیابی دے گا انشااللہ اللہ ہم سب کو سچا دیندار بناے ،وہ راستہ دیکھاے جس میں اس کی رضاء ہے اس راستے سے بچاے جس مے اس کی پکڑ ہو ہم سب کو سچا عاشق رسول بناے ان کی سنتوں پر چلنے والا بناے آمین

سقراط
02-08-2011, 12:28 AM
عید ایک دینی تہوار ہے میری معلومات کے مطابق نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو عیدیں بتا ئیں ہیں یہ تیسری عید کس کی ایجاد کردہ ہے جس کو سب سے بڑی عید کہا جاتا ہے ایک رکعت میں تین سجدے کرنے سے اللہ خوش نہیں ہوگا کیوں کہ وہ نبی پاک کے بتائے ہوئے طریقے پر نہیں ہوگا وہ تیسرا سجدہ انسان کو جہنم میں لے جائے گا ہم صحابہ کرام سے بڑھ کر عاشق نہیں ہوسکتے چاہے کتنا بھی محبت کرلیں تو کیا صحابہ کرام نے کبھی منائی شیخ عبدلقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی پوری زندگی کا احوال پڑھ لیں آپ کو کہیں بھی ایسا عمل نہیں ملے گا
میں امید کرتا ہوں کہ اس مضمون کو اصلاحی معنوں میں لیا جائے گا نا کہ تنقیدی
تحقیق لازمی ہے

بےباک
02-08-2011, 07:54 AM
جزاک اللہ خیر ،
آپ سب دوستوں کا شکریہ ،
سبق آموز درس دینے پر آپ سب کے شکر گزار ہیں،

محمد حسن
03-25-2012, 01:43 AM
بہترین اصلاحی خطبہ بھیجا گیاہے۔

نگار
05-04-2012, 11:18 AM
جزاک اللہ بھائی
آپ نے بہت اہم موضوع پہ معلومات فراہم کیں ہیں۔
اللہ ہم سب کو بدعت اور ایسی کئی دوسری گناہوں سے بچائے جس
سے اللہ اور اس کے رسول صہ نے منع فرمایا ہے۔
آپکا بہت بہت شکریہ