PDA

View Full Version : بو کاٹا؟



شاہ بانو میر
02-08-2011, 02:19 AM
بو کاٹا ؟
http://rajafamily.com/lib/0004QL004.jpg


فروری کے مہینے کی آمد آمد ہےـ کئی متضاد بیانات اور کئی دردناک اموات کے باوجود شہر زندلان پنجاب لاہور نے آسمان پر رنگ برنگی پتنگوں سے قوس قزح کے رنگ ضرور بکھیرنے ہیں ـ اس ضمن میں کوئی پابندی کوئی تاویل انکوپتنگ بازی سے منع کرنے میں ناکام رہے گی ـ ہرسال پتنگوں کے نت نئے ڈیزائن متعارف کروائے جاتے ہیں اسی طرح ڈورکی قسم بھی پتنگ بازوں کو کیمیکلز کے حوالے سے زیادہ مٔوثر نظر آئے تواسی ڈور کی مانگ میں اضافہ اور وہی مقبولیت کا شرف حاصل کرتی نظر آتی ہے ـ
ڈوروں کے الجھے ہوئے گچھے آسمان پر پتنگوں کی رنگ برنگی برسات اور بو کاٹا کا شور یہ ہے اصل رونق بسنت کی ـ
پہلے زندگی سادہ تھی ماحول میں ایک پاکیزگی اور ہر رسم ہر رواج میں ایک خاص تہذیب اور ٹھراؤ کا عنصر واضح ملتا تھا ـ لیکن مادی ترقی میڈیا کی بھرمار نے لائیو کوریج نے ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کو بہت قریب کردیا اور اقدار اور روایات میں عجیب کٹی پتنگ کی ڈولتی ہوئی ڈور کی طرح الجھاؤ اور بیرونی تہذیبوں کے آمیزش نے ہر ملک ہر ثقافت کا بھرتہ سا بنا دیا ـ یہی حال بسنت میں بھی ہوا بات پتنگ بازی سےہٹ کے اب باقعدہ لباس میوزک اور بے ہنگم ٹولوں کی تفریح کی صورت نظر آتا ھےـ بسنت پرہوائی فائرنگ بڑے بڑے سپیکرز پر گھٹیا اور ذ ومعنی پنجابی فلمی گانوں کے ساتھ ڈھول بو کاٹا کی صدائیں ڈھولی کے ڈھول کی تھاپ پر ہر کاٹی ہوئی پتنگ پر بھنگڑے اور باقعدہ پکوان کا اہتمام اس سادہ اور بے ضرر سے تہوار کو اب ایک مہنگا اور پرتعیش موقعہ بنا گیا ـ
پہلے امیر غریب سب ہی اسکو اپنی اپنی استطاعت کے مطابق منا لیتے تھےـ لیکن مہنگائی اور اعلیٰ معیار نے یہ سادہ سا تہوار بھی اب مخصوص سا کردیا ـ
اہلیان لاہور ہر سال ہی ہزاروں پتنگوں کو کٹواتےہیں اور ہزاروں پتنگوں کو بو کاٹا
کرتے ہیں لیکن اہلیان لاہور نے اس سال کا جو بڑا بو کاٹا کیا ہےـ وہ ہے چند روز پہلے امریکی شہری اور متنازعہ سفارتی امریکی رکن رائمن ڈیوس جس نے دن دیہاڑے سر عام تین پاکستانیوں کو بہیمانہ وحشیانہ اندز میں جنونی انداز میں قتل کیا ـ کئی بیان دیے اور کئی بیان بدلے پہلے کہا کہ اس کو ان نوجوانوں نے لوٹنے کی کوشش کی اور اپنے دفاع میں اس نے پے درپے فائر کر کے انکو موت کی نیند سلا دیا ـ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی سے خفیہ میٹنگ کرنے گیا ہوا تھاـ جہاں کسی بھی بات پر تلخ کلامی ہوئی اور یہ وہاں سے سرعت سے بھاگا اسکا خیال تھا کہ وہ جرائم پیشہ افراد اسکا تعاقب کر رھے ہیں اور جیسے ہی یہ لڑکے اسکے قریب آئے تو تو خود ساختہ سوچ کے تحت کہ یہ لڑکے اسی جرائم پیشہ گروہ کے رکن ہوں گے اور اسکو ختم کرنے کے درپے ہیں اسی سوچ میں اس نے دو گھروں کے چراغ موت کی نیند سلا دیے ـ
ان کو قتل کرنے کے بعد تیزی سے گاڑی کو بھگاتے ہوئے وقوعہ سے دور ہونے کی کوشش میں تیسرے نوجوان کو بیدردی سے کچلتے ہوئے جب گاڑی نے آگے بڑہنا چاہا تو لاہور کے روایتی رش نے راستے مسدود کر دیے اور لوگوں نے گاڑی کا گھیراؤ کر لیا تین تین پاکستانی بے قصور نوجوانوں کو بے رحمی سفاکی سے قتل کرنے والا یہ شخص امریکی ہونے کے زعم میں مبتلا تھاـ گاڑی سے کسی طور باہر نکلنے کو تیار نہی تھاـ ویسے تو شیر دلان لاہور کسی اور کو ایک منٹ میں بالوں سے گھسیٹ کا گاڑی کو توڑ تاڑ کر اسکے پرخچے اڑادیتے لیکن امریکہ کی دہشت سب کے حواسوں پر ایسی سوار ہے کہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی لوگوں نے بس گاڑی کے گھیراؤ پراکتفاکیااور پولیس کو مہذب شہریوں کی طرح مناسب کاروائی کا اختیار دے دیا ـ پولیس کے ساتھ بھی شدو مد کے بعد یہ بڑی مشکل سے ساتھ جانے پر آمادہ ہوا اسکے چہرے پر کسی قسم کا کوئی خوف کوئی ملال نہیں تھا ـ دوسری طرف جن گھروں کے چراغ گل ہوئے تھے ـ ان میں سے فیضان کے گھر والے تو حد درجہ قابل رحم تھے کہ چالیس روز قبل فیضان کا بھائی قتل کر دیا گیا ابھی ایک جوان لاشے کو اٹھانے کا غم نہی بھولے تھے کہ دوسرے جوان کو قتل کر دیا گیا ستم بالائے ستم کہ متضاد میڈیا رپورٹس اسکے گھر والوں پر قہر کی بجلیاں گراتی رہیں کہ وہ ڈکیت ہے وہ عادی مجرم ہے وہ چور ہے ـ بہنیں دکھ اور صدمے سے نڈہال ایک طرف بھائی کی موت سے ادھ موئی دوسری طرف لوگوں کی میڈیا
رپورٹس پر ہونے والی چہ مگوئیاں انکے زہنوں پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھیں کہ اس حالت میں ا سبے بسی میں جب دو دو جوان گھر سے چلے جائیں تو اس قیامت میں وہ دکھ کو محسوس کریں کہ کہ مرے ہوئے کے دامن سے تہمتوں کے داغ صاف کریں ـ ستم ظریفی کی ایسی کئی مثالیں اب ہمارے بے حس معاشرے کے اصلی خدوخال کو نمایاں کرنے لگی ہیں ـ جب ایسی بے حسی کی باتوں پر گھر والوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونے کی بجائے باتوں سے انکی تکلیف کو ہم اور بڑہا کر اپنے بے حس ہونے کا عملی ثبوت دیتے ہیں ـ معاشرے کی نئی تشکیل انتہائی خطرناک اور منجمد سرد رویوں کی عکاس ہے جو ہمارا ماضی نہیں ـ
تین جوان لڑکوں کے گھروں میں جو صفِ ماتم بچھی وہ اذیت وہ جاں لیوا تکلیف صرف وہی بیان کر سکتے ہیں کوئی وزیر کوئی مشیر کوئی قانونی ہرکارہ نہیں ـ
دوسرے دن کی میڈیا رپورٹ کہتی رہی کہ کہ ان لڑکوں کے ورثاء کو پوسٹمارٹم رپورٹ نہی دی جا رہی سب کچھ بند اور پر اسرار تھا کوئی بات کوئی تحقیق جامعیت پر پوری نہی اتر رہی تھی ہر بات کو گول گول گھمایا جا رہا تھا ـ
پہلے فارن منسٹری سے بیان جاری ہواکہ امریکہ کو اس واقعے پر از حد افسوس ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ آدمی اپنے اصلی نام سے نہی ہے پھر یہ خبر آئی کہ سفارتی عملے کو استثنیٰ حاصل ہے کسی بھی قانونی چارہ جوئی پر ـ پھر یہ بھی
بتایا گیا کہ یہ انسان سیکرٹ ایجنٹ ہے اور براہ راست کسی خفیہ ایجنسی کے ساتھ معاہدے میں ہے اور ڈیڑھ سال میں یہ دسواں چکر ہے اسکا پاکستان ـ
اسکا مطلب کہ یہ سفارتی رکن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود تھانے میں عجیب ہی ماحول ہے ہر زبان جو اس دکھ کی گھڑی میں اپنوں کے ہرے زخموں پر مرہم لگا سکتی تھی عجیب ہی طلسماتی خاموشی کا شکار ہے ـ کوئی ہاتھ نہی
ان سیاسی قائدین میں سے کسی کا بھی جو دن رات عوامی مسائل کا اور عوام سے ہمدردی کا رونا رو رو کر خلقِ خدا کو بیوقوف بنا کر ووٹ حاصل کر تے ہیں مظلوموں کے سر پے شفقت سےرکھا کوئی ہاتھ ہمیں دکھائی نہی دیا ـ آبلہ پا اپنے ہی پاکستانی اپنے ہی ملک میں ایک غیر ملکی کے ہاتھوں اپنے بچوں کو کھوکر ساکت نظروں سے اپنے ہی میڈیا پر اپنے ہی لوگوں کا ٹرائل
ہوتے دیکھ رھے ہیں کوئی کہ رہا ہےکہ حکومت مسلسل رابطے میں ہے کوئی کہ رہا ہے قائمہ کمیٹی نے امریکن کونسلیٹ کو فوری طور پے نوٹس بھیجا ہے کوئی کہ رہا ہے ـ کہ خاموشی سے اسکو امریکہ بھجوادیا جائے گا ـ دوسری طرف ورثاء کا پُرزور مطالبہ ہے کہ قاتل کو قرارواقعی سزا دی جائے امریکہ کا اصرار ہے کہ وہ امریکی شہری ہے اورڈھٹائی سے کہا جا رہا ہے کہ بے شک وہ باقعدہ سفارتی عملے میں شامل نہی لیکن کسی کو کسی بھی طرح سے کوئی حق حاصل نہی پاکستان میں اس پر کوئی بھی قانونی کاروائی کرنے کا ؟
یہ ملک یہ نظام یہ قانونی موشگافیاں کیا ہیں؟
ایک امریکی جس کی نقل و حرکت پر اسرار ہے پاکستان کے کے ڈیڑھ سال میں لاتعداد چکر سیکرٹ ایجنسی کا قبول کرنا کہ انکا ایجنٹ ہے ایسا اہم انسان اس وقت جبکہ پاکستان حالتِ جنگ میں ہےـ ان حالات میں وزراتِ داخلہ اور پولیس اس کی آمد سے اسکی حرکات وسکنات سے مکمل طور پےلا علم وہ لاہور کے معروف علاقے میں کس سے ملنے گیا اسکے کیا عزائم تھے ـ ابھی تک کوئی تحقیق کوئی انکشافات نہیں ہوئے جبکہ اس آدمی کی زات بذات خود معمہ ہے ـ لیکن کیا اس موقعے کو بھی ماضی کی طرح کوئی خفیہ ڈِیل کر کے کوئ اندر ہی اندر سودے بازی مستقل خاموشی کے بعد بھلا دے گی؟ ـ
کہیں کوئیِ واضح رد عمل کوئی ٹھوس حکمت عملی ـ کسی پاکستانی کیلیۓ انصاف کیا یہاں اس ملک میں ممکن ہے؟
اہلیان لاہور کے سادے زہنوں کی سادہ سی سوچ یہ ہے کہ اس بار فروری کے مہینے میں بسنت پر دنیا کا سب سے بڑاپیچا لگ گیا پاکستان کا امریکہ کے ساتھ سادہ زہن سادہ سوچ
کہ
رائمنڈ ڈیوس پر قانونی کاروائی پاکستان میں ہی ھو گی جیسے عافیہ پر امریکہ
میں ہوئی لیکن پیچا ہےـ
کہ رائمنڈ کو اپنے ملک میں سزا کاٹنے کیلیۓ بھیج سکتے ہیں اگر عافیہ کو پاکستان میں سزا کاٹنے کیلیۓ بھیجو؟
حکومت سے قانونی اداروں سے تو کوئی امید نہی کہ کہیں سے بھی کسی بھی طرح کا انصاف ملے گا کیونکہ ڈالرز کی پہچان اور ضرورت اب اس ملک کی ضرورت اور ہر فرد کی پہچان بن چکا ہے ـ فیصلہ اب کی بار بسنت کرے گی کہ پیچا تو لگ گیا اب ڈھول کی تھاپ پیلے ملبوسات کھنکھتی چوڑیوں اور فائرنگ کی ہوشربا آوازوں میں اور مدھر مہکتے پکوانے کے ساتھ موسیقی کے بے ہنگم شور میں ڈھولی کی تھاپ پر بو کاٹا کی صدا کس جانب سے بلند ہوتی ہے؟
عافیہ پاکستان آوے ای آوے ڈیوس امریکہ جاوے ای جاوے
انتطار کیجیے پیچا کس کی پتنگ کاٹتا ہے ڈور کس کی اچھے اور مضبوط کیمیکل سے تیار کی گئی ہے وقت بتائے گا یا پھر فروری کی بسنت ؟
بو کاٹا پر کس کا؟


http://rajafamily.com/lib/0004QL005.gif

بےباک
02-08-2011, 07:03 AM
واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق ایک سابق امریکی سفارتی سکیورٹی سروس کے ڈپٹی چیف ”فریڈ برٹن“ کے بقول ایک ”انفارمر“ سے ملاقات کا ایک برا انجام ہوا اور یہ ایک جاسوسی کا معاملہ تھا نہ کہ ڈکیتی یا کار چھیننے کا، آزاد ذرائع بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا امریکن ، ان کی کاسہ لیس پاکستانی حکومت و سیاسی قیادت بیان کر رہی ہے، یہ ہرگز کوئی ڈکیتی کی واردات نہیں تھی بلکہ موٹر سائیکل سواروں نے کوئی ایسی بات یا کاروائی دیکھی تھی جس کو امریکن چھپانا چاہتے تھے،
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس پاکستان سفارتی ویزے پر نہیں آیا اور وہ اصل میں امریکی خفیہ فوج کا اہلکار ہے جو بلیک واٹر / زی کے لئے خفیہ سرگرمیاں سرانجام دے رہا ہے۔ امریکہ نے قاتل کے لئے سفارتی استثنیٰ طلب کر لیا ہے اور کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اور اسے گرفتار کرنا ”ویانا کنونشن“ کی خلاف ورزی ہے۔ سفارتکاروں اور سفارتی عملہ کے متعلق امریکہ کے طرز عمل پر بعد میں بحث کرتے ہیں، پہلے یہ دیکھا جائے کہ کیا واقعی ”ویانا کنونشن“ کے تحت ریمنڈ ڈیوس کو استثنیٰ مل سکتا ہے۔ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 37(2) کے تحت سفارتی عملہ یا ان کے اہلخانہ (اگر وہ اس ملک کے رہائشی نہ ہوں جہاں سفارتکار تعینات ہو) کو اس صرف اس صورت میں استثنیٰ مل سکتا ہے اگر وہ سفارتخانے/مشن کی قانون کے مطابق آفیشل ڈیوٹی پر ہوں ، اگر کوئی سفارتکار یا اہلکار کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو تو اس کے لئے کسی بھی حوالہ سے استثنیٰ کا کوئی وجود نہیں ہے، جبکہ لاہور والے کیس میں نہ تو قاتل سفارتی ڈیوٹی پر تھا، نہ اس نے پاکستانی حکام کو ایسی کوئی پیشگی اطلاع دی تھی اور نہ ہی امریکہ اب تک اس کی ”مزنگ یاترا“ کی کوئی بھی توجیح پیش کرسکا ہے، ایسی صورت میں جب قاتل نے ناجائز اسلحہ اپنے پاس رکھا اور ممنوعہ بور کے ناجائز اسلحہ سے قتل جیسا گھناﺅنا جرم کر کے پاکستانی قوانین کی طاقت اور غرور کے نشہ میں دھجیاں بکھیر دی ہوں، اس کے لئے قطعاً کسی قسم کا سفارتی استثنیٰ موجود نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کا حقدار ہے۔ پاکستانی عدالتوں کو اس کے ساتھ نہ صرف ایک جاسوس اور قاتل کے طور پر نمٹنا چاہئے بلکہ اسے اپنے قوانین کے مطابق سخت سے سخت سزا بھی دینی چاہئے۔ جہاں تک تعلق ہے پاکستانی حکومت یا سیاستدانوں کا تو اس سلسلہ میں پوری قوم جانتی ہے کہ پہلے تو وفاقی وزیر داخلہ نے قاتل کو چھڑوانے کے لئے فون کیا اور بعد ازاں پنجاب پولیس مقتولین کو ڈاکو ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے جبکہ آزاد ذرائع اور کچھ میڈیا رپورٹس اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مقتولین میں سے ایک جس کے پاس اسلحہ موجود تھا اس کی کچھ لوگوں سے دشمنی چل رہی ہے اور اسی دشمنی کے نتیجہ میں اس کا حقیقی بھائی بھی ڈیڑھ ماہ پہلے قتل ہوچکا ہے، دونوں مقتولین اچھے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا کوئی سابقہ ریکارڈ پولیس کے پاس موجود نہ ہے
ثابت ہو گیا امریکی ریمنڈ ڈیوس بلیک واٹر کا دہشت گرد ہے اور اسے امریکی سفارتخانے کی پشت پناہی حاصل ہے یہ بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے ڈرون حملوں کے بعد اب امریکیوں کو گلی محلوں میں داخل ہو کر کاروائیاں کرنے کی اجازت دے دی ہے نہتے پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ کو سخت سزا ملنی چاہیے حکمرانوں نے امریکی دباﺅ میں آکر ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ دیا تو پھر ایسا انقلاب آئے گا کہ دنیا مصر کو بھول جائے گی، امریکی دہشت گرد کا معاملہ پنجاب حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس ہے کہ وہ مریکی مفادات کے سامنے سر جھکاتی ہے یا قانون کی بالا دستی کو قائم رکھتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ آپ نے ایک بہت اہم خبر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ،اور یہی پاکستان کے عوام کی ترجمان آواز ہے ،

عبادت
02-09-2011, 04:10 PM
پیچا تو پڑ گیا ہے
جتنی عمر ہو گی ہے یہ ہی سن رہے ہیں لاہوریے زندہ دل ہوتے ہیں
اب دیکھتے ہیں ہم کتنے زندہ دل ہیں
انشاءاللہ اب دشمن بچ کر نہیں جاے گا
اب ہم ثابت بھی کریں گے ہم زندہ دل ہیں
اب سودا ہو گا انکھوں پر پٹی باندہ کر نہیں آنکھوں سے پٹی کھول کر
انشاءاللہ

سقراط
02-09-2011, 04:55 PM
اگر صرف ہمارے پاکستانی پولیس کو کھلا اختیار دے دیا جائے کہ آپ پر کوئی دباؤ نہیں اور ملزم کا منہ کھلواؤ تو یہ طوطے کی طرح بولے گا کہ میں کون ہوں میں کون ہوں پولیس بیچاری بے اختیار ہے یہ سب سیاسی لیڈروں کے کام ہیں بس عوام کو بے وقوف بنائے جاؤ، دوسری بات سیلف ڈیفیس میں گولی ہمیشہ ٹانگوں پر مارنی چاہیے اسلحہ کا لائیسنس بنواتے وقت اس بات پر پابند کیا جاتا ہے اگر بات سیلف ڈیفینس کی کریں تو بہت سے سوال اس امریکی کو گنہگار ثابت کردیں گے ہمارے ہی ملک میں ہمارے ہی لوگوں کا قتل کر کے کتنا مطمئین ہے یہ شخص، اے ظالموں وقت قریب ہے جس دن پاکستانی عوام باہر نکلی نا تو پاکستان میں ایک بھی طاقتور ظالم نہیں بچے گا دشمن جانتا ہے کہ پاکستانیوں سے کھلی دشمنی کی ہمت نہیں تو یہ وار کرتے ہیں دوست بن کر مہمان بن کر گھر میں ہی نقب لگاتے ہیں میرے ہموطنوں جاگو

بےباک
02-24-2011, 10:20 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20110224/Sub_Images/1101177079-1.gif