PDA

View Full Version : شمائلہ کنول



شاہ بانو میر
02-08-2011, 02:26 AM
شمائلہ کنول


شادی ہوئے صرف 6 ماہ
عام سا گھر سادہ سی زندگی شادی کے 6 ماہ کتنے خوبصورت گذرے ہوں گے اسکی مثال وہ لازوال محبت کا جذبہ جس نے خاوند سے جدا ہونے کے ٹھیک 11 دنوں بعد ہی زندگی کی ہر خواہش ہر آرزو ہر خوبصورتی کو مٹا دیا اور گندم میں پڑی زہریلی گولیاں کھا کے خود کو زندگی کی قید سے نجات دلا دی ـ
ایسی بے مثال محبت ایسی لازوال کہانی جو مر کے امر ہو جائے سننے والوں کا دل چیر کے رکھ دیتی ہے ـ
سادہ سی خوبصورت نقوش والی یہ شمائلہ آج جب ٹی وی پر زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی تو دوسری طرف حکومتی مشینری متحرک تھی تگ و دو میں مصروف کہ اس سانس کی ڈوری ٹوٹتے ہی کیا قیامت کیا حشر بپا ہونے والا ہے ـ
ہسپتال انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی جا رہی تھیں کہ حکومتی منشاء کے بغیر اسکی موت کا اعلان نہیں کیا جاسکتا ـاور اس حکومتی مصلحت کا شکار یہ بیچاری موت کے کئی گھنٹے بعد بھی مصنوعی تنفس کے بہانے ڈاکٹرز کی ملی بھگت کے نتیجے میں زندہ ڈکلئیر کی جاتی رہی ـ
ہسپتال کے اندر ایک قیامت بپا ہے ایک جوان لڑکا 11 روز پہلے قتل کر دیا جاتا ھے 11 روز بعد اسکی جواں سالہ بیوہ خود کشی کر لیتی ہے گھر والے صدمے سے نڈھال غم کی تصویر بنے آسماں کی طرف دیکھ کر ماتم کناں ہیں اور ہسپتال سے باہر انسانی بے حسی کا ایک اور منظر نظر آتا ھے کہ مذھبی سیاسی تنظیموں کے اراکین شمائلہ کی موت سے کئی گھنٹے پہلے ہی اسکی موت پر اظہار ہمدردی کرنے اپنے پرچموں کے ساتھ باہر محو گفتگو ہیں ـ کیونکہ
ؤ مذھبی تنظیموں کو عرصے کے بعد کوئی ایساایشو ملتا نظرآ رہا ہے جس سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے ـ لوگوں کی بیزارگی کو پھر سے سیاسی شعبدہ بازی کے گر دکھا کر اپنے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے قدرت کی ستم ظریفی ملاحذہ ہو کہ اندر ایڑیاں رگڑتی جوان سالہ شمائلہ زندگی اور موت کے درمیان اسکی اٹکتی سانسیں
اور ڈوبتی ابھرتی نبض ایک طرف تو ایک ایک ساعت گھر والوں کیلیۓ صبر آزما دوسری طرف کئی ادارے کئی تنظیمیں اسکی موت کی خواہاں کیونکہ اسکی موت کی صورت وہ اس کیس کو متنازعہ بنا سکتے ہیں اور اسکو الجھا سکتے ہیں ـ
کوئی اسکی جان کو اس لئے نہیں بچانا چاہتا کہ وہ ایک جان ہے ایک انسان ہے اسکا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے بلکہ ہر کوئی اسکی زندگی بچ جانے کی صورت اس کو کسی اور طرح سے اور موت کی صورت کسی اور طرح سے کیش کرنے کے چکر میں ہاتھ میں نشتر لئے کھڑ ا ہے ہسپتال سے باہر مشتعل افراد کا ایک ہجوم ہاتھوں میںاپنی جماعت کا پرچم لئے گھنٹوں سے کھڑے ہر انسانی جزبے اور انسانی ہمدردی سے قطعی لا تعلق شائد اس کی موت کیلیۓ دعاگو تھے کیونکہ اسکی موت انکی پارٹی کیلیۓ ایک نئی امید ایک نئی زندگی ایک نئی روح پھونک سکتی ہے ـ
معاشرتی بے حسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کسی کا گھر تباہ ھو گیا کوئی جوان موت کے منہ میں بلاوجہ چلا گیا ـ
اسکو موت کی منزل دینے والا ایک طاقتور نام ہے ـ ایسا طاقتور کہ وہ کہیں بھی کچھ بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ درست ھے طاقت کا میزان اسکا مقرر کردہ ہے اسی لیۓ تو دو دو قتل کرنے کے بعدبھی وہ تفتیشی افسر کو بے خوفی سے للکار کے کہتا ہے مجھ پر دباؤ اتنا ہی ڈالو جتنا کل کو خود بھی برداشت کر سکو ـ یہ ہے وہ امریکی نڈر بہادر فرض شناس دلیر جری جو جو صفات کل تک اسلام ہم میں دیکھنے کا خواہشمند تھا وہ سب اوصاف اس میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں ـ ہم جو کل تھے اسلام کی اعلیٰ روایات کے امیں بن کے دنیا پے قابض ایک شاندار ماضی کے حامل آج زلیل وخوار ہیں جبکہ ہم آج کیا ہیں بقول اقبال
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیار؟
ہوگئی کس کی نگہ طرز سلف سے بیزار؟
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں!
ہم رسوا ھو گئے تنکے سے زیادہ ہلکے ھو گئے اور خود ہی اپنے ہی ملک اپنی زمیں میں رسوا ھوئے کیونکہ ہم نے اوصاف کھو دیے جو کبھی ہماری پہچان ہماری میراث تھے ایک مومن کی شان تھے کہ جس کی دہشت سے تھر تھر کانپتی تھی باطلانہ سوچ آج وہ ہماری تعلیمات پر عمل پیرا ہو کے کس شان سے مسند شاہی پر براجمان ہیں اور ہم خاک میں لوٹ رہے کیونکہ یہ ذلت ہم نے اپنے اصل کو کھو کر خود چنی اپنی لئے ـ
یہ پیام بھلایا تو آج ہم اپنے ہی ملک میں اپنے ہی گھر اپنے بیٹے کسی غیر سے کٹوا کر مروا کر سر نیہوڑے شرمندہ چھپتے پھر رھے ہیں گھروں پر صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے لیکن بیرونی با اثر لوگ ڈالرِوں کے بیگ بھر بھر کے لا رھے ہر چیزاس دور میں بکاؤ ہے ـ لیکن اس ملک میں ابھی کہیں کہیں زندگی کی سچائی کی رمق موجود ھےـ ایسی ہی جزباتی اور اپنے شوہر کے ساتھ سچی محبت کرنے والی یہ شمائلہ بھی ڈالرز کی برسات دیکھ کر اپنے شوہر کا خون معاف نہی کر سکی بلکہ مرتے مرتے اکھڑتی سانسوں میں ایک قوم کی بے حسی کے نام پیغام دے گئی کہ ہر شے بکاؤ نہیں ـ
اسکا خونِ ناحق کیا رائگاں جائے گاـ؟
اسکا ایک ہی پیغام تھا
اسکو انصاف چاہیۓ قتل کا بدلہ قتل خون کا بدلہ خون
کون دلوائے گا اسکو انصاف ؟
ہر لب جامد ہر آنکھ خشک ہر زہن مردہ
اس مملکت خدادا میں کیا ہونے جا رہا ہے حالات کی تندی اور ماحول کی تاریکی بہت بڑھ گئی ہے روشنی کی کرن بھی کوئی نظر نہی آ رہی ایسی حبس زدہ فضا میں جہاں ہوا ساکت ہو گہری خاموشی ہو ماحول کی گھٹن سانس تک کو دشوار کر دے وہاں کیا ھو گا؟
ساکت ہوا کس کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے؟
شمائلہ مر گئی لیکن حکومتی منشاء کے بغیر ڈاکٹرز اسکو وینٹیلیٹر پر ڈال کر اسکے زندہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ایسی بے حسی ایسی خود غرضی کی مثالوں سے اب ہمارا دل نہی لرزتا روح نہی کانپتی کیونکہ اب ہم اس نئے معاشرے کے عادی سے ہوتے جا رھے ہیں جہاں ہر چڑہتا سورج ایک نئی بے حمیتی کی خبر سناتا ہے ہر روز ایک نیۓ معاشرے کی ایک نئی غلامانہ سوچ کے ساتھ دن کا آغاز ہوتا ہے اور ہم سب کچھ اپنائے چلے جا رھے ہیں اور کچھ نہیں سوچ رھے کچھ نہیں کہ رھےـ کیونکہ ابھی تک ہم بچے ہوئے ہیں ہماری سانسیں تو چل رہی ہیں ـ
ہمارے بچے تو زندہ ہیں ـ مرا ہے تو دورکوئی مرا ہے لُٹاہے تو دور کوئی لُٹا ہے ہم کو اس سے کیا؟
لیکن کیا یہ دوری سمٹ کر ہمارے قریب اور قریب نہی آ رہی ؟
کیا ہم بچ پائیں گے؟
کیا ہم میں سے کوئی فہیم کوئی فیضان نہی ہو سکتا؟
کیا ایسے ہی ایک ایک کر کے سب خاموشی سے اس دنیا سے جائیں گے اور اسکے جانے کے بعد یہی سنیں گے اچھا ہوا
چلا گیا اب زندگی بہت مشکل ہو گئی غموں سے چھٹ گیا؟
کل کو ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ھو گا تو کیا کوئی پھر بھی جاگے گا؟
نہیں جاگے گا کیونکہ آج ہم سو رھےـ
کل کو ہماری باری ہو گی تو یہ سب سو رھے ہوں گے ہم سب سوتے ہی جائیں گے شمائلہ کی طرح یا سلاتے ہی جائیں گے ـ ڈیوڈ کی طرح کیونکہ اس دنیا پر طاقت کا راج ہے کمزور کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ـ
سو جاؤ
ایک ایک کر کے کوئی احتجاج نہ کرو کوئی واویلا نہ کرو
کیونکہ تم بے حس لوگوں کے درمیان رہتے ہو
رہتے ہو؟
یعنی ان بے حسوں میں سے ایک بےحس میں بھی ہوں ایک بے حس آپ بھی ہیں ؟
ہم سب ہی بے حس ہیں تو یہ تو ہونا ہی تھا دکھ کاہے کا؟
شمائلہ مری کوئی بات نہی ہم تو زندہ ہیں چلیں اپنی زندگی بچ جانے کا جشن منائیں ـ

http://rajafamily.com/lib/0004QL006.gif

بےباک
02-08-2011, 07:32 AM
ایک ایک کر کے کوئی احتجاج نہ کرو کوئی واویلا نہ کرو
کیونکہ تم بے حس لوگوں کے درمیان رہتے ہو
رہتے ہو؟
یعنی ان بے حسوں میں سے ایک بےحس میں بھی ہوں ایک بے حس آپ بھی ہیں ؟
ہم سب ہی بے حس ہیں تو یہ تو ہونا ہی تھا دکھ کاہے کا؟
شمائلہ مری کوئی بات نہی ہم تو زندہ ہیں چلیں اپنی زندگی بچ جانے کا جشن منائیں ـ
انا للہ و انا الیہ راجعون ، آج اسے آہوں اور سسکیوں میں دفن کر دیا گیا ، ہم ہیں کہ مری ہوئی عورت کی آواز دبانے کے منصوبے بنا رہے ہیں ،
مگر ایسا نہیں ہو گا ، اسکے آخری الفاظ سب نے سنے اور دیکھے ہیں ،اور اب امریکا کا دباؤ اور دھمکیاں اور امریکن امداد کی کمی کا دباؤ حکومت پاکستان پر ہے ،
۔ اس سلسلے میں یہ رپورٹ دیکھیں http://www.youtube.com/watch?v=cVymCAkBZcQ
http://www.youtube.com/watch?v=N_T4E1Z7Db8
http://www.youtube.com/watch?v=U5kndDpeDxg&feature=related

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکا شکریہ ،کہ اس اہم موضوع کی طرف توجہ دلائی۔

سرحدی
02-08-2011, 09:17 AM
تھے تو آبا ؍ء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرےمنتظر فردا ہو

ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان کے ساتھ آج تک کوئی اس اخلاص اور للہیت کے ساتھ حکمران نہیں آیا جو اپنے عوام کا درد محسوس کرے اپنے ملک کے بنیادوں کو سمجھے، ہزاروں ، لاکھوں لوگوں کی قربانیاں ان کو نظر نہیں آسکی، مطلب پرستی اور خود غرضی کا لبادہ اوڑھ کر وطن عزیز پاکستان اور یہاں کے عوام سے کھیل تماشے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل رہا ہے۔
پتہ نہیں کتنی ہی شمائلہ کنول ایسی ہیں ، جن سے ناانصافی نے ان کا سہاگ چھین لیا۔ افسوس ہوتا ہے بہت افسوس ہوتا ہے کہ جب میں یہ سب کچھ پڑھتا ہوں، دیکھتا ہوں۔ پتہ نہیں کب تک آخر کب تک ہم ان کے غلام رہیں گے؟؟ یہ غلامی کا طوق کب ہمارے گلے سے اترے گا؟؟ کیا ابھی بھی وقت نہیں تو پھر آخر کب ؟؟؟ ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم اپنے شاندار ماضی کو بھول گئے، اپنے اسلاف کو بھول گئے، ان کی تاریخ سے ہمیں واقفیت ہی نہیں۔ ہم نے اسلام کے شاندار ماضی کو دیکھا ہے، اس کو پڑھا ہے، لیکن اس کے بعد مادیت پرستی کے سمندر میں ایسے ڈوبے کہ الامان والحفیظ. ہندوستان کی ایک ہندو عورت ایک مسلمان کو پکڑ کر زمین پر گرادیتی ہے اور کہتی ہے کہ ’’ہائے افسوس میرے پاس اس وقت کوئی چیز نہیں جس سے میں تجھے قتل کردوں‘‘ مسلمان حواس باختہ زمین پر لیٹا رہتا ہے وہ عورت کہتی ہے کہ ’’تو یہیں ٹھہر میں ابھی آتی ہوں‘‘ وہ عورت گھر جاتی ہے اور حواس باختہ وہ کمزور مسلمان زمین پر لیٹا ہی رہا، اتنی ہمت نہ کرسکا کہ اٹھ کر بھاگ جاتا، ہائے افسوس کہ کیا حالت ہوگئی ہماری، وہ عورت واپس آکر دیکھتی ہے تو وہ وہیں لیٹا ہوا، چھرا نکال کر اس کے گردن پر پھیر دیتی ہے اور اس کا کام تمام کردیتی ہے۔۔ یا اللہ! ہم اپنے دین اور اپنے اسلاف کے اصولوں کو چھوڑ گئے تو ہمیں یہ دن دیکھنے پڑھ رہے ہیں۔ یا اللہ ہم سب کی اس کوتاہی کو اپنے فضل سے معاف فرما.
شمائلہ کنول کی زندگی تو ختم ہوگئی، اس نے اپنی زندگی سے کھیلا، نا اُمیدی اس کی زندگی کا چراغ گل کر گئی لیکن کیا یہ سب کچھ ایسا ہی ہوتا رہے گا؟؟ اس کے لیے سوچھنا پڑے گا...
ایک تابناک دور وہ بھی تھا جس میں محمد بن قاسم ایک کمزور سی مسلمان عورت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا گھر بار، سلطنت چھوڑ کر عرب سے نکلا، ہندوستان کو پہنچا اور پورا ہندوستان فتح کردیا، ہمیں اپنے ماضی میں وہ تابناک اور شاندار واقعات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں کہ جس میں ہر طرف اسلام کا بول بالا تھا۔۔۔ ایک کافر ایک ذمی کی حیثیت سے مسلمان کے ماتحت اپنی زندگی گزارتا تھا، اور ان کے اخلاق و کردار سے متاثر ہوکر حلق بگوش اسلام ہوتا۔۔ اے کاش!! وہ دور ہم اپنی زندگی میں دیکھ سکیں۔۔ نجانے کتنی ہی ہماری بہنیں ، کتنے ہی بھائی ان ضمیر فروشوں کی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔۔ جاگو اے مسلمانوں!اپنے ضمیر کو جھنجوڑو، اپنے ماضی کو دیکھو، اپنا حال دیکھو کیا چیز ایسی ہے جو ہمیں لے ڈوبی ہے، کیا کام ایسا کرگئے جس کی وجہ سے ہمیں آج یہ ذلت دیکھنی پڑ رہی ہے۔ مسلمان کی عزت و عظمت تو اللہ کے ہاں بیت اللہ سے بھی زیادہ ہے، پھر یہ خونِ مسلم کی ارزانی کیوں؟؟؟ سوچوسوچو میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔۔۔
بقول شاعرکچھ اپنے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے پاکستان والو
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

اچھی شیئرنگ ہے ، بہت شکریہ

عبادت
02-09-2011, 04:05 PM
انا للہ و انا الیہ راجعون
ہماری اس بہن نے اپنے خالق حقیقی سے مل کر ہمارے ضمیر کو جگانے کی کوشش
تو کی ہے کاش یہ جاگ جاے تو پھر کبھی ہماری کسی بیتی کو ایسے مرنا نہ پڑے اس کی موت پر دل خون کے آنسو روتا ہے
کاش ہم سب کا ضمیر جاگ جاے تو پھر کسی عافیہ صدیقی شمائلہ کنول کو مرنا نہ پڑے ایک ہمیں دشمن کے ہاتھوں میں بلا رہی ہے ایک اپنے خالق حقیقی سے ملا کر ہمیں جھنجوڑ رہی ہے جاگ جاو
مگر ہم ہیں کے جاگنے کا نام ہی نہپیں لیتے
اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک اسے جنت الفردس میں جگہ دیں آمین

سقراط
02-09-2011, 05:32 PM
ایک ایک کر کے کوئی احتجاج نہ کرو کوئی واویلا نہ کرو
کیونکہ تم بے حس لوگوں کے درمیان رہتے ہو
رہتے ہو؟
یعنی ان بے حسوں میں سے ایک بےحس میں بھی ہوں ایک بے حس آپ بھی ہیں ؟
ہم سب ہی بے حس ہیں تو یہ تو ہونا ہی تھا دکھ کاہے کا؟
شمائلہ مری کوئی بات نہی ہم تو زندہ ہیں چلیں اپنی زندگی بچ جانے کا جشن منائیں ـ

سچ کہا بہن ہم مردہ ہیں