PDA

View Full Version : ماہ ربیع الاول ایک عالمی دعوت



شاہ زاد
02-08-2011, 09:45 AM
ماہ ربیع الاول ایک عالمی دعوت
احمد شاہ زاد

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ، (یہ نمونہ) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے (معافی کی ) اور یوم آخرت سے (کامیبابی کی) امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو) [الاحزاب:٢١](آسان ترجمہ قرآن بتغییر یسیر)
ماہ ربیع الأوّل ایک بار پھر اپنی تمام تر بہاروں اور نیرنگیوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے ، یہ وہ پر بہار ماہ مبارک ہے جس میں اس کائنات کے سب سے مقدس انسان، سب سے بابرکت شخصیت، سب سے سچے ، سب سے پاک دامن، دنیا کی تمام ترخوبیوں اور کمالات کے سب سے اوّلین اور صحیح ترین مصداق سب سے آخری نبی اور رسول جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دنیا میں تشریف آوری ہوئی ۔
گو یہ ماہ مبارک وہی ماہ مبارک ہے جس میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی ، لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ ماہ مبارک ''یاد آوری'' ہے اس عہد کی جو ہر مسلمان توحید و رسالت کی گواہی دیتے ہوئے کرتا ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بننے کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ یہی وہ عہد ہے جس کو اپنے دل مین پختہ کرتے ہی مذکورہ آیت کا مضمون اپنی تمام تر اہمیت کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور ہم سے مخاطب ہوتا ہے کہ جب تم نے محمد عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اللہ کا سب سے آخری رسول مان لیا تو اب دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے، دونوں جہانوں میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تمہارے پاس اسی محمد مصفطی احمد مجتبیٰ کے سوا کوئی نمونہ عمل نہیں۔
یہی وہ نمونہ عمل جس کے بچپن سے تم اپنے بچوں کا بچپن سنوارو گے، یہی وہ نمونہ عمل ہے جس کے لڑکپن سے تم اپنے لڑکوں کا لڑکپن سنوارو گے، یہی وہ نمونہ عمل ہے جس کی جوانی سے تم اپنی جوانیاں سنوارو گے، یہی وہ نمونہ عمل ہے جس سے تم اپنی ادھیڑ عمری اور بڑھاپے کی زندگی سنوارو گے، یہی وہ نمونہ عمل ہے جس سے تم اپنی دنیا اور آخرت سنوارو گے اور یہی وہ نمونہ عمل ہے جس سے تم اللہ جل شانہ کی قربت حاصل کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کے باسی بن جاؤ گے۔
غور و فکر کا مقام ہے ! ایک طرف اتنی زبردست دعوت فکر و عمل جس کے مخاطب صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے لوگ ہیں خواہ وہ مسلمان ہوں یا نہ ہوں۔ ایسی دعوت جو دنیا میں امن و سلامتی کی ضامن ہے ، ایسی دعوت جو دنیا میں بھائی چارے اور محبت کی ضامن ہے ، ایسی دعوت جو بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے سے بہترین تعلقات اور روابط کی ضامن ہے ، ایسی دعوت جو دنیا میں بہترین سیاسی نظام کی ضامن ہے ، ایسی دعوت جو پوری دنیا میں سب سے بہترین انصاف اور قانونی نظام کی ضامن ہے، ایسی دعوت جو بہترین انفرادی اور اجتماعی نظام زندگی کی ضامن ہے ، ایسی دعوت جو اپنے دامن میں ہر ایک کے لیے سینکڑوں ہزاروں کامیابیاں لیے ، بلکہ کامیابیاں ہی کامیابیاں لیے سب کے سامنے موجود ہے ، صاف ستھرا ٹھنڈے میٹھے پانی کا چشمہ جس سے سیراب ہو کر پینے کی ، پیاس بجھانے کی ہر ایک کو اجازت ہے ، کسی پر کوئی پابندی نہیں، کوئی رکاوٹ نہیں، جو چاہے فائدہ اٹھائے اور جتنا چاہے فائدہ اٹھائے ۔
لیکن یہ بھی ایک آفاقی حقیقت ہے کہ اس دعوت سے فائدہ اٹھانا تو دور کی بات ، ہم نے اس سے غفلت اور بے توجّہی کی انتہاء کردی، کیا مسلمانوں کی موجودہ پستی اسی غفلت کا نتیجہ نہیں، کیا پوری دنیا کے مسلمان اس وقت دیگر تمام ممالک سے زندگی کے ہر شعبہ میں پیچھے نہیں، سیاسیات، قانون، اقتصادیات، انفرادی و اجتماعی زندگی، باہمی روابط و تعلقات ، حتی کہ عام شہری و دیہی زندگی میں ہم مسلمان دنیا کی دیگر تمام اقوام سے پیچھے ہیں۔
کیا یہ غلط ہے کہ عالمی سطح پر ہی نہیں بلکہ ملکی سطح پر بھی ہم کئی حصّوں اور ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں، کیا یہ غلط ہے کہ ہم ذہنی و فکری ارتداد کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں، کیا یہ غلط ہے کہ ہمارے علوم اور ترقی، ذہنی و فکری سطح جمود کا شکار ہو چلی ہے ، کیا یہ غلط ہے کہ ہم الحاد و لادینیت کے سیلاب میں بہتے بہتے ایسے بے بس ہوگئے ہیں کہ ہرکس و ناکس دنیا کے سب سے مکمل و مقدس ، بلکہ دنیا میں پائی جانے والی ہر خوبی اور کمال کے صحیح ترین مصداق پر انگلیاں اٹھانے کو اپنا مشغلہ بنائے ہوئے ہے۔ کیا یہ غلط ہے کہ ہماری فکری و جسمانی بے بسی کی وجہ صرف اور صرف حدی سے بڑھی ہوئی غفلت اور لا یعنی کاموں میں مشغولیت ہے ؟
یہ مبارک مہینہ اسی غلفت اور بے بسی کی گہری نیند سے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر ہمیں جگا رہا ہے ، یہ ہمیں یہ جانفزا مژدہ سنا رہا ہے کہ اٹھو! اٹھ بیٹھو! ابھی وقت ہے ، ہم اب بھی اس دعوت پر لبیک کہہ سکتے ہیں، ہم اب بھی عقل و دانش کے ، سراسر ہدایت و رحمت کے اس صافی سر چشمے سے سیراب ہوسکتے ہیں، ہمارا دامن اب بھی مرادوں سے بھر سکتا ہے ، ہم اپنی محرومیاں دور کرنے کی سکت رکھتے ہیں، ہم اب بھی ایسی جست لگانے کی طاقت رکھتے ہیں جو ہمیں ہر شعبہ زندگی میں مدّ مقابل سے آگے، بہت آگے پہنچا دے۔
لیکن اس کے لیے ہمیں عمل کی قوت سے کام لینا ہوگا، باتوں کو چھوڑ کر کام کرنا ہوگا، ہمیں اس دعوت کے ایک ایک پہلو کو دانتوں سے تھامنا ہوگا، جیسا کہ خود صاحب جمال و کمال صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :'' میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی پیروی تمہارے لیے ضروری ہے ، اسے دانتوں سے پکڑے رکھو۔'' (الحدیث)
یہ مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے اور عزم و ہمت کا پیغام لا رہا ہے ، گو اس میں کوئی شک نہیں کہ زبانی کلامی محبت کا اظہار بھی محبت ہی ہے ، قصیدہ خوانی ، پر رونق محافل اور بزم آرائیاں، زور قلم اور بالائے منبر شیریں بیانیاں بھی محبت ہی کا ایک پرتو ہے ، لیکن کیایہ کافی ہے ؟ امتِ مسلمہ اس وقت جس نازک دور سے گزر رہی ہے ، جس جانفشانی سے فکری، معاشی ، قانونی اور زمینی سرحدوں پر دشمنوں کی یلغار جارہی ہے ، ان سب کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ سب کافی ہے جو ہم کر رہے ہیں؟ اقوام عالم کی ہوشربا ترقی، سائنسی میدان میں ، معاشی میدان میں ، قانونی میدان میں، زمینی غلبے کی جدوجہد میں، غرض کسی بھی شعبے میں ، مدمقابل سے آگے نکلنے کے لیے کیا یہ سب کچھ کافی ہے جو ہم کر رہے ہیں؟
سچ تو یہ ہے کہ امت مسلمہ نے اتنے عظیم نبی کی ، صاحب جمال و کمال رسول کی ایسی قدر ہی نہیں کی جیسی کی جانی چاہیے تھی، ایسی بے مثال دعوت کا اثر ہماری زندگیوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتا،نہ عبادات میں ، نہ اخلاقیات میں، نہ معاملات میں، نہ انفرادی زندگی میں ، نہ ازدواجی زندگی میں، نہ اجتماعی زندگی میں، نہ سیاسی زندگی میں، بلکہ زندگی کے کسی بھی پہلو میں ہم نے اپنے پیارے نبی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا أسوہ نہیں اپنایا، حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے زیادہ نرم دل، با اخلاق، سخی، معاون، پاک دامن، اچھے پڑوسی، اچھے دوست، اچھے شوہر ، اچھے تاجر، اچھے راہنما، اچھے مشیر ، بلکہ ہر شعبے میں سب سے آگے تھے، یہاں تک کہ کہنے والے ایک ہی مصرعہ میں ساری حقیقت بیان کرگئے ؎
بعد از خدا بزرگ توئی قصّہ مختصر
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کبھی کوئی کپڑا خواہ وہ باریک ریشم ہو یا دبیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہتھیلی سے زیادہ نرم نہیں دیکھا اور نہ کوئی خوشبو ایسی سونگھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پسینے سے زیادہ عمدہ مہک رکھتی ہو۔ (بخاری حدیث: ٣٥٦١، مسلم:٢٣٣٠)
ایک اور جگہ فرمایا: میں نے مسلسل دس سال جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی لیکن کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُف تک نہ کہا، جو کام میں کر گزرا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ جو کام میں نہیں کیا تھا کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دریافت فرمایا کہ یہ کام تم نے کیوں نہیں کیا۔(بخاری :٦٠٣٨، مسلم:٢٣٠٩)
حضرت عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا۔(ترمذی:٣٦٤١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کہیں جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹے کناروں والی نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، اتنے میں ایک دیہاتی سامنے آگیا اور چادر کو پکڑ کر زور سے اپنی طرف کھینچا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک کندھوں کے درمیان چادر کے کناروں سے نشان بن گئے تھے، پھر کہنے لگا: تمہارے پاس اللہ کا جو مال ہے اس میں سے میرا حصہ بھی دو۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ، مسکرائے اور اس کو ''عطایا'' دینے کا حکم فرمایا۔(بخاری:٣١٤٩، مسلم:١٠٥٧)
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کتنے پیارے اشعار کہے تھے، جن کا ترجمہ ہے:
٭ ہر روز جب پو پھٹتی روشنی کے ساتھ کوئی نیکی سامنے آتی ہے ، اللہ کے رسول ہمارے درمیان موجود ہیں جو اس کی کتاب پڑھ کر ہمیں سنارہے ہوتے ہیں۔
٭ انہوں نے ہمیں نابینا سے بینا کردیا اس لیے اب ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ جو فرماتے ہیں وہ ہو کر رہے گا۔
٭ جب مشرکین کے پہلو بستروں پر پڑے پڑے بھاری بوجھ بن جاتے ہیں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر سے دور اپنے رب کے حضور رات گزار رہے ہوتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب کبھی دو فوجیں آپس میں ٹکراتیں اور گھمسان کا رن پڑتا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چھپتے تھے، کیوں کہ دشمن کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی نہ ہوتا تھا۔(مسند احمد:١/١٥٦)
یہ اور ایسے ہی دیگر متعدد واقعات سے سیرت طیبہ بھری پڑی ہے جو زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی کافریضہ انجام دے رہی ہے ، یہاں ہم نے گنتی کے صرف چند واقعات مستند روایات سے نقل کیے ہیں۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم ان تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں ، کیا ہم اپنی اصلاح کرنے کے لیے تیار ہیں ، کیا ہم خلوص نیت سے اس صافی چشمے سے سیراب ہونا چاہتے ہیں ، کیا ہم بے بسی اور غفلت کی موٹی چادر اپنے اوپر سے اتار پھینکنے کو تیار ہیں؟ کیا ہم اس عالمی دعوت پر لبیک کہنے کو تیار ہیں جو صرف ہمیں ہی نہیں ، بلکہ ہر انصاف پسند انسان کے لیے ہے ۔
ماہ ربیع الاوّل ایک بار پھر ہم پر سایہ فگن ہے ، اپنی تمام تر بہاروں اور نیرنگیوں کے ساتھ ، اپنی تمام تر رونقوں اور حسن و جمال کے ساتھ، اپنی تمام تر عظمت و جاہ و جلال کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے ، یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں دنیا کے سب سے سچے انسان حق اور سچ کی دعوت لے کر ہم انسانوں کی بھلائی کے لیے اس دنیا میں رونق افروز ہوئے ، یہی وہ مہینہ ہے جس میں دنیا کے سب سے زیادہ سچے اور باکمال انسان ہمیں دعوت دیتے دیتے اس دنیا سے پردہ فرماگئے اور ہم آج بھی اس دعوت پر لبیک کہنے کے بجائے پس و پیش سے کام لے رہے ہیں ؎
اٹھو وگر نہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

سرحدی
02-08-2011, 10:01 AM
[/quote]گو یہ ماہ مبارک وہی ماہ مبارک ہے جس میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی ، لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ یہ ماہ مبارک ''یاد آوری'' ہے اس عہد کی جو ہر مسلمان توحید و رسالت کی گواہی دیتے ہوئے کرتا ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بننے کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ یہی وہ عہد ہے جس کو اپنے دل مین پختہ کرتے ہی مذکورہ آیت کا مضمون اپنی تمام تر اہمیت کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور ہم سے مخاطب ہوتا ہے کہ جب تم نے محمد عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اللہ کا سب سے آخری رسول مان لیا تو اب دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے، دونوں جہانوں میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تمہارے پاس اسی محمد مصفطی احمد مجتبیٰ کے سوا کوئی نمونہ عمل نہیں۔

ماشاء اللہ ، یقیناً حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کا ہر پہلو ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے جس پر عمل کرکے ہم اپنی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

بےباک
02-09-2011, 11:14 AM
یہی وہ مہینہ ہے جس میں دنیا کے سب سے زیادہ سچے اور باکمال انسان ہمیں دعوت دیتے دیتے اس دنیا سے پردہ فرماگئے اور ہم آج بھی اس دعوت پر لبیک کہنے کے بجائے پس و پیش سے کام لے رہے ہیں ؎
اٹھو وگر نہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

بہت خوب شاہ زاد صاحب، جزاک اللہ خیر