PDA

View Full Version : جمال حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم



سرحدی
02-08-2011, 11:44 AM
جمال حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم

مولانا حذیفہ وستانوی

امام ترمذی نے اپنی سند متصل کے ساتھ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ذکر کی جس میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارکہ کو بیان کیا، فرماتے ہیں:

”حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے، آپ کا سینہ مبارک وسیع تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال گھنے تھے ،جن کی درازی کان کی لو تک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ دھاری دار کپڑا زیب تن کیا ہوا تھا، میں نے آپ سے زیادہ حسین کبھی کوئی چیزنہیں دیکھی۔ براء بن عازب کی اس بات کو حضرت حسان ابن ثابت رضی اللہ عنہ شاعرِ رسول اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا:
واحسن منک لم تر قط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرأً من کل عیب
کأنک قد خلقت کما تشاء
امام طبری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن وجمال اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حمیدہ کو اپنی مایاناز تصنیف ”سیرة سید البشر“ میں ذکر کیا ہے، اس کا ترجمہ حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی نے کیا ہے، جو مختصر اور اتنا جاندار ہے کہ خود بخود پڑھتے ہوئے آنکھوں میں آنسوں کی لڑی بندھ جاتی ہے تو آئیے ہم اسی کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کی صفات اور حلیہ مبارک وغیرہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلّم میانہ قد لوگوں میں تھے،نہ زیادہ دراز تھے، نہ ایسے پست قامت تھے کہ کوئی آنکھ آپ کی طرف سے اعراض کرکے دوسری کے طرف راغب ہو، بل کہ آپ متوسط قد والے تھے، دونوں کندھو ں کے درمیان کا رنگ سفید تھا، جس میں سرخی جھلکتی تھی ، بعض نے کہا ہے کہ: اس میں بجائے سرخی کے سنہرا پن تھا، خالص سفید چونے کی طرح نہیں تھا ،نہ بالکل گندمی تھا، جس میں سانولا پن ہو۔ بال مبارک گھونگھریالے تھے، جب دراز ہوتے تو کانوں کی لو تک پہنچ جاتے، جب چھوٹے ہوتے تو کانوں کے نصف تک رہتے، سفیدی سر اور ریش مبارک میں بیس بالوں تک بھی نہیں پہنچی تھی ۔گردن مبارک گویا چمکدار صاف خوشنماچاندی یاہاتھی دانت کی مورت تھی ،چہرہٴ انور روشن تھا ،چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا تھا ،تمام اعضا نہایت معتدل اور مناسب تھے ،سر مبارک اچھا بڑاتھا،بال گنجان تھے ،سر کے بال اڑے نہیں تھے ،چہرہ مبارک دبلانہیں ہواتھا،بل کہ ہمیشہ تروتازہ اوربارونق رہا۔
آنکھوں کی سیاہی نہایت عمدہ اورتیزتھی، مزگان دراز تھیں، آوازمیں قوت اور گرج تھی ،گردن میں خوشنمادرازی تھی ،ریش مبارک گنجان تھی ۔
خاموشی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروقار طاری رہتاتھا،تکلم فرماتے تو رونق اورنورکا غلبہ ہو جاتا، دور سے دیکھوتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ بارونق اور جمیل۔ نزدیک سے دیکھوتوسب زیادہ شیر یں اورحسین، بات میں رس اورمٹھاس تھی، بات بہت زودفہم، درمیانہ درجہ کی اورصاف ہوتی تھی، نہ بالکل مختصر ،نہ زیادہ لمبی، الفاظ گویاکہ بیش بہاموتی ہیں، جوایک ایک کرکے پروئے ہوئے ہیں۔
پیشانی مبارک کشادہ، ابرو گنجان کشیدہ باریک، لیکن دونوں ابرو ملے ہوئے نہیں تھے، بل کہ ان کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کی حالت میں ابھرآتی تھی۔ ناک بلندی مائل تھی، اس پرایک شعلہ نماچمک تھی، اول وہلہ میں دیکھنے والایہ سمجھتاتھاکہ آپ کی ناک ہی اتنی اونچی ہے۔

آنکھ کی پتلی خوب سیا ہ تھی، دہن مبارک کشادہ تھا، دندان مبارک آب دارتھے ،سامنے کے دانتوں میں قدرے کشادگی تھی، سینہٴ مبارک سے ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیرتھی جیسے تلوارکی دھار، سینہ اورشکم مبارک پر اس کے علاوہ بال نہیں تھے، کندھوں اوربازووٴں پربال تھے۔
آپ جسیم تھے اور بدن گٹھا ہوا تھا،آپ کاسینہ اور شکم دونوں ہموار تھے، جوڑوں کی ہڈیاں بڑی اورمضبوط تھیں، جسم مبارک کا کھلا ہوا حصہ چمکدار تھا، سینہ فراخ تھا، کلائیاں دراز تھیں،ہتھیلی کشادہ،ہاتھ اورپیر خوب گوشت سے پر تھے،انگلیاں اچھی لمبی تھیں،قد مبارک بالکل سیدھا تھا،تلوے گہرے تھے،قدم چکنے اورصاف تھے،جن پر پانی کا کوئی قطرہ نہیں ٹھہرتا تھا، چلتے وقت قدم قوت سے اٹھاتے اورکسی قدر آگے کو جھک کر تیزی اور نرمی سے چلتے تھے،چلتے وقت ایسا معلوم ہوتا کہ آپ کسی بلندی سے اتررہے ہیں ، کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو پورے جسم سے متوجہ ہوتے، آپ کے دونو ں کندھوں کے درمیان مہرنبوت تھی، جیسے مسہری کی گھنڈی ہو یا کبوتری کا بیضہ ہو ،اس کا رنگ جسم مبارک ہی جیسا تھا،اس پر تل تھے، پسینہ مبارک ایسا تھا جیسے موتی،پسینہ مبارک کی خوشبومشکِ اذفرکی خوشبو سے زیادہ نفیس تھی، آپ کے اوصاف بیان کرنے والا کہتا تھا کہ:میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ جیسا شخص نہیں دیکھا،صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حضرت براء بن عازب  فرماتے ہیں: میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوسرخ لباس پہنے ہوئے دیکھا تو آپ سے زیادہ حسین میں نے کوئی شے کبھی نہیں دیکھی۔
حضرت انس فرماتے ہیں کہ: میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ کسی ریشم کو مس کیا نہ دیباج کو اور آپ کی خوشبو سے عمدہ کبھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی اور انہیں سے روایت ہے کہ:حضرت ابو بکر جب آپ کو دیکھتے تو فرمایا کرتے تھے:
أمین مصطفےٰ بالخیر یدعو
کضوء البدر زایلہ الظلام
ترجمہ :آپ امانت دار ہیں،چنیدہ ہیں،خیر کی دعوت دیتے ہیں، جیسے چودھویں رات کے چاندکی روشنی سے تاریکیاں دور ہوجاتی ہیں۔
حضرت ابو ھریرہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر ،زھیر بن ابی سلمیٰ کا یہ شعر #
لو کنت من شيء سوی البشر
کنت مضيء لیلة البدر
ترجمہ:اگر آپ بشر کے علاوہ کوئی اور چیز ہوتے،تو چودھویں رات کو روشن کر نے والے ہوتے۔ پھر حضرت عمر اور ان کے ہم مجلس کہتے کہ:یہ شان تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی،کسی اور کی نہیں تھی، آپ کی شان میں آپ کے چچا ابو طالب کہتے ہیں :
وأبیض یستسقیٰ الغمام بوجھہ
ثمال الیتامیٰ عصمةٌ للأرامل
یطیف بہ الھلاک من آل ھاشم
فھم عندہ فی نعمة وفضائل
میزان حق لا یخبس شعیرة
ووِزان عدل وزنہ غیر عائل
ترجمہ:آپ خوش نما سفید رنگ والے ہیں، آپ کی برکتوں سے پانی طلب کیا جاتا ہے، آپ یتیموں پر رحم کرنے والے اور بیواوٴں کی حفاظت کرنے والے ہیں،آل ہاشم کے ہلاک ہونے والے لوگ آپ کے پاس آکرٹھہرتے ہیں، تو وہ آپ کے پاس خوش عیشی اور فضائل میں ہیں،آپ حق کی ترازوہیں،ایک جو کی بھی کمی نہیں کرتے اور انصاف کے ساتھ وزن کرنے والے ہیں،آپ کا وزن کرنا ذرا بھی زیادتی نہیں کرتا، صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وازواجہ وصحبہ وسلم۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفاتِ معنویہ
جس میں صحابہ کے ساتھ اخلاق کریمانہ اور گذران ، خود اپنے متعلق اور صحابہ کے ساتھ برتاوٴ ، آپ کے بیٹھنے ،عبادت کر نے ، سونے ، بات چیت کرنے، ہنسنے، کھانے پینے ، لباس ، خوش بو، سرمہ ، کنگھا کرنے ، مسواک کرنے، حجامت، خوش طبعی فرمانے کا ذکر ہے۔
حضرت عائشہ سے آپ کے خلق کے متعلق دریافت کیا گیا؟ تو جواب آپ کا خلق قرآن (پر عمل) تھا، جس سے قرآن ناراض اس سے آپ ناراض، جس سے قرآن راضی اس سے آپ راضی۔آپ کا غصہ اور انتقام اپنے نفس کی خاطر نہیں ہوتا تھا، لیکن اللہ کی حرام کی ہوئی چیز وں کی ہتک ہوتی تو آپ اللہ کے لیے انتقام لیتے اور غصہفرماتے اور جب آپ غصہ فرماتے تو کوئی تاب نہیں لا سکتا تھا۔
آپ کا سینہ مبارک سب سے زیادہ سخت اور گھمسان کی لڑائی کے وقت ہم آپ کی پناہ میں اپنا بچاوٴ تلاش کیا کرتے تھے۔
سب سے زیادہ سخی اور جواد تھے، کبھی آپ نے سوال کے جواب میں” لا “نہیں فرمایا ،جود وسخا کا زیادہ زور ماہ رمضان المبارک میں ہوتا تھا۔دینا رو درہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دولت خانہ میں رات کو گزارا نہیں کر سکتے تھے، اگر کبھی کچھ بچ گیا اور لینے والا نہیں مل سکا اور اسی حالت میں رات ہوگئی ، تو آپ شب باشی کے لیے دولت خانہ پر تشریف نہیں لاتے تھے ۔ جب تک وہ بچا ہوا کسی حاجت مند کو دے کر فارغ البا ل نہ ہوجاتے۔
جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ کو عطا فرماتے آپ اس میں صرف (سال بھر کے خرچ کے لیے ) اتنی مقدار رکھلیتے جو آپ کے لیے انتہائی ضرورت کی حالت میں کفایت کرتی، وہ بھی بہت معمولی درجہ کی چیز ،جیسے کھجور اور جو اور باقی سب کا سب اللہ کی راہ میں صرف فرماتے اور اپنی ذات کے لیے بطور ذخیرہ کچھ بھی نہ رکھتے تھے ، پھر اپنے اہل خانہ کی بقدر حاجت روزی میں سے بھی ایثار فرماتے ، حتی کہ بسا اوقات سال بھر گذرنے سے بھی پہلے ہی پہلے احتیاج ہوجاتی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سچے ، سب سے زیادہ پابند عہد، باوفا، سب سے زیادہ نرم طبیعت تھے، آپ کا قبیلہ سب سے زیادہ با کرامت تھا ، آپ مخدوم ومطاع تھے کہ خدام خدمت کے متمنی اور اطاعت کے لیے بسر وچشم حاضر تھے۔
آپ ترش رو، سخت مزاج نہیں تھے۔ آپ عظیم القدر اور معظم تھے، سب سے زیادہ حلیم تھے۔ پردہ نشین کنواری سے زیادہ باحیا تھے ، کسی کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتے تھے، نیچی نگاہ رکھتے تھے، نظر مبارک زمین کی طرف زیادہ رہتی تھی، آسمان کی طرف کم اٹھتی تھی، عامةً گوشئہ چشم سے جلدی سے دیکھنے کی عادت تھی۔
سب سے زیادہ متواضع ، منکسر المزاج تھے ، غنی ، فقیر، شریف، ادنیٰ، حر، عبد ، جو بھی دعوت پیش کرتا قبول فرمالیتے، فتح مکہ کے روز جب حضرت ابوبکر  اپنے والد کو قبول اسلام کے واسطے خدمت اقدس میں لے کر حاضر ہوئے، تو ارشاد فرمایا کہ: ” ان بڑے میاں کو کیوں تکلیف دی !ان کو وہیں رہنے دیتے، میں خود ان کے مکان پران کے پاس چلا جاتا۔ “جواب میں عرض کیا کہ : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجا ئیں ،اللہ کے رسول کی خدمت میں حا ضر ہونے کی سعادت کے یہی زیا دہ مستحق ہیں ۔
آ پ سب سے زیا دہ رحم فر ما نے وا لے تھے ، پا نی کا بر تن شفقة بِلِّی کے لیے جھکا دیتے تھے ، جب تک وہ سیراب نہ ہوجا ئے بر تن ہٹا تے نہ تھے، عین نماز کی حالت میں کسی بچہ کی رونے کی آواز سنتے اور اس کی ماں آپ کے پیچھے نماز میں ہوتی، تو آپ شفقة نما ز میں تخفیف فر ما دیتے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ عفیف تھے ، اپنی منکوحہ ، محرم، باندی کے علاوہ کسی عورت کو دست مبا رک نے نہیں چھوا ۔
اپنے اصحاب کا اکرام کر نے میں آپ سب سے بڑھے ہوئے تھے ،کبھی کسی مجلس میں آپ کو کسی کی طرف پیر پھیلا ئے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، جب ان کے لیے جگہ میں تنگی ہو جاتی ،تو آپ (سکڑ کر ) ان کے لیے گنجا ئش نکال لیتے ، آپ کے گھٹنے کبھی کسی ہم نشین کے گھٹنے سے آگے نہیں بڑھتے تھے ۔ جو شخص اچانک آپ کو دیکھتا ،تو غیر معمولی وقار کی وجہ سے ہیبت زدہ ہو جاتااور جو شخص میل جول کر کے آپ سے ربط پیدا کر تا ، تو انتہا ئی کما لات ظا ہرہ وبا طنہ کی وجہ سے آپ کا گرویدہ ہو جاتا ۔
آپ کے رفقا ء آپ کی صحبت میں آپ کے ارد گرد جمع رہتے تھے، اگر آپ کچھ فر ما تے تو سب سننے کے لیے خا موش ہو جا تے ،اگر کو ئی حکم دیتے تو سب تعمیل کے لیے پھرتی کر تے۔آپ اپنے اصحاب کو چلتے وقت آگے بڑھا کر خود پیچھے ہو جا تے ،جو بھی ملتا آپ ابتدا بالسلام فرماتے ۔
فرمایا کرتے تھے کہ میری تعریف میں مبالغہ مت کرو ، جیسا کہ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں نصاری نے مبالغہ کیا ، میں صرف بندہ ہوں لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ ہی کہا کرو، آپ جس قدر اپنے گھروالوں کی خاطر تجمل فرماتے، تو اصحاب کی خاطر اس سے زیادہ تجمل فرماتے اور ارشاد فرمایا کرتے کہ ”اللہ پاک اپنے بندے کی اس با ت کو پسند فرماتے ہیں کہ جب اپنے بھائیوں سے ملاقات کے لیے نکلے ،تو لباس وغیرہ ٹھیک کر کے تجمل کے ساتھ نکلے“۔
آپ اپنے اصحاب سے بے فکر اور بے خبر نہ رہتے، بل کہ ان کی دیکھ بھال کرتے اور ان کے حالات کی خیروخبردریافت فرمایا کرتے تھے، بیمار کی عیادت کرتے،مسافر کے لیے غا ئبانہ دعا فرماتے، مرنے والے پر انا للہ پڑھ کر دعا فرماتے اور جس کو یہ خیال ہوتا کہ آپ جی میں اس سے کچھ ناراض ہیں، تو آپ خود فرماتے کہ:
”شاید فلاں شخص کسی بات کی وجہ سے ہم سے ناراض ہے، یاہماراقصوردیکھا ہے،چلو اس کے پاس ہو کرآئیں ۔“پھرآپ اس کے مکان پر تشریف لاتے۔ آپ کبھی صحابہ کے باغوں میں تشریف لے جاتے اور جو شخص وہاںآ پ کی ضیافت کرتا توکچھ نوش بھی فرمالیتے۔
آپ اہل عزت وشرف سے الفت رکھتے اور اہل علم وفضل کا اکرام فرماتے تھے اور پیشانی پر بل کسی سے بھی ناراض ہو کر نہیں ڈالتے تھے، اوردرشتی وسخت گیری کا برتاؤ کسی کے ساتھ بھی نہیں کرتے تھے، بغیر پیشگی احسان کے کسی کی ثنا وتعریف کو قبول نہیں کرتے تھے، عذر خواہ کے عذر کو قبول کر لیتے تھے ، حق کے معاملہ میں آپ کے نزدیک ، قوی، ضعیف، قریب ، بعید سب یکساں تھے۔
آ پ کسی کو اپنے پیچھے چلنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ، بل کہ اس کو بھی اپنے ساتھ سوار کرلیتے تھے اور بحالت سواری کسی کو اپنے ہم رکاب پیدل چلنے کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے ،بل کہ اس کو بھی اپنے ساتھ سوار کر لیتے تھے ، اگر وہ انکار کر تا تو فر ماتے کہ: ”جہاں جانا ہو مجھ سے آ گے چلے جاوٴ “ ۔
قُبا تشریف لے جانے کے لیے ننگی کمرِ حمار پر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور حضرت ابوہریرہ آپ کے ساتھ تھے ، تو ارشاد فرمایا کہ: ” اچھا! آجاؤ ، تم بھی سوار ہوجاؤ “ حضرت ابوہریرہ  میں کافی وزن تھا ، چڑھنے کے لیے اچھلے، مگر نہیں چڑھ سکے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لپٹ گئے، جس سے دونوں گرے ، پھر سوار ہوئے اور فرما یا کہ: ” ابو ہریرہ  ! تمہیں بھی سوار کرلوں؟“ عرض کیا ، جیسے رائے عالی ہو ،فر مایا کہ ” اچھا چڑ ھ جاؤ“ وہ نہیں چڑھ سکے، بل کہ حضور کو ساتھ لے کر گرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سوار کرنے کے لیے پوچھا ؟ تو ابو ہریرہ  نے عرض کیا کہ ، اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! تیسری دفعہ میں آ پ کو نہیں گراؤں گا ، لہٰذا اب سوار نہیں ہوتا ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باندیاں غلام بھی تھے ، مگر آپ لباس وطعام میں ان سے برتر ہو کر نہیں رہا کرتے تھے اور جو بھی آپ کی خدمت کرتا آپ بھی اس کی خدمت فرماتے ۔
حضرت انس  فرماتے ہیں کہ میں نے تقریبا ً دس برس آپ کی خدمت کی ، خدا کی قسم! سفر حضر جہاں بھی مجھے خدمت کا موقعہ ملا ہے توجس قدر میں نے آ پ کی خدمت کی آ پ نے اس سے زیادہ میری خدمت کی ہے اور مجھے کبھی اُف تک نہیں فر مایا اور جو کام بھی میں نے کر لیا اس پر کبھی نہیں فرمایا کہ ایسا کیوں کیا ؟ اور جوکام میں نے نہیں کیا اس پر کبھی نہیں فرمایا کہ فلاں کام کیوں نہیں کیا؟
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، ایک بکری پکانے کی تجویز ہوئی ، ایک شخص نے کہاکہ اس کا ذبح کرنا میرے ذمہ ہے۔ دوسرا بولاکہ اس کی کھال کھینچنا میرے ذمہ۔ تیسرے نے کہا اس کا پکانا میرے ذمہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ لکڑیاں اکٹھا کرنا میرے ذمہ۔ آپ کے رفقا ء نے عرض کی کہ حضور! یہ بھی ہم ہی آ پ کی طرف سے کر لیں گے۔ آ پ نے فرمایا کہ ہاں! مجھے معلوم ہے کہ تم میری طرف سے کرلوگے ، لیکن مجھے یہ بات ناگوار ہے کہ میں اپنے رفیقوں سے امتیازی شان میں رہوں اور اللہ پاک کو بھی ناپسند ہے اپنے بندے کی یہ بات کہ وہ اپنے رفیقوں سے امتیازی شان میں رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور خود لکڑیاں جمع فرمائیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں نماز کے لیے اترے اور مصلے کی طرف بڑھے، پھر لوٹے، عرض کیا گیا کہ کہاں کا ارادہ فرما لیا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ اپنی اونٹنی کو باندھتا ہوں،عرض کیا کہ اتنے سے کام کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف فرمانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم خدام ہی اس کو باندھ دیں گے، ارشاد فرمایا کہ” تم میں سے کوئی شخص بھی دوسرے لوگوں سے مدد طلب نہ کرے، اگرچہ مسواک توڑنے میں ہو“۔
ایک روز آپ صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوے کھجوریں تناول فرما رہے تھے ،کہ صہیب آشوب چشم کی وجہ سے ایک آنکھ کو ڈھانکے ہوئے آگئے ،سلام کر کے کھجوروں کی طرف جھکے ،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:”آنکھ تو دکھ رہی ہے اور شیر ینی کھاتے ہو ؟“عرض کی کہ :یا رسول اللہ! اپنی اچھی آنکھ کی طرف سے کھاتا ہوں،اس پر حضور کو ہنسی آگئی ۔ ایک روز رطب تناول فر مارہے تھے،کہ حضرت علی آگئے ، ان کی آنکھ دکھ رہی تھی ، وہ بھی کھانے کے لیے قریب ہو گئے ،ارشاد فرمایاکہ:”آشوب چشم کی حالت میں بھی شیرینی کھاوٴگے ؟“وہ پیچھے ہٹ کر ایک طرف جا بیٹھے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو وہ بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے ، آپ نے ان کی طرف کھجور پھینک دی ،پھر ایک اور پھر ایک اور اسی طرح سات کھجوریں پھینکیں فرمایا کہ :”تم کو کافی ہیں ،جو کھجور طاق عدد کے موافق کھائی جائے وہ مضرنہیں“۔
ایک دفعہ حضرت ام سلمہ  نے ثرید کا ایک پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیة بھیجا، جب کہ آپ حضرت عائشہ کے پاس تشریف فرما تھے ، حضرت عائشہ نے اس کو پھینک کر توڑ دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دوسرے پیالہ میں اکٹھا کرنے لگے اور فرمایا: ”تمہا ری ماں کو غیرت آگئی، غیرت آگئی“۔
ایک دفعہ رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کو قصہ سنایا ،ایک نے ان سے کہا کہ :یہ ایسی بات ہے جیسی خرافہ کی بات!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :“جانتی بھی ہوخرافہ کیا تھا؟ خرافہ قبیلہٴ عذرہ کا آدمی تھا، زمانہ جاہلیت میں جنات نے اسے قید کر لیا تھا ،وہ زمانہٴ دراز تک ان میں رہا، پھر وہ اسے انسانوں میں چھوڑ گئے تھے اور جو کچھ عجائبات اس نے وہاں دیکھے تھے وہ لوگوں سے بیان کیا کرتا ، تو لوگ کہا کرتے کہ :یہ تو خرافہ کی بات ہے“۔
جب آپ دولت خانہ میں تشریف لے جاتے تو وہا ں کے وقت کو تین حصوں میں تقسیم فرما دیتے ،ایک حصہ اللہ کی عبادت کے لیے ، ایک حصہ اپنے نفس کے لیے ،ایک حصہ اپنے اہل کے لیے ، پھر جو حصہ اپنے نفس کے لیے تجویز فرماتے ، اس کو اور لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیتے اور خواص کے ذریعہ سے اس وقت میں عوام کی حاجات پوری فرماتے ۔
جو وقت آپ نے امت کے لیے تجویز فرمایا تھا ، اس میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ(ان آنے والوں میں )اہل فضل کو(حاضری کی اجازت میں) ترجیح دیتے تھے اور جس قدر دین کے اعتبار سے کسی کو فضیلت ہوتی اسی قدر اس پروقت بھی زیادہ صرف فرماتے، کسی کی ایک حاجت، کسی کی دو، کسی کی زائد، آپ ان میں لگے رہتے اور دیگر صحابہ کو بھی مشغول فرمالیتے اور حوائج پورا کرنے کی ہدایت دیتے اور تدبیریں بیان فرماتے رہتے اور ارشاد فرماتے کہ: ” جو حاضر ہے وہ غائب تک پہنچادے اور ایسے لوگوں کی حاجات مجھ تک پہنچاؤ جو خود نہیں پہنچاسکتے، تو اللہ پاک قیامت کے روز اس کو ثابت قدم رکھیں گے۔“ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسی قسم کی چیزوں کا ذکر ہوتا تھا اور اس کے علاوہ دوسری باتیں وہاں قبول نہ ہوتی تھیں۔
لوگ طلبِ علم کے لیے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتے اور ایک عجیب ذوق لے کر نکلتے، دوسروں کے لیے دلیلِ خیر اور ہادی بن کر نکلتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ میں الفت پیدا فرماتے تھے، نفرت سے بچا تے تھے، قوم کے ہر کریم کا اکرام فرماتے اور اسی کو ان پر والی بناتے تھے، قوم کے بہترین افراد کو آپ سے زیادہ قرب ہوتا تھا، آپ کے نزدیک افضل وہ تھا جو عام خیرخواہی اورنصیحت کرتا، آپ کے نزدیک بڑا رتبہ اس کا تھا جو مواساة اور بہتر طریق پر رہتا۔
آپ کی نشست بر خواست بغیر ذکر الہی کے نہیں ہوتی تھی، جب آپ کسی مجلس میں تشریف لے جاتے تو کنارہٴ مجلس ہی میں بیٹھ جاتے، صدرِ مقام پر پہنچنے کی کوشش نہ فرماتے اور آپ کے حسنِ معاشرت کی بنا پر ہر شریکِ مجلس یہ سمجھتا تھا کہ میرا اکرام سب سے زیادہ فرمایا ہے۔
جب کوئی شخص خدمتِ اقدس میں حاضر ہو بیٹھتا، تو جب تک وہ خود نہ اٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اٹھتے، مگر یہ کہ کوئی جلدی کا کام درپیش ہو، تو اس سے اجازت لیتے، کسی سے کوئی ایسا برتاوٴ نہ فرماتے جو اس کے لیے باعثِ گرانی ہو۔
کبھی کسی خادم کو نہیں مارا، نہ کسی عورت کو مارا، بل کہ کسی کو بھی علاوہٴ جہاد کے نہیں مارا۔
آپ صلہ رحمی فرماتے، مگر اس کو افضل واعلی پر ترجیح نہیں دیتے تھے۔
برائی کا بدلہ بھی برائی سے نہ دیتے، بل کہ معاف اور درگزر فرماتے تھے۔
بیماروں کی عیادت فرماتے، مساکین سے محبت اور مجالست رکھتے تھے، ان کے جنازوں میں شریک ہوتے، کسی کو فقر کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتے تھے، کسی بادشاہ سے بادشاہت کی بنا پر مرعوب نہیں ہوتے تھے۔
نعمتِ خداوندی کی تعظیم فرماتے ، اگرچہ وہ کم ہو اور کسی طرح اس کی مذمت کے رودار نہیں تھے ۔
پڑوسی کے حق کی حفاظت فرماتے ، مہمان کا اکرام کرتے اور اکرام کی خاطر اپنی چادر اس کے لیے بچھادیتے، جس مرضعہ نے آپ کو دودھ پلایا تھا ایک روز وہ آگئی تو آپ نے اپنی چادر اس کے لیے بچھائی اور مرحبا کہہ کر ، اس پر اس کو بٹھایا ۔
سب سے زیادہ تبسم فرماتے اور سب سے زیادہ بشاش اور ہنس مکھ رہتے، حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم متواصل الا حزان، دائم الفکر تھے ، آپ کا جو وقت بھی گذرتا ، اللہ کے کسی عمل میں گذرتا، یا اپنی حوائج ضروریہ میں یا اپنے اہل کی ضروریات میں۔ جب بھی آپ کو دو چیز وں کا اختیار دیا گیا تو آپ نے امت پر شفقت ورحم کی خاطر ہلکی اور آسان چیز کو اختیار فرمایا، البتہ قطع رحمی سے حد درجہ اجتناب فرمایا ۔
آپ اپنی جوتی خود گانٹھ لیتے اور اپنے کپڑے میں پیوند بھی خود ہی لگالیتے، گھر کے معمولی چھوٹے کام بھی کرلیتے، گوشت بھی سب کے ساتھ بیٹھ کر کاٹ لیتے تھے، گھوڑ ے، خچر، گدھے پر سوار بھی ہوجاتے ، اپنے پیچھے اپنے علاوہ کو بھی بٹھالیتے ، اپنے گھوڑے کا منھ اپنی آستین اور چادر کے پلے سے پونچھ لیتے۔ لاٹھی پر ٹیک لگاتے اور ارشاد فرماتے کہ : ”لاٹھی پر ٹیک لگانا اخلاقِ انبیاء میں سے ہے“، بکریاں بھی چراتے اور فرماتے کہ : ”ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں“۔
نبوت عطاہونے کے بعد آپ نے اپنا عقیقہ بھی کیا اور اپنے گھر کے کسی بچہ کے عقیقہ کو ترک نہیں کیا ،پیدائش سے ساتویں روز بچے کا سر مونڈتے اور اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنے کو فر مایا کرتے تھے ۔
فال نیک کو آپ پسند فرماتے تھے اور بدفالی کو نا پسند اور ارشاد فرماتے کہ ” ہم میں سے ہر شخص اپنے جی میں بد فالی کا اثر پاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ توکل کی برکت سے اس کو کھو دیتے ہیں۔“ جب آپ کوکوئی پسندیدہ چیزپیش آتی تو فرماتے: ”الحمد للہ رب العلمین“ اور جب ناگوار چیز پیش آتی تو فرماتے: ”الحمدللہ علی کل حال “
اور جب کھانا بعد فراغت آپ کے سامنے سے اٹھایا جاتا ہے،تو فرماتے:”الحمد لله الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمین اور یہ فرمانابھی منقول ہے: ”الحمد لله حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ غیر مُکَفِّوٴی ولا مودعٍّ ولا مستغنًی عنہ ربَّنا“
جب آپ کو چھینک آتی، تو آواز پست فرماتے اور ہاتھ یا کپڑے سے چہرہٴ مبا رک کو چھپا لیتے اور ”الحمدللہ“ فر ما تے ۔
آپ کی نشست اکثر قبلہ رو ہوتی اور جب مجلس میں تشریف رکھتے تودونوں گھٹنے کھڑے کر کے اس طرح بیٹھتے کہ ایک ہا تھ دوسرے ہاتھ میں ڈال کر گو یا رانوں میں اور گھٹنو ں کو باندھ دیا ہے، ذکر زیا دہ کرتے،بے فائدہ بات نہ فرما تے،نما ز طویل اور خطبہ مختصر فر ما تے، ایک ایک مجلس میں سو سو مرتبہ استغفا رپڑ ھتے۔شر وع شب میں سو جاتے، پھر آ خیر شب میں قیام فر ما تے، پھر وتر پڑھتے اور اپنے بستر پر تشریف لاتے، پھر جب اذان سنتے فو را اٹھتے، اگر غسل کی ضرورت ہو تی تو غسل فر ما تے، ورنہ وضو کر کے نمازکے لیے تشریف لے جاتے، نما ز نفل بھی کھڑے ہو کر پڑھتے اور کبھی بیٹھ کر بھی پڑھی ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فر ما تی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نماز پڑھی ہے۔اور آپ کے اندرون سے نماز کی حالت میں رونے کی وجہ سے ایسی آواز سنائی دیتی تھی ‘جیسی ہانڈی کے جوش مارنے کی آواز۔
پیر او رجمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے اور یومِ عاشورہ یعنی دس محرم کا روزہ رکھتے اور جمعہ کو کم افطار فرماتے اور آپ کے روزوں کے کثرت شعبان میں ہوتی تھی ۔
آپ کی آنکھ سویاکرتی تھی اور قلب مبارک انتظار وحی میں جاگتارہتاتھا، سوتے وقت سانس کی آواز ہوتی تھی، خراٹے نہیں لیتے تھے، جب خواب میں ناگوارچیز دیکھتے توفرماتے: ”ھواللہ لاشریک لہ“۔جب سونے کے لیے لیٹتے تودا ہنی ہتھیلی رخسار کے نیچے رکھتے اور پڑھتے ”رب قنی عذابک یوم تبعث عبادک “اوریہ بھی پڑھتے: ”اللھم باسمک اموت واحیا“ اور جب بیدار ہوتے توپڑھتے: ”الحمد للہ الذی احیانا بعدما اماتنا والیہ النشور“ (جاری)
شائع ہوا .الفاروق, ربیع الاول 1432ھ, Volume 27, No. 3