PDA

View Full Version : محسن پاکستان



شاہ بانو میر
02-10-2011, 02:20 AM
محسن پاکستان

http://rajafamily.com/lib/0004QL00A.jpg


سادہ سا ڈرائنگ روم سادہ سے عام متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوا عام سا فرنیچر عام سا کمرہ نارمل سے پردے اور پس ِ منظر میں دیوار پر آویزاں چند عام سے فریموں میں کچھ بڑی ہستیوں کے ساتھ کامیابی کا سفر طے کرتے ہوئے جو اعزازات ملے انکی تصاویر
سادہ سا لباس عام سا چہرہ جو باوجود متوازن گفتگو کے شکوہ کرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ـ عام سے لوگوں میں بیٹھے ہوئے بظاہر وہ ایک عام سے انسان تھے ـ

در اصل تو وہ محسن ِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں ہیں ـ

میں انکے انٹرویو کو ٹی وی پر دیکھتے ہوئے گرد و نواح کا جائزہ لینے میں مصروف رہی کہ وہ انسان جس نے پاکستان کو ایک تاریخی کامیابی دلائی سالمیت جو سیاستدانوں کا جرنیلوں کا فرض تھا ـ اس انسان نے اپنی دماغی قابلیت اور اعلیٰ کارکردگی سے پاکستان جیسے چھوٹے اور مسائل میں دبے ہوئے ملک کو بین القوامی طور پے نہ صرف عالمی شہرت دلوائی بلکہ وہ شہرت وطن کی ملک کی مضبوطی اور ناقابل تسخیر دفاع کی کنجی ایٹم بم کی صورت بنا کر دنیا کو انگشتِ بدنداں کر دیا ـ

ہمارے وہ سپاہی جو فوج میں ایک عام سے سپاہی کی حیثیت سے داخل ہوتے ہیں اور جب ریٹائرڈ ھو کر نکلتے ہیں تو انکے انٹرویوز انکے ہی گھروں میں جب ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ کیا فوج ریٹائرمنٹ کے بعد سونے کی کان بھی ساتھ دیتی ہے جو معیار جو شان اور جو شاہانہ رکھ رکھاؤ انکی رہائش گاہوں سے جھلکتا ہے ـ
یہ عیش وعشرت یہ پُرتعیش سامان آرائش کہ صرف ڈرائینگ روم ہی لاکھوں یا شائد کروڑوں کے آرائشی اشیاء کی بھرمار سے اٹے پڑے ہیں ـ کیا یہ سب تحائف ہوتے ہیں ؟

اور یہ شاندار بنگلے؟

وہ لگژری گاڑیاں ؟

وہ رہن سہن اٹھنا بیٹھنا

اور اگر ایک بات کو سوچا جائے تو بے شک یہ ہماری پاک فوج کے بہادر جرنیل ہیں اور ہماری خاطر وقت آنے پر ہم سے پہلے دفاع وطن کیلیۓ جان دے کر ملک کو ہر مشکل وقت سے باہر نکال لاتے ہیں ـ

لیکن

دوسری طرف یہ بھی سچائی ہے کہ انکی یہ ذمہ داری اور انکی ملازمت کا یہ تقاضہ اور عہد بھی تو ہے ـ

انکے پاس ناموس پاکستان کیلیۓ سوچا گیا ہر منصوبہ ہر خفیہ سوچ ہوتی ہے ہر بات جس کا تعلق ملک کے دفاع سے ہوتا ہے وہ یہ سب جانتے ہیں ـ

اور بوقت ریٹائرمنٹ انکی دولت کے نہ چھپنے والے انبار زبان ِ حال سے چیخ چیخ کر ہم سب کو بھی شائد کچھ سمجھانا چاہتے ہیں ـ


دوسری طرف
آج اس انسان کو دیکھ رہی ہوں جس کی زبان میں احترام تہذیب اور انکساری ہے ـ سادہ طرز ِ حیات اور اینکرز کے ساتھ بے لاگ متواتر گفتگو انکے اندر کی بے چینی کی مظہر

کوئی شکوہ نہی کیا کوئی گلہ نہیں کیا سب کیلیۓ اچھے الفاظ کو چن کر لفظوں کی خوبصورت سی مالا پروئی
مگر جو شعر خود اپنا ہی لکھا ہوا سنایا وہ دل کو دہلا گیا ـ

عمر اپنی گذر ہی گئی قدیر
مگر کُوفیوں میں گذری ہے

یہ شعر شائد ایک آدھ الفاظ کی کمی بیشی سے ہو لیکن مفہوم سو فیصد یہی تھا ـ کہ تمام عمر وطن کی محبت میں شاندار ملازمت کو چھوڑ کر لاتعداد ڈالرز کولات مار کے بیرون ملک سے واپس آکر ایک انوکھی سوچ ایک مشکل خواب کو تعبیر دینے والا کتنا مایوس اور کتنا گل گرفتہ ہوا ہے ہمارے مایوس کُن رویوں سے اپنوں نے ہی غیروں کا سا سلوک کیا ـ وزیر اعظم بھٹو کو یہ سوچ کر خط لکھنے والا یہ نوجوان سائنٹسٹ پڑہائی کے دوران جب یورپ کی ترقی کا مقابلہ کرتا اپنے پیارے پاکستان سے تو بِلبِلا جاتا ـ اسکا بھی جی چاہتا کہ پاکستان بھی ان ممالک کی طرح شاندار ترقی حاصل کرے ـ
قابل انسان تھا ملک کیلیۓ کچھ کر دکھانے کا اسکو بھی دنیا کے ساتھ ملا کر
ایک اونچا مقام دینے کا خواب وہ دیکھ رہا تھا ـ
اسکو اپنی سوچ پر اپنے تجربے پر اور اپنی اہلیت پر خدا کے فضل و کرم سے مکمل یقین تھا ـ اور یہی سوچ خط لکھنے کا باعث بنی جس کو بھٹو نے بھی پاکستان کیلئے ایک نایاب تحفہ سمجھتے ہوئے قبول کیا اور اجازت دے دی یہ بہت بڑا فیصلہ تھا جس کا خمیازہ بھی بعد میں بھٹو کو بھگتنا پڑاہنری کسنجر نے تو کہ دیا تھا کہ وہ بھٹو کو عبرت کا نشان بنا دیں گے جیسے رچرڈ آرمٹیج نے اب کہا تھاکہ اگر پاکستان نے بات نہ مانی افغانسات جنگ پر ساتھ نہ دیا تو اسکو پتھروں کے دور میں دھکیل دیا جائے گا ـ

تب بھی ایسی ہی دھمکی دی گئی لیکن کسی نے بھی نہ تو جان کی اور نہ ہی حکومت کی پرواہ کی توجہ بس منزل کے حصول پر رکھی اور پھر نواز شریف کا دورہ حکومت تھا جب یہ دلیرانہ کارنامہ پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف میں چاغی سے تحریر کیا گیا اور پاکستان نے ڈاکٹر قدیر کی سربراہی میں بلوچستان میں چاغی کے مقام پر ایٹمی کامیاب دھماکہ کر کے ناقابل تسخیر بنا دیا ـ

اسکے بعدپاکستان کے ایٹمی پروگرام پر مسلسل بہت دباؤ رہا ـ کبھی کسی حوالے سے تو کبھی کسی حوالے سے ـ
لیکن سربراہان مملکت نے بہت سی باتوں پر سمجھوتے کئے لیکن قابل تعریف بات ہے کہ آج تک کسی بھی حکمراں نے ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا ـ
پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے اس مردِ مجاھد نے زندگی اپنے ملک کے نام کر دی عام زندگی سے کٹ کے عام لوگوں سے ہٹ کے ایک خاموش اور تجربہ گاہ میں خود کو محدود کر کے وہ کارنامہ سر انجام دیا کہ جس پر صدیوں تک فخر کیا جائے گا ـ
لیکن
وقت گذرتا رہا اور پھر پاکستان کے حالات 9 11 کے بعد امریکی دباؤ اور مشرف کی کمزور زہنی تنہا سوچ سے بہت بدلے ـ بہت سی چیزیں امریکہ کے زیرِ عتاب آئیں انہی میں سے ایک ڈاکٹر قدیر بھی تھے ـ الزامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ملک کیلیۓ جو کارنامہ ہوتا ہے دوسرے مالک اسکو تخریبی سرگرمی کا نام دیتے ہیں ـ اور پھر اس دن شائد 16 دسمبر سکوتِ ڈھاکا کے بعد یہ دوسرا موقعہ تھا جب قوم یوں ٹی وی کے آگے گم سم بیٹھی اس ہیرو کا اعتراف جرم سن رہی تھی کہ جس کو سونے سے تولنا چاہیۓ تھا اشرفیوں کو ہم وزن کر کے نادار مفلسوں میں تقسیم کرنا چاہئے تھاـ

مگر انکی قید تنہائی یہ تھا انعام ہمارے ہیرو کا یہی انسان اگر یورپ میں ہوتا تو اسکی کیا شان ہوتی کیا اسکے حفاظتی انتظامات ہوتے اور کیا ہی اسکی قدر و قیمت لگتی ـ

وہ آج ندامت سے عرق پیشانی کے ساتھ جھکی ہوئی شرمندہ نگاہوں کے ساتھ اعتراف جرم کر رہا تھا ایک کاغذ جو ان کے ہاتھ میں تھما دیا گیا جو انکی خدمات کا اعتراف تھا جس میں انکو ایٹمی پھیلاؤ میں غیر قانونی طور پے ملوث ظاہر کر کے قوم سے معافی مانگنا تھی ـ اور کسی روبوٹ کی طرح انہوں نے کسی بھی تاثر سے عاری چہرے کے ساتھ اس کاغذ کی تحریر کو سپاٹ لہجے میں سنا دیا ـ
یہ شعر شائد ڈاکٹر صاحب نے اسی دن پڑھا ھو ـ حسبِ حال جو لگا ھو گا ـ
وقت کا پہیہ چلتا رہا ہر زوال کو ایک دن عروج اور ہر عروج کو ایک دن زوال ہے
آمریت کا دور تمام ہوا ہر زندگی کے شعبے میں مکمل تباہی مچا کے آمریت خاموشی سے باہر سدھاری ملکی وسائل کو بیدردی سے لٹا کے عدلیہ کے ساتھ محاذآرائی کر کے
بلوچستان کی تحریک علیحدگی کو اکبر بگٹی کا خوں دے کر از سر نو اس میں ہیجان برپا کر کے ـ
اداروں کو برباد کر کے اپنے ہم وطنوں کا سودا کر کے
ملک کے وسائل کو ملک کیلیۓ ہی مسائل بنا کر ضیأء الحق کے بعد اس دوسرے ڈکٹیٹر نے ملک کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ایک نے مذھبی انتہا پسندی دے کر ملک کا بیڑہ غرق کیا تو دوسرے نے لبرل بن کر ملک کو ثقافت کو چوں چوں کا مربہ بنا دیا ـ
آمر کے جاتے ہی اندرونی بیرونی دباؤ کے تحت جن لوگوں کی پریشانیوں میں تخفیف واقع ہوئی ان میں ڈاکٹر قدیر بھی تھے علالت کی وجہ سے بھی اور آمر کے جانے کی وجہ سے بھی اب ڈاکٹر صاحب بڑی حد تک آزاد تھے ـ
یہ انٹرویو اسی آزادی کا ایک تحفہ تھےا جو ایک نجی ٹی وی چینل پر دکھایا جا رہا تھا ـ
ڈاکٹر صاحب کی گفتگو میں کہیں سے بھی خشکی اور سائنسی تجربہ گاہ کے محلول کی بو محسوس نہیں ہوئی بلکہ کسی عام دیسی پاکستانی کی طرح انہوں نے بہت علمی گفتگو کی اور سیر حاصل تبصرہ کیا آپ سب کو شائد علم نہی ہو گا کہ ڈاکٹر صاحب بہت اچھے کُک بھی ہیں اور اپنے کُک کو اپنے انداز میں کھانا کیسے بنانا ہے وہ سکھا چکے بہت ہی خستہ اور شاندار پراٹھے بناتے ہیں ـ

ڈاکٹر صاحب ایک عام سے پاکستانی ہیں جن کا زہن بہت اعلیٰ اور سوچ خالص پاکستانی ہے عام لوگو میں اٹھنا بیٹھنا عام گفتگو کرنا اور اپنی مٹی کی خوشبو کو محسوس کرنا یہی ان کی باتوں سے نچوڑ نکلا
ڈاکٹر صاحب نے ایک واقعہ بیان کیا اس سے انکی انسانیت کا اندازہ کیجیۓ
انکا کہناتھا کہ جب انکی بڑی بیٹی کی شادی تھی تو بہت لوگ مدعو تھے بڑے بڑے لوگوں کے ڈرائیورز جو ساتھ ہوتے ہیں وہ گھنٹوں ایسی بڑی تقریبات میں بھوکے پیٹ باہر کھڑے رہتے مالکوں کا انتظار کرتے ہیں جبکہ اندر مالک لوگ انواع و اقسام کے لوازمات سے لطف اندوز ہو رھے ہوتے ہیں ـ

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ہی اس بات کو محسوس کیا اور اس بات کو برا سمجھا کہ بحیثیت انسان بھی ہم ان کا خیال نہی کرتے یہی وجہ ہے جب میری بیٹی کی شادی تھی تو میں نے الگ سے کئی دیگیں بنوا کر ایک الگ ٹینٹ کا انتظام کیا ہوا تھا ـ تاکہ وہ لوگ بھی شادی کا لطف لے سکیں اور مجھے یہ کر کے خوشی اور سکون محسوس ہوا ـ
ڈاکٹر صاحب کا بیٹا نہی ہے اور اسکی انکو نہ تو کبھی کمی محسوس ہوئی اور نہی کوئی طلب
کیونکہ وہ خود پاکستان کے نام کے ساتھ ہمیشہ کیلیۓ امر ھو گئے ہیں ـ
ایسے انسانوں کو عام سوچ کی طرح نسل بڑہانے کیلیۓ بیٹے کا محتاج نہی ہوتا ـ
بڑے مزاحیہ انداز میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ایک بار وہ ہالینڈ سے پاکستان آ رھے تھے تو انکی دونوں بیٹیاں بھی ان کے ہمراہ تھیں ایک بیٹی انکی بیگم کے ساتھ بیٹھ گئیں اور دوسری بیٹی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بیٹھ گئی تو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اسی دن سوچ لیا کہ اگر تیسرا بچہ ہواتو وہ کیا کندھوں پر بٹھاتے
ہمیں کندھوں پر نہی بٹھانا بس یہی دو بیٹیاں بہت ہیں ـ

اتنی لمبی گفتگو میں کسی کا نام برے الفاظ میں نہی لیا تعریف کی اور اچھائی بیان کی سب لوگوں کی ـ ہر سربراہ مملکت نے اس ایٹمی پروگرام کو سپورٹ کیا لیکن انکا کہنا ہے کہ وہ بھٹو کو اس لئے قابل تعریف سمجھتے ہیں کیونکہ جس وقت بھٹو کو خط لکھا وہ خود بہت ینگ تھے اور پھر بہت بڑا رِسک بھی تھا کہ ہم کامیاب بھی ہوتے ہیں
ڈاکٹر صاحب کے منہ نکلے یہ الفاظ کہ جب وہ بھٹو سے ملے تو انکو یقین نہی تھاکہ بھٹو ایک جوان اور نئے باہر سے آئے ہوئے سائنسداں کا یقین کر لیں گے کیونکہ نہ تو وہ ڈاکٹر عبدالسلام کی طرح مشہور تھے اور نہ ہی ابھی اتنے قابل بنے تھے ـ یہ خراج تحسین بہت اچھا لگا اور اپنی ذات کیلیۓ اتنی انکساری بہت بھلی لگی کانوں کوـ کیونکہ پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی اندرونی بھاری اخراجات کا حصول اور بیرونی دباؤ کا سامنا الگ کرنا پڑتا اور کسی بھی بڑے اور حساس منصوبے کیلیۓ پہلا قدم اٹھانا ہی سب سے زیادہ دشوار گذار کام ہوتا ہے اور بھٹو نے یہ بھاری ذمہ داری بخوبی نبھائی بغیر کسی دباؤ کو قبول کئے ـ
پاکستان کیلیۓ بھٹو نے نہ صرف انکی تجویز کو خوش آمدید کہا بلکہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسسخیر بنادیں اسکے لئے وہ سب مشکلات کا سامنا کرنے کو تیار تھے ـ دوسرے نمبر پر ڈاکٹر صاحب نے صدرِ پاکستان اسحاق خان کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ـ
جتنا جزبہ جتنی اہمیت اسحٰق خاں نے دی اور شائد کسی سربراہ میں وہ نظر نہی آئی ـ

سائنٹسٹ ڈاکٹر قدیر دوسری طرف اپنے کام سے بالکل الٹ ایک بزلہ سنج انسان ہیں انکو اپنے دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا اپنے لوگوں میں رہنا پسند ہے
انکو اپنے طالبعلمی کے دوست اور روم میٹ آج تک فر فر یاد ھیں کمال کا حافظہ پایا ہے
ہاسٹل کے شب و روز خود پکانا اور ایک پاکستانی 80 ہندو طالبعلموں میں جب وہ برلن میں تھے اور کیسے کھلے دل اور کھلی سوچ کے ساتھ ایک خوبصورت ماحول کو اپنی محنت اور سوچ سے تشکیل دیا اور غیر ملکیوں کے ساتھ کس اپنایت سے رہے سن کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک اتنا بڑا سائنٹسٹ اتنا نرم طبیعت اور انسان دوست بھی ہو سکتا ہے جن کو شاعری اور کتابیں پڑھنا بیحد پسند ہے ـ اور یہ کتابیں ہی ہیں جو اسیری میں بھی انکی دوست رہیں اور انکو حوصلہ اور ہمت دلاتی رہیں ُپر عزم رکھا ـ اور آجکل تو وہ اپنی تحریر سے بھی کافی تبصرون کا مرکز ہیں ـ
اپنی زندگی سے اپنے افعال اپنی سوچ سے مکمل طور پر مطمئین ڈاکٹر قدیر نے شکایت کا ایک لفظ زبان سے نہی نکالا لیکن دل میں تو ضرور گلہ ہو گا کہ اس ملک کیلیۓ اس قوم کیلیۓ ڈاکٹر قدیر نے کیا کیا اور اس ملک نے اس ملک کے حکمرانوں نے بیرونی دباؤ کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے ان کے ساتھ کیا کیا ؟

جو بات غور طلب رہی اس سارے منظر میں
جو معافی نامہ پڑہوایاگیا تھا اس میں پیسوں کی ایک لمبی تفصیل تھی جس کے حساب سے انکی امارت کو نظر آنا چاہیے تھا ـ
لیکن ایک گھنٹہ بہت غور کرنے پر بھی مجھے سلوٹ زدہ عام سے کپڑوں میں ملبوس عام سا پاکستانی عام سے ڈرائینگ روم میں چند عام سی آرائشی اشیاء کے درمیان بہت مطمئین بہت پرسکون نظر آیا ـ
شائد انکے پاس دنیا کی سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے جس کو ضمیر کا سکون کہتے ہیں ـ
اور اسکی ان کے پاس بہتات ہے یہ آج نظر بھی آگیا اور دیکھ بھی لیا ـ
اللہ پر توکل رکھیں وہ ہی مصائب آزمائش دیتا ہے اور بے شک وہی نکالتا بھی ہے ـ یہ ہر مسلمان کی طرح میرا پختہ ایمان ہے اس لئے میں خود پر آئی کسی بھی پریشانی کسی بھی مصیبت میں کبھی نہی گھبرایا بس اللہ ہی سے مدد مانگتا تھا اور اللہ ہی کو یاد کرتا تھا ـ
پاکستان میں سیلاب زلزلہ سب آزمائشیں ہیں ـ
قومیں ان آزمائشوں کے مقابلے سے ہی ابھر کر سامنے آتی اور کامیاب ہوتی ہیں ـ
ڈاکٹر صاحب نے پاک فوج کی سیلاب زدگان کیلیۓ دن رات کی کوششوں اور انکی دلیرانہ خدمات کا تزکرہ کیا ـ پاک فوج نے ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اب ہمارا بھی فرض ہے ـ
اٹھ کھڑے ہوں چائنہ کی طرح قوم اکٹھی ہو کر ہر چیلنج کا ہر پریشانی کا مل کر مقابلہ کرے تو نہ صرف ہم اس پریشانی مصیبت سے باہر نکلیں گے بلکہ چائنہ کو بطور ماڈل سامنے رکھ کر ان کی طرح ہی شاندار ترقی بھی کریں گے ـ
یہ پُرامید پیغام ہے ڈاکٹر صاحب کی طرف سے اپنے پاکستانی ہم وطنوں کیلیۓ ـ
ڈاکٹر صاحب سچ میں بڑے انسان ہیں جو آج بھی خرابئ صحت کے باوجود سوچتے ہیں تو اپنے وطن کا
کہتے ہیں تو اپنے لوگوں کا
کرتے ہیں تو پاکستان کے محفوظ مستقبل کیلیۓ
سلام ہے ڈاکٹر قدیر
آپ بلاشبہ ہمارے ہیرو کل بھے آج بھی ہیں اور جب تک پاکستان سلامت ہے آپ محسن پاکستان رہیں گے انشاءاللہ


http://rajafamily.com/lib/0004QL00B.gif

عبادت
02-10-2011, 03:49 PM
ماشاءاللہ
اللہ پاک انہیں صحت تندرستی دے آمین
یہ ہمارے واقعی محسن ہیں ان کو تا قیامت یاد رکھا جاے گا
انہی کی محنت ہے کہ اج ہمارے پیارے پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا
انہوں نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے انہیں کیا دیا یہ سوچ کر واقعی ہم شرمندہ ہوتے ہیں
مگر ہمارے حکمرانوں کو شرم آتی ہی نہیں

بےباک
02-10-2011, 06:18 PM
کیونکہ وہ خود پاکستان کے نام کے ساتھ ہمیشہ کیلیۓ امر ھو گئے ہیں ـ
ایسے انسانوں کو عام سوچ کی طرح نسل بڑہانے کیلیۓ بیٹے کا محتاج نہی ہوتا ـ

بالکل سچ کہا ، یقین کیجیئے میں خود ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام کی ایک ویب ساءیٹ لاونچ کرنا چاھتا ھوں ، اور اس سلسلے میں کوشش بھی کی ،
آپ نے میرے شوق کو بڑھا دیا ، انشاء اللہ بہت جلد آپ کے سامنے ایک ایسی ہی ویب لاؤنچ ہو گی ، جہاں پر اس شاندار شخصیت کے بارے تقریبا سب معلومات مل سکیں گی ،
مضمون بے حد زبردست اور جس کی شان میں لکھا جا رہا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ،
اور آپ نے ایک سچے محسن کے بارے ہمیں جو بتایا ، وہ دل خوش کرنے اور روح کو گرمانے والا ہے ،
....
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے : سعد اللہ شاہ
اے ڈاکٹر قدیر! ترے نام کو سلام
اے محسنِ عوام! ترے کام کو دوام
پلکوں پہ اپنی دیپ تو دل میں ہیں مشعلیں
کر اس طرف خرام کبھی اے خُجستہ گام
تیرے لیے ہے گریہ کُناں دم بدم یہ آنکھ
ہم نے تو لوحِ دل پہ لکھا بس ترا ہی نام
جو بھی عدو ہے تیرا عدو ہے عوام کا
تجھ سے ہے دن ہمارا تو تجھ سے ہماری شام
یہ سگ نما سے لوگ مریں گے خود اپنی موت
ناکام ان کو کر دیا، تو نے کیا وہ کام
پرواز میں تو بن گیا اقبال کا خیال
شاہیں صفت کے واسطے در ہے نہ کوئی بام
حرص و ہوس کے مارے ہوئے بے ضمیر لوگ
سورج مکھی کے پھول ہیں یہ وقت کے غلام
اے سعد کیا ہے زندگی اپنی بقا کی سوچ
نامِ حسین مانگ شہادت کا ایک جام

محمدانوش
02-10-2011, 06:44 PM
ہم اپنے پاکستانی ہیرو کو دل وجان سے سلام پیش کرتے ہیں اللہ ہمارے پیارے ملک کو ہمیشہ ایسے انسانوں سے نوازتا رہے کیوں یہ ہیروز ہیں تو پاکستان ہے اور پاکستان ہے تو سب کچھ.

بہت بہت شکریہ شاہ بانو جی ہمیں ہمارے قومی ہیرو کی یاد تازہ کرنے پر.

پاکستان ہمیشہ زندہ و پائیندہ باد

تانیہ
02-12-2011, 10:45 PM
زبردست شیئرنگ ..دل خوش ہوا اپنے قومی ہیرو کے بارے میں پڑھ کے جان کے بےشک یہ وہ ہیرو ہیں جو ہمیشہ ہیرو رہینگے.....قومی ہیرو زندہ باد..پاکستان پائندہ باد

وی جے
03-15-2011, 11:06 AM
مزا آ گیا :-):-):-):-)

pervaz khan
06-26-2012, 09:33 PM
بہت اعلی شئیرنگ شکریہ

انجینئرفانی
10-06-2012, 08:16 PM
قومی ہیرو زندہ باد ۔ پاکستان پائندہ باد