PDA

View Full Version : پاکستان میں لٹیروں کا نیٹ ورک ۔۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی



گلاب خان
11-27-2010, 09:06 AM
آج کل ٹیکس ریفارم کے نام پر ایک ہنگا مہ بر پا ہے۔ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہم نہ ٹیکس کی چوری بند کر یں گے ۔ نہ رشوت خوروں کو پکڑیں گے بلکہ یہ سب کچھ سر کاری سر پرستی میں جا ری رہے گا دنیا کو بھی بیوقوف بنا ئیں گے؟ تو پھر بتا ئیے کہ مسائل حل کیسے ہو نگے اور ہر ایک ہمیں اور حکمرانوں کو جھوٹا ہی سمجھتا رہے گا جیسا کہ ابھی ہے ؟ دیہاتی کہاوت ہے کہ اگر مینڈ خود کھیت کو کھانے لگ جائے تو کھیت کیسے بچے گا ؟ ممکن ہے کہ یہ شہریوں کی سمجھ میں کہاوت نہ آئے۔ اس لیئے میں اس کا پس ِمنظر آپ کو سمجھا ئے دیتا ہوں ۔ مینڈھ ہندی زبان کا لفظ ہے جس کو پنجابی اور سندھی میں بننا کہتے ہیں ۔ یہ وہ چھوٹی سی پٹی ہو تی ہے جو آپ کی زمین کو پرا ئی زمین سے علا حدہ رکھتی ہے اگر کا شتکا ر لا پرواہ ہو اور پو ری ایمانداری سے بننے نہ تراشے تو ان بنوں پر جھا ڑیاں اُ گ آتی ہیں جو روز بروزبڑھتی ہی جا تی ہیں اوروہ آخر کھیت کو کھا جاتی ہیں یعنی گھیر لیتی ہیں ۔چونکہ یہ خورد رو جھاڑیا ں پوری زمین کی توانائی چو س لیتی ہیں لہذاپو دوں کے چہروں پر سے سر خی جا تی رہتی ہے اس وقت یہ محاورہ بو لا جا تا ہے کہ اگر مینڈیں خود زمین کوکھانے لگیں تو حفاظت کون کر ے گا ؟
یہ ہی صورت ِحال ہمارے ہاں ہے کہ مینڈیں خود کھیتوں کو کھا رہی ہیں جو جہا ں ہے کھانے میں مصروف ہے۔
پچھلے ہفتے ہم نے دومحکموں کی مثالیں دیں تھیں ۔اب آئیے آگے بڑھتےے ہیں کہ باقی محکموں کی کیا حالت ہے؟جس میں صوبائی محکموں کے علاوہ مرکزی محکموں کا بھی ذکر کر یں گے ۔یہ تو آپ جا نتے ہیں کہ ہما را ملک ایک زرعی ملک ہے اور اس کی خوشحالی کا دارومدار ایگریکلچر پر ہے۔اس کا عالم یہ ہے کہ جبکہ ہمارا عالم یہ ہے کہ آدھا ریونیوبھی نہیں ملتا کیونکہ پٹواری اور زمیندار مل کر کھا وہ جا تے ہیں ۔خصوصا“ان علاقوں میں جہاں سو فیصد زمین آباد نہیں ہو تی کیونکہ وہاں پا نی کی کمی کی وجہ سے پو ری زمین زمیندار آباد نہیں کر سکتا لیکن ہو تا ہے یہ ہے کہ با اثر زمیندار محکمہ آبپاشی کو پھوڑی کے نام پر رقم دیکر پو ری کی پو ری زمین آباد کر لیتا ہے جبکہ پٹواری کے ریکارڈ میں وہ ایک تہائی آباد ہے جس کا ریونیو حکومت کو ملتا ہے۔اور بڑے زمیندار کے نیچے کی طرف جو لوگ ہیں ۔ان کو پانی ہی نہیں ملتا ۔ یہ پھوڑی ایسی بیماری ہے کہ مرحوم محمد خان جو نیجو وزیر وزیرِااعظم بن گئے تھے مگر وہ پٹواواری اور محکمہ نہر کے اہل کار وں با قاعدگی سے ان کا حق دیتے رہے۔کہ وزارت ِ عظمیٰ تو آنے جانے والی چیز ہے ،ان سے کون بگاڑیں ؟اس کے سوا صاحب یا زمیندار اگر ضرورت پانی کی اور بھی ہو تو وہ نہر بند باندھ کر اپنی زمینیں سیراب کر لیتا ہے اور اس کی نہ پولس کو رپورٹ ہوتی ہے اور نہ محکمہ نہر کوئی ایکشن لے سکتا ہے اس لیئے جو زمینیں کبھی زر خیزز تھیں وہ آج ویران پڑی ہو ئی ہیں اور چٹیل میدانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔سندھ کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ وہاں کازیر ِ زمیں پانی زیادہ تر کڑوا ہے جو کھیتی کے لیئے قطعی ناکا رہ ہے لہذا وہ ٹیوب بھی نہیں لگا سکتے ۔ جبکہ پنجاب اور سرحد اور بلو چستان والے ٹیوب ویل اورکاریزیز سے خوب فا ئدہ اٹھا رہے ہیں، مگر زمینوں غیر آباد دکھانے کا سلسلہ وہاں بھی جاری ہے۔دوسرے قابل کا شت علاقہ جہا زیر زمین پانی کھا را ہےاور رو زبروز کم ہو تا جا رہا وہاں بی جمالو قسم کے سیاستدداں صوبوں کو یہ غلط تا ثر دے رہے ہیں کہ سارا پانی پنجاب کھا جا تا ہے جس کی وجہ سے ڈیم نہیں بن سکے جبکہ اربوں کیو سک فٹ پانی سمندر میں جا رہا ہے اور سیلابوں کی آمد کا ایک با عث یہ بھی ہے اور بجلی شارتیج کا بھی۔ یہ پانی کی کمی ان علاقوں میں یوں بھی ہے کہ نہروں کو اپنی تنگ دامانی کا بھی گلا ہے؟ اس کی وجہ بھی سن لیجئے۔کہ ہر سال نہروں کی صفائی کے نام پر دسمبر میں نہریں بڑی با قاعدگی کے ساتھ بند کر دی جاتی ہیں لیکن کان لا ئیے میں راز کی بات بتا دوں ۔ وہ سو سال سےصاف ہی نہیں ہو ئی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ ڈیموں سے آنے والی ریت کے جمع ہو جانے کے باعث ہر سال مزید تنگ ہو تی جا رہی ہیں اور اب یہ صورت ِ حال کہ وہ نہریں جن میں پہلے ہا تھی ڈوب جا تا ہے اب کتا بھی اپنے پا ؤں پر چلتا ہوا گزر جا تا ہے۔ ایسا کیوں ہو تا اس کی وجہ وہ بھی زمیندار کے ساتھ محکمہ نہر کا گٹھ جوڑ ہے یعنی زمینداروں سے ان کے ہا ری بیگار میں مانگ لیئے جا تے ہیں اور وہ ایک ایک لپہ ریت کا اندر سے اٹھا کر نمو نے کے لیئے دو نوں طرف کے کناروں پر ڈالدیتے ہیں جیسے مونچھوں پر ملا ئی لگا نے کا محاورہ مشہور ہے۔ جبکہ نہروں کی صائی کے نام پر ہر سال اربوں روپیہ خرچ ہو تا ؟ اب آپ پھر سوال کریں گے کہ وہ جا تا کہاں ہے ؟یہ بل وہ ٹھکیدار جن کےنام پر فرضی ٹھیکے ہو تے ہیں ، انجیر صا حب کو کیش کرا کر دیدیتے ہیں اس لیئے کہ انہیں صا حب سے پورے سال اور بہت سے کام لینا ہو تے ہیں انہیں ادھر کا بدلہ ادھر مل جا تا چونکہ انکم ٹیکس تو ان کو بہر حال دینا پڑتا ہے کہ بظاہر یہ رقم ان اکے اکاونٹ میں آئی ہوئی ہو تی ہے؟وہ بھی زیادہ تو نظر انداز کر جاتے ہیں اور آدھا وہاں بھی انکم ٹیکس والے لیکر چھوڑ دیتے ہیں لہذا اس کی کر پشن کی وجہہ سے مرکز جو ریونیو ملنا چا ہیئے تھا وہ بھی نہیں ملتا ۔
ان کی بھی سن لیجئے؟ وہ یہ ہے کہ ہر انکم ٹیکس آفیسر لاکھوں روپیہ دیکر پہلے یہ عہدہ خرید تا ہے۔ پھر اچھی پوسٹنگ کے لیئے کڑوڑوں رو پیہ خرچ کر نا پڑتا ہے۔اب آپ پو چیں گے کہ پھر یہ روپیہ آتا کہاں سے ہے اس کی جڑکو کھودنے کی کو شش نہ کریں ورنہ آپ اتنی دور پہونچ جا ئئیںں گے کہ مایوسی ہوگی۔ہاں یہ بتا دیتے ہیں کہ وہ وصول کیسے کر تا ہے۔ہر شہر اورقصبہ میں ان لوگوں کا ایک جال بچھا ہے جنہیں عر فِ عام میں انکم ٹیکس کا وکیل کہا جا تا ہے یہ کام وہ اس کے لیئے انجام دیتے ہیں وہ سال کے سال بازار سے اُ گاہی کر کے کچھ خود رکھتے ہیں کچھ اسے دیتے ہیں اور ہاں آپ نے انکم ٹیکس والوں کا چھاپہ مارنا اورٹیکس چوروں کا پکڑناپڑھا یا سنا ہوگا ۔ یہ بھی کا رکردگی دکھا نے کے لیئے ضروری ہے اور پکڑے وہ جا تے ہیں جو ایماندار ہیں؟ اور با قاعدگی سے ٹیکس دے رہے ہو تے ہیں؟

تانیہ
11-28-2010, 12:59 PM
پڑھا نہیں میں نے بہت کچھ دیکھا ہے بس مت پوچھو یہ بہت درد بھرا موضوع ہے ...خیر...آپ نے خوب شیئرنگ کی ...تھینکس

علی عمران
11-28-2010, 04:26 PM
واہ بہت خوب گلاب خان۔۔۔۔۔۔۔ اچھی شئیرنگ ہے۔۔۔۔۔۔جاری رکھو