PDA

View Full Version : قائم رہنا حسین کی طرح



شاہ بانو میر
02-19-2011, 01:21 AM
http://rajafamily.com/lib/0004OR00A.jpeg


جب سودا ہو ضمیر کا اے دوستو
قائم رہنا حسین کے انکار کی طرح


قیام پاکستان سے آج تک اس قوم کو سوائے انتطار اور وعدوں کے کچھ نہی ملا آدھے سے زیادہ سفر تو مارشل لا یا ڈکٹیٹرز کی صورت وطن عزیز پابند سلاسل رہا اور باقی مانندہ سفر جلتے ہوئے صحرا کی مانند جس میں کہیں کہیں کوئی دور چھوٹے سے نخلستاں میں صرف صاحب اقتدار درختوں کے جھرمٹ میں محو رقص نظر آئے ـ عوام تو اس وقت بھی تپتی دھوپ میں سراب دیکھتے ہوئے آگے اور آگے انتظار کی جانب پا پیادہ سورج کی تپش کو برداشت کرتی رہی ـ
کچھ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بظاہر اعلیٰ خاندانی منصب اعلیٰ سوچ کے حامل اچھی روایات کے گرویدہ عمدہ طرز زندگی کے عادی لیکن زندگی کو طویل کرنا انکے اختیار میں نہیں ہوتا مختصر سی مگر بھرپور زندگی گذارنے والا تاریخ کے ورقوں میں ہمیشہ کیلیۓ امر ہوجانے والا ایک خاندان سر شاہنواز بھٹو کا بھی تھا جن کا سپوت ذوالفقار علی بھٹو اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک کے لوگوں کی ذہنی پسماندگی دور کرنے میدان سیاست میں داخل ہوتا ہے اسکی ذہانت سے ہر دشمن خواہ وہ مقامی تھا یا غیر ملکی اسکی سوچ اسکی طاقت سے خوفزدہ تھا ـ
اور وہ اپنی شعلہ بیانی سے عوام الناس کے دلوں کے پر حکمرانی کرنے لگا بلاشبہ وہ فارن منسٹر ایک آمر کی حکومت میں بنا لیکن حکومتی انداز اسکو برہم کر گے اور بہت قربت کے باوجود بھی اس نے عوامی جماعت بنانے کا سوچا اور پھر پیپلز پارٹی کے نام سے ایک مضبوط جماعت وجود عمل میں آئی اسکا منشور واضح اور عام تھاـ اور اسی وجہ سے عوام میں اسکا شاندار استقبال کیا گیا ـ اس وقت کا مقبول نعرہ تھا روٹی کڑا اور مکان پاکستان میں ہر دماغ بڑو کیلیٔے سر دردی بنتا ہے اور اسکا حال وہی ہوتا ھے جو ذ والفقار علی بھٹو کا ہوا
محسن پاکستان محترم عزت مآب ڈاکٹر قدیر صاحب آج بھی ببانگ ِ دھل فرماتے ہیں کہ میں بہت نو عمر تھا جب وطن واپس آیا یہ خواہش لیکر کہ ہم بھی ایٹم بنا سکتے ہیں میرے پاس تجربہ نہیں تھا نام بھی ڈاکٹر عبدالسلام کی طرح نامور نہیں تھا ایسے میں بھٹو سے ملنا اور ان سے اپنی خواہش کا اظہار کرنا اسکے بعد انکا قائل ہونا ایک خواب تھا لیکن اس وقت میں حیران رہ گیا جب نہ صرف بھٹو نے پوری سنجیدگی کے ساتھ بات سنی بلکہ ہر ممکن امداد کا یقین دلایا اور ہر گز ھرگز کسی دباؤ میں نہ آنے کا یقین دلایا ـ بھٹو کا فلسفہ بھٹو کی تحریک کو سازش کے ذریعے جان بوجھ کر سبو تاژ کر کے اس ملک کو اس عوام کو بلاشبہ عوامی ہیرو سے محروم کر دیا گیا اسکے بعد انہی کے نظریات انہی کی سوچ کو لیکر انکی عملی تصویر بے نظیر بھٹو بہت مشکلات جِھیل کروطن واپس آتی ہیں تو موت کا واضح اشارہ انکو ملتا ہے لیکن بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہوتی ہیں جو کام قدرت آپ سے لینا چاہتی تو وہی جزبے بھی بیدار کر دیتی ہے مقصد بڑ ا ہو تو ارادے بھی آہنی ہوتے ہیں یہی وجہ سامنے کھڑی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے نظیر بھٹو اپنے لوگوں کیلیۓ ایک بار پھر پاکستان لوٹی وہ بے بظیر جو ایک طویل عرصہ پہلے یہاں سے گئی تھی وہ کچھ اور تھی لیکن اس بار جو پلٹ کر آئی اور پاک زمین کو دیکھتے ہی دعائے شکر آنسووں سے جس نے کی آسمان کی سِمت دیکھتے ہوئے مانگی وہی اسکی سرخروئی کے لمحات تھے وہ لمحات اسکو وہیں بہت قد آور کر گئے اسکے چہرے کا نور اسکی آنکھوں کی شفافیت اور اسکے بعد کی اسکی تقاریر بتا رہی تھیں کہ اب وہ بھٹو جاگا ہے جو انکی میراث تھا ـ
اردو زبان کی خامیوں پر مکمل عبور حاصل کر کے اور وزنی الفاظ کو گفتگو میں استعمال کرنا سیکھ کر آئی تھیں جو بات سب سے زیادہ محسوس ہوئی وہ یہ تھی کہ کئی سال وطن سےباہر رہ کر اپنی عوام اپنے لوگوں سے دور رہ کر جو کمی جو خلا انکی ذات میں آچکا تھا اسکو وہ کیسے پورا کرنا چاہتی ہیں انکی مختصر سے بھرپور آخری دو ماہ کی سیایسی زندگی اسکا بھرپور جواب ہے لہجے میں سچائی گونج اور للکار دشمنوں کیلیۓ پھر سے نئے بھٹو کو سامنے لے آئی ـ پھر حالات تبدیل ہوتے ہیں اور جرآت کی اس پیکر کو تمام تر بزدلی اور عیاری سے شہید کر دیا جاتا ہے ـ
اب یہاں سے ایک نئی تاریخ رقم ہوتی ہے زرداری جو بظاہر بے نظیر کے سیاسی کیرئیر کو داغدار کرنے والا نام مسٹر ٹین پرسنٹ قدرت کس فیاضی سے انکو نوازتی ہے وہ سامنے آتے ہیں اور ساتھ ہی ایک وصیت جو آج تک متنازعہ ہے بلاول بھٹو کی کمسنی کی وجہ اور عدم تجربے کی وجہ سے پارٹی چئیر پرسن زرداری کو چن لیا جاتا ہے اور یہاں سے اس شاندار اور مضبوط جماعت میں دھڑے بندی کا آغاز ہوتا ہے وہ تمام لوگ جو بے نظیر کیلیۓ اپنی جان دینے میں فخر محسوس کرتے تھے جن کی زندگیوں کے انگنت بیش قیمت سال پارٹی کی خاطر بھٹو کے فلسفے کیلیۓ قید و بند کی صعوبتوں کو جھیلتے ہوئے گذرے عوام نے جب ہمدردانہ ووٹ دیکر پیلپز پارٹی کو مسند شاہی عطا کی تو کمال مہارت سے ان سب کو ایک ہی لمحے بھلا دیا گیا اور نئے لوگ نئی سوچ اور ماضی میں بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانٹنے والوں کو زہنی مطابقت کی وجہ سے اعلیٰ منصب عطا کئے گئے پرانے جاں نثار ایک طرف تو اپنی ہمدرد اور پیاری قائد کے جدایی کے ناقابل فراموش صدمے سے دو چار تھے بجائے اسکے کہ نیا قائد انکے سرون پر دست شفقت رکھتا اور احساس محرومی سے نجات دلاتا یہاں الٹ ہی حساب ہوا نئے سے نئے چہروں کو جیل میں مصیبتوں کے وقت کا ساتھی کہ کر نوازا گیا
اور ایک نئی حکومت کا دور شروع ہو اجس میں کم علمی اور نا تجربہ کاری چھپائے نہی چھپ رہی تھی ـ تین سال کے عرصے میں جاں نثار محروم کارکن خود کو بے آسرا سمجھتے ہوئے بار بار سراپا احتجاج ہوئے لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے اب یہ سب بے وقعت بے وزن ہو چکے تھے ـمگر یہ لوگ رکے نہیں انکو بھٹو کا پیغام کسی بھٹو کے جانشین کی صورت ہی پھیلانا تھا کاسمیٹکس سرجری سے زرداری کو بھٹو کا چہرہ تو دیا جا سکتا تھا لیکن ابھی کوئی ایسا سرجن پیدا نہی ہو اجو دماغ میں سوچ کو بھی زرداری سے بھٹو کر سکتاـ
زرداری سوچ کا خاتمہ اور اصل وارثوں کی قیادت انکی سوچ کے حامل افراد کے ساتھ تلاش کی جا رہی تھی ـ یہ سب اپنے قائد کی کوئی حقیقی تصویر دیکھنا چاہتے تھے اور اب ایسی قیادت کیلیۓ کوشاں تھے کہ جو انکی خدمات کی گواہ بھی ہو اور انکو انکا جائز حق بھی دے ـ ملک کی ناگفتہ حالت ہر آنکھ کو رلا رہی تھی قائد کا خواب یوں اجاڑا جا رہا تھا حکومتی اکابرین یوں بے بس بنے کٹھ پتلی تماشہ پیش کر رھے تھے کہ جمہوری حکومت ہو عوامی مسائل کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو تو ایسی حکومت کو تو فورا خود ہی مستعفی ھو کر عوام کی بھلائی کیلیے کسی اور کو موقعہ دینا چاہیۓ تھا ـ مگریہاں تو سوچ ہی یہ تھی ان لوگوں کو ہی باس بنایا اور سمجھا جائے جو ایک طرف تو غنڈہ گردی کی انتہا کرتے ہوئے ڈرون اٹیک کریں دوسری طرف آپکے ملک کو آپکی اجازت سے یہاں آکر تخریب کاری کیلیۓ ایسا آگ کا گولہ بنا دیں جس کی لپٹیں صدارتی محل تک تو شائد نہ پہنچتی ہو لیکن عوام الناس کو جلا جلا کر خاکستر ضرور کر رہی ہیں ـ
حکمرانوں کی جامد خاموشی ملک میں انارکی کی کیفیت تلاش معاش کا حصول ناممکن پرانے پارٹی ممبران کے بیٹے جو اب ملک کی لوٹ کھسوٹ کو ماڈرن انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں دو دو نہیں شائد ادھار لیکر کئی کئی درجن ہاتھوں سے لوٹمار کی جا رہی ہے ـعوام کو روٹی نہیں مل رہی اور دوسری طرف ہر بڑا نام اربو ں کی کرپشن میں ملوث نظر آ رہا ہے ـ ایسے حالات میں وہ لوگ جو پاکستان سے مخلص ہیں اور دیکھ رھے ہیں ایک نوزائیدہ زہن جس کو قدرت نے مسند شاہی پر بٹھا دیا لیکن وہ کس بے رحمی سے اپنے ہی لوگوں کا استحصال کر رہا ہے یہ لوگ اپنی کمزور طاقت کو اکٹھا کرتے ہوئے بے نظیر کے اصل مشن جمہوریت اور عوام کو لیکر آگے بڑھ رھے تھے لیکن برسر اقتدار اپنے ہی لوگوں کے سامنے یہ بے بس نظر آتے تھے
پھر ایک معجزہ ہوتا ہے طاقت کے نشے میں دھت امریکن ایجنٹ ایک نہی دو دو پاکستانیوں کو قتل کرتا ہے اور تیسرے کو گاڑی کچل کر روند کر نکل جاتی ہے ـ حکومت پاکستان کے اندر ایک عجیب و غریب سی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے سامنے امریکہ کھڑ اہے جس کی ایک ہی رٹ ھو گی ڈو مور کی طرح میں نہ مانوں کسی قانون کو اور کسی اصول کو یہ کیونکہ امریکی ہے لہٰذا اسکو واپس کرو لیکن اب باوجود ذہنی بے حسی کے ملک کے حالات بہت بد ل رھے ہیں عوام کا غم اور غصہ اب اس نہج پر آچکا کہ جس کو بس ایک چنگاری کی ضرورت ھے بری طرح سے تباہ ہورہا انفرا اسٹرکچر بد حالی روٹی سے محروم لوگ اب منتظر تھے کہ کوئی مسیحا آئے
عمران خاں کی سچائی کے باوجود ان مضبوط بڑے بڑے مگر مچھوں کے سامنے ابھی بھی اسکی سِوچ کا دیا نہی جل رہا تھا الطاف حسین ایک صوبے کے سوا باقی صوبوں میں ابھی اثر پزیر نہیں ـ کون ہو کہ جس کی پہچان بھی ہو جس کی سناخت بھی ہو اور چاروں صوبوں میں اسکی بات کی اسکی پکار کی اہمیت بھی ہو ـ ایک غلطی کہاں سے کہاں تک لیجاتی ہے انسان کو ریمنڈ کی پاکستانی قوم ہمیشہ اس لحاظ سے مشکور رہے گی کہ اسکی وجہ سے آج منافقین میں سے ایک حق آواز بلند ہوئی ہے جس کو سن کرہر پاکستانی کا چہرہ ایک عرصے کے بعد فخر سے چمک رہا ہے
بے نظیر کی آواز کی گونج سنائی دی شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس میں بے نظیر کے بعد اس جیسی متانت اس جیساوقار اس جیسی شخصیت اسکا انداز بیاں یہ وہ مجموعہ تھا جو بے نظیر کہلاتا تھا اسی کا پر تو نظر آیا ـ اور کسی بھٹو کا دوبارہ آنا بہت ضروری تھا کیونکہ پیپلز پارٹی کی شخصیات ہمشیہ ہی قد آوار رہی ہیں بھٹو کی بیٹی کے بعد زرداری کو بھٹو بنا کر کوئی زہن مطمئین نہیں تھا اسکو ہمدردانہ نظر سے دیکھا جا سکتا تھا لیکن قیادت کیلیۓ زرداری کا نام کسی پارٹی کے ادنیٰ سے ادنیٰ ممبر کو بھی شائد قبول نہ ہو انکو بھٹو کی سوچ بھٹو کا عکس بھٹو کی شناخت چاہیے تھی ـ جو آج بلا شک و شبہ مکمل ہو گئی ـ مبارک ہو اہلیان پارٹی کو کہ آج انکا قائد واپس آگیا انداز گفتگو بہت متوازن سمجھا ہوا با اعتماد انداز دور رس نگاہیں اور شیر کی للکار حق کی پکار پر لبیک کہنے والا شاہ محمود قریشی بے شک کل کو پارٹی پالسیی کے تحت منا کر خاموش کروا دیا جاسکتا ہے یا کسی سازش میں زیر عتاب بھی آ سکتا ہے ـ لیکن آج جو شاہ محمود قریشی عوام نے دیکھا جس نے اپنے دور اقتدار میں ایک مشکل دور میں بڑی چابک دستی سے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو ہر ملک ہر حکمراں کے سامنے نہ صرف پیش کیا بلکہ پاکستان کے کے مؤقف کی بھرپور نمائیندگی بھی کی آج پھر بھرہور دلائل کے ساتھ سچائی کو پیش کر رہا ہے ـ ایک متنازعہ مسئلے پر کہ حکومتی دباؤ تھا
کہ دفتر خارجہ کو حکومتی حکم نامہ ملا کہ اس مسئلے پر کسی قسم کی کوئی بیان بازی نہی کرنی جس کیلیۓ وہ خاموش رھے لیکن جب اصرار کیا گیا کہ دفتر خارجہ سے جعلی ڈاکومنٹس تیار کروا کے ریمنڈ کی سفارتی استثنا کو قابل عمل بنایا جائے تو یہی وہ وقت تھا جب ایک نڈر بہادر اور اپنی قائد کے مخلص انسان کو تاریخ نے موقعہ دیا یا تو ہیرو یا پھر زیرو یا تو دباؤ کو ذلت کو خاموشی سے طوق کی طرح گلے میں پہ لیا جائے یا پھر اس مٹتی مٹاتی تباہ حال قوم کو پھر سے کوئی تو آس کوئی تو روشنی کوئی تو نیا نعرہ دیا جائے کہ یہ پھر سے جی اٹھے اپنے حق کی اپنے وجود کی اپنے ملک کی بقا کیلۓ اٹھ کھڑی ہو آج شاہ محمود کی پریس کانفرنس نے جہاں منافقوں کو مایوس کیا وہاں حکومت کیلیۓ اب ریمنڈ کو بچانے سے زیادہ خودکو بچانا مشکل ھو گیا زرداری خوش نصیب ھے ـ جان گیی تو کسی کی اسکو پلیٹ میں سجا سجایا پاکستان اور اسکی غریب عوام دےدی گئی بے نظیر کے خون کی ہمدردی میں اسکو خود پر حکومت کرتا دیکھ ہر زبان خاموش اور ہر زہن ملک کی دگرگوں صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسکا ساتھ دینے پر آمادہ پر چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے کے مِصداق کئی بار وعدے کئے کئی بارتوڑے کئی بار ملک شدید خطرات کے ساتھ ساتھ معاشی بحرانوں کا شکار ہوا عام حالات میں ایسی عیاش بے مصرف حکومت کب کی ختم ہو جاتی
لیکن بے نظیر کی حیا اسکی قربانی سب نے یاد رکھی وزیروں کی فوج ظفر موج کو شرائط کی وجہ سے ختم کیا مگر عوام کا کوئی پرسان حال پھر بھی نظر نہی آیا ملک حالتِ جنگ میں ھے ـ سب نے یہی سوچ کر ہر قدم مفاہمت یکجہتی کو آ زمایا انقلاب بھی یہاں نہی آئیں گے کیونکہ زرداری خوش نصیب ہے باہر سے کوئئ خطرہ اسکو لاحق نہیں تھا لیکن یہ تو آج وہی مثال ھو گئی کہ
"" فرعون کے گھر موسیٰ کی پیداھو گیا ""
شاہ محمود نے آج حقیقی معنوں میں حکومتی بودے پن کی سر عام قلعی کھول کر نہ صرف خود کو ایک نڈر مدبر مستحکم سوچ والا لیڈر ثابت کیا ہے بلکہ ہر قسم کی قربانی کیلیۓ بھی وہ تیار ہے یہ عندیہ بھی دے دیا ہے ـ زرداری پارٹی آج ریمنڈ کے موقف پر اپنی دوغلانہ پالیسی پر خود کو ہی کہ رہے ہیں
"" دل کو روؤں کہ پیٹوں جگرکو میں""
اب کیا ھو گا؟ وزرات خارجہ نے تو صاف بتا د یا کہ ریمنڈ کو سفارتی استثنا حاصل نہیں ہےـ اور وزرات خارجہ کوئی جعلی دستاویز تیار بھی کر کے نہیں دے گی جو ریمنڈ کو جھوٹی استثنا کا حقدار ٹہرائے ـ بھٹو بے نظیر کے بعد کیا اب شاہ محمود قریشی ہٹ لسٹ پر ھو گا ـ آج پارٹی کے اصل وارثین کیلیۓ چراغاں کرنے کا دن ہے انکی بے نظیر زرداری سوچ سے بچ کر ایک بار پھر انقلابی سوچ کے ساتھ پاکستان کے تحفظ کیلیۓ ایٹمی دور کی یاد دلا گئی ـ ہم امریکہ کے سامنے کمزور ہیں لیکن امریکہ کی شہ رگ ہمارے ہاتھوں کی زد پر ھے بس اس بات کو سمجھ کر ملکی سالمیت قومی غیرت کے ساتھ حکومت جو بھی فیصلہ کرے وہ منظور ھے بس سب یہ چاہتے ہیں کہ انداز فوزیہ وہاب کا نہ ہو غیرت مند شاہ محمود قریشی کا ہو ـ آج شاہ محمود قریشی کا انداز بیان بھٹو کی یاد دلا گیا جب اقوام متحدہ میں کاغذات کو پرزے پرزے کر کے ہوا میں پھینک کر وہ باوقار انداز میں اٹھے اور سپر پاورز کے سامنے انکی دھونس کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجا باہر گئے ـ
http://rajafamily.com/lib/0004OR00B.gif

بےباک
02-19-2011, 07:28 PM
شاہ محمد قریشی کا اے آر وائی کو انٹرویو ،
http://www.youtube.com/watch?v=6WKoP9VUZUY
http://www.youtube.com/watch?v=U3-GgTB0NBg&NR=1
http://www.youtube.com/watch?v=jOUkBpqAXoQ&feature=related
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واقعی زبردست مضمون شئیر کیا ہے آپ نے،،، ریمنڈ ڈیوس اور پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی ابھی ملتان کا جلسہ دیکھا ھے ،جہاں پر ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔۔۔۔ انہوں نے ایک بہت ہی اہم بات کہی ،، کہ سر جھکا کر جینے کا کوئی فائدہ نہیں ، کب تک ہم غیروں کے غلام رہیں گے ، اور کب تک ہم جھوٹ کا سہارا لیں گے ، جب پاکستان بنا تھا تو ایک ہی نعرہ لگایا گیا تھا ،، اور وہ نعرہ آج بھی لگا رہا ہوں ،،،،،،
پاکستان کا مطلب کیا،،،،،،،،، لا الہ الا اللہ

احمد محبوب
02-20-2011, 04:14 AM
http://farm4.static.flickr.com/3031/3083631497_50a67ab815_o.jpg

زبردست ، بہت اچھے ، کبھی کبھی گوہر نایاب دکھائی دیتا ہے ، وطن سے محبت کرنے والوں کی وجہ سے یہ ملک قائم ہے ،
پاکستان سے حب الوطنی کے موضوع پر بہترین تحریر پیش کرنے پر بہت بہت شکریہ ،

سقراط
02-20-2011, 10:26 PM
بہت خوب شاہ میر بانو بہن بہت اچھا مضمون لگایا ہمیشہ کی طرح آپ کی تحاریر سے حب الوطنی کا جذبہ جھلکتا ہے